Mysterious US Military Aircraft Launches Read In Urdu

امریکہ نے پُراسرار ترین مشن پر خلائی جہاز روانہ کر دیا

امریکی فضائیہ نے ایک اٹلس فائیو راکٹ کو کامیابی سے خلا میں لانچ کر دیا ہے۔ اس مشن میں ایک خفیہ منصوبہ سرانجام دینے کے لیے ایکس 37 بی خلائی طیارہ بھی شامل ہے۔


Mysterious US Military Aircraft Launches Read In Urdu


 تاہم اس مشن کو نہایت خفیہ رکھا جا رہا ہے اور پُراسرار طور پر اس بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ راکٹ کیپ کیناویرال کے خلائی اڈے سے ہفتے کے روز لانچ کیا جانا تھا تاہم خراب موسم کے باعث اسے اتوار کو لانچ کیا گیا۔

آربیٹل ٹیسٹ وہیکل (او ٹی وی) کہلانے والا طیارہ ایک سیارچے کو مدار میں چھوڑے گا اور پاور بیمنگ ٹیکنالوجی یعنی لہروں کے ذریعے توانائی کی منتقلی کی بھی آزمائش کرے گا۔

یہ اس طیارے کا خلا میں چھٹا مشن ہو گا۔

اس مشن کی لانچنگ کو کورونا کے خلاف صفِ اول پر لڑنے والے کارکنوں اور اس سے متاثر ہونے والوں کے نام کیا گیا تھا۔

ایکس 37 بی ایک خفیہ پروگرام ہے اور اس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ پینٹاگون نے اس ڈرون کے مشنز اور اس کی صلاحیتوں کے بارے میں ماضی میں بہت کم معلومات جاری کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فضائیہ سیکریٹری باربرا بیریٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ’ایکس 37 بی کا یہ مشن پچھلے کسی بھی مشن سے زیادہ تجربات کرے گا۔‘

ایک تجربے میں بیجوں اور دیگر مادوں پر تابکاری کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایکس 37 بی پروگرام سنہ 1999 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ طیارہ سنہ 2011 میں ریٹائر ہونے والی سپیس شٹل کے چھوٹے سائز جیسا لگتا ہے۔ یہ بالکل سپیس شٹل کی طرح فضا سے رن وے پر اتر سکتا ہے۔

ٹرمپ خلائی فورس غیر ارضی حملے کی تیاری

بوئنگ کا بنایا گیا یہ طیارہ مدار میں رہ کر توانائی حاصل کرنے کے لیے شمسی پینلز کا استعمال کرتا ہے۔ اس کی لمبائی 29 فٹ سے زیادہ ہے، اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 15 فٹ جبکہ اس کا وزن 11 ہزار پاؤنڈ یا 4989 کلو ہے۔

اس طیارے نے پہلی مرتبہ اپریل 2010 میں پرواز کی تھی اور آٹھ ماہ طویل مشن کے بعد واپس لوٹا تھا۔

اس کا تازہ ترین مشن 780 دن مدار میں گزارنے کے بعد اکتوبر 2019 میں ختم ہوا جس کے بعد اس طیارے کا خلا میں گزارا گیا کُل وقت سات سال ہو گیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مشن کتنا عرصہ جاری رہے گا جب کہ سازشی نظریات پر یقین رکھنے والے ’ماہرین‘ حسبِ معمول اس مشن کا تعلق غیرارضی ذہین مخلوق سے جوڑنے میں زوروشور سے مصروف ہیں۔