’ایلینز لاکھوں سال قبل انٹارکٹکا آئے تھے؟ اردو ویڈیو

اٹھارویں صدی کے آغاز سے لے کر آج تک جب محققین نے پہلی بار منجمد براعظم یعنی انٹارکٹکا کی سرد زمین پر قدم رکھے تھے لوگ اس پراسرار مقام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے خواہش مند ہیں۔

آج اگرچہ انسان کو انٹارکٹکا پر پہنچنے دو صدیاں گزر چکی ہیں مگر یہ سوال ہنوز تشنہ لب ہے کہ یہاں برف کی دبیز ترین تہہ تلے کیا ہے اور آخر اتنے سرد ماحول میں یہاں حیات کے برقرار رہنے کے پیچھے کیا راز نہاں ہے۔ 1950ء میں سائنس دانوں نے اس پراسرار مقام کی باقاعدہ کھوج لگانا شروع کی اور تب سے لے کر اب تک انٹارکٹکا کی برف میں ہزاروں بلکہ لاکھوں سال سے پوشیدہ بے شمار نا قابل یقین چیزیں ہماری آنکھوں کے سامنے آئی ہیں۔ انٹارکٹکا بلاشبہ دنیا کا پراسرار ترین مقام ہے۔  


کہا جاتا ہے یہاں برف تلے نہ صرف غیرارضی مخلوق کے خلائی جہازوں کا تباہ شدہ ملبہ بلکہ ہٹلر کی ایک خفیہ ترین بیس بھی موجود ہے۔ یہاں تک افواہیں ہیں کہ یہاں ’برفانی روحوں‘ کے علاوہ آگ کے بڑے بڑے گولے بھی انسانوں کا پیچھا کرتے دیکھے گئے ہیں۔ سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کا یہ تک ماننا ہے کہ یہاں ’اٹلانٹیئن سلطنت‘ کے عالی شان کھنڈر بھی قدرت کے ہاتھوں تباہی کے بعد برف تلے اپنے عہد رفتہ پر ماتم کناں ابدی نیند سو رہے ہیں جس کے باسی دنیا کی اولین ترقی یافتہ ترین قوم تھے۔ اگرچہ نام نہاد روشن خیال ذہن ان باتوں کو محض کہانیاں کہہ کر بے پرواہی سے اپنی دنیا میں مگن رہ سکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایسے ایسے راز پنہاں ہیں جنہیں اگر با قاعدہ ٹھوس سائنسی شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو تمام تر روشن خیالی انگشت بدنداں رہ جائے۔ فروری 2012ء میں روسی سائنس دانوں نے یہاں پہلی بار کام یابی سے برف کی چار میٹر دبیز تہہ میں سوراخ کیا جس کے بعد روشنی کی کرنیں ایک ایسی وسیع و عریض جھیل تک پہنچیں جس نے لاکھوں سال سے سورج کا منہ نہیں دیکھا تھا۔


 کہیں اس جھیل تک پہنچنے کے لیے کیا جانے والا یہ سوراخ کرہ ارض کے لیے پنڈورا بکس تو ثابت نہیں ہونے والا . . . ؟


نیرنگ کو اپنے خیالات سے کمینٹس کی صورت میں ضرور آگاہ کریں۔ آئیے اب ہم ایک ایک کر کے ان دس پراسرار ترین چیزوں کا جائزہ لیں جو تاحال سائنس دانوں نے اس ’منجمد جہنم‘ کی کوکھ سے نکالی ہیں – – –


زمانہ قبل از تاریخ کا سیاہ شہابیہ


سائنس دانوں کو دوران تحقیق یہاں لاکھوں سال قدیم سیاہ شہاب ثاقب کا ایک ٹکڑا ملا ہے۔ انٹارکٹکا چوں کہ بہت بڑا براعظم ہے لہٰذا سائنسی تحقیق کے لیے یہ شہاب ثاقب کے ٹکڑے چننے کی سب سے بہترین جگہ ہے۔ 2015ء کے اوائل میں ناسا کے سائنس دانوں اور محققین کو یہاں سے ایک پراسرار شہابیہ کا ٹکڑا ملا جس کی رنگت سیاہ اور سائز آلو کے برابر ہے۔ یہ شہابیہ تیرہ سال پہلے سیارہ مریخ سے اس مقام پر گرا تھا جس میں لاکھوں سال قدیم خرد حیاتیے فوسل شدہ حالت میں موجود ہیں۔ جی ہاں یہ شہابیہ غیر ارضی حیات کو کسی نہ کسی شکل میں زمین کی جانب لے کر آ رہا تھا۔


