Mystery of Eltanin Antenna Read in Urdu

انٹارکٹیکا کے سمندر میں لگا پُراسرار ’انٹینا‘ کیا ہے؟


ترجمہ وتدوین ضُحٰی خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز

zoha@nayrang.com


جدید سائنس نے جب سے کرۂ ارض، سمندروں اور حتیٰ کہ خلاؤں تک میں تحقیق کا آغاز کیا ہے تب سے لے کر آج تک ان مقامات سے ایسی ایسی چیزیں دریافت ہوئی ہیں جن کا ’مین اسٹریم‘ تاریخی کتب کے مطابق وجود ثابت نہیں ہوتا۔

اس نوعیت کی پُراسرار چیزیں نہ صرف انسانی ذہن اور جدید سائنس کو چکرا کر رکھ دیتی ہیں بلکہ کسی کے پاس آج تک ان کا کوئی حتمی جواب بھی نہیں ہے۔ چناں چہ اسی طرح کی ایک چیز جسے بعد میں ’ایلٹانین اینٹینا‘ کا نام دیا گیا قطبِ جنوبی کے سردترین سمندر کی گہرائیوں سے آج سے قریب 60 سال قبل اتفاقاً دریافت ہوئی تھی جس پر تاحال بحث وتمحیص کا سلسہ جاری ہے۔

قطبِ جنوبی کی طرف روانہ کیا گیا جہاز ’یو ایس این ایس ایلٹانین‘ – کریڈیٹ یوٹیوب

یہ 1960ء کی دہائی کی بات ہے جب بذاتِ خود قطبِ جنوبی اہلِ سائنس کے لیے کسی ’غیرارضی‘ مقام سے کم نہیں تھا۔ یہ برِّاعظم انسانی آبادی سے انتہائی دور، تنہا اور اتنا سرد ہے کہ یہاں معمول کی زندگی کا پنپنا ممکن نہیں اور یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج کی جدید سائنس اس خطے کے بارے میں ابھی تک بہت کم جانتی ہے۔ چناں چہ 1962ء میں امریکا کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے قطبِ جنوبی کی طرف ایک تحقیقی مہم روانہ کرنے کے لیے اس دور کے لحاظ سے ایک جدید جہاز تیار کیا جسے ’یو ایس این ایس ایلٹانین‘ کا نام دیا گیا۔ یہ بحری جہاز دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی تیرتی ہوئی لیبارٹری تھی جسے چار سال کے لیے قطب جنوبی اور اس برِّاعظم کے قریبی سمندروں میں تحقیق ومطالعے کے لیے ان پانیوں پر روانہ کیا جا رہا تھا جن پر پہلے کسی نے قدم نہیں رکھا تھا۔


خیال رہے اس دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کا کوئی تصور نہیں تھا جب کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو روایتی ٹیلی فون اور ٹی وی بھی خال حال ملتے تھے جب کہ گراموفون اور ریڈیو صرف امراء کے گھروں میں ہوا کرتے تھے – نیرنگ


بہرحال ’یو ایس این ایس ایلٹانین‘ اپنے سفر پر روانہ ہوا اور جہاں سمندر پر تیرتی اس تحقیقی لیبارٹری کے ماہرین نے قطبِ جنوبی کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں وہاں انہوں نے ایسی پُراسرار ناقابلِ وضاحت چیز بھی پائی جس کے بارے میں آج تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکا کہ اس کا مقصد کیا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے کب اور کس نے تخلیق کیا تھا؟

ہوا یوں کہ 29 اگست، 1964ء کو یو ایس این ایس ایلٹانین، کیپ ہارن کے مغرب میں ایک ہزار میل کی دوری پر سمندر کی سطح کی تصاویر لے رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے کم وبیش تین کلومیٹر کی گہرائی میں ایک تار کے ذریعے کیمرا سمندر میں اتارا گیا تھا کہ یکایک فوٹوگرافرز نے ایک ناقابلِ یقین چیز اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی۔ دنیا کے اس دوردرازترین خطے کے تاریک تر سمندر میں جہاں ’مین اسٹریم‘ تاریخ کے مطابق اس وقت تک کسی انسان کے قدم نہیں پڑے تھے محققین کے کیمروں نے ایک انتہائی انوکھی شے کی تصاویر لیں جس کی وہاں موجودگی کا کوئی سائنسی جواز نہیں تھا۔ یہ ایک پرانے زمانے کے ٹی وی انٹینا نما شے تھی جس کی اونچائی دو فٹ تھی اور جس کے اردگرد میلوں تک کسی بھی قسم کی سمندری حیات کا نام و نشان نہیں تھا جب کہ اس شے کے تنے سے باقاعدہ ہم وار اور گویا حساب کتاب سے بنائے گئی تانیں اور چھوٹی چھوٹی گیند نما گولیاں سی لگی ہوئی تھیں۔ دیکھیے تصویر۔ اس شے کو دیکھ کر صاف لگ رہا تھا جیسے یہ کسی ریڈیو اسٹیشن کا انٹینا ہو۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی ناقابلِ وضاحت مگر ایسی دریافت تھی جسے سائنس آج بھی ’انامولی‘ کی اصطلاح سے تعبیر کرتی ہے۔

Cladorhiza Concrescens – Credit Reddit 


انامولی سے مراد وہ چیز یا کیفیت ہوتی ہے جس کی موجودگی کا فی الوقت سائنس کے پاس کوئی وضاحت یا جواز نہیں ہے – نیرنگ


چناں چہ جب 5 دسمبر، 1964ء کو نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے ان تصاویر کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا تو گویا ساری دنیا میں تہلکہ سا مچ گیا جب کہ پیرانارمل جہات اور غیرارضی مخلوق کی موجودگی پر یقین رکھنے والے محققین کے لیے تو یہ تصاویر گویا نعمتِ غیرمترقبہ ثابت ہوئیں اور ان حلقوں نے فوری طور پر اس نامعلوم شے کے لیے ’دی ایلٹانین اینٹینا‘ کا نام تجویز کر دیا اور اس عجیب اسٹرکچر کو آج تک اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سازشی نظریات کی حقیقت کو سمجھنے والے حلقوں نے فوری طور پر دعویٰ کیا کہ ایلٹانین انٹینا کسی غیرارضی مخلوق نے ماضی میں کبھی قصداً دنیا کے اس دوردراز مقام پر نصب کیا تھا مگر ظاہر ہے ان حلقوں کے پاس اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی سائنسی دلیل نہیں تھی چناں آئندہ کئی سالوں تک ایلٹانین اینٹینا موضوع بحث بنا رہا یہاں تک کہ معروف پیرانارمل محقق بریڈ اسٹیگر نے 1968ء میں اسے ٹیلی ویژن اور ٹیلی میٹری انٹینا سے ملتی جلتی کوئی درمیانی مشین قرار دے دیا۔


ٹیلی میٹری (انٹینا) وہ مشین ہوتی ہے جسے کسی دوردراز مقام پر ڈیٹا یا معلومات  لینے کے لیے لگایا جاتا ہے – نیرنگ


بہرطور حقیقت جو کچھ بھی ہو 60ء کی دہائی میں ایلٹانین اینٹینے کی دریافت کے بعد حال یہ تھا کہ اس بارے میں مفروضوں اور قیاسات کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کسی کے خیال میں یہ کسی بحری جہاز سے ٹوٹ کر گرنے والا کوئی پرزہ تھا؛ کسی اور کے نزدیک یہ ’مشین‘ (ماضی کے) سویت یونین کے کسی خفیہ ترین منصوبے سے تعلق رکھتی تھی جب کہ بعض دیگر کے نزدیک ایلٹانین اینٹینے کو کسی غیرارضی مخلوق نے اپنے کسی سائنسی مقصد کے لیے سمندر کی گہرائی میں نصب کیا تھا۔ اگرچہ اس دوران ایک یہ نظریہ بھی پیش کیا گیا کہ ہوسکتا ہے ایلٹانین اینٹینا نباتات کی ایسی قسم ہو جسے تاحال دریافت نہیں کیا جاسکا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر سمندری حیات کے ماہرین نے اس نظریے کو فوری طور پر رد کر دیا اور ان کے پاس درست ترین سائنسی جواز یہ تھا کہ سمندر کی اتنی زیادہ گہرائی میں جہاں کبھی بھی سورج کی روشنی نہیں پہنچتی کسی نباتاتی زندگی کا وجود ممکن نہیں۔

Eltanin Antenna – Credit – Strange State


چناں چہ ماہرِحیاتیات ڈاکٹر تھامس ہاپکنز نے لکھا:


’بے شک میں ایلٹانین اینٹینے کو انسانی ہاتھوں کا تیارکردہ قرار نہیں دے سکتا کیوں کہ پھر ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا کہ یہ چیز قطبِ جنوبی میں کس نے اور کیوں نصب کی، مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ فطرت میں جیومیٹری کے لحاظ سے اتنی باقاعدہ چیزیں کبھی نہیں پائی جاتیں مگر ایلٹانین اینٹینا جو کچھ بھی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے تنے سے نکلنے والی تانیں ایک دوسرے سے قطعاً زاویۂ قائمہ کے فاصلے پر ہیں اور اس کی یہ غیرفطری بناوٹ کبھی بھی اس کے بارے میں بحث وتمحیص کو تھمنے نہیں دے گی۔‘


مگر ایک ماہر سائنس دان کی اتنی واضح بات کے باوجود بھی کوئی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا اور غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایلٹانین اینٹینا سمندر کی انتہائی گہرائی میں اور وہ بھی دنیا کے ناقابلِ رسائی خطے میں ایک ایسی جگہ موجود تھا جہاں دوبارہ کسی کی رسائی آسان نہیں تھی – یا کم از کم دنیا کو یہ ہی بتایا گیا (نیرنگ) – چناں چہ پھر کبھی اسے دوبارہ تلاش کرنے اور اس پر تحقیق کرنے کے لیے کوئی ’معلوم‘ مہم روانہ نہیں کی گئی۔

تاہم پیرانارمل جہات پر یقین رکھنے والے حلقوں میں آج بھی ایلٹانین اینٹینا کسی سرّنہاں سے کم نہیں جہاں اس کی حقیقت کو طرح طرح سے کریدنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ اس پر متعدد قلم نگاروں نے مفصّل کتابیں بھی تحریر کی ہیں جن میں اسے ’اصل ناقابل وضاحت شے‘ قرار دیا جاتا ہے جسے ممکنہ طور پر لاکھوں سال پہلے کسی غیرارضی مخلوق نے ہمارے سیارے پر اس وقت نصب کیا ہوگا جب یہاں انسان تو انسان ڈائنوسارز تک کا وجود نہیں تھا مگر حالیہ دنوں میں ایلٹانین اینٹینا ایک بار پھر بہت تیزی سے مرکزِبحث بن رہا ہے۔ چناں چہ اب ایک نظریہ یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ایلٹانین اینٹینا سمندر کی گہرائیوں میں پائے جانے والے گوشت خور اسفنج – Cladorhiza Concrescens – کی کوئی قسم ہو سکتی ہے جسے 1888ء میں الیگزینڈر اگاسیز نامی محقق نے دریافت کیا تھا کیوں کہ یہ کسی حد تک ایلٹانین سے مماثلت رکھتا ہے۔

اگرچہ پہلی نظر میں یہ نظریہ ایلٹانین اینٹینے کی معقول سائنسی وضاحت محسوس ہوتا ہے مگر جب اس نظریے کے خلاف دلائل پر نظر ڈالیں تو گویا ’سائنس‘ کے غبارے سے ساری ہوا ہی نکل جاتی ہے۔ چناں چہ ان دلائل میں اولین دلیل یہ ہے کہ یو ایس این ایس ایلٹانین کا عملہ، جہاز پر موجود سائنس دان اورماہرینِ سمندری حیات آخر اس نتیجے پر خود کیوں نہیں پہنچے؟ ظاہر ہے وہ سمندر میں اس اسفنج کی موجودگی سے لاعلم تو نہیں تھے جو ستر، پچھتر سال پہلے دریافت کیا جا چکا تھا۔ بلاشبہ یہ اپنے آپ میں ایک ناقابلِ تردید دلیل ہے۔ دوئم یہ کہ درج بالا اسفنج ہمیشہ بڑی بڑی کالونیوں کی صورت میں پنپتا ہے اور کبھی بھی تنہا زندہ نہیں رہ سکتا جب کہ ایلٹانین اینٹینے کو زیرِسمندر ایک ایسے مقام پر پایا گیا تھا جہاں اس کے اردگرد میلوں تک کسی بھی قسم کی حیات کا نام و نشان تک نہیں تھا۔


اس مقام پر حیات کی عدم موجودگی خود ایک بہت بڑے پراسرار راز سے کم نہیں کیوں کہ ایلٹانین اینٹینا اگر واقعی کسی امکانی غیرارضی مخلوق کا نصب کردہ ایریل یا کوئی اور مشین ہے تو عین ممکن ہے اس سے کسی قسم کی ایسی لہریں خارج ہوتی ہوں جن کی وجہ سے قریبی ماحول میں زندگی کا پنپنا محال ہو بالکل اسی طرح جیسے آج کے موبائل فون ٹاور انسانی حیات کے لیے شدید مہلک ثابت ہو رہے ہیں – نیرنگ


اس ضمن میں تیسری معقول ترین دلیل یہ ہے کہ ایلٹانین اینٹینے کی تصاویر درج بالا اسفنج سے مکمل مماثلت نہیں رکھتیں کیوں کہ قدرتی طور پر پائے جانے والے اسفنج کے برعکس اس کی بناوٹ نہایت باقاعدہ ہے گویا اسے کسی جدید مشین پر باقاعدہ ناپ تول کے ساتھ بنایا گیا ہو۔


خیال رہے فطرت میں کوئی بھی شے جیومیٹریکل شکل میں نہیں ہوتی – نیرنگ


چناں چہ یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک ایلٹانین اینٹینا موضوع بحث بنا ہوا ہے جب کہ نام نہاد مین اسٹریم حلقے اس کے تصور تک سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ فی الوقت ایلٹانین اینٹینے کے بارے میں اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسی مشین ہے جسے یا تو کسی انسان دشمن تنظیم یا پھر کسی امکانی غیرارضی مخلوق نے سمندر کی گہرائیوں میں یا تو زلزلوں پر نظر رکھنے یا پھر انسانی ذہنوں کو کنٹرول کرنے کے لیے نصب کیا ہوا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایلٹانین اینٹینے کی موجودگی کا درست ترین جواز کسی کے پاس بھی نہیں اور یہ جو کچھ بھی ہے آج تک ایک معما ہی ہے اور شاید ہمیشہ ایک معما ہی رہے گا کیوں کہ اصل ایلٹانین اینٹینا دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا اور اگر قطبِ جنوبی میں اس مقصد کے لیے بعد میں محققین روانہ بھی کیے گئے ہوں گے تو اتنے خفیہ انداز میں کہ کسی کو کانوں کان بھنک تک نہ پڑنے دی گئی۔