MYSTERIOUS CLOSURE OF US OBSERVATORY

امریکی شمسی رصد گاہ کی پر اسرار بندش

امریکا کے شہر نیو میکسیکو میں ایف بی آئی نے گزشتہ دنوں ایک شمسی رصد گاہ کو نہایت پراسرار حالات میں بند کیا ہے.فی الوقت کسی کو ان پراسرار حالات کا علم نہیں جو اس شمسی رصد گاہ کی بندش کا سبب بنے۔ ایف بی آئی نے رصد گاہ کی بندش کے ساتھ ساتھ نہ صرف اس کے ساتھ واقع مقامی پوسٹ آفس کو بھی بند کروا دیا ہے. بلکہ تا حال اس بارے میں کوئی سرکاری بیان بھی سامنے نہیں آ سکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بروز ستمبر 2018 کے اوائل میں نیو میکسیکو میں سن سپاٹ کے مقام پر واقع ‘نشنل سولر آبزرویٹری’ نامی شمسی رصد گاہ کو ‘سیکورٹی خدشات’ کے پیش نظر خالی کر الیا گیا جب کہ حکام نے اس بارے میں دعویٰ کیا کہ سائنسی ادارے کو احتیاطی تدابیر کے باعث خالی کریا جا رہا ہے مگر انہوں نے اس بارے میں کوئی بھی بیان دینے سے صاف انکار کر دیا کہ اس رصد گاہ کو دوبارہ کھولنے کی کب اجازت دی جائے گی۔ رصد گاہ کی پراسرار بندش کے عمل کی ایف بی آئی مکمل طور پر ذمے دار ہے اور ایف بی آئی نے آپریشن سے قبل مقامی شیرف کو بھی اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ مقامی شیرف کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی نے اس بارے میں ہمیں کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کیں رصد گاہ سے نکالے گئے لوگوں نے بھی اس بارے میں کوئی بات کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے؛ تاہم جس تیزی اور پراسرار طریقے سے ایف بی آئی نے اس آپریشن کو مکمل کیا ہے اور جس طرح اصل حقیقت کو آہنی پردوں کے عقب میں چھپایا جا رہا ہے اس سے سے عوام کے ذہن میں متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اس آپریشن کے دوران ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے علاوہ حکومتی اہل کاروں کو رصد گاہ پر نصب اینٹینوں اور ٹاوروں پر موجود عملے کے لوگوں کو گھیرے میں لیتے ہوئے دیکھا گیا مگر اس کے با وجود تا حال کوئی بھی ذمے دار شخص اصل اسباب کے بارے میں لب کشائی کے لیے تیار نہیں ہے۔ دیگر خلائی رصد گاہوں کے بر عکس اس رصد گاہ کو خاص طور پر سورج کی تصاویر لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ دیگر رصد گاہیں ہر قسم کے خلائی مقاصد کے کام آتی ہیں۔ یہ رصد گاہ تا حال بند ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے اس رصد گاہ کے ساتھ واقع پوسٹ آفس کو بھی بند کرنے کے علاوہ اس علاقے کو لوگوں سے مکمل طور پر خالی کرایا گیا۔ کیا یہ امکان خارج از امکان نہیں کہ اپنے معمول کے آپریشن کے دوران اس رصد گاہ نے سورج کے قریب کسی ایسی ‘چیز’ کو دیکھ لیا ہو جس کے بارے میں فی الوقت حکومت عوام کو آگاہی نہیں دینا چاہتی؟ اور کیا پوسٹ آفس کو بھی اس خدشے کے پیش نظر بند نہیں کیا گیا کہ اس علاقے سے کسی بھی قسم کا مبینہ ثبوت باہر نہ بھیجا جا سکے؟ ماہرین کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سورج کی سطح پر ایک عظیم ترین سوراخ کھل رہا تھا جس کی وجہ سے سائنسی حلقے ممکنہ تباہ کن مقناطیسی طوفان کے پیش نظر چوکنا تھے اور اس سلسلے میں NOAA نامی ایک موقر سائنسی ادارے نے ستمبر کے مہینے میں درجہ دوم کے شمسی طوفان کا انتباہ بھی جاری کیا تھا مگر اس کے با وجود یہ کوئی ایسا قدرتی امر نہیں تھا جس کے باعث ایک رصد گاہ کو یوں آناً فاناً بغیر کوئی وجہ بتائے بند کر کے خالی کرالیا جائے۔چوں کہ تمام دنیا میں سینکڑوں کی تعداد میں خلائی رصد گاہیں موجود ہیں اس لیے قدرتی طور پر سوال اٹھتا ہے کہ اگر امریکی حکومت کسی راز کے افشا ہونے سے خائف تھی تو صرف اس خاص رصد گاہ میں ہی ایف بی آئی نے یہ آپریشن کیوں کیا؟ اس سوال کے تناظر میں ایک دیگر تھیوری یہ بھی پیش کی جا رہی ہے کہ اس واقعے سے قبل معروف ترین سوشل میڈیا سائٹس پر ایسی بے شمار ویڈیوز پوسٹ کی گئی تھیں جن میں ایک بہت بڑی نا قابل شناخت گول چیز کو سورج کی سطح کے سامنے سے گزرتا دکھایا گیا ہے اور حیرت انگیز امر یہ ہے مذکورہ رصد گاہ کی بندش کا عمل عین اسی وقت شروع ہوا جب یہ ‘یو ایف او’ سورج کے سامنے سے گزرا مگر سائنس دانوں نے اس یو ایف کو چاند کا عکس قرار دیا ہے چناں اس بنیاد پر اس تھیوری کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔  کچھ حلقوں کا یہاں تک بھی ماننا ہے کہ رصد گاہ کی بندش کسی کی شرارت کا نتیجہ تھی جس کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کسی نے شرارتاً رصد گاہ میں کسی بم کی موجودگی کی اطلاع دی ہو مگر سوال پھر اٹھتا ہے کہ اگر بات اتنی ہی تھی تو اس صورت میں اس رصد گاہ کے باہر قومی پریس کا ہجوم لگ جانا چاہیے تھا اور کسی بھی بات کو اس طرح اسرار کا جامہ پہنانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی  بہر حال جلد یا بدیر حسب معمول حکومت فی الوقت عوام کو بہلانے کے لیے کوئی نہ کوئی داستان تراش کر پیش کر ہی دے گی مگر واقعات پر گہری نظر رکھنے والوں نے اس رصد کی بندش سے وابستہ ایک اور سر نہاں بھی کھوج نکالا ہے  انٹرنیٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ جس وقت اس شمسی رصد گاہ کی بندش کا آپریشن شروع ہوا عین اسی وقت آسٹریلیا، اسپین اور فرانس سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے چلنے والے 6 خلائی کیمرے بھی پراسرار حالات میں بند ہو گئے یا کر دیے گئے تا کہ ان سے وصول ہونے والی تصاویر زمین پرنہ دیکھی جا سکیں۔ ان کیمروں کی بندش اور شمسی رصد کی بندش میں کوئی نسبت ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا  مگر آپ کو یہ جان کر حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگے گا کہ یہ رصد گاہ مبینہ خلائی مخلوق یا ایلینز کے حوالے سے ‘بد نام زمانہ’ روزویل سائٹ سے صرف 130 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جب کہ وائٹ سینڈ میزائل رینج اور ہولومین ائر فورس بیس تو اس کے پڑوس میں ہیں۔ اس رصد گاہ کو دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد 1940 کی دہائی کے اختتام پر ائر فورس آبزرویٹری کے طور پر دو مخصوص مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا جن میں سے ایک مقصد مسقتبل میں ایک شمسی رصد گاہ کے قیام کے لیے اس علاقے کی اہمیت کو چیک کرنا تھا جب کہ دوسرا مقصد  وائٹ سینڈز رینج کے مقام کی آزمائش بھی تھا جہاں امریکی حکومت اس وقت دنیا کی خفیہ ترین ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہی تھی۔ اس وقت وائٹ سینڈز رینج کو ہولومین ائر فورس بیس کے نام سے جانا جاتا ہے مگر نیو میکسیکو کا یہ تمام علاقہ عشروں سے یہاں لا تعداد ‘یو ایف اوز’ دیکھے جانے کی وجہ سے معروف ہے  خلائی مخلوق کے حوالے سے امریکا کا ‘بد نام’ ترین علاقہ ‘ایریا ففٹی ون’ بھی اس رصد سے کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ اس سے بھی اہم ترین بات یہ ہے کہ وائٹ سینڈز رینج دراصل وہ علاقہ ہے جہاں سالوں سے سینکڑوں عینی شاہدین تصاویری ثبوت کے ساتھ بے شمار یو ایف اوز دیکھے جانے کے دعوے کرتے آ رہے ہیں جو مبینہ خلائی مخلوق کے علاوہ امریکا کے ٹاپ سیکرٹ غیر ارضی ہتھیار بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہولومین ائرفورس بیس اور وائٹ سینڈز رینج مذکورہ شمسی رصد گاہ کے سامنے گویا ایک خط مسقیم سے جڑی ہیں جب کہ رصد گاہ ان دونوں کے اوپر پہاڑوں میں واقع ہے چناں چہ اس رصد گاہ سے ان دونوں ٹاپ سیکرٹ حکومتی اداروں پر براہ راست نظر رکھی جا سکتی ہے  وائٹ سینڈز رینج گزشتہ کئی عشروں سے مبینہ یو ایف اوز کے حوالوں سے مباحث کا موضوع بنی ہوئی ہے جب کہ ہولومین ائر فورس بیس ایک انتہائی متنازعہ یو ایف او واقعے کی وجہ سے معروف ہے جس کے مطابق 1964 میں باقاعدہ ایک ایلین شپ اس ائر بیس پر اترا تھا جسے انٹرنیٹ پر پوسٹ شدہ فلموں میں ایک گول اڑن طشتری کے روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس اڑن طشتری نما چیز کو با قاعدہ ریڈار پر دیکھا گیا تھا جو نہ صرف آہستہ آہستہ زمین پر اتری بلکہ اس سے کچھ نا قابل شناخت ‘لوگوں’ نے باہر نکل کر وہاں موجود امریکی ائر بیس کے اعلیٰ افسران سے بات چیت بھی کی۔ اس تمام واقعے کو اس وقت ائر بیس پر موجود امریکی فضائیہ کے ایک نچلے درجے کے افسر نے کیمرے میں ریکارڈ بھی کیا تھا اور اس فلم کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ آج بھی امریکی حکومت کے خفیہ ترین والٹس میں کہیں محفوظ ہے مگر حالیہ دنوں میں حکومت نے قصداً اس فلم کے کچھ فریم انٹرنیٹ پر عوام تک لیک کیے ہیں۔ اس واقعے پر امریکی میڈیا میں اب تک بے شمار دستاویزی پروگرام اور ٹی وی شو کیے گئے ہیں۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس واقعے کو صرف ایک افسانہ قرار دیتی ہے جب کہ دوسری طرف لوگوں کی ایک اور بڑی تعداد کو یقین ہے کہ فی الواقع زمین پر اصل خلائی مخلوق نے اتر کر امریکی فضائیہ کے افسران سے ملاقات کی تھی۔ سچائی کیا ہے اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ واقعہ ان متعدد نا قابل وضاحت واقعات میں سے ایک ہے جو گزشتہ کئی عشروں سے ہولومین ائر فورس بیس اور وائٹ سینڈز رینج میں تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ یہاں ایک اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس رصد گاہ میں موجود لوگوں نے جسے ان دو اہم ترین فوجی اداروں پر براہ راست نظر رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور جہاں یہ واقع ہے وہاں لوگ ایک طویل عشرے سے فی الوقت سائنسی طور پر نا قابل وضاحت واقعات اور مناظر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ کوئی ایسا منظر دیکھ کر ریکارڈ کر لیا تھا جو انہیں نہیں دیکھنا چاہیے تھا اور اسی وجہ سے ایف بی آئی نے اتنی سرعت کے ساتھ اس رصد گاہ کو بند کر کے علاقے کو لوگوں سے خالی کروالیا ۔ ۔ ۔ ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر کوئی بھی قیاس یا نظریہ خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ممکن ہے رصد گاہ کے عملے نے سورج کے نزدیک کسی ایلین شپ کو دیکھ لیا ہو اور اس باعث اس رصد گاہ کا امریکی فوج کے اتنے حساس ترین اداروں کی قریب واقع ہونا دنیا کے لیے انتہائی خطرے کا سبب بن سکتا ہو  اس رصد گاہ کا ایف بی آئی کے آپریشن میں اتنی سرعت کے ساتھ خلائی کرایا جانا اسی دوران سورج کے سامنے سے مبینہ طور پر کسی یو ایف او کا گزرنا اور عین اسی وقت دنیا بھر میں 6 خلائی کیمروں کی عارضی بندش سوچنے والے اذہان میں بے شمار ایسے سوالات اور خدشات کو جنم دے رہی ہے جن کا جواب صرف آنے والا وقت ہی دے سکے گا مگر اس وقت ان سوالات سے بھی بڑا سلگتا ہوا سوال یہ ہے کہ اتنے اہم ترین واقعے کو اتنے دن گزرنے کے با وجود امریکی حکومت نے حسب معمول اپنے ہونٹوں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیں؟ کیوں کہ حقیقت کو کچھ کا کچھ بنا کر پیش کرنے میں مہارت کی امریکی حکومت اپنی مثال آپ ہے۔