Napoleon Bonaparte by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | 34واں‌ باب | نپولن بونا پارٹ | مائیکل ہارٹ

ممتاز فرانسیسی جنرل اور حکم ران نپولین اول کورسیکا کے شہر اجاسیو میں 1769ء میں پیدا ہوا۔ اس کا اصل نام نپولن بونا پارٹ تھا۔ نپولین کی پیدائش سے 15 ماہ قبل فرانس نے اجاسیو کو اپنی مملکت میں شامل کیا تھا۔ نپولن کورسئین قوم پرست تھا اور فرانس کو ایک غاصب طاقت سمجھتا تھا۔ تاہم نپولین کو فوجی اداروں میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا گیا اور 1785ء میں 16 سال کی عمر میں گریجویشن کرنے کے بعد وہ فرانس آرمی میں سیکنڈ لیفٹی نینٹ مقرر ہوا۔ چار سال بعد انقلاب فرانس کا آغاز ہوا اور چند سال کے اندر نئی فرانسیسی حکومت متعدد بیرونی طاقتوں سے برسرپیکار ہو گئی۔ نپولن کو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا موقع 1793ء میں تولون کے محاصرے کے وقت ملا۔ اس محاصرے میں فرانسیسیوں نے برطانیہ سے اپنا چھینا ہوا شہر واپس لے لیا تھا۔ نپولن اس محاصرے کے وقت توپ دستے کا نگران تھا۔ اس وقت تک نپولن کے سر سے کورسیائی قوم پرستی کا خمار اتر چکا تھا اور اس نے اپنے آپ کو ’فرانسیسی‘ ماننا شروع کر دیا تھا۔ تولون میں اس کے کارناموں کے صلے میں اسے بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی ملی اور 1796ء میں اسے اٹلی میں فرانسیسی فوج کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا۔ وہاں (97-1796ء) میں نپولن نے کام یابیوں کا ایک شان دار سلسلہ حاصل کیا اور وہاں سے وہ فرانس میں ایک ہیرو کے روپ میں واپس آیا۔ 1798ء میں نپولن نے مصر پر فرانسیسی حملے کی قیادت کی مگر یہ مہم جوئی تباہ کن ثابت ہوئی۔ اگرچہ نپولن کی بری فوج نے عام طور پر کام یابی حاصل کی مگر لارڈ نیلسن کی قیادت میں برطانوی بحری فوج نے فرانسیسی بیڑے کا صفایا کر دیا اور 1799ء میں نپولن کو مصر میں اپنی فوج چھوڑ کر وطن واپس لوٹنا پڑا۔ فرانس واپس آنے پر اسے پتہ چلا کہ عوام کے ذہنوں میں مصر کی شکست کے بجائے ابھی بھی اس کی اٹلی میں شان دار کام یابیاں زندہ تھیں۔ اسی بات کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ملک واپسی کے محض ایک ماہ بعد نپولن نے ابی سیز وغیرہ کے ساتھ فوجی انقلاب میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں ملک میں پہلی جمہوری حکومت قائم ہوئی جہاں نپولن کا عہدہ حاکم اول کا تھا۔ اگر چہ اس دوران ایک مفصل آئین اپنایا گیا اور عوام کی رائے کے ذریعے اس کی توثیق بھی کرائی گئی مگر اس نقاب کے پیچھے نپولن کی فوجی آمریت کا چہرہ ہی پوشیدہ تھا جس نے بہت جلد دیگر سازشیوں پر برتری حاصل کر لی۔ نپولن نے بہت سرعت کے ساتھ حکومت حاصل کی۔ اگست 1793ء میں تولون کے محاصرے سے قبل نپولن محض ایک 24 سالہ گم نام معمولی فوجی افسر تھا جس کی جائے پیدائش بھی فرانس سے باہر تھی۔ مگر صرف 6 سال سے بھی کم عرصے اور 30 سال کی عمر میں نپولن فرانس کا متفقہ حکم ران بن چکا تھا جس نے اپنی یہ حیثیت آئندہ 14برسوں تک بر قرار رکھی۔ اپنے دوراقتدار میں نپولن نے فرانس کے انتظامی ڈھانچے اور قانونی نظام میں اہم ترین ترامیم کیں۔ مثال کے طور پر اس نے مالیاتی اور عدالتی ڈھانچے میں اصلاح کی؛ فرانسیسی بنک قائم کیا، یونی ورسٹی کی بنیاد رکھی اور فرانسیسی انتظامیہ کو وفاق سے ملا دیا۔ اگرچہ ان تمام اقدامات کے اثرات اہم تھے اور بعض صورتوں میں جن کا فرانس پر گہرا اثر ہوا بھی مگر ان کے اثرات بیرونی دنیا پر ظاہر ہے کچھ بھی نہیں تھے۔ مگر بھر بھی نپولن کے ایک اصلاحی قدم کے اثرات بیرونی دنیا نے بھی محسوس کیے۔ یہ فرانسیسی ضابطۂ دیوانی کی تشکیل تھی جو ’نپولن کوڈ‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ ضابطہ زیادہ تر انقلاب فرانس کے تصورات سے معمور ہے۔ مثلاً، پیدائش کے اعتبار سے کسی کو کوئی استثناء حاصل نہیں اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ضابطہ پرانے فرانسیسی قوانین اور روایات کے بھی قریب تھا جسے فرانسیسی عوام اور پیشہ وران قانون نے سہولت سے قبول کر لیا۔ بہ حیثیت مجموعی یہ ضابطہ معقول ترین اور بہترین طور پر مربوط تھا جسے قابل تعریف اختصار اور غیر معمولی طور پر واضح زبان میں تحریر کیا گیا تھا۔ نتیجتاً یہ ضابطہ نہ صرف طویل عرصے تک فرانس میں نافذ رہا بلکہ مقامی ترمیمات کے ساتھ اسے متعدد دیگر ملکوں نے بھی اپنے یہاں نافذ کیا اور جدید فرانسیسی سول کوڈ آج بھی حیران کن حد تک نپولین کوڈ سے مماثل ہے۔ نپولن نے اپنی پالیسی کے تحت ہمیشہ خود کو انقلاب فرانس کا محافظ قرار دیا۔ مگر اس کے با وجود 1804ء میں اس نے خود کو فرانس کا شہنشاہ قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ نپولن نے اپنے تین بھائیوں کو بھی دیگر یورپی ریاستوں کا بادشاہ بنایا۔ نپولن کے ان اقدامات سے فرانسیسی جہوریہ کے بعض حلقوں میں اس کے خلاف ناراضگی پیدا ہوئی کیوں کہ ان اقدامات کو مکمل طور پر انقلاب فرانس کی روح سے بغاوت اور رو گردانی تصور کیا گیا مگر نپولن کے خلاف واحد سنگین ترین مخالفت نے اس کی بیرونی جنگوں کے نتیجے میں سر اٹھایا۔ 1820ء میں امینز کے مقام پر نپولن نے برطانیہ کے ساتھ صلح کے ایک معاہدے پر دست خط کیے جس کے باعث فرانس کو دس سال بعد لگاتار جنگ سے نجات نصیب ہوئی۔ مگر اگلے سال ہی یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور ایک بار پھر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ طویل جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اگرچہ نپولن کی فوج نے زیادہ تر بری جنگوں میں لگاتار فتوحات حاصل کیں مگر برطانیہ کو اس کی بحری قوت کو شکست دیے بغیر تسخیر کرنا ناممکن تھا۔ نپولن  کی بدقسمتی کہ 1805ء میں ٹریفالگر کی فیصلہ کن جنگ میں برطانوی بحریہ نے ایک زبردست فتح حاصل کی جس کے بعد کوئی ایسی قوت باقی نہیں بچی جو برطانیہ کی بحری طاقت کے سامنے سر اٹھا پاتی۔ اگر چہ ٹریفالگر کی شکست کے 6 ماہ بعد نپولن نے آسٹرلائٹز کے مقام پر آسٹریا اور روس کی فوجوں کے خلاف ایک بڑی فتح حاصل کی مگر یہ فتح اس کی سابقہ بحری شکست کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی۔ 1808ء میں نپولن نے احمقانہ طور پر فرانس کو جزیرہ ہائے ابیرئین میں ایک بے سبب جنگ میں الجھا دیا جہاں سالوں تک فرانسیسی فوجیں پھنسی رہیں۔ تاہم نپولن کی سب سے بڑی بے وقوفی اس کی روسی مہم جوئی تھی۔ 1808ء میں نپولن کی روس کے زار کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی اور ٹلسٹ معاہدے کی رو سے انہوں نے دائمی دوستی کا عہد کیا تھا لیکن یہ عہد بہ تدریج ٹوٹتا گیا اور جون 1812ء میں نپولن نے اپنی گرینڈ آرمی کے ساتھ روس پر چڑھائی کر دی۔ نتائج سے سب واقف ہیں۔ روسی افواج نے نپولن کے خلاف جم کر لڑنے سے احتراز کرتے ہوئے اسے پیش قدمی کا موقع دیا اور نپولن نے ستمبر تک ماسکو پر قبضہ کر لیا مگر روسیوں نے شہر میں آگ لگا کر اس کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا۔ ماسکو میں 5 ہفتوں تک انتظار کرنے کے بعد اس خام خیالی میں کہ روسی اس سے امن کے لیے درخواست کریں گے نپولن نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ روس کی فوج، وہاں پڑنے والی ہول ناک سردی اور ناکافی رسد نے بہت جلد فرانسیسی فوج کے پیچھے ہٹنے کے عمل کو ایک بھگدڑ میں بدل دیا اور صرف 10فی صد فرانسیسی فوج روس سے زندہ واپس آسکی۔ اسی دوران دیگر یورپی ممالک جیسے آسٹریا اور پروسیا نے محسوس کر لیا کہ اب ان کے پاس فرانسیسی غلامی سے جان چھڑانے کا بہترین موقع تھا۔ چناں چہ وہ نپولن مخالف قوتوں سے جاملے اور اکتوبر 1813ء میں لپ زگ کی جنگ میں نپولن کی افواج کو ایک اور بدترین شکست ہوئی۔ اگلے سال نپولن نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا اور اسے اٹلی کے ایک چھوٹے سے جزیرے البا میں جلاوطن کر دیا گیا۔ 1815ء میں نپولن البا سے فرار ہوا اور فرانس واپس آیا جہاں اسے خوش آمدید کہا گیا اور وہ ایک بار پھر اقتدار پر براجمان ہو گیا۔ مگر اس کے خلاف  فوری طور پر دیگر یورپی طاقتوں نے اعلان جنگ کر دیا اور اقتدار پر بحالی کے 100 دنوں بعد نپولن کو واٹرلو میں آخری شکست ہوئی۔ واٹرلو میں شکست کے بعد اسے سینٹ ہیلینا نامی ایک چھوٹے سے برطانوی جزیرے میں قید کر دیا گیا جو بحراوقیانوس کے جنوب میں واقع ہے۔ یہاں 1821ء میں اس کی کینسر کے ہاتھوں موت واقع ہوئی۔ نپولن کی فوجی زندگی تضادات کا ایک عجیب نمونہ ہے۔ اس کی تذویراتی صلاحیتیں حیران کن تھیں اور اگر اس کا محض اسی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو بلاشبہ اسے تاریخ انسانی میں سب سے عظیم ترین جنرل قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر وسیع البنیاد حکمت عملی کے میدان میں اس نے بھیانک ترین غلطیاں کیں جیسے مصر اور پروسیا پر حملہ کرنے کا فیصلہ۔ نپولن کے عسکری فیصلے اتنے احمقانہ ہیں کہ اسے فوجی قائدین کی صف میں کھڑا نہیں کرنا چاہیے؛ تاہم یہ بات میرے خیال میں مناسب نہیں کیوں ایک جنرل کی عظمت کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس میں تباہ کن غلطیوں سے بچنے کی کتنی صلاحیت تھی۔ دنیا کے عظیم ترین جنرلوں مثلاً چنگیز خان، سکندراعظم اور تیمورلنگ وغیرہ پر تنقید کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا جن کی فوجوں نے کبھی بھی شکست نہیں کھائی؛ مگر نپولن کو آخر میں شکست فاش ہوئی اور اس کی تمام غیر ملکی فتوحات عارضی ثابت ہوئیں۔ 1815ء میں اپنی آخری شکست کے بعد فرانس کا رقبہ 1789ء کی نسبت کم ہو گیا جب وہاں انقلاب برپاء ہوا تھا۔ نپولن ایک خود پرست انسان تھا اور اکثر اس کا موازنہ ہٹلر سے کیا جاتا ہے مگر ان دونوں کی شخصیات میں ایک بڑا فرق ہے۔ ہٹلر کا تحرک بڑی حد تک اس کے وحشت انگیز نظریے میں پہناں تھا جب کہ نپولن صرف ایک مہم جو شخص تھا جسے ہول ناک قتل وغارت میں کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ نپولن کے دورحکومت میں وہاں جرمنی جیسے عقوبت خانوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مگر یہ نپولن کی عظیم تر شہرت ہی ہے جس نے اس کے اثرات کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ نپولن کے کم مدتی اثرات اگرچہ شدید اور غالباً سکندراعظم سے زیادہ وسیع تھے مگر یہ ہٹلر کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ اندازے کے مطابق نپولن کے دورحکومت میں 5 لاکھ فرانسیسی سپاہی ہلاک ہوئے مگر دوسری جنگ عظیم میں 80 لاکھ جرمن موت کا لقمہ بنے۔ چناں چہ کسی بھی معیار سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ نپولن نے ہٹلر کے مقابلے میں بہت کم انسانی زندگیوں کو متاثر کیا۔ دوسری طرف وسیع المدتی اثرات کے تناظر میں بہرحال نپولن ہٹلر سے زیادہ اہم نظر آتا ہے مگر سکندراعظم سے قدرے کم۔ نپولن نے فرانس میں زبردست انتظامی ترامیم کیں مگر فرانس کی آبادی تمام دنیا کا محض 70واں حصہ ہے۔ چناں چہ ان ترامیم کو درست ترین تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ اثرات ایک فرانسیسی کی زندگی پر ان اثرات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو گزشتہ دو صدیوں میں بے شمار سائنسی ایجادات نے مرتب کیے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ نپولن کے دور نے انقلاب فرانس کے اثرات کو جڑ پکڑنے کے لیے درکار وقت فراہم کیا جس دوران فرانسیسی بورژوا طبقے کے تصورات نے بھی ایک ٹھوس شکل پائی۔ 1815ء تک جب فرانس میں بادشاہت کو دوبارہ قائم کیا گیا یہ اثرات اتنے مضبوط ہو چکے تھے کہ قدیم ادوار کی حکومتوں کے معاشرتی ڈھانچے کی طرف پلٹنے کا سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔ تاہم دو اہم ترین تبدیلیاں نپولن سے قبل ظہور پذیر ہو چکی تھیں۔ 1799ء میں جب نپولن نے اقتدار سنبھالا اس وقت ماضی میں لوٹنا ممکن نہیں رہا تھا۔ خود نپولن نے بادشاہ بننے کی تمام تر خواہش کے باوجود تمام یورپ میں انقلاب فرانس کے تصورات پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح لاطینی امریکا کی تاریخ پر بھی نپولن کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ نپولن کے اسپین پر حملے نے اسپین کی حکومت کو اتنا کم زور کر دیا کہ وہ کئی سالوں تک لاطینی امریکا میں اپنی نوآبادیوں پر مؤثر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکا۔ اسی دور میں لاطینی امریکا میں خودمختاری کی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ نپولن کے تمام اقدامات میں سب سے اہم کام جس کے اثرات دیرپا اور سنجیدہ نتائج کے حامل ہیں اس کے بنیادی منصوبوں سے بالکل الگ ہے۔ 1803ء میں نپولن نے زمین کا ایک بہت بڑا خطہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو فروخت کیا۔ اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ شمالی امریکا میں فرانسیسی مفتوح علاقوں کو برطانیہ کے ہاتھوں میں جانے سے بچانا بہت دشوار ہو سکتا ہے نیز اس وقت فرانس کو مالی مسائل کا بھی سامنا تھا، چناں چہ لوزیانا کی فروخت تاریخ میں سب سے پُرامن انتقالِ زمین ہے جس کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا ایک براعظم کے برابر رقبے کی حامل قوم بن گئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس فروخت کے بغیر آج امریکا کی کیا صورت ہوتی مگر بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں امریکا کی شکل اس کی موجودہ شکل سے بہت مختلف ہوتی۔ مگر یہ کہنا بھی دشوار ہے کہ آیا کہ اس فروخت کے بغیر امریکا ایک عالمی طاقت بن سکتا تھا یا نہیں؟ نپولن بلا شبہ اس فروخت کا کلی ذمے دار نہیں تھا اور امریکی حکومت نے اس سودے میں کلیدی کردار ادا کیا تاہم زمین کی قیمت اتنی معقول تھی کہ کوئی بھی امریکی حکومت اسے بلاتامل قبول کر لیت، مگر یہ فیصلہ فرانس میں جس واحد شخص کی سوچ کا نتیجہ تھا وہ نپولن بونا پارٹ ہی تھا۔