Mysterious Rain of Meat in USA | Read in Urdu

امریکا میں‌ آسمان سے گوشت برسنے کا پُراسرار واقعہ

 امریکی تاریخ میں آج سے ڈیڑھ صدی قبل ایک ایسا پُراسرارترین واقعہ پیش آیا ہے جس کی سائنس آج تک وضاحت نہیں کر پائی۔

یہ تین مارچ 1876ء  کا ایک چمک دار دن تھا جب ریاست کینٹیکی میں باتھ کاؤنٹی کے اولمپیا اسپرنگز نامی علاقے میں کئی منٹ تک آسمان سے گوشت کے ٹکڑے برستے رہے جب کہ اس دوران دور دور تک آسمان پر بادلوں کا نام ونشان تک نہیں تھا۔


Credit – Soul Guidance


اس سائنسی طور پر ناقابلِ فہم اور پیرانارمل واقعے کا ریکارڈ آج بھی سائنٹیفک امریکن؛ نیویارک ٹائمز اور متعدد دیگر مؤقر جریدوں میں موجود ہے جس کی تفتیش کے لیے تمام امریکا سے اس علاقے میں ماہرین امڈ آئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایلن کراؤچ نامی خاتون نے جو ایک مقامی کسان کی بیوی تھی اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس روز دوپہر کے وقت وہ اپنے پورچ میں بیٹھی صابن تیار کر رہی تھی کہ یکایک آسمان سے گوشت کے ٹکڑے برسنا شروع ہو گئے۔ ایلن کے مطابق اس دوران مغرب سے ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج خوب روشن تھا جب کہ اس پُراسرار طور پر برسنے والے گوشت کے ٹکڑے یا بوٹیاں نہایت چمک دار تھیں۔


اس گوشت کو سب سے پہلے ایلن کی پالتو بلی نے پیٹ بھر کر کھایا اور اس پر زندگی بھر کبھی بھی کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔


آک لینڈ ٹریبیون لکھتا ہے کہ یہ ’گوشت‘ باقاعدہ چوکور بوٹیوں کی شکل میں تھا جب کہ یہ بوٹیاں بہت باریک ریزوں سے لے کر تین اسکوائر انچ تک کے سائز میں تھیں۔

جن لوگوں نے ’بہادری‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گوشت کو کھایا ان کا کہنا تھا کہ اس کا ذائقہ کافی حد تک ہرن یا گائے کے گوشت سے ملتا جلتا تھا۔

ایک مقامی شکاری بن ایلنگٹن کا کہنا تھا کہ اس نے بھی اس گوشت کو دیکھا جو اس کے بقول کسی ریچھ کے گوشت کی طرح لگ رہا تھا جب کہ حیرت انگیز طور پر اس میں سے شراب کی بو آرہی تھی۔

مقامی قصاب نے بھی اس گوشت کی ایک بوٹی کھا کر دیکھی مگر اس کا کہنا تھا کہ اس گوشت کا ذائقہ ’مچھلی، پرندے، یا دنیا میں پائے جانے والے کسی بھی گوشت جیسا‘ نہیں تھا۔

اس گوشت کے ایک ٹکڑے کو تجزیے کے لیے نیویارک سائنٹیفک ایسوسی ایشن بھیجا گیا اور ڈاکٹر الان مکلین نے جنہوں نے اس گوشت کا سائنسی تجزیہ کیا تھا اپنی رپورٹ میں لکھا کہ گوشت جیسا یہ مادہ کسی ’مخلوق‘ کے پھیپھڑے کا تھا اور ان کے مطابق یہ ’مخلوق‘ یا تو کوئی گھوڑا تھی یا پھر کسی انسان کا بچہ – جی ہاں آپ نے درست پڑھا ہے۔


’یہ گوشت ممکنہ طور پر کسی انسانی بچے کے پھیپھڑے کا ہوسکتا  ہے‘ – لیبارٹری رپورٹ


تاہم اس زمانے میں سب سے مقبول ترین نظریہ یہ تھا کہ دراصل یہ ’گوشت‘ سرے سے ’گوشت‘ ہی نہیں تھا۔

کچھ لوگ اس بارے میں دور دور کی کوڑیاں بھی لائے۔

مثلاً نم تیل میں قدرتی طور پر ’ناسٹاک‘ نامی ایک بیکٹریا پایا جاتا ہے جو بسا اوقات جم کر گوشت جیسے لوتھڑوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مگر چوں کہ ایسا صرف برسات کے دوران ہی ہوتا ہے جس میں کبھی کبھار یہ مادہ بارش کے ساتھ برسنے لگتا ہے اور جیسا کہ اس دن اس علاقے میں بارش کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا لہٰذا اس ’نظریے‘ کو خود ماہرین ہی نے فوری طور پر رد کر دیا۔


