Mysterious Smell

بدبو

لوگ درست کہتے ہیں کہ انتہائی مکمل چیز کبھی نہیں ہوتی۔ میں حال ہی میں اپنے بوائے فرینڈ کے فلیٹ میں منتقل ہوئی ہوں۔


مغرب میں لڑکے کئی ماہ کی دوستی اور جنسی تعلقات کے بعد اگر مناسب سمجھتے ہیں تو اپنی گرل فرینڈ کو اپنے گھر میں ساتھ رکھ لیتے ہیں۔ ان میں چند ایک ہی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو منگنی اور پھر شادی کے بندھن تک پہنچ پاتی ہیں۔ دل بھر جانے کے بعد لڑکے اپنی گرل فرینڈ کو اور لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈ کو جب چاہیں اپنے گھر سے لات مار کر باہر نکال دیتی ہیں


وہ ایک نہایت خوب صورت فلیٹ تھا جہاں پینٹ ہائوس کے علاوہ سہولت کی ہر چیز میسر تھی۔ ہماری دوستی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا مگر مجھ روز اول سے پتہ تھا کہ اب ہم ’اس وقت تک ساتھ رہیں گے جب تک موت ہمیں جدا نہیں کرتی‘۔ کم از میرا تو یہ ہی خیال تھا۔ ہمارے تعلقات کے ابتدائی دنوں میں مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہے۔ وہ مجھ سے ہمیشہ ایک فاصلہ سا رکھتا تھا۔ اگر چہ وہ مجھے بے بی، ہنی اور اسی طرح کے دوسرے پیار کے ناموں سے پکارتا تھا مگر وہ کبھی بھی میرا نام نہیں لیتا تھا۔ ہالی وڈ کے مطابق یہ امر اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کے بوائے فرینڈ کی کسی اور بھی لڑکی سے دوستی ہے۔ مجھے شروع میں یقین تھا کہ اس کے متعدد دیگر لڑکیوں سے بھی جسمانی تعلقات ہیں مگر مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ بہر حال یہ 21 ویں صدی ہے مگر یہ کہانی اس بارے میں نہیں ہے۔ جب اس نے مجھ اپنے فلیٹ میں منتقل ہونے کے لیے کہا تو مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔


مغربی معاشرے میں ایک حسین اور خوب صورت لڑکی کی ’اوقات‘ ملاحظہ کریں


اس سے پہلے میں ایک تنگ فلیٹ میں رہ رہی تھی جہاں میرے علاوہ 6 دیگر لوگ بھی رہتے تھے جب کہ میرے پاس کوئی فرنیچر بھی نہیں تھا۔ مجھے سامان باندھنے میں کوئی دیر نہیں لگی اور اس کا اپارٹمنٹ تو گویا ایک خواب کی طرح تھا۔ میں اس کے فلیٹ میں منتقل ہونے سے پہلے دو یا تین مرتبہ ہی اس کے فلیٹ میں گئی تھی مگر نا معلوم اسباب کی بنا پر وہ زیادہ تر میرے فلیٹ پر رہنا پسند کرتا تھا۔ شاید اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک بار پھر جوان محسوس کرتا ہو۔ کون جانتا ہے؟ کال اپنے کام کو بہت زیادہ وقت دیتا تھا اور میں یہ وقت فلیٹ میں تنہا گزارتی تھی۔ کال میرے فن کی بہت حوصلہ افزائی اور مدد کرتا تھا۔ اس نے مجھے سے کہا کہ میں فلیٹ کا اضافی کمرہ نقاش خانے کے طور پر استعمال کر سکتی ہوں اور حتیٰ کہ اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی ویٹرس کی جاب چھوڑ دوں


