قاتل امریکی پولیس افسران کو سزا دینا ناممکن کیوں؟

ایک اندازے کے مطاق امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ہر سال 1200 افراد مارے جاتے ہیں لیکن ان میں سے 99 فیصد واقعات میں ملوث پولیس افسروں پر کبھی کوئی فردِ جرم تک عائد نہیں ہوتی ہے۔

مینیسوٹا میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور عوامی دباؤ کی وجہ سے اس مرتبہ ان کے قتل میں ملوث افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

ایک پولیس افسر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جنھوں نے 25 مئی کو جارج فلائیڈ کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبا کر رکھا جو کہ مبینہ طور پر فلائیڈ کی ہلاکت کی وجہ بنی۔

تین دیگر افسران جو موقعے پر موجود تھے ان پر اس جرم کی اعانت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ چاروں 8 مئی کو عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

احتجاج کرنے والوں کو امید ہے کہ جارج فلائیڈ کی موت امریکی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے یعنی یہ کہ ایسے پولیس افسران جو اپنے فرائض کے دوران کسی کو ہلاک کرتے ہیں شاید اب انھیں سزا مل سکتی ہے۔ کیونکہ مینیسوٹا کا واقعہ پچھلے واقعات سے بالکل مختلف ہے۔

امریکہ میں فرائض کی ادائیگی کے دوران جو پولیس افسران کسی کو جان سے مار دیتے ہیں ان کو سزا دینا تو درکنار، ان کی اکثریت پر قتل کا مقدمہ تک درج نہیں ہوتا کیونکہ انھیں ایک قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔

ایک تحقیقی ادارے ‘میپنگ پولیس وائیلنس’ نے سنہ 2013 سے لے کر سنہ 2019 کے درمیان پولیس کے ہاتھوں 7666 افراد کے قتل کے واقعات کی دستاویزات جمع کیں ہیں جو کہ کُل ایسے واقعات کا 92 فیصد ہیں۔

ان میں صرف 99 افسران کے خلاف الزامات عائد ہوئے جو کہ ہلاکتوں کے واقعات میں ملوث افسران کا 1.3 فیصد بنتے ہیں۔ اور ان میں سے صرف 25 کو سزائیں سنائی گئیں۔

واشنگٹن کے ایک تحقیقی ادارے کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر برائے فوجداری انصاف، کلارک نیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ استغاثہ ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فردِ جُرم عائد کروا سکے، جس طرح جارج فلائیڈ کے مقدمہ ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ استغاثہ کو پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے، مقدمے کی گتھیاں سلجھانے اور مقدمہ چلانے کے لیے درکار شواہد کے لیے پولیس پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ اور پولیس ہلاکتوں کے ایسے واقعات میں قانون توڑے بغیر کسی کو ہلاک بھی کرسکتی ہے۔

اس طرح کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے پاس آخر میں یہ راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ پولیس کے خلاف دیوانی عدالتوں میں نقصان کے ازالے کے لیے مقدمہ دائر کر سکیں، لیکن نیل کے مطابق اکثر عدالتوں کے دروازے ان کے لیے بند ہوتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات پر ‘استثنیٰ کی اہلیت’ کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔

یہ اصول سرکاری ملازمین کو اس طرح کے الزامات کے مقدمات سے محفوظ بناتا ہے سوائے اس کے کہ افسران ایسے حقوق کو پامال کریں جو زیادتی کا نشانہ بننے والے کے مستند حقوق بنتے ہوں۔

کلارک نیل کہتے ہیں کہ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف مقدمہ دائر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

سنہ 2014 میں ایمی کوربٹ ایسے ہی ایک واقعے میں پھنس گئی تھیں جب کوئی شخص ان کے گھر کے پچھلے حصے میں غیر قانونی طور پر دخل ہو گیا تھا۔ مسلح پولیس کے اہلکار ان کے گھر میں گھس گئے اور انھوں نے وہاں موجود چھ بچوں کو بندوق کے زور پر زمین پر لیٹنے کو کہا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جب ایمی کا پالتو کتا، بروس وہاں پہنچا تو اس پر پولیس افسر نے بغیر انتباہ کے دو گولیاں چلا دیں باوجود اس کے کتا پولیس افسران کے لیے خطرہ نہیں تھا۔

اگرچہ گولیاں کتے کو نہیں لگیں لیکن ان میں سے ایک گولی ایمی کے دس برس کے بیٹے ڈکوٹا، کو لگی جو صرف ایک میٹر کے فاصلے پر لیٹا ہوا تھا۔ اس لڑکے کی زندگی تو بچ گئی لیکن اس کی ٹانگ میں گہرا زخم آیا اور اُسے شدید نفسیاتی تکلیف سے گزرنا پڑا۔

ایمی کی اس درخواست کو عدالت نے مسترد کردیا جس میں انھوں نے گولی چلانے والے پولیس افسر پر مقدمہ چلانے کی استدعا کی تھی۔ عدالت کا موقف تھا کہ گرفتاری کے دوران طاقت کے حادثاتی استعمال سے محفوظ ہونے کا کوئی واضح حق نہیں تھا۔’

اسی طرح کا ایک مشہور مقدمہ ملائکا برُوکس کا تھا جس میں آٹھ ماہ کی حاملہ ہونے کے باوجود 11 برس کے بیٹے کے سامنے ان پر ٹیزر گن سے تین مرتبہ فائر کیا گیا، انھیں گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا گیا، زمین پر الٹا لٹا کر ان کو ہتھکڑیاں پہنائی گئیں۔

ملائکا کو زیادہ سے زیادہ 20 میل فی گھنٹہ رفتار گاڑی چلانے کی حد والے علاقے میں 32 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر گاڑی چلانے کی وجہ سے پولیس نے روکا تھا لیکن انھوں نے تیز رفتاری کے اس واقعے کی رسید پر اقبالِ جرم کے طور پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ملائکا نے بھی مقدمہ دائر کیا لیکن عدالت نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا کہ ‘ٹیزر گن کے استعمال کے لیے باقاعدہ اصول و ضوابط موجود نہیں ہیں۔’