Mysterious Lights Seen On The Surface Of Moon In Urdu

 چاند سے پھوٹتی روشنی کی پراسرار شعاعیں

چاند کی سطح سے پھوٹتی پراسرار روشنیوں نے سائنس دانوں کو شدید الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ روشنی کی ان پراسرار شعاعوں کو اگرچہ 1950ء میں پہلی بار توجہ کی نظر سے دیکھا گیا؛ مگر تب سے تا حال نہ جانے کن عوامل کی بناء پر دنیا بھر میں ماہرین ان روشنیوں پر تحقیقات سے گریز کر رہے ہیں جسے اگر کترانا کہا جائے تو زیادہ درست ہو گا۔ مگر ممکن ہے کہ اب اس راز سے پردہ اٹھ جائے کیوں کہ جرمن یونی ورسٹی کے ہاکان کایال نامی ایک پروفیسر نے ایک ایسی قمری دوربین بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے جو خاص طور پر ان پراسرار شعاعوں کی تحقیقات و مشاہدات میں استعمال ہو گی۔ جولیس میکسمیلیئن یونی ورسٹی، ورژبرگ، باویریا میں اسپیس ٹیکنالوجی کے پروفیسر ہاکان کیال اس پروجیکٹ کے سربراہ ہیں۔ اس قمری دوربین نے اپریل 2019ء سے آزمائشی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ قمری دوربین کو اسپین میں ایک نہایت دور افتادہ نجی رصد گاہ میں لگایا گیا ہے مگر اسے جرمنی سے آپریٹ کیا جاتا ہے کیوں کہ ماہرین کے بقول اسپین میں موسم چاند کے مشاہدات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ پروفیسر کایال ان پراسرار روشنیوں کا سراغ لگانے کے لیے روایتی سائنسی طریقوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بھی خواہاں ہیں۔ کایال کی ٹیم کے مطابق حتمی نتائج کے حصول میں کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ خیال رہے کہ ان پراسرار روشنیوں کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، جن میں چاند کی سطح پر شہابیوں کی بارش سے لے کر قمری زلزلوں کے باعث خارج ہونے والی گیسیں جو سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہیں – جس کے بہت زیادہ امکانات ہیں – اور آخر میں ’غیر ارضی مخلوق‘ کی سرگرمیاں – جن کا کسی بھی صورت میں انکار ممکن نہیں – شامل ہیں۔ اس سلسلے میں سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کی مضبوط ترین دلیل ناسا کا دوبارہ چاند پر قدم نہ رکھنے کا فیصلہ ہے۔ دوسری طرف خود پروفیسر کیال کا کہنا ہے کہ ناسا نظام شمسی اور کائنات کے دور دراز علاقوں میں تو مشن پر مشن روانہ کر رہا ہے مگر چاند کے بارے میں ہر سوال کا جواب ہر طرف سے صرف خاموشی ہے؛ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیلی اسکوپ سے اب ’بہت کچھ‘ تبدیل ہو جائے گا۔