بلا تبصرہ


تا کہ میں آرٹ کو زیادہ سے زیادہ وقت دے سکوں۔ مجھے اس سے بے انتہا محبت تھی۔ فلیٹ میں پہلے روز جب میں اپنا مصوری کا کمرہ درست کر رہی تھی تو مجھے دیوار سے آوازیں سنائی دیں۔ ’منحوس چوہے ۔ ۔ ۔ ‘ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ غلیظ ترین فلیٹوں میں گزارا تھا اس لیے میں ان آوازوں کو اچھی طرح پہچانتی تھی۔ اس کے بعد مکھیاں نمو دار ہوئیں۔ میں تصویریں بناتے بناتے تھک گئی تھی اور کمرے میں زمین پر بیٹھ کر تھوڑا سستا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں پیزا کا ایک ٹکڑا تھا اور میں اس الجھے ہوئے معمے کا سرا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک مکھی میرے پیزا پر آ کر بیٹھ گئی۔ میں نے غصے سے اسے اڑایا۔ اس کے پیچھے ایک اور مکھی اڑ رہی تھی۔ میں نے کمرے میں مڑ کر دیکھا۔ وہاں کم از کم پانچ مکھیاں اور تھیں۔ جب میں نے کال کو اس بارے میں بتایا تو وہ بری طرح چڑ گیا۔ ’تم اس کمرے میں کر کیا رہی ہو؟ میں نے محض تیوریاں چڑھا کر شانے اچکا دیے۔ اس کی برہمی نے مجھے حیران کر دیا تھا اور یہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ’تم وہاں کچھ کھاتی تو نہیں ہو؟ اس نے کراہیت آمیز انداز میں پوچھا۔ ’کبھی کبھار ۔ ۔ ۔‘ ’اگر تم اس طرح سور پن کا مظاہرہ نہیں کرتیں تو ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ اگر تم خود ہی کچرا پھیلا رہی ہو تو کم از مجھ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرو‘۔ ’آئی ایم سوری‘ میں نے اداسی سے جواب دیا۔ اس کا رویہ ہی اتنی تیزی سے مکمل طور پر تبدیل ہوا تھا جس نے مجھے ششدر کر دیا تھا۔ ’مجھے خیال نہیں رہا کہ یہ میری غلطی تھی‘۔ ’او نو بے بی۔ آئی ایم سوری۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ آج کل کام کے حوالے سے میرے اعصاب پر شدید بوجھ ہے۔ میں اپنا غصہ تم پر نہیں نکالنا چاہتا تھا۔ بس مکھیوں کو نظر انداز کر دو۔ مجھے یقین ہے وہ کچھ دنوں بعد خود ہی آنا بند کر دیں گی‘۔ مگر اگلے روز مکھیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا مگر میں نے کال سے کچھ نہیں کہا کیوں کہ میں اس کے رد عمل سے شدید خوف زدہ تھی۔ کمرے میں ایک الگ طرح کی بو بھی آ رہی تھی۔ مجھے یقین تھا میں نے کہیں نہ کہیں کوئی کھانے کی چیز گرا دی ہے اس لیے میں نے پورے کمرے کی صفائی کی۔ مگر کچھ بھی نہیں ملا۔ میں نے یہاں منتقل ہونے کے بعد بڑی کھڑکی کو کھلا چھوڑ دیا تھا۔ مجھے ٹھنڈ میں تصویریں بنانا اچھا لگتا تھا۔ چناں چہ میں نے سوچا کہ بو اور مکھیاں باہر سے آ رہی ہیں۔ میں نے کھڑکی بند کر دی۔ لنچ کے بعد جب میں کمرے میں واپس آئی تو بد بو نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔ میں نے پینٹنگ کرتے وقت اس پر توجہ نہیں دی تھی مگر باہر کھلی ہوا میں سے اندر آنے کے بعد اس بو کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ کسی چیز کے سڑنے کی بو تھی۔ ۔ ۔ میں نے سوچا شاید دیواروں میں کوئی چوہا وغیرہ مر گیا ہے۔ ’لگتی تو یہ مرے ہوئے چوہے ہی کی بو ہے۔ چوہے؟ مگر یہاں چوہے نہیں ہیں۔ مجھے اچھی طرح پتہ ہے یہاں چوہے نہیں ہیں۔ مجھے نہیں پتہ تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو۔ شاید کمرے میں رنگ کے کچھ زیادہ ہی بخارات جمع ہو گئے ہیں‘ کال کی آنکھیں غصے سے تاریک ہو رہی تھیں۔ مگر اس نے تھوڑی دیر بعد خود کو سنبھال لیا۔ مجھے اس کے فلیٹ میں منتقل ہونے سے پہلے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا نازک مزاج ہو گا۔ کال تھوڑا سا ٹھنڈا ہوا اور پھر اس نے نرم لہجے میں کہا ’میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں یہ بو نیچے والے فلیٹ سے آ رہی ہے‘۔ ’تمہیں وہ عجیب سا شخص یاد ہے جسے ہم نے لفٹ میں دیکھا تھا؟ میں نے ایک جھر جھری لی۔ وہ آدمی مجھے یاد تھا۔ ’یہ بو وہیں سے آ رہی ہے۔ اس کا فلیٹ بالکل اس کمرے کے نیچے ہے۔ مجھے نہیں پتہ وہ اپنے فلیٹ میں آخر کر کیا رہا ہے ۔ ۔ ۔ تم ایسا کرو کمرے میں کوئی خوش بو کا اسپرے کر دو۔ میرا خیال ہے بو جلد ہی خود بہ خود ختم ہو جائے گی‘۔ نیچے فلیٹ میں رہنے والا پڑوسی میرے ذہن سے محو نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے اس صرف ایک بار ہی دیکھا تھا۔ اس روز جب میں یہاں منتقل ہوئی تھی۔ مگر اس کا چہرہ میرے ذہن میں گویا کندہ ہو گیا تھا۔ ہم سامان اٹھانے کا آخری پھیرا لگانے کے لیے لفٹ میں نیچے آ رہے تھے اور لفٹ ہماری نچلی منزل پر رک گئی۔ میں نے محسوس کیا کال بے چین ہو رہا تھا اور شاید اسے کسی پڑوسی کی توقع تھی۔ لفٹ کا دروازہ کھلا اور میرے نتھنوں نے شدید بد بو محسوس کی۔ لفٹ کے باہر کھڑا شخص بلند قامت مگر دبلا پتلا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور بو ایسی تھی جو میں نے آج سے پہلے کہیں محسوس نہیں کی تھی۔ اس نے پہلے مجھ سے آنکھیں ملائیں اور پھر اس کی نظریں میرے چہرے سے پھسلتے ہوئے کال کے چہرے پر پڑیں اور پھر دوبارہ میرے چہرے پر۔ میں غیر ارادی طور پر کانپ گئی۔ اس نے تیوریاں چڑھائیں اور مجھے کئی سیکنڈ تک تکتا رہا۔ پھر وہ ایک لفظ کہے بغیر لفٹ میں داخل ہوا۔ ہم خاموشی سے نیچے اتر آئے۔ اس کے بعد میں نے جب بھی لفٹ استعمال کی مجھے خوف رہتا تھا کہ کہیں وہ شخص بھی میرے ساتھ سوار نہ ہو جائے۔ میں نے اس خیال کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی وہ شخص آخر اپنے فلیٹ میں ایسا کیا کرتا ہے جس سے اتنی شدید بد بو اٹھتی ہے۔ اگلے روز مکھیوں کی تعداد اور بد بو کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ میں نے کال کو دفتر میں فون کیا۔ ’تم اس بات کو زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر سر پر سوار کر رہی ہو۔ بو اتنی بری نہیں ہو سکتی۔ تم ایسا کرو فی بریز خوش بو کا اسپرے کر دو اور اس قصے کو اب ختم کرو۔ اور ہاں مجھے اب دفتر میں اس وقت تک ڈسٹرب نہیں کرنا جب تک کوئی اہم بات نہ ہو۔ اگر وہاں کوئی چوہا مر گیا ہے تو کچھ دنوں بعد بو خود ہی ختم ہو جائے گی۔ اپنے آپ کو شہ زادی سمجھنا چھوڑ دو بے بی‘۔ میں خود بھی بات بڑھانا نہیں چاہ رہی تھی۔ وہ واقع کافی پریشان نظر آ رہا تھا۔ میں نے اس بار اس کمرے کا دروازہ بند کر ک کھڑکی کھول دی اور پورے کمرے میں خوش بو کا اسپرے کر دیا۔ وہ سارا دن میں نے باہر بیٹھ کر اسکیچ بناتے گزارا۔ میرے لیے کمرے میں اندر بو برداشت کرنا ممکن نہیں تھا۔ بد بو میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ الٹا اضافہ ہو گیا۔ میں پینٹنگ کرنا چاہتی تھی مگر اس کمرے میں کھڑا رہنا ممکن نہیں تھا۔ میرے ذہن میں اس آواز کا خیال آیا جو میں نے پہلے روز دیوار میں سنی تھی۔ اس آواز سے لگتا تھا کہ یہ کوئی بہت بڑا اور موٹا تازہ چوہا ہے۔ اتنا موٹا چوہا اگر دیوار میں مر جائے تو اس سے بے شک ایسی ہی بو اٹھتی۔ مگر ہو سکتا ہے کال درست کہہ رہا ہو کہ یہ بو نیچے سے آ رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس عجیب سے شخص سے بات کرنا ہی ہو گی۔ کم از کم میں ایسا کرنے کی ایک کوشش ضرور کروں گی۔ اپنے آپ کو اچھی طرح سمجھانے کے بعد میں نے اس کے دروازے پر دستک دی۔ جیسے ہی دروازہ تھوڑا سا کھلا میری ناک باسی مٹھائیوں اور بلی کے پیشاب کی بو سے بھر گئی۔ میں لڑکھڑا کر پیچھے گرنے ہی والی تھی۔ اس نے اتنا ہی دروازہ کھولا جتنا حفاظتی زنجیر کی لمبائی کے مطابق کھل سکتا تھا۔ ’معاف کیجے گا جناب۔ میں اوپر والے فلیٹ میں رہتی ہوں۔ میں یہاں حال ہی میں منتقل ہوئی ہوں – میں نے اپنی بات مختصر کرتے ہوئے کہا کیوں کہ اس نے دروازہ بند کرنا شروع کر دیا تھا ’سوری۔ میں آپ کو تیزی سے اپنی بات بتاتی ہوں۔ یہ ایک عجیب سے بات ہے مگر ہمارے فلیٹ میں کہیں سے بہت بری بد بو آ رہی ہے‘۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں مگر اس نے کہا کچھ نہیں۔ وہ بس کھڑا مجھے تکتا رہا۔ دروازہ بند ہونا رک گیا تھا۔ ’بات یہ ہے کہ میرے بوائے فرینڈ کا خیال ہے کہ یہ بو آپ کے فلیٹ سے آ رہی ہے‘ میری آواز لڑکھڑا گئی۔ مگر اس نے ایک لمحے کے لیے بھی میرے چہرے سے آنکھیں نہیں ہٹائیں۔ میں وہاں دس سے پندرہ سیکنڈ کھڑی سوچتی رہی کہ کیا مجھے واپس ہو جانا چاہیے۔ مگر میری نرم طبیعت مجھ پر غالب ہو گی۔ میں نے ایک بار پھر کوشش کی۔ ’ہمارے اپارٹمنٹ میں ایک عجیب س بو آ رہی ہے اور میرے بوائے فرینڈ کا کہنا ہے کہ آپ اس بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں‘۔ اس کے ماتھے پر تیوریاں پڑ گئی مگر اس نے اس بار بھی کچھ نہیں کہا۔ میری آواز پھر حلق میں پھنسنے لگی مگر میں نے کسی نہ کسی طرح جملہ ادا کرہی دیا ’کیا اس عمارت میں چوہے ہیں؟ وہ اس بار مسکرایا۔ ’نہیں۔ چوہے نہیں ہیں مگر بلیاں ہیں۔ ’اچھا ٹھیک ہے۔ پھر خدا حافظ‘ میں مڑی اور تیزی سے راہ داری پار کری۔ میرے عقب میں دروازہ بند ہو چکا تھا۔ میں نے ایک بار پھر دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ ’خاتون میرا مشورہ ہے آپ اس فلیٹ میں نہ رہیں‘ اس نے میرے پیچھے آواز دے کر کہا۔ میں مڑی مگر اس کا دروازہ پھر بند ہو چکا تھا۔ میں چلتی رہی مگر میرا ذہن الجھ چکا تھا۔ دروازہ پھر کھلا۔ میں واپس نہیں مڑی مگر قدموں کو تیز کر دیا۔ ’یہ فلیٹ شاید چوہوں کی وجہ سے محفوظ نہیں ہے‘۔ میں لرز اٹھی۔ میں نے دیوانوں کی طرح بار بار لفٹ کے بٹن دبائے۔ میرے عقب میں دروازہ پھر بند ہو گیا۔ میں نے سکون بھری سانس لی۔ میں نے اب اس شخص سے کبھی نہ بات کرنے کی قسم کھائی۔ وہ ہمارے خوب صورت فلیٹ کو بے شک موت جیسی بو سے برباد کر رہا ہو گا مگر میں اب اس بارے میں جاننا نہیں چاہتی تھی۔ مگر اب بو فلیٹ میں کمرے سے باہر پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ مجھے لگا شاید کال غصے سے پاگل ہو جائے گا۔ میں جانتی تھی وہ مجھ پر فلیٹ میں ادھر ادھر کچھ کھانے کی چیز گرانے کا الزام لگائے گا۔ اس خیال نے مجھے دہشت زدہ کر دیا کہ میں کال کے رد عمل سے خائف تھی۔ وہ بہر حال میری زندگی بھر کی محبت تھا۔ میں نے سوچا شاید میں اس وجہ سے پریشان تھی کیوں کہ میں اسے خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ کسی بھی وجہ سے پریشان ہو۔ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا میں اس سے خوف زدہ نہیں تھی۔ بہر حال میں اس سے پیار کرتی تھی۔