کوہان نما سروں والی کھوپڑیاں


ماہرین آثار قدیمہ نے انٹارکٹکا کے لاپا نامی مقام سے تین ایسی کھوپڑیاں دریافت کی ہیں جن کے سر اونٹ کے کوہانوں کی طرح بلند اور لمبے ہیں۔ یہ دریافت کسی عظیم تر انکشاف سے کم نہیں کیوں کہ اس سے قبل سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ اس خطے پر زمانہ جدید کے انسانوں سے قبل کبھی بھی انسان کے قدم نہیں پڑے اور اس دریافت کے بعد غالباً تاریخ کی کتابوں کو از سر نو لکھنا پڑے گا کیوں کہ ملنے والی کھوپڑیاں محض انسانوں کی سادہ کھوپڑیاں نہیں بلکہ وہ کھوپڑیاں ہیں جن کے سروں کو زمانہ زندگی میں مصنوعی طریقے سے لمبا کیا گیا تھا جس طرح ہم آج بھی متعدد افریقی قبائل کو رسم و رواج کے تحت ایسا کرتے دیکھتے ہیں۔ اس سے قبل اس نوعیت کی کھوپڑیاں مصر اور پیرو سے مل چکی ہیں اور یہ بات اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں پڑھائے جانے والے ’اسباق‘ کے برعکس انسان افریقا اور جنوبی امریکا سے نہ صرف انٹارکٹکا پہنچ چکے تھے بلکہ ان کے درمیان باہمی تجارتی روابط بھی تھے۔


ڈائنوسار انٹارکٹکا میں بھی تھے


1980 اور 90ء کے درمیان سائنس دانوں کو انٹارکٹکا میں چار ٹانگوں پر چلنے والے عظیم الجثہ ریپٹائلز کے فوسل شدہ ڈھانچے ملے۔ اس دریافت سے پتہ چلا کہ دنیا کے اس سرد ترین کونے پر آج سے کم و بیش ستر سے دو سو ملین سال قبل ڈائنو سارز کی حکم رانی تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انٹارکٹکا اس زمانے میں خوش گوار درجہ حرارت کے باعث ہر طرح کی حیات کے لیے سازگار تھا کیوں کہ اس وقت یہاں کا درجہ حرارت موجودہ درجہ حرارت سے پچاس ڈگری زیادہ تھا بلکہ یہ مقام کرہ ارض پر کہیں اور موجودہ بحرالکاہل کے جنوب مغربی حصے کے آس پاس ہوا کرتا تھا۔


اہرامات


طویل عرصے سے انٹارکٹکا میں پراسرار ترین اہرامات کی موجودگی یا عدم موجودگی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ متعدد محققین کے مطابق یہ اہرامات اس مقام پر انسانوں سے قبل کسی تہذیب یافتہ قوم کی موجودگی کا ناقابل تردید ثبوت ہیں مگر اب بھی ’مین اسٹریم‘ سائنس دان اس آنکھوں دیکھی مکھی کو زندہ نگلنے کے لیے انہیں محض برف کے ’قدرتی ٹیلے‘ قرار دینے کی تگ و دو میں جتے ہوئے ہیں۔ انٹارکٹکا میں ’انسانی ہاتھوں کے تعمیر کردہ‘ ان اہرامات کی پہلی خبر 2013ء میں سوشل پلیٹ فارمز پر ’لیک‘ ہوئی تھی جن میں متعدد تصاویر اور تشریحات کے ذریعے ان اہرامات کی انٹارکٹکا میں موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر آج کوئی بھی گوگل میپ کے ذریعے ان اہرامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ تاحال یہ لنک اور تصاویر گوگل پر موجود ہیں ورنہ ایسے ’پیرانارمل‘ شواہد کو فوری طور پر چھپانے میں غالباً اب گوگل کا کوئی ثانی نہیں جس کا سبب’ کرہ ارض کی اسٹیبلشمنٹ‘ کے احکامات کے علاوہ بھلا اور کیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ان ’برفانی اہرامات‘ کو انسانوں نے تعمیر نہیں کیا تو کیا اندھی، گونگی اور بہری نیچر خود بہ خود فن تعمیر کے ایسے شاہ کار تخلیق کرنے کی اہل ہے؟ مگر حالیہ اطلاع یہ ہے کہ اب ایک خصوصی سائنسی مہم کو ان ’اہرامات‘ کی تحقیق کے لیے بہت جلد انٹارکٹکا روانہ کیا جائے گا۔


