Me dead wife smiles

سوزن

مدد ۔ ۔ ۔ میں ایک پانچ سالہ بچی کا باپ ہوں جس کی ماں نہیں ہے کیوں کہ موت کے بے رحم ہاتھوں نے بلڈ کینسر کے روپ میں اینا کو ایک سال پہلے ہم دونوں سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا ہے۔ سوزن اب بڑی ہو رہی ہے اور اسے فطری طور پر اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ جتنا میں نے پڑھا ہے اس کے مطابق ہر بچہ اس دور سے گزرتا ہے اور میں خود بھی اس عمر سے گزر چکا ہوں؍ مگر سوزن کا ڈر معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ ۔ ۔ وہ رات میں بری طرح دہشت زدہ ہو جاتی ہے اور نیم غنودگی کی حالت میں اپنی ماں کو ڈھونڈنا شروع کر دیتی ہے۔ اینا کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہو چکا ہے اور تین دن پہلے اس کی برسی تھی اور برسی کی رات مجھے لگا جیسے کہیں نہ کہیں کچھ نہیں کچھ نہ کچھ ایسا نہیں ہے جیسا عام طور پر ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ جیسا کہ میں نے اوپر بتایا کہ میری بیٹی اچانک سوتے سے خوف کی حالت میں بیدار ہو کر پورے گھر میں اپنی ماں کو ڈھونڈنا شروع کر دیتی ہے؍ مگر عام طور پر اس کے اٹھنے سے میری آنکھ نہیں کھلتی؛ چناں چہ میں نے اس مسئلے کا حل نکالتے ہوئے سارے گھر میں کیمرے لگوا لیے ہیں؍ جو سوزن کے بیدار ہونے کی صورت میں حرکت محسوس کرتے ہی میرے موبائل پر الرٹ بھیجنا کر دیتے ہیں؍ جن سے میں فوری طور پر نیند سے جاگ جاتا ہوں۔ ایک بار جاگنے کے بعد سوزن کو سنبھالنا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا؍ کیوں ایسا لگتا ہے جیسے میں یہ کام ہمیشہ سے کر رہا ہوں اور بنیادی طور پر ہر رات کو اچانک جاگ کر اپنی بیٹی کو سنبھالنا میری نیند کا ایک لازمی جز سا بن گیا ہے۔ اب میں آپ کو پس منظر سے آگاہ کرنے کے بعد اصل بات بتاتا ہوں۔ تین دن پہلے اینا کی موت کی پہلی برسی تھی۔ اس رات میں بے خبر سو رہا تھا کہ اچانک میری آواز فون کی گھنٹی سے کھلی۔ کیمرے کہیں حرکت محسوس کرنے کے بعد فون پر الرٹ بھیج رہے تھے۔ یہ الرٹ بہت تیزی سے آ رہے تھے اور انہوں نے سوزن کے کمرے سے آنا شروع کیا تھا۔ میں نے سوچا سوزن حسب معمول ڈر کر اٹھ گئی ہے اور میں فوراً اپنے بستر سے اتر آیا۔ مگر بات یہ نہیں تھی۔ ۔ ۔ یہ الرٹ سوزن کے کمرے سے باہر لگے کیمرے بھیج رہے تھے اور حیرت انگیز طور پر اس کے کمرے میں لگے کیمرے نے کوئی حرکت محسوس نہیں کی تھی اس لیے وہاں سے کوئی الرٹ موصول نہیں ہو رہا تھا۔ مگر اسی لمحے سوزن کے کمرے کا کیمرا بیدار ہوا اور اس کے ساتھ ہی میں نے سوزن کی چیخنے کی آواز سنی۔ میں نے موبائل پر اس کے کمرے میں لگے کیمرے سے موصول ہونے والی تصویر کو دیکھنا چاہا؍ مگر وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ اس دوران میں بھاگتا ہوا سوزن کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ میں راہ داری سے بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں داخل ہوا کیوں کہ اس کے کمرے کا دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا۔ میں کسی ممکنہ حملہ آور سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا۔ مگر کمرے میں سوزن کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے بستر میں لیٹی ہوئی تھی اور اس نے سر تک چادر تانی ہوئی تھی۔ میں نے اسے بہلا کر چادر اتارنے کی کوشش کی مگر اس نے مجھے ایسا نہیں کرنے دیا۔ میں اس کے قریب بستر پر بیٹھ گیا اور اس سے اتنی بری طرح ڈرنے کا سبب پوچھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ایک بار پھر یہ ہی سوال کیا۔ اس بار اس نے صرف اتنا کہا کہ کپڑے ٹانگنے والے کمرے (کلوزیٹ) میں بھوت ہے۔ میں نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا مگر اسے تسلی دینے کے لیے میں نے کہا کہ میں ابھی جا کر دیکھتا ہوں۔ اس وقت میرے ذہن سے موبائل الرٹس بالکل نکل گئے تھے اور میرا خیال ہے میں نے انہیں سسٹم کی خرابی سمجھا ہو گا۔ میں نے اپنے اعصاب کو سنبھالتے ہوئے کلوزیٹ کا رخ کیا؍ مگر اس وقت میری سانس میرے سینے میں پھنس گئی جب مجھے ایک آواز سے ایسا لگا جیسے کلوزیٹ میں کوئی حرکت کر رہا ہے۔ میں بری طرح دہشت زدہ ہو گیا اور حالت یہ تھی گویا زمین نے میرے قدم جکڑ لیے ہوں۔ میری بیٹی کی کلوزیٹ میں کون ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟ اس کا دروازہ کھولنے پر مجھے کیا کرنا ہو گا؟ مگر اس وقت زیادہ سوچنے کی مہلت نہیں تھی۔ میں نے ایک جھٹکے سے کلوزیٹ کا دروازہ اپنی جانب کھینچ کر کھول دیا۔ اندر جو کچھ میں نے دیکھا وہ ایک نا ممکن بات تھی۔ کلوزیٹ میں سوزن تھی۔ ۔ ۔ اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بری طرح دہشت زدہ تھی۔ مڑ کر دیکھنے پر میں نے دیکھا کہ اس کے بستر پر اب کوئی نہیں تھا۔ میں نے یہ کہہ کر اپنے ذہن کو تسلی دی کہ شاید اینا کی برسی پر اس کی جدائی کا صدمہ مجھے فریب نظر میں مبتلا کر رہا ہے۔ چناں چہ میں خاموشی سے سوزن کو لے کر اپنے کمرے میں چلا آیا؍ مگر میں اندر سے بالکل مطئمن نہیں تھا پھر بھی کچھ دیر بعد ہم دونوں کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اگلے روز جب میں جاگا تو جو بات اٹھتے ہی میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ گزشتہ شب جب میں سوزن کو گود میں لے کر اپنے کمرے میں آ رہا تھا تو اس نے مجھے سے کہا تھا: ’ڈیڈی؍ بھوت میرے بستر میں تھا ۔ ۔ ۔ ‘ مگر میں نے سوچا شاید یہ بات میں نے خواب میں دیکھی ہے۔ سوزن میرے برابر میں نہیں تھی اور میں نے سوچا شاید وہ کچن میں ہے۔ مگر جب میں نے موبائل اٹھایا ۔ ۔ ۔ تو وہاں سارے الرٹ موجود تھے ۔ ۔ ۔ جب میں نے موبائل میں محفوظ گزشتہ شب کی کیمروں کی فیڈ چیک کی تو میں نے دیکھا: ’کسی کیمرے پر کوئی منظر نہیں ہے۔ پھر میری بیٹی کے کمرے کا دروازہ کھلتا نظر آ رہا ہے۔ اس کے فوراً بعد کیمرا بند ہو جاتا ہے۔ میں کمرے کی راہ داری میں دوڑتا سوزن کے کمرے کی طرف جا رہا ہوں۔ ۔ ۔ ‘ وہ منظر تقریباً میری نظر سے نکل ہی جاتا؍ مگر جب میں نے سوزن کے کمرے میں لگے کیمرے کی فیڈ کو دوبارہ چیک کیا تو دیکھا کہ وہاں تصویر کا ایک ساکت فریم موجود ہے۔ میں نے فوراً رواں فیڈ کو اسٹاپ کیا اور یہ ہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔ ۔ ۔ ‘ اس فریم میں؍ میں کلوزیٹ کے اندر جھانک رہا تھا اور میرے عقب میں سوزن کے بیڈ پر ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی چیز سر سے پیر تک کمبل میں چھپی بستر پر کھڑی ہے ۔ ۔ ۔ میں تیزی سے ہال کمرے میں دوڑا اور پھر وہاں سے کچن میں جھانکا۔ سوزن کہیں نہیں ہے۔ وہ کہیں نہیں مل سکی۔ میں کئی دنوں سے اپنے کچن کی میز کے پاس کرسی پر بیٹھا ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیس کوئی مجھے گھور رہا ہے۔ جیسے بالکل میرے عقب میں کوئی کھڑا ہے۔ بالکل میرے قریب مگر میں اسے کن انکھیوں سے بھی نہیں دیکھ پا رہا۔ وہاں بیٹھے بیٹھے میں نے اس واقعے کو ڈیلی اردو ہارر پر پوسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی نہ کسی کو اس بارے میں ضرور معلوم ہونا چاہیے۔ ارے یہ کیا ۔ ۔ ۔ میرے موبائل پر ابھی ابھی ایک الرٹ موصول ہوا ہے ۔ ۔ ۔ بالکل میرے سامنے لگے کیمرے نے میرے عقب میں حرکت محسوس کی ہے۔ کوئی میرے پیچھے کھڑا ہے۔ میں مڑ کر دیکھنا چاہتا ہوں؛ اگر چہ میں جانتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مگر میں مڑ کر دیکھنے سے پہلے اس کہانی کو روانہ کرنے والا سوئچ دبا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں نا ۔ ۔ ۔! میرے لیے دعا کریں ۔ ۔ ۔

 

ختم شد