Mysterious mediaeval medicines in Urdu

قرونِ وسطیٰ میں ہر مرض کا علاج پُراسرار نسخے

گزشتہ دنوں سترہویں صدی کی ایک کتاب میں ’علم نجوم‘ کے دعوے دار دو ’ڈاکٹروں‘ کے تحریر کردہ ایسے پراسرار نسخے ’ترجمہ‘ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو موجودہ دور میں ’عطائی‘ کی اصطلاح سے تعبیر کیے جانے والے سائمن فورمین اور رچرڈ نیپئر نامی ان ’معالجوں‘ نے 80 ہزار سے زائد نا قابل علاج اور ’پیرانارمل‘ امراض کے علاج اور تشخیص میں استعمال کیے تھے۔ ان امراض میں ہیلیوسینیشن سے لے کر ’ناجائز صنفی تعلقات کے باعث جسم میں ہونے والا درد‘ اور بذات خود ’شیطان‘ کو دیکھنے جیسی کیفیات شامل ہیں۔ یہ دونوں ڈاکٹر اپنے دور میں انتہائی ’بدنام‘ تھے اور بطور خاص ’سحر‘ کا شکار اور جنسی امراض میں مبتلا افراد دور دور سے ان کے پاس علاج کے لیے آتے تھے جن کا سیاروں اور ستاروں کے زائچوں کے ذریعے ’علاج‘ کیا جاتا تھا۔ اپنی موت کے بعد ان دونوں ڈاکٹروں نے گائے کے بچھڑے کے چمڑے میں مجلّد ایسی 66 کتابیں اپنے پیچھے چھوڑیں جن میں 80 ہزار کے قریب ان مریضوں کا ریکارڈ تحریر ہے جن کا انہوں نے علاج کیا تھا۔ کیمبرج یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والی فائیس نامی ماہرین کی ایک ٹیم نے نہایت مشقت کے بعد اس کتاب کو برقی شکل میں تبدیل کیا ہے۔ گزشتہ عشرے سے پہلے بے شمار تاریخ دانوں نے اس کتاب کی زبان کو حل کرنے کی کوشش کی مگر وہ سب کے سب نا کام رہے کیوں کہ کتاب میں فرشتوں کی آمد، خوف ناک خوابوں، شکستہ ازدواجی تعلقات، یاسیت، گھبراہٹ اور حتٰی کہ ’محبت کے مرض‘ کو نا قابل فہم انداز میں تصویروں، زائچوں اور اجنبی حروف میں بیان کیا گیا ہے جنہیں سمجھنا جوئے شیر نکالنے سے کم نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دونوں ڈاکٹروں کی تحریر خود ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی ہو گی یا غالباً انہوں نے اس مقصد کے لیے کوئی خاص معماتی زبان تخلیق کی تھی جسے ان کے سوا کوئی اور نہیں سمجھ سکتا تھا مگر آج دس سال کی کڑی محنت کے بعد اس ریکارڈ کو تحریر میں لانے کے بعد برقی شکل میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔

یہ دونوں ڈاکٹر اپنے طریقہ علاج کے تحت گھنٹوں مریضوں سے بات چیت کرتے تھے جس کے دوران زیادہ تر سوالات مریض کیا کرتے تھے اور یہ دونوں زائچوں کی مدد سے مریضوں کے سوالات کے جواب دیتے تھے۔ مرض کی تشخیص اور علاج بروج اور ستاروں کی ساعتوں کے مطابق تجویز کیا جاتا تھا۔ تجویز کیے جانے والے زیادہ تر علاج جلاب کے ذریعے زہر کے خاتمے، جوشاندوں اور جسم سے فاسد خون نکالنے پر مبنی تھے مگر کچھ مریضوں کا کبوتر کے پیروں کے بالوں اور ’کسی مردے کے ہاتھ سے چھوئے جانے‘ کے ذریعے بھی علاج کیا جاتا تھا جب کہ دوران علاج افیون اور حشیش کا استعمال عام تھا۔ یہ دونوں ڈاکٹر ایسے مریضوں کا علاج بھی کرتے تھے جن میں زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں بچتی تھی اور انہیں خودکشی سے روکنا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔ اس زمانے میں ذہنی اور نفسیاتی امراض ’شیطانی اثرات‘ کا نتیجہ سمجھے جاتے تھے اور ایسے مریضوں کو یہ دونوں ڈاکٹر کثرت سے ’تعویذ گنڈے‘ بنا کر دیتے تھے۔ بے شک اس ریکارڈ کی تحریر پر نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ دونوں بھی اتنے ہی دیوانے تھے جتنے وہ دیوانے جن کے علاج کے یہ دعوے دار تھے مگر لمحہ بھر کو ٹہریے اور سوچیے کیا واقعی حقیقت اتنی ہی ہے؟ اس کتاب میں کیتھرین اگنوریم نامی ایک کم عمر لڑکی  کا تذکرہ ہے جسے صنفی تعلقات سے نفرت تھی اور وہ جب بھی اپنے شوہر کے قریب جاتی تو اسے کراہیت سے الٹیاں لگ جاتیں جس کے بعد ’تین گھنٹے کے لیے اس کے جسم سے جان نکل جایا کرتی تھی‘ چناں چہ ’علم نجوم‘ کے ماہر ان ‘ڈاکٹروں‘ نے کیتھرین کے جسم کی تطہیر کے لیے جونکوں کے ذریعے خون نکالنے کا علاج تجویز کیا اور ریکارڈ کے مطابق – اگر جدید ’ترجمے‘ کو درست تسلیم کیا جائے – تو اس نو عمر لڑکی کو مکمل شفا ہوئی۔ اسی طرح تیس سالہ کاؤلی ٹنسوکی نے محبت میں نا کامی کے بعد کبھی نہ شادی کرنے کی قسم کھائی تھی مگر ریکارڈ کے مطابق اس نے علاج کے بعد شادی کی اور اس کے بچے بھی ہوئے۔ ریکارڈ میں تحریر ہے کہ ’رکاوٹ سیارہ مشتری اور عطارد کے 120 ڈگری کے بگڑے ہوئے زاویے کی وجہ سے تھی جس نے دو مئی کو درست ہو جانا تھا۔‘ اسی طرح 28 سالہ جان ولکنگسن کا کیس ہے جو حد سے زیادہ پراسرار ہے۔ یہ شخص ایک دوسرے مرد کی بیوی کے ساتھ سویا مگر زنا کرنے کے فوراً ہی بعد اس آدمی نے ایک استرے کے بلیڈ سے اپنے مخصوص اعضاء کا گویا قیمہ بنا دیا – جس کے نتیجے میں اس کے جسم سے سارے بال جھڑ گئے؛ تاہم  اس سوال کا جواب دور جدید کے کسی ’ماہر‘ کے پاس نہیں کہ ولکنگسن نے ایسا کیوں کیا؟ چوں کہ ریکارڈ کی ان 66 کتابوں میں ہر طرح کے علاج موجود ہیں جیسے اس دور میں استعمال کی جانے والی عمومی دوائیں، علم نجوم کے زائچے اور ساعتوں کے اعداد و شمار، چڑیلیوں کے نام سے بدنام جادوگرنیوں کے جوشاندوں کی گھر پر خود تیاری کے طریقے وغیرہ، اس لیے ان صدیوں پرانی کتابوں نے جدید میڈیکل سائنس کے ماہرین اور پیرانارمل حلقوں سے وابستہ افراد دونوں کی توجہ اپنی جانب کھنچی ہوئی ہے۔ حقیقت خواہ کچھ بھی مگر اس ریکارڈ پر تحقیق کرنے والے کیمبرج یونی ورسٹی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کتاب کی حالیہ حل شدہ زبان عوام کے لیے سترہویں صدی میں ’زیرِ استعمال‘ ادویات، ’سحر‘ اور ’پراسرار علوم‘  کی غلیظ اور ناقابل فہم دنیا کی جانب ایک ایسا ’ہول ناک‘ دریچہ ثابت ہو گی جسے کسی ایسے وورم ہول سے بجا طور پر تشبیہ دی جا سکتی ہے جہاں ایک بار قدم رکھنے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