ملک میں بے قابو کورونا سے ’لاکھوں‘ اموات کا خدشہ

کورونا وائرس کی وبا بھارت اور پاکستان میں بھی اب تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں مناسب احتیاطی تدابیر اپنانے کا عام لوگ احساس نہیں کر رہے۔ دنیا بھر میں مہلک وبا کووڈ انیس کی افزائش بدستور جاری ہے اور ابھی تک مؤثر دوا یا ویکسین علاج کے لیے دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ یورپی ممالک میں وبا پھیلنے کے بعد اپنائی جانے والی مناسب احتیاطی تدابیر کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ ان احتیاطی تدابیر میں خاص طور پر لاک ڈاؤن او سوشل ڈسٹینسنگ کی حکومتی ہدایات پر عام لوگوں کا عمل کرنا شامل تھا۔ براعظم یورپ کے ملکوں نے اب لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور پندرہ جون تک صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے گی۔ کورونا وائرس کے متاثرین میں سب سے پہلے چین تھا، پھر یورپی ممالک سامنے آئے اور اب امریکا، برازیل اور روس آگے ہیں۔ بھارت میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور اب اس نے اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بھارت میں اس بیماری کے مریضوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ چھتیس ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ اٹلی میں ایسے مریض دو لاکھ چونتیس ہزار سے زائد ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں کورونا وائرس کی تشخیص تقریباً دس ہزار افراد میں کی گئی ہے۔ اسی دوران تین سو کے قریب ہونے والی ہلاکتوں سے سارے بھارت میں مرنے والوں کی تعداد چھ ہزار چھ سو سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس مہلک وبا کی عالمی صورت حال پر نگاہ رکھنے والی جان ہوپکنز یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ بھارت سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں اس مرض سے ہونے والی ہلاکتیں کئی دوسرے ممالک سے کم ہیں۔ ہلاکتوں کے اعتبار سے بھارت بارہویں مقام پر ہے۔ بھارتی وزارت صحت کے مطابق وائرس میں مبتلا ایک لاکھ چودہ ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں، یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران سب سے طویل کریک ڈاؤن کیا گیا تھا اور یہ دو ماہ پر محیط تھا۔نئی دہلی کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ اتنے طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہو رہی ہیں۔ بھارت میں اس مرض سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح 2.8 فیصد ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 5.8 فیصد ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور مالیاتی مرکز ممبئی وائرس کی وبا کے گڑھ خیال کیے جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی لوگوں کی جانب سے حکومتی ہدایات پر پوری طرح عمل نہ کرنے سے کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس طرح متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہلاکتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت اپنے رضا کاروں کے ذریعے عام لوگوں کو سوشل ڈسٹینسنگ اپنانے اور ماسک کے بھرپور استعمال کی آگہی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی کثیر تعداد اب بھی ان ہدایات کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔عمران خان حکومت سے وابستہ عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں اب تک دس لاکھ رضاکار اپنے ناموں کا اندراج کرا چکے ہیں۔ ڈار کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد رضاکار حکومت کی معاونت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کے ملک کے سب سے متاثرہ اور کمزور طبقے تک یہی رضاکار حکومت کی جانب سے خوراک اور ادویات پہنچائیں گے۔ پاکستان میں کووڈ انیس بیماری سے متاثرہ افراد تقریباً چورانوے ہزار ہیں اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں نئے مریضوں کی تعداد چار ہزار سات سو سے زائد رہی ہے۔ ایک دن میں وائرس کی لپیٹ میں آنے والے افراد کی یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ پاکستان میں اس بیماری سے ایک ہزار نو سو پینتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اڑسٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں تقریباً چار لاکھ ہیں۔ اس وقت امریکا میں وائرس نے سب سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے، جب کہ ایسے متاثرین کے حوالے سے برازیل دوسری اور روس تیسری پوزیشن پر ہیں۔