اس عورت کی حالت اور ہماری ’مظلوم‘ مشرقی عورت کی کیفیت میں کوئی فرق ہے. . . ؟ 


جب میں کال سے اپنے تعلقات کا تجزیہ کیا تو مجھے یک لخت خیال آیا کہ ہمارے فلیٹ کی بو اور نیچے والے فلیٹ کی بو میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ پڑوسی کے فلیٹ میں باسی مٹھائیوں اور بلی کے پیشاب کی بو آ رہی تھی۔ مگر اس فلیٹ میں یہ بو موت کی بو لگتی تھی۔ ’یہاں چوہے نہیں ہیں لعنتی عورت‘۔ میں بڑبڑائی۔ میں سمجھ گئی تھی کہ دیوار میں موجود موٹا چوہا کتنا موٹا تھا۔ میں نے چوہے مارنے کے ایک ماہر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کال کو ایک مختصر کال کرنے کا سوچا تا کہ اس کا رد عمل دیکھ سکوں مگر مجھے یاد تھا کہ وہ پچھلی بار مجھ پر کس قدر غصہ ہو گیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں خود کو ایک شہ زادی سمجھتی ہوں۔ میں ایک ایسے کمرے میں آخر کس طرح پینٹنگ کر سکتی تھی۔ میں ایک بھر پور عورت تھی اور مجھے اپنے مسائل سے نمٹنا آتا تھا۔ میں نے ایک چوہے مار ماہر کو فون کیا۔ اس نے مجھے اس شخص کا فون نمبر دیا جسے دیواروں سے مرے ہوئے چوہے نکالنے میں خاص مہارت حاصل تھی۔ اتفاق سے وہ فارغ تھا اس لیے فوراً ہی آ گیا۔ میں کتنی خوش قسمت تھی۔ ’جی ہاں آپ کی دیوار میں ایک نہیں کئی مرے ہوئے چوہے ہیں۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لوگ گھروں میں چوہے مار زہر ڈال دیتے ہیں۔ غالبا اس دیوار میں چوہوں کی پوری کالونی ہے اور غالباً وہ یہاں مرنے کے لیے کھلی ہوا میں نکل آئے ہوں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں ابھی اس کا انتظام کرتا ہوں۔ مگر مجھے دیوار میں ایک چھوٹا سوراخ کرنا ہو گا۔ اس میں کوئی مسئلہ تو نہیں؟ میں نے تھوڑا سوچا کہ کال برا مانے گا۔ مگر وہ کبھی بھی اس کمرے میں نہیں آتا تھا۔ میں نے سوچا میں سوراخ چھپانے کے لیے وہاں ایک تصویر لٹکا دوں گی۔ ’مگر آپ پریشان نہ ہوں۔ اینٹوں پر پلاسٹر نہیں ہے اور سوراخ بھرنے کے بعد ذرا بھی پتہ نہیں چلے گا‘۔ چناں چہ میں نے اس سے کہا کہ کام شروع کرو۔ جب پولیس آئی میں کچن میں تھی۔ میں اس وقت کمرہ تفتیش میں تھی جب انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں دیوار کے پیچھے سے لاش ملی ہے۔ میں اس وقت اپنے وکیل کے ساتھ تھی جب انہوں نے مجھے بتایا کہ لاش کال کی سابقہ گرل فرینڈ کی تھی۔ میں عدالت میں گواہوں کے کٹھرے میں کھڑی تھی جب انہوں نے مجھے بتایا کہ کال نے اسے یہاں زندہ دفن کیا تھا تا کہ وہ ایک اذیت ناک موت سے دو چار ہو۔ میں اس وقت عدالت میں موجود تھی جب کال کو قتل عمد کے الزام میں سزائے عمر قید سنائی گئی جس میں ضمانت ممکن نہیں تھی۔ مگر میں اس وقت تنہا ایک گھٹیا سے ہوٹل میں بیٹھی تھی جب مجھے خیال آیا کہ وہ لڑکی اس وقت زندہ تھی جب میں کال کے فلیٹ میں منتقل ہوئی۔ بلا شبہ اس عمارت میں چوہے نہیں تھے۔

ختم شد