Michael Faraday | Michael Hart | Urdu | The 100

دی ہنڈریڈ | تیئیسواں باب | مائیکل فیراڈے

1 ل

 ہم جس زمانے میں زندہ ہیں وہ برقی دور ہے۔

بلاشبہ اس زمانے کو کبھی خلائی دور یا کبھی ایٹمی دور بھی کہا جاتا ہے مگر اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود یہ دونوں برقی توانائی کی نسبت ہماری روزمرہ زندگی پر بہت کم اثرات رکھتے ہیں۔ ہم برقی آلات کو مسلسل استعمال کرتے ہیں اور بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے  کہ جدید دنیا میں برقی توانائی کے علاوہ دیگر کوئی ٹیکنالوجی اتنے وسیع پیمانے پر استعمال نہیں ہوتی۔ برقی توانائی کو ہمارے ہاتھوں تک پہنچانے میں متعدد افراد کا کردار ہے۔ چارلس اگسٹائن، کائونٹ الیسانڈرو وولٹآ، ہان کرسچیئن ارسٹیڈ اور اینڈری میری ایمپیئر اس ضمن میں اہم ترین ہیں مگر ان تمام سے بلند قدوقامت دو برطانوی سائنس دانوں مائیکل فیراڈے اور جیمز کلارک میکس ویل کا ہے۔ اگرچہ ان دونوں کا کردار اعزازی ہے اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی باہم کام نہیں کیا مگر ان دونوں کی انفرادی کام یابیاں اس کتاب میں بلند درجے پر ان کے تذکرے کے لیے کافی ہیں۔ مائیکل فیراڈے 1791ء میں برطانیہ میں نیونگٹن کے مقام پر پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور زیادہ تر تعلیم اس نے بغیر کسی کی مدد کے حاصل کی۔ چودہ سال کی عمر میں اس نے ایک جلد ساز اور کتب فروش کے پاس کام سیکھنے کے لیے ملازمت کر لی جہاں اسے وسیع پیمانے پر مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ بیس سال کی عمر میں اس نے معروف برطانوی سائنس دان سر ہمفری ڈیوی کے لیکچر سنے جنہوں نے اسے مسحور کر دیا۔ اس نے ڈیوی کے ساتھ خط و کتابت کی اور جلد ہی ان کے پاس معاون کی ملازمت حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا۔ آئندہ چند سالوں میں فیراڈے نے اپنے طور پر اہم دریافتیں کرنا شروع کر دیں۔ اگرچہ وہ ریاضی میں کوئی خاص درک نہیں رکھتا تھا مگر ایک شوقیہ ماہرِطبیعات کی حیثیت میں اس نے اچھے اچھوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ فیراڈے نے برقی میدان میں اپنی سب سے اہم دریافت 1821ء میں کی۔ دو برس قبل ارسٹیڈ نے جان لیا تھا کہ اگر عام مقناطیسی قطب نما کو ایسے تار کے قریب رکھا جائے جس میں برقی رو دوڑ رہی ہو تو اس کی سوئی پلٹ جاتی ہے۔ اس بات سے فیراڈے نے خیال کیا کہ ’اگر مقناطیس کو جما کر رکھا جائے تو پھر تار کو حرکت کرنی چاہیے۔‘ وہ اس تصور پر کام کرتا رہا اور بالآخر ایک انوکھی چیز ایجاد کرنے میں کام یاب ہو گیا۔ یہ ایک ایسی چیز تھی کہ مقناطیس کے نزدیک رکھنے پر جب تک تارمیں برقی رو گزرتی رہتی تھی تار لگاتار محوری حرکت کرتا رہتا تھا۔ دراصل فیراڈے نے جو چیز بنائی تھی وہ اولّین برقی موٹر تھی یعنی ایک ایسی مشین جو برقی توانائی کے ذریعے کسی مادّی جسم کو حرکت دیتی تھی۔ اپنی سادہ ترین ہیئت کے با وجود فیراڈے کی مشین آج دنیا میں استعمال ہونے والے تمام برقی موٹروں کی جدِّامجد ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کام یابی تھی؍ تاہم جب تک روایتی کیمیائی برقی خانوں کے علاوہ کسی دوسرے ذریعے سے برقی رو پیدا کرنے کا کوئی ذریعہ دریافت نہیں کیا جاتا اس ایجاد کا عملی اطلاق محدودتر تھا مگر فیراڈے کو یقین تھا کہ مقناطیسی طاقت کے ذریعے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس نے اس سلسلے میں تحقیق جاری رکھیں۔ واضح رہے کہ ایک ساکت مقناطیس نزدیکی تار میں برقی رو پیدا نہیں کرتامگر 1831ء میں فیراڈے نے دریافت کیا کہ اگر کسی مقناطیس کو تاروں کے کَسے ہوئے لچھے کے درمیان حرکت دی یا گزارا جائے تو تار میں برقی رو بہنا شروع ہو جائے گی اور اس وقت تک بہتی رہے گی جب تک مقناطیس حرکت میں رہے گا۔ اس امر کو برقی ’مقناطیسی امالہ‘ کہتے ہیں اور اس اصول کو ’فیراڈے کا قانون‘ کہا گیا جو دو اسباب کی بنا پر فیراڈے کی سب سے اہم ترین دریافت تھی۔ اول؍ فیراڈے کا قانون ’برق مقناطیست‘ کے نظریے کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دوم؍ برقی مقناطیسی امالے کے ذریعے مسلسل برقی رو پیدا کی جا سکتی ہے جس کا خود فیراڈے نے دنیا کا پہلا ڈائنامو بنا کر مظاہرہ کیا۔ اگرچہ بجلی بنانے کے جدید جنریٹر جن سے شہروں اور فیکٹریوں کو آج بجلی فراہم کی جاتی ہے فیراڈے کی مشین کی نسبت بہت پیچیدہ ہیں مگر یہ کام برق مقناطیسی امالے کے اصول پر ہی کرتے ہیں۔ فیراڈے کا کام علمِ کیمیاء کے میدان میں بھی ہے۔ اس نے گیسوں کو مائع حالت میں لانے کے طریقوں کے علاوہ بینزین سمیت متعدد دیگر کییمائی مادے بھی دریافت کیے۔ فیراڈے کا کردار برق کیمیائی میدان میں زیادہ اہم ہے جہاں اس نے برقی رو کے کیمیائی اثرات کا مطالعہ کیا۔ فیراڈے نے محتاط تجربات کی مدد سے برقی لہروں کے ذریعے تحلیل کے دو قوانین دریافت کیے جنہیں فیراڈے ہی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ دونوں قوانین برق کیمیائی میدان میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فیراڈے نے برقی میدان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اصطلاحات کو وضع کیا مثلاً اینوڈ، کیتھوڈ، الیکٹروڈ اور آئون وغیرہ۔ یہ فیراڈے ہی تھا جس نے طیبعات میں توانائی کے مقناطیسی خطوط اور توانائی کے برقی خطوط کے تصور کو متعارف کرایا۔ فیراڈے نے مقناطیس کے بجائے ان کے درمیان میدان کی اہمیت پر زور دیا جس سے جدید طبیعات میں بیش بہا اضافے ہوئے جب کہ اسی تصور نے میکس ویل کے کلیوں کی راہ بھی ہم وار کی۔ فیراڈے نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر تقطیب شدہ روشنی کی لہر کو مقناطیسی میدان سے گزارا جائے تو اس کے قطبین پلٹ جاتے ہیں۔ یہ نہایت اہم دریافت تھی کیوں کہ اس سے پہلی بار اشارہ ملا کہ مقناطیسیت اور روشنی کے مابین کوئی تعلق ضرور موجود ہے۔  فیراڈے نہ صرف ذہین تھا بلکہ پُرکشش شخصیت کا بھی مالک تھا اور سائنس پر اس کے لیکچر نہایت مقبول تھے تاہم اپنی فطری انکسارانہ طبیعت کے باعث اس نے شہرت، دولت اور اعزازات کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ اس نے ’نائٹ‘ کا خطاب قبول نہیں کیا اور برطانوی رائل سوسائٹی کا صدر بننے کی پیش کش سے بھی معذرت کر لی البتہ بچوں جیسی نعمت سے محرومی کے باوجود اس کی شادی شدہ زندگی طویل اور بہت خوش گوار رہی۔ 1867ء میں لندن کی نزدیک فیراڈے اس دنیا سے رخصت ہوا۔