Mysteries Holes in Pacific Ocean Read in Urdu

بحرالکاہل میں ہزاروں ’ناقابلِ وضاحت‘ سوراخ دریافت

امریکا، آسٹریلیا اور ایشیاء کے درمیان واقع دنیا کے سب سے بڑے سمندر بحرالکاہل کی تہہ میں ایسے ہزاروں سوراخوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جن کے بارے میں سائنس دان کوئی ٹھوس سائنسی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ سوراخ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ساحلی علاقوں کے قریب دریافت ہوئے ہیں اور مؤقر مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سمندر کی تہہ میں جن چند سوراخوں کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے اس سے قطعاً واضح نہیں ہوسکا کہ یہ سوراخ آخر کس طرح وجود میں آئے اور یہ کہ اس ’پراسرارترین معمّے‘ کو حل کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

Credit – Researchgate Dot Net


ذرائع کے مطابق یہ سوراخ معروف امریکی ادارے مانیٹری بے اکوریم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ – MBARI – کی ایک سمندری تحقیق کے دوران دنیا کے سامنے آئے تھے جن کا اوسط قطر قریب ایک سو پچھتر میٹر جب کہ گہرائی پانچ میٹر کے آس پاس ہے۔


یہاں نہایت پُراسرار امر یہ ہے کہ یہ سوراخ باقاعدہ گول اور ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر واقع ہیں کیوں کہ فطرت میں جیومیٹرکل اشکال کبھی نہیں پائی جاتیں چناں چہ فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سوراخ فطرت کی تخلیق نہیں تو پھر کس طرح وجود میں آئے؟


مذکورہ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ان سوراخوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے جب کہ یہ تیرہ سو مربع کلومیٹر کے رقبے میں پانی تلے پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے بڑے سوراخوں کو میڈیا نے ’پوک مارک‘ کا، جب کہ چھوٹے سوراخوں کو ’مائکروڈپریشن‘ کا نام دیا ہے۔ چھوٹے سوراخوں کا قطر گیارہ میٹر جب کہ گہرائی صرف ایک میٹر ہے۔ اگرچہ اس نوعیت کے سوراخ دنیا میں سمندر تلے مختلف مقامات پر بھی ملے ہیں جن کی سائنس دانوں نے مختلف نوعیت کی توجیہات پیش کی ہیں مگر متذکرہ سوراخوں کے ماخذ کے بارے میں ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس تاحال کوئی سائنسی توجیہ نہیں گوکہ ذرائع کے مطابق انہوں نے اس بارے میں ریسرچ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