Navy Pilots Report Unexplained Flying Objects In Urdu

’یو ایف او‘ کی ویڈیو پر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ


ترجمہ وتدوین سحؔر خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز


ہوا میں نہایت تیز رفتاری سے اڑتے ہوئے یہ عجیب و غریب ’اجسام‘ جن میں سے ایک عام طور پر مخالف ہوا کے سامنے ایک لٹّو کی طرح گھوم رہا ہوتا ہے ایسٹ کوسٹ کی فضاء میں نہایت بلندی پر 2014ء کے موسم گرما سے مارچ 2015ء تک کم و بیش روزانہ نمودار ہوتے رہے ہیں۔ امریکی نیوی کے پائلٹوں نے اپنے افسران کو بتایا کہ ان ’اجسام‘ میں کوئی انجن نصب ہے اور نہ ہی ان سے ممکنہ طور پر خارج ہونے والے انفرا ریڈ دھوئیں کو ’ٹریس‘ کیا جا سکا ہے؛ مگر ان کی رفتار آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، جب کہ انہیں تیس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچتے بھی دیکھا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ’ایلین شپ‘ کی امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ مصدقہ ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


’یہ ’کرافٹ‘ دن بھر اڑتے رہتے ہیں‘


یہ کہنا ہے امریکی نیوی کے لیفٹینینٹ رایان گریوز کا جو ایف اے اٹھارہ سپر ہارنیٹ طیارے کے پائلٹ اور دس سال سے نیوی سے وابستہ ہیں۔ رایان نے ان کرافٹس کے بارے میں اپنی عینی شہادتوں سے پینٹاگون اور کانگریس کو مطلع کیا ہے۔


رایان کا پیشہ ورانہ تجزیہ ہے کہ ایک طیارے کو ہوا میں محو پرواز رکھنے کے لیے توانائی کی کثیر مقدار درکار ہوتی ہے مگر جس رفتار سے یہ کرافٹس ہم نے اڑتے دیکھے اس لحاظ سے انہیں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے ہوا میں رہنا چاہیے تھا مگر حیرت انگیز طور پر وہ نسبتاً  گویا گیارہ گھنٹے تک اسی تیز ترین رفتار کے ساتھ فضا میں اڑتے رہے۔