Credit – iNaturalist| NOSTOC 


چناں چہ اب سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کی باری تھی چناں چہ اس پُراسرار مادے کو کسی نے ’غیرارضی‘ قرار دیا جب کہ بعض لوگوں کے مطابق یہ ’من‘ کی قسم کی کوئی چیز تھی جس کا مذہبی کتابوں میں ذکر ملتا ہے۔

مگر چوں کہ اس دور کے نام نہاد سائنسی ماہرین ان مفروضات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لہٰذا انہوں نے بھی ایک عجیب وغریب قسم کی وضاحت پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ان ماہرین کے بقول اگر زمین پر بیٹھے گدھ کسی وجہ سے خوف زدہ ہو جائیں تو کبھی کبھار وہ اس صورت میں اپنے جسم میں موجود کھائے ہوئے گوشت کی الٹی کر دیتے ہیں تاکہ ہلکے ہونے کی صورت میں نہایت تیزی سے خطرے کی جگہ سے اُڑ سکیں۔

چناچہ ڈاکٹر ایل ڈی کاسٹینبائن نے لوئسویل میڈیکل نیوز میں لکھا کہ میرے نزدیک ’خوف زدہ گِدھوں‘ والی تھیوری ہی زیادہ معقول ہے مگر ان کے مطابق یہ بات انہیں خود ایلن کراؤچ کے کسان شوہر ہی نے سُجھائی تھی مگر ڈاکٹر کاسٹینبائن نے اصرار کیا کہ ان کے پاس اس پیرانارمل واقعے کی اس کے علاوہ کوئی دوسری سائنسی وضاحت نہیں۔


مگر ظاہر ہے یہ ایک بے بنیاد نظریہ تھا جسے صرف اپنی گردن چھڑانے کے لیے پیش کیا گیا کیوں کہ تمام شاہدین کے مطابق گوشت کی یہ برسات کئی منٹ تک ہوتی رہی اور اگر گدھ یا دوسرے جانور دفاعی الٹیاں کرتے بھی ہیں تو وہ تھوڑا سا کھانا پیٹ سے زمین پر گرا کر فوراً اڑ جاتے ہیں جب کہ کبھی کوئی پرندہ اڑتے وقت الٹیاں نہیں کرتا-


بہرحال اس بحث سے قطع نظر دورِجدید میں ٹرانسلوینیا یونی ورسٹی کے ایک پروفیسر کرٹ گوہڈ کے ہاتھ اس ’گوشت‘ کا ایک نمونہ لگ گیا جو ایک جار میں رکھا گیا تھا۔ اس جار کے باہر ’اولمپیا اسپرنگز‘ کا لیبل لگا ہوا تھا جو نہ جانے کتنے سالوں سے یونی ورسٹی کے ریکارڈ روم میں پڑا دھول کھا رہا تھا تاہم اس وقت تک یہ ’گوشت‘ اتنا پرانا ہو چکا تھا کہ اسے پکانا کر کھانا تو درکنار اس پر درست سائنسی تجربات کرنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔

مگر سائنس کے دفاع کے لیے سرگرم پروفیسر گوہڈ نے پھر بھی ہار نہیں مانی اور انہوں نے کسی نہ کسی طرح اس پُراسرار مادے کے ’ست‘ سے جیلی جیسی ذائقہ دار گولیاں بنانے کا دعویٰ کیا جو انہوں نے بعدازاں ایک مقامی تہوار کے روز لوگوں میں کھانے کے لیے تقسیم کیں۔

جن لوگوں نے یہ گولیاں کھائیں ان کے بقول ان کا ذائقہ خنزیز کے کچے گوشت کی طرح تھا جب کہ بعض دیگر نے انہیں ’خنزیز کا اسٹرابیری کے ذائقے والا قیمہ‘ قرار دیا۔

تاہم خود پروفیسر گوہڈ کے بقول ان کا ذائقہ خنزیر کے بہترین میٹھے گوشت جیسا تھا مگر کھانے کے بعد زبان پر ’کڑواہٹ‘ گھل رہی تھی۔

بہرحال آج ڈیڑھ صدی گزر جانے کے بعد بھی کسی کے پاس بھی اس پیرانارمل واقعے کا کوئی سائنسی یا معقول جواز نہیں۔


تاہم مغربی میڈیا کے مطابق اس واقعے کا اصل ’ناقابلِ یقین‘ پہلو یہ ہے کہ ایک یونی ورسٹی کے پڑھے لکھے پروفیسر نے دورِجدید کے سینکڑوں لوگوں کو جیلی کے وہ ٹکڑے کھلا دیے جن میں ایک سو چالیس سال قبل یا تو ’غیرارضی مخلوق‘ کے ہاتھوں زمین پر پھینکے گئے کسی مادے یا پھر کسی مردہ ریچھ کے گوشت کے وہ اجزاء ملے ہوئے تھے جنہیں سینکڑوں ’خوف زدہ گِدھوں‘ نے اپنا جسم پرواز کے لیے ہلکا کرنے کی خاطر زمین پر الٹی کی شکل میں اگل دیا تھا۔


بقول شاعر: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ/ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔

آپ کیا کیا خیال ہے؟