Mysterious Force Killed Vultures in Africa? Read in Urdu

افریقا – 648 نایاب گِدھ پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے

مغربی افریقا کے ملک گنی بساؤ میں 648 گِدھ پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے ہیں جب کہ ماہرین ان کی ہلاکت کا سائنسی سبب جاننے سے قاصر ہیں اور انہوں نے کوروناوائرس کی حالیہ جان لیوا وباء کے تناظر میں اس واقعے کو نہایت ’غیرمعمولی‘ قرار دیا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق افریقی ریاست کے جنگلات میں مردہ پائے گئے ان نایاب گِدھوں کی ہلاکت کا کوئی سبب سامنے نہیں آسکا ہے تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان پرندوں کی موت میں ‘کوروناوائرس‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے جیسا کہ متذکرہ علاقے میں جانوروں کی کئی اقسام ہمیشہ کے لیے ناپیدی کے دہانے پر پڑی سسک رہی ہیں۔


’کوروناوائرس تھیوری‘ سے قبل بعض ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ پرندے مردہ جانوروں کے جسم سے خارج ہونے والی کسی زہریلی گیس کا نشانہ بنے ہیں کیوں کہ اس علاقے میں ’ایسے واقعات‘ پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں مگر تاحال ان میں سے کسی بھی تھیوری کے حق میں ماہرین کے کسی بھی گروپ کے پاس کوئی ٹھوس سائنسی دلائل نہیں ہیں۔


مغربی میڈیا کے مطابق اس واقعے میں شدید حیرت کا اصل پہلو یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک مخصوص جگہ پیش نہیں آیا بلکہ دوردراز علاقوں سے بھی پرندوں کے اس طرح یک لخت مرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ چوں کہ زہریلی گیس یا کورونا جیسے وائرس کا پھیلاؤ عام طور پر کسی محدود جگہ پر پیش آتا ہے اس لیے اب ماہرین کسی نامعلوم بیماری یا پھر موسم کی ناقابلِ فہم کیفیت کا سرا اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افسوس ناک طور پر حالیہ سالوں میں افریقا میں گِدھوں کی تعداد پہلے ہی نہایت کم ہو چکی ہے۔ جیسا کہ گِدھ ماحول کی صفائی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے مقامی حکام نے اس پُراسرار واقعے کے ’اثرات‘ کو دوسرے پرندوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے حفاظتی تدبیر کے طور پر ہلاک ہونے والے تمام گِدھوں کو جلا کر تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں مقامی حکام فوری طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا کہ یہ واقعہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے یا نہیں اور اس مقصد کے لیے تمام علاقوں میں ہلاک ہونے والے پرندوں سے نمونے اکٹھے کر لیے گئے ہیں جب کہ ہر مردہ پائے گئے پرندے کو فوری طور پر جلا کر تلف بھی کیا جا رہا ہے۔