خیال رہے کہ سال 2014ء  کے اختتام پر ایک سپر ہارنیٹ جنگی طیارہ ان کرافٹس میں سے ایک کرافٹ کے ساتھ ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا جس کے بعد باقاعدہ سرکاری طور پر امکانی حادثے کی رپورٹ بھی درج کی گئی تھی۔ ان میں سے کچھ واقعات کو فلمایا بھی گیا تھا، جن میں 2015ء میں طیارے کے کیمرے سے فلمایا گیا ایک ایسا منظر بھی شامل ہے جس میں اسی طرح کے ایسے ہی کسی ’ایلین کرافٹ‘ کو برق رفتاری کے ساتھ سطح سمندر پر اڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس دوران نیوی کے پائلٹس ایک دوسرے سے سوال کرتے سنائی دیتے ہیں کہ آخر یہ بلا ہے کیا؟ اگرچہ اس ویڈیو کو 2004ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا مگر آج 2019ء میں قریب پندرہ سال گزرنے کے باوجود امریکی محکمہ دفاع نے اس کرافٹ کے لیے لفظ ’غیر ارضی‘ استعمال نہیں کیا ہے، اور ’ماہرین‘ کا اصرار ہے کہ ایسے واقعات کی روایتی توجیہات ییش کی جا سکتی ہیں۔ لیفٹینینٹ گریوز اور اس کرافٹ کو دیکھنے والے امریکی نیوی کے دیگر چار پائلٹوں نے بھی ان کرافٹس کی حقیقت کے بارے میں کوئی بھی رائے دینے سے گریز کیا ہے، جب کہ انہوں نے نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے ان کرافٹ کو 2014 سے 2015ء کے درمیان اس وقت بارہا دیکھا جب وہ ورجینیا اور فلوریڈا کے درمیان تھیوڈور روزویلٹ نامی بیڑے کے قریب فضائی مشقوں میں مشغول تھے۔ ممکن ہے یہ تمام بیانات حسب معمول عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہوں کیوں کہ امریکی بحری فورس نے اپنی تمام تر توجہ ان کرافٹس پر مرتکز کی ہوئی ہے کیوں کے حکام کی جانب سے رواں سال کی ابتدا میں نیوی اہل کاروں کو اس بابت نئی خفیہ ترین ہدایات ارسال کی گئی ہیں کہ اس نوعیت کے ناقابل فہم کرافٹ یا اجسام نظر آنے کی صورت میں ان کی بابت فوج کو کس طرح رپورٹ کیا جائے۔ مصدقہ عسکری ذرائع کے مطابق ایسے کرافٹ یا ناقابل فہم اڑن اجسام کی تحقیات کے پروگرام کا آغاز 2007ء میں ہوا تھا جس کے احکامات براہ راست ایوان بالا کے ایک اکثریتی گروپ کی جانب سے آئے تھے؛ مگر 2012ء میں نا کافی فنڈز کی وجہ سے اس پروگرام کو سرکاری طور پر بند کر دیا گیا –  یا کم از کم عوام سے ایسا ہی کہا گیا کیوں کہ حال ہی میں نیوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یو ایف اوز کی تفتیش کر رہی ہے۔ امکانی طور پر یہ پروگرام اب نہایت ہی خفیہ طور پر چل رہا ہے۔ دریں اثناء اس پروگرام کے تحت ایک کمرشل طیارے جتنے ایک ایسے ہی سفید کرافٹ کی ویڈیو کو بھی جانچا جا رہا ہے جسے نیوی کے پائلٹوں نے 2004ء میں سان ڈیاگو کے ساحل کے نزدیک فلمایا تھا۔ لیفٹینینٹ گریوز اور ان کے ساتھی پائلٹس اگرچہ اس کرافٹ کی حقیقت کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں، مگر انہوں نے سرکاری سطح پر نیویارک ٹائمز کو ان اجسام کے بارے میں بتایا۔ اس دوران دیگر تین پائلٹوں نے بھی ٹائمز کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی مگر انہوں نے اپنا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق با خبر ذرائع سے اطلاعات ہیں کہ پائلٹوں نے 80ء کے عشرے میں اس وقت ایسے ناقابل فہم کرافٹس کو دیکھنا شروع کیا جب اس دور کے ریڈار جدید ٹیکنکوں سے ہم آہنگ کیے جا رہے تھے۔ اور جیسے ہی پائلٹوں کے نئے ریڈار نظام تک رسائی ہوئی ایک کے بعد ایک پائلٹوں نے ایسی ’چیزیں‘ دیکھنا شروع کر دیں، مگر وہ انہیں ریڈار کے نظام میں آزمائشی خرابیاں سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے۔


لیفٹینینٹ گریوز کا کہنا ہے کہ جنگی طیاروں کے پائلٹ عشروں سے ناقابل فہم چیزیں دیکھ رہے ہیں۔ سائنس کے لیے اس وقت 30 ہزار فٹ سے اوپر طیارہ لے جانا آسان نہیں اور یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کرافٹس اس سے بھی اوپر کس طرح پرواز کرتے ہیں۔


گریوز کا کہنا ہے کہ اس سے بھی ناقابل یقین بات یہ ہے کہ یہ کرافٹس سطح سمندر تک کس طرح آ جاتے ہیں کیوں کہ آج کے جدید ترین طیارے بھی ایسا نہیں کر سکتے۔ مگر یہ کرافٹس جو کچھ بھی ہیں جب چاہیں رفتار بڑھا دیتے ہیں، انتہائی حد تک کم کر دیتے ہیں اور پھر یک لخت آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے فضاء میں ناقابل یقین حد تک بلند ہو جاتے ہیں۔ امریکی فوج ہی کے ایک اور افسر لیفٹینینٹ اکوئن کا کہنا ہے کہ ان کا دو بار ایسے کرافٹس سے سامنا ہوا۔ مگر انہوں نے کہا کہ ہر ممکن کوشش کی باجود میں اسے اپنے ہیلمٹ پر لگے کیمرے اور نہ ہی ریڈار کے ذریعے ٹریس کر سکا جب کہ میرا جہاز اس کرافٹس سے صرف ایک ہزار فٹ نیچے اڑ رہا تھا۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ان کے جہاز پر لگا تربیتی میزائل یکایک فعال ہو گیا اور ان کے انفرا ریڈ کیمرے نے بھی اس طیارے کو نظر میں لے لیا مگر اپنی تمام تر کوشش کے با وجود میں اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پایا۔ اس وقت میرا خیال تھا کہ یہ کرافٹ کسی ایسے خفیہ پروگرام کا حصہ ہے جس سے میں واقف نہیں۔ مگر اس کے بعد مختلف پائلٹوں نے انہیں دیکھنا شروع کر دیا۔ 2014ء کے آخر میں لیفٹینینٹ گریوز جب ورجینیا بیچ میں اپنی بیس پر واپس آئے تو ان کی ایک اور پائلٹ سے ملاقات ہوئی جس کے چہرے کا رنگ سفید ہو رہا تھا۔ اس نے مجھے خوف زدہ لہجے میں بتایا کہ اس کا جہاز ایک ایسے ہی کرافٹ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا ہے۔ وہ پائلٹ اور اس کا ساتھی ایک دوسرے کے برابر سو فٹ کے فاصلے سے اٹلاٹنک سمندر کے اوپر ورجینیا کے مشرقی ساحل پر پرواز کر رہے تھے جب یکایک کوئی چیز ان دونوں طیاروں کے درمیان تیزی سے گزری۔ گریوز کے مطابق وہ چیز دکھنے میں ایک ایسی گیند کی طرح تھی جسے کیوب میں بند کر دیا گیا ہو۔ اس واقعے نے حکام کو اتنا خوف زدہ کر دیا کہ ایک با قاعدہ رپورٹ فائل کی گئی۔


حقیقت واضح ہو گئی تھی کہ یہ کرافٹ کسی خفیہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا کیوں کہ اسے امریکی پائلٹوں کی زندگیوں کی ذرا بھی فکر نہیں تھی۔علاوہ ازیں متعلقہ حکام کو علم تھا کہ امریکی پائلٹ سمندر کے اس حصے میں تربیتی مشقیں کر رہے ہیں اس لیے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہاں ڈرون وغیرہ بھیجے جاتے۔


اس واقعے کے بعد یہ نام نہاد ’خفیہ ڈرون پروگرام‘ اچانک سیکوریٹی ایشو بن گیا اور گریویز نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کچھ ہی دن جاتے ہیں کہ یہ کرافٹس ہمارے طیاروں سے ٹکرانے والے ہیں۔ پائلٹوں نے بتایا کہ سب سے خطرناک بات ان کرافٹس کا یکایک آواز کی رفتار سے بھی تیز رفتار پکڑ لینا ہے اور پھر لمحہ بھر میں یک لخت ساکت ہو کر پلک چھپکتے کسی بھی سمت رخ بدل لینا نہایت ہلاکت خیز ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ اندازِ پرواز زمینی پائلٹوں کے لیے قطعاً اجنبی اور ان کے ادراک و فہم سے ماوراء ہے۔


لیفٹینینٹ گریوز کے مطابق ہوا میں جو چیز ہلاکت خیز ہوتی ہے وہ رفتار نہیں بلکہ اچانک رکنا اور پھر انتہائی تیز رفتار پکڑ لینا ہے جو صرف اور صرف موت کا استعارہ ہے۔


مگر ان پائلٹس نے اس سوال کا جواب دینے سے یک سر انکار کر دیا کہ یہ کرافٹس یا اجسام کیا ہیں اور کہاں سے آتے ہیں؛ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جدید سائنس اس نوعیت کے طیارے بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف لیفٹینینٹ اکوئن نے  بھی زور دے کر کہا کہ ہم پیشہ ور پائلٹ ہیں اور ادھر ادھر کی کہانیاں بنانا ہمارا کام نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ مارچ 2015ء کی بات ہے جب روزویلٹ بیڑا فلوریڈا سے خلیج فارس کی جانب روانہ ہوا جہاں امریکی سربراہی میں شام اور عراق میں داعش کے خلاف کارروائی کی جانی تھے۔ چوں کہ نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرنے والے یہ دونوں پائلٹ بھی اس مشن کا حصہ تھے اس لیے ان کے امریکا سے جانے کے بعد پراسرار طور پر ان واقعات کے بارے میں خاموشی چھاتی گئی جو ہنوز جاری ہے۔