پتھر کے روپ میں ڈھلے جانور کے بقایا جات


2009ء میں ماہرین کی ٹیم کو انٹارکٹکا کی برف تلے ایک بلی کی برابر جانور کے بقایا جات ملے جو 250 ملین سالوں سے منجمد رہنے کے باعث پتھر کی طرح سخت ہو چکے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ جانور انڈے دیتا تھا اور اس کا تعلق زمانہ جدید کے دودھ پلانے والے یعنی ممالیہ جانوروں سے بتایا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس جانور اور اس کی نسل نے اس دور میں کسی نہ کسی طور اپنے آپ کو معدومی سے بچایا جب کرہ ارض کا درجہ حرارت نا قابل برداشت حد تک بڑھ گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس جانور نے جنوبی افریقا سے سرد انٹارکٹکا کا سفر کیا۔ خیال رہے کہ اس دور میں انٹارکٹکا ’پینجیا‘ نامی ایک سپر براعظم کا حصہ تھا۔ یہ براعظم 299 ملین سالوں پہلے وجود میں آنے کے بعد 200 ملین سال پہلے ٹوٹ کر متعدد ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس جانور کو زمین پر ایک سرد مقام کی موجودگی کی خبر کیسے ہوئی؟


خونی آبشار


خونی آبشار ایک ایسے سرخ دھارے کو نام دیا گیا ہے جو ٹیلر گلیشیئر نامی آبشار سے بہہ رہا ہے۔ انٹارکٹکا میں بہنے والے اس سرخ دھارے کا سبب ماہرین بھاری مقدار میں پانی میں پائے جانے والے لوہے کے ذرات سے منسوب کرتے ہیں جو وقتاً فوقتاً پانی میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ لہو رنگ دھارا کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ایک جھیل سے نکلتا ہے جو اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ یہاں لاکھوں سال پہلے کوئی گرم سمندر ہوا کرتا تھا۔ اس جھیل میں نمک (شوریت) کی مقدار تمام دنیا کے سمندروں میں موجود نمک کی مقدار سے چار گنا زیادہ ہے اس لیے اس کا پانی صرف منفی دس ڈگری پر ہی جمتا ہے۔


ہوائی جہاز کے ساتھ کیا ہوا تھا؟


انٹارکیٹیکا کی برف میں دبے اس جہاز میں کینیڈا کے تین باشندے سوار تھے جو تیئس جنوری 2013 کو اچانک لاپتہ ہو گیا تھا اور جسے تمام تر کوششوں کے باجود فوری طور پر تلاش نہیں کیا جا سکا؛ مگر ایک سال بعد اس جہاز کا ملبہ ماؤنٹ ایلزبتھ نامی ایک پہاڑ کی انتہائی ڈھلواں چوٹی پر دیکھا گیا۔ ملبے کا سراغ ملنے پر ماہرین کا خیال تھا کہ یہ حادثہ جہاز کے پہاڑ سے ٹکرانے کے سبب پیش آیا ہو گا۔ اس جہاز کے بارے میں تاحال اتنا ہی معلوم ہو سکا ہے کہ اس جہاز سے مسافروں کی جان بچانے کی امید میں کسی ’پراسرار‘ خطرے کا سگنل دیا گیا تھا۔ یہ جہاز انٹارکیٹکا میں امریکا اور اٹلی کے دو تحقیقی اسٹیشنوں کے مابین پرواز کر رہا تھا۔ امریکا کا امنڈسن سکاٹ نامی اسٹیشن قطب جنوبی پر جب کہ اٹلی کا ماریو زو چیلی نامی اسٹیشن ٹیرا نووا نامی جزیرے کے ساحل پر واقع ہے۔ جس وقت اس بدنصیب جہاز نے یہ پراسرار سگنل دیا وہ قطب جنوبی سے ساڑھے چار سو کلومیٹر کی دوری پر اڑ رہا تھا۔


ایک صدی قدیم وہسکی


دنیا کے اس سرد ترین مقام سے لکڑی کے دو صندوقچوں میں سو سال پرانی بہترین وہسکی کی بوتلیں ملی ہے۔ ماہرین نے کسی بھی قسم کے رسک سے بچنے کے لیے تین سال بعد ان بکسوں کو برف کی تہہ سے نکالا اور اس مقصد کے لیے مخصوص اوزار اور آلات منگوائے گئے۔ بعد ازاں خاص ڈرل مشینوں کے ذریعے برف کے تودے میں سوراخ کرنے کے بعد وہسکی کی تمام بوتلیں بحفاظت باہر نکال لی گئیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ صحافیوں کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ماہرین اس شراب کو چکھ کر دیکھیں گے ٹیم کے سربراہ نے جواب دیا کہ ان بوتلوں پر تحقیق اس میں موجود دنیا کی بہترین شراب پینے یا کہیں سنبھال کر رکھنے سے زیادہ اہم ہے اور یہ کہ میں نہیں چاہتا ان بوتلوں سے جڑے پراسرا پہلوؤں کا اس طرح خاتمہ کیا جائے۔


عجیب ترین مخلوق


قطب جنوبی پر امریکا کی ایک تحقیقاتی ٹیم کو برف کی تہہ میں 675 میٹر گہرائی سے ایک نا معلوم مخلوق ملی ہے۔ جی ہاں یہ جملہ پڑھتے ہی آپ کے ذہن میں خوف ناک ترین ہالی وڈ فلم ’تھنگ‘ کا تصور اس سوچ کے ساتھ ابھر رہا ہو گا کہ کیا وہ فلم واقعی حقیقی شواہد کے تناظر میں فلمائی گئی تھی۔ اس کیڑے نما مخلوق کی لمبائی بیس سینٹی میٹر ہے اور اس کا جبڑا دو سینٹی میٹر کا ہے جو اوپر نیچے کھلنے اور بند ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس مخلوق کا تعلق جانوروں کے کس گروہ سے ہے اور یہ کہ اس کی غذا کیا تھی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ منجمد براعظم ستاروں کی طرح ان گِنت اسرار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اسرار کے ان پردوں کو اٹھا کر جواب تلاش کرنے بھی چاہییں یا نہیں . . . ؟


برف کی تہہ تلے زندگی


انٹارکٹکا میں کئی کلومیٹر دبیز برف کی تہہ میں زندگی موجود ہے۔ ماہرین نے روز آئس شیلف کے مقام پر سات سو تیس میٹر گہرا سوراخ کرنے کے بعد اس میں کیمرا اتارا جس نے برف کی گہرائی میں اس مقام کا جائزہ لیا جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ یہاں زندگی کا وجود ممکن نہیں اور انہیں خرد حیاتیوں کے سوا یہاں کچھ اور نہیں ملے گا مگر کیمرے کی آنکھ نے جو کچھ انہیں دکھایا اسے دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دنیا کے اس تاریک ترین پانیوں میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں، ستارہ مچھلیاں اور اسی طرح کی دیگر مخلوقات ادھر سے ادھر تیرتی پھر رہی تھیں۔


منجمد بحری جہاز

1940ء میں قطبین کے معروف مہم جو ارنسٹ شیکلٹن کی زیر قیادت ایک مہم انٹارکٹکا روانہ کی گئی جو عملے کے اٹھائیس افراد پر مشتمل تھی۔ اس مہم کا مقصد انٹارکٹکا کو پار کرنا تھا مگر یہ جہاز بمشکل تمام قطب جنوبی پہنچ ہی پایا تھا کہ یکایک اسے ہر طرف سے برف نے گھیر لیا جس میں یہ سترہ مہینوں تک پھنسا رہا۔ مہم جو ٹیم نے اپنی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور بالآخر وہیل مچھلیوں کا شکار کرنے والوں کے نزدیکی کیمپ کی طرف پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ شیکلٹن کی ماہرانہ قیادت اور بہترین نظم و ضبط کے باعث تمام اٹھائیس افراد خیر و عافیت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے۔

 


اس ویڈیو میں سب ٹائٹلز کسی حد تک ’لپ سنکنگ‘ کے معیار سے ہم آہنگ نہیں جس کی وجہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ جوں ہی نیرنگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے مین اسٹریم میں آ جائے گی اس نقص کو بھی انشاء اللہ دور کر دیا جائے گا۔ احبابِ نیرنگ چاہییں تو اپنی پسندیدہ سائٹ کو ڈونیٹ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں رابطے کی ای میل استعال کریں۔ شکریہ

info@nayrang.com