NASA in Search of Aliens on Moon read in Urdu

ناسا کی چاند پر ایلین مخلوق کی تلاش

 ناسا نے اعلان کیا ہے کہ سنہ 2030 میں اس کا ڈرون زحل کے چاند ‘ٹائٹن’ پر بھیجا جائے گا۔ یہ ایک ارب ڈالر کا منصوبہ ہے۔ ناسا کا روٹرکرافٹ ٹائٹن پر متعدد مقامات پر جائے گا اور علم کیمیا سے متعلق ایسی تحقیقات کرے گا جو زندگی کے لیے بہت اہم ہوں گی۔ سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ ٹائٹن پر ہونے والے ایسے متعدد کیمیائی عمل ہیں جن کے باعث ہو سکتا ہے کہ ابتدا میں زمین پر زندگی کے آثار پیدا ہوئے ہوں۔ آٹھ روٹر والا یہ ڈرون سنہ 2026 میں سیارہ زحل کے چاند پر بھیجا جائے گا اور 2034 تک وہاں پہنچ جائےگا۔ ٹائٹن کے دبیز فضائی ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ناسا کا ڈرون وہاں دلچسپی کے مختلف مقامات کا دورہ کرے گا۔ ٹائٹن پر ہماری زمین کی ہی طرح ہوا، دریا، سمندر اور جھیلیں موجود ہیں تاہم نادر فرق کے ساتھ۔ زحل کے گینیمیڈ کے بعد ٹائٹن سب سے بڑا چاند ہے جہاں زمین کی طرح مختلف موسم کے آثار بھی ہیں۔ ہوا اور بارش سے دریاؤں، سمندر، ساحلوں اور صحراؤں کی باقائدہ شکلیں ہیں۔ وہاں پر درجہ حرارت منفی 179 درجہ سیلسیس ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑ برف کے بنے ہوئے ہیں۔ اور مائع میتھین وہ تمام کام کرتی ہے جو زمین پر پانی کرتا ہے۔ ناسا کا یہ ڈریگن فلائی نما روبوٹ سب سے پہلے ’شنگریلا‘ نامی ریت کے ٹیلے پر اترے گا۔ یہ ٹیلے نامیبیا میں پائے جانے والے ریت کے ٹیلوں جیسے ہیں جو قطار اندر قطار نظر آتے ہیں۔ علاقے کے بارے میں تفصیلات اکٹھا کرنے کے لیے ڈرون چھوٹی چھوٹی پروازیں بھرے گا۔ اس کے علاوہ چند پروازیں لمبی، یعنی آٹھ کلومیٹر تک کی ہوں گی جن میں جگہ جگہ رک کر وہ نمونے جمع کرتا رہے گا۔ اس مشن کی اہم محقق ایلیزابیتھ زیبی ٹرٹل کا تعلق امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ٹائٹن پر پرواز زمین کی فضا میں پرواز سے زیادہ آسان ہے۔ کیوں کہ وہاں کی فضا زمین سے زیادہ کثیف ہے اور وہاں کشش ثقل زمین پر موجود کشش ثقل کے ساتویں حصے کے برابر ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ سفر کے لیے بہترین حالات ہیں۔ اور لمبے فاصلے طے کرنے کے لیے بھی تاکہ مختلف علاقوں کی ارضیاتی ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکے۔‘ آخر کار یہ ڈرون ٹائٹن کے سب سے اہم ’امپیکٹ کریٹر‘ یا گہرے گڑھے ’سیلک‘ تک پہنچ جائے گا جہاں ماضی میں مائع پانی اور ان نامیات کے موجود ہونے کے شواہد موجود ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تمام چیزیں ہزاروں برسوں تک اسی طرح موجود رہی ہوں۔ ناسا میں علوم اجسام فلکی کے محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لوری گلیز نے کہا کہ ’میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹائٹن پر زندگی کے لیے ضروری تمام عناصر موجود ہیں۔ سیال پانی، سیال میتھین اور کاربن پر مبنی پیچیدہ مادے۔ وہ توانائی بھی موجود ہے جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ یعنی ہم ٹائٹن سے ان تمام چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں جو زمین پر اس وقت ہوئی ہوں گی جب زندگی وجود میں آئی ہوگی۔ اور شاید وہ حالات بھی پیدا کر سکیں جو آج وہاں زندگی کو ممکن بنا سکیں۔‘ ناسا کے منتظم برائڈینسٹائن کے بقول ڈریگن فلائی کی مدد سے ناسا ایک بار پھر وہ کرنے جا رہا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