Mystery Sky Caves of Nepal Read in Urdu

پُراسرار غاریں جنہیں کوئی نہیں جانتا کیسے بنایا گیا

Nayrang Exclusive

نیرنگ کی کاوش ہوتی ہے کہ ہر روز آپ کے سامنے اس کائنات کی لاتعداد پیرانارمل جہات میں سے کسی نہ کسی جہت کا پردہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ چناں چہ آج نیرنگ نے ہمالیہ کے خطے میں ہزاروں سال سے بسے ملک نیپال کے پہاڑوں میں اُن پُراسرار تراشیدہ غاروں کا انتخاب کیا ہے جن کے بارے میں آج تک کوئی نہیں جانتا کہ انہیں کس نے تراشا، ان کی تعمیر کا مقصد کیا تھا اور کیا یہ غاریں درحقیت انسانی ہاتھوں ہی کی تراشیدہ ہیں یا بعض دعووں کے مطابق ان کی تعمیر میں کسی ماوورائی یا غیرارضی مگر ذہین ترین مخلوق کا ہاتھ ہے۔



غار ہائے مستانگ یا اسکائی کیِوز کے نام سے مشہور ان غاروں کی کل تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے جنہیں سطح زمین سے ایک سوپچپن فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ ان قدیم ترین غاروں کو انتہائی مہارت سے تراشا گیا ہے اور ان میں جانے کے لیے چٹانوں کے اوپر ایک عمودی سرنگ سی بنی ہے جب کہ ان غاروں کے دہانے زیادہ تر چٹان کے سرے پر واقع ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہاں سے انتہائی قدیم زمانے میں بنائی گئی تصاویر اور مختلف نوعیت کے اوزار بھی ملے ہیں ۔



جدید سائنس، ماہرین ارضیات اور ماہرین آثارِقدیمہ کے لیے جو سوالات آج تک ایک لاینحل معما بنی ہوئے ہے وہ یہ ہیں: اول؍ ان چٹانوں کو بنانے والے کاریگر اور بنائے جانے کے بعد دوسرے لوگ ان میں داخل کیسے ہوتے تھے؛ دوم؍ ان کی تعمیر کس زمانے میں مکمل ہوئی اور سوم مگر سب سے اہم سوال یہ کہ آخر انہیں سرے سے بنایا ہی کیوں گیا؟


اپنے آپ میں سرِّنہاں یہ غاریں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال مشرق میں ڈھائی سو کلومیٹر کی انتہائی دوری پر واقع ہیں اور جہاں یہ غار ہیں وہ علاقہ مقامی زبان میں ’مستانگ‘ یا ’مستھنگ‘ کہلاتا ہے۔ خیال رہے کہ خود ہمالیہ کا علاقہ سطح سمندر سے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔



مستانگ کا قدیم نیپالی زبان میں مطلب ’امیدوں یا خواہشوں کا میدان‘ ہے اور یہ ’معنی خیزی‘ بنفسہ پیرانارمل جہات میں دل چسپی رکھنے والوں کے کان کھڑے کرنے کو کافی ہے۔


چناں چہ آپ کو یہ جان کر شدید حیرت ہوگی کہ ’انسانوں‘ کے تعمیرکردہ ان غاروں کو جدید علمِ آثارقدیمہ کے حلقوں میں بھی ایک انتہائی پُراسرار راز باور کیا جاتا ہے کیوں کہ جس زمانے میں انہیں تعمیر کیا گیا ہے خیال کیا جاتا ہے کہ اُس دور میں انسانوں کے پاس ایسے کوئی اوزار، آلات یا تیکنالوجی نہیں تھی جس کے ذریعے مٹیالے رنگ کے پہاڑ میں ان انتہائی نازک مگر بہت بڑے سوراخوں کو بنایا جاسکتا جب کہ ان کی تعمیر میں مہارت کا یہ عالم ہے کہ ان ہزاروں غاروں میں سے کچھ کو چٹان کے سامنے والے حصے میں اور باقی دیگر کو کھدائی کی مدد سے سرنگوں کی شکل میں تراشا گیا ہے۔


تاحال کسی ماہر کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ ان غاروں کو کھودنے کے لیے اس دور کے انسان زمین سے ایک سو پچپن فٹ کی بلندی تک ’ہوا میں معلق‘ کس طرح ہوئے کیوں کہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی دوسرا چارۂِ کار نہیں تھا؟


کہا جاتا ہے ان غاروں کی کُل تعداد دس ہزار کے قریب ہے اور دور سے دیکھنے پر لگتا ہے جیسے آپ کسی بہت بڑے ریتیلے قلعے کو تَک رہے ہوں۔ تاریخ دانوں کے بقول اس جگہ پر کسی زمانے میں بالائی مستانگ نامی ریاست کا دارالحکومت ’لومنتھنگ‘ ہوا کرتا تھا اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج بھی نیپالی عوام کی اکثریت اس خطے میں کسی ’پوشیدہ جنت‘ کی موجودگی کا خیال اپنے دلوں میں رکھتی ہے۔

دراصل بالائی مستانگ ایک آزاد ریاست تھی اور اس کی معیشت کا دارومدار ہمالیہ اور ہندوستان کے مابین آزاد تجارت پر تھا جس میں اسے اپنے محلِ وقوع کے اعتبار سے مکمل اختیار حاصل تھا جہاں بدھ مت کے رنگین جھنڈوں میں لپٹی پُرشکوہ سفید عمارتیں لومنتھنگ کا طرۂِ امتیاز تھیں۔



آج بھی قدیم دارالحکومت لومنتھنگ تک جانے کے لیے ’جوم سوم‘ نامی قصبے تک پہلے ہوائی سفر کرنا پڑتا ہے جو بذاتِ خود کسی خطرے سے کم نہیں؛ تاہم یہ پہاڑی علاقہ سینکڑوں سال پہلے تبت اور نیپال کے مابین ایک اہم راستے کے طور پر استعمال کیا ہوتا رہا ہے۔ جوم سوم پہنچنے کے بعد اگر موسم بہتر ہو تو تبت تک پہنچنے کے لیے ٹرک میں سفر کیا جاتا ہے جس میں کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں؛ تاہم اگر موسم سرد ہو یا بارشیں ہو رہی ہوں تو پھر سوائے گھوڑوں کے کوئی اور ذریعۂسفر نہیں بچتا جس میں گھنٹے نہیں بلکہ کئی دن لگتے ہیں جب کہ دشوارگزار پہاڑی راستوں میں کسی بھی وقت موت سیاح کے گلے کا پھندہ بن سکتی ہے۔



یہ علاقہ ان چند خطوں میں ایک ہے جہاں آج تک تبت کی اصل ثقافت زندہ ہے اور اسی لیے 1992ء تک یہاں کسی بھی سیاح کو داخلے کی اجازت نہیں تھی؛ تاہم 1992ء میں دنیا کے اس پُراسرار ترین مقام کو دنیا کی نظروں میں لانے کا سہرا کوہ پیما (بائیں سے دائیں) پیٹ ایتھنز ، ماہرِآثار قدیمہ مارک الڈینڈرفر اور مہم جو فوٹوگرافر کوری رچرڈ کے سر ہے۔               



کوری رچرڈ کے الفاظ ہیں:


میں اور پیٹ نیپال کے ایک چھوٹے سے گاؤں نما علاقے میں سیاحوں کو ایورسٹ پر چڑھنے کی تربیت دینے میں مصروف تھے کہ یکایک پیٹ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہمیں پُراسرار اسکائی کیِو کا راز جاننے کی کوشش کرنی چاہیے؟ میں فوراً ہی تیار ہو گیا مگر میں نے جب پیٹ سے ان غاروں کے بارے میں سوال کیا تو اس نے اس جگہ کو کسی جادونگری سے تشبیہ دی۔ میرا خیال تھا شاید پیٹ نے کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی کی ہے مگر جب میں وہاں پہنچا اور اپنی آنکھوں سے ان غاروں کو دیکھا تو میری قدموں تلے زمین نکل گئی۔ یہ جگہ نہ صرف میرے تصور سے کئی گنا وسیع تر بلکہ عظیم الشان تھی مگر اس سے بھی زیادہ میں یہ دیکھ کر انگشتِ بدنداں رہ گیا کہ ان غاروں تک انسانی رسائی بالکل ناممکن تھی۔


ان غاروں میں سے ایک غار سے بارہویں صدی میں بنی گوتم بدھ کی تصاویر ملی ہیں جب کہ ایک بہت بڑی تصویر کے پچپن خاکوں میں بدھ کی زندگی کو تصویری شکل میں بیان کیا گیا ہے نیز ایک اور نزدیکی غار سے تبتی زبان میں لکھے قدیم ترین نسخے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ جس ٹیم نے یہ دریافتیں کی ہیں وہ نیپال، اٹلی اور امریکا کے فلم سازوں، کوہ پیماؤں اور ماہرینِ آثارِقدیمہ پر مشتمل تھی۔



یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست مگر اپنی تمام تر ترقی کے باوجود جدید سائنس کے سامنے ہنوز تشنہ سوال یہ ہے کہ آخر ان غاروں کو اُس قدیم تر زمانے میں کیوں اور کس طرح بنایا گیا جب انسان کو صحیح طرح آگ کو روشن کرنا اور ایک بار روشن کرنے کے بعد تادیر برقرار رکھنا بھی نہیں آتا تھا؟


اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پرائمری اسکول کے طلباءوطالبات اپنے کھیلنے کے مصنوعی اوزاروں کے ذریعے آئیفل ٹاور بناسکتے ہیں تو مان لیجیے کہ ان غاروں کو جن کی محض نقشہ سازی کے لیے جدیدترین ریاضی کا علم درکار ہے قدیم دور کے انسانوں نے ہی بنایا ہو گا۔


نیرنگ اس موضوع پر بہت جلد ایک مفصل ویڈیو اردو زبان میں پیش کر رہا ہے۔