Mysterious Chilean Fire read in Urdu

چلی کی پُراسرار آگ کا سبب ’غیرفطری‘ ہے – ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ چلی کے ایک جزیرے میں زمین پر اچانک جابجا لگنے والی پراسرار آگ کا سبب ’غیر فطری‘ ہو سکتا ہے کیوں کہ آتش زدگی سے قبل اور بعد میں بھی گزشتہ چند دنوں سے اس خطے کے آسمان پر ناقابل وضاحت ’روشنیاں‘ دیکھی جا رہی ہیں جنہیں ابتدا میں زمین کی فضاء میں داخل ہونے کے بعد ہوا کی رگڑ سے جل اٹھنے والے شہاب ثاقب سے تعبیر کیا گیا تھا تاہم اب ماہرین کا ماننا ہے کہ ان روشنیوں کی کوئی سائنسی وضاحت تاحال ممکن نہیں۔ پیرانارمل واقعات کی رپورٹنگ کرنے والی معروف ترین ویب سائٹ ’مسٹیریس یونیورس‘ کے مطابق ان پراسرار روشنیوں کو 25 ستمبر کی رات چلی کے Dalcahue, Chiloé نامی علاقے میں دیکھا گیا جو عینی شاہدین کے مطابق آسمان سے تیزرفتاری سے اترتے آگ کے گولوں کے روپ میں تھیں۔ ویب سائٹ کے مطابق ’آگ کے ان گولوں‘ کے دیکھے جانے کے بعد متعدد مقامی افراد نے متعلقہ حکام کو زمین پر جابجا چھوٹے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات دیں جن کے متعلق ماہرین کا ابتدا میں ماننا تھا کہ اس امر کا سبب آسمان سے گرتے جلتے ہوئے ’اجسام‘ ہو سکتے ہیں۔ ان پراسرار روشنیوں کے تناظر میں چلی کے ماہر طبیعاتی فلکیات جوز مازا سانچو نے پہلے تو کہا کہ آگ کے یہ گولے سوائے جلتے ہوئے شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے سوا دیگر کچھ نہیں تھے مگر چلی کے ادارے – چلی نیشنل سروسز آف جیالوجی اینڈ مائننگ – نے بعد ازاں تحقیق کے بعد تصدیق کی ہے کہ جابجا لگنے والی آگ کا کوئی بھی ’فطری‘ سبب جیسے جلتے ہوئے شہاب ثاقب کے ٹکڑے یا اسی طرح کا کچھ اور قابل وضاحت جواز نہیں مل سکا۔ ملک کے مقامی اخبار ایل دینامو کے مطابق متعلقہ تحقیق کی سلسلے میں ماہرین نے سات مختلف آتش زدہ مقامات سے نمونے لیے تاکہ شہاب ثاقب کے نظریے کو سند فراہم کی جا سکے مگر تمام تر ٹیسٹوں کے باوجود انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد ماہرین کو تسلیم کرنا پڑا  کہ اس آتش زدگی کا سبب ’ناقابلِ فہم‘ ہے اور اس کا آسمان سے گرنے والے ’شہاب ثاقب‘ کے ٹکڑوں سے کوئی تعلق نہیں۔ دیگر کچھ ذرائع کے مطابق اس پراسرار آتش زدگی کا سبب خلا میں انسان کا بکھیرا ہوا ’کچرا‘ بھی ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ چلی کی تاریخ میں زمین پر خلا سے انسانی کچرے کے گرنے کے باعث آگ لگنے کا اولین واقعہ قرار دیا جائے گا تاہم اس سلسلے میں ماہرین کی ریسرچ کے بعد آنے والے نتائج کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔


اگر یہ ٹکڑے ’غیرانسانی‘ خلائی کچرا ثابت ہوئے تو؟



’ویب سائٹ کے مطابق اگر ان ’اجسام‘ پر ریسرچ کے بعد ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ خلا میں انسان کا پھیلایا ہوا کچرا – جیسے ناکارہ مصنوعی سیارے یا راکٹ بوسٹر وغیرہ – نہیں ہے تو پھر اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو گا کہ کوئی ذہین تر غیر ارضی مخلوق ’جھاڑیوں میں آگ لگا کر زمین پر اپنی آمد کی اطلاع دینا چاہتی ہے‘ تاہم ویب سائٹ کے مطابق ’اس‘ ایلین مخلوق کو قبل از وقت اس واقعے کا ذمے دار قرار دینا مناسب نہیں ہو گا‘


خیال رہے کہ چلی کے جس جزیرے پر یہ پراسرار واقعات پیش آئے ہیں وہ ملک کے مغربی ساحلی حصے میں واقع ہے جہاں صدیوں سے ایسی عجیب و غریب داستانیں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں جنہیں جنوبی امریکا سے باہر کوئی نہیں جانتا۔ ان ہی داستانوں میں ایک داستان ’فرینڈشپ‘ کے نام سے پکارے جانے والے ایسے ناقابل فہم ’افراد‘ کی گروپ کی ہے جنہیں بارہا اس جزیرے کے گردونواح میں دیکھا گیا ہے مگر کوئی بھی ان کے بارے میں کوئی وضاحت دینے سے قاصر ہے جب کہ یہاں 80ء کی دہائی سے لگاتار ’ناقابل فہم خلائی اجسام‘ یا UFOs کی اطلاعات مل رہی ہیں اور پیرانارمل کمیونٹی کے خیال میں آگ لگنے کے اس واقعے کو غیرارضی مخلوق سے جوڑنا ’حقیقت‘ کا ایک دیگر دل چسپ پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں چلی کے ماہرین اکٹھے کیے گئے تمام نموںوں پر تحقیق کے بعد مفصل رپورٹ جاری کر دیں گے جس کے بعد شاید کسی حد تک صورت حال واضح ہو سکے۔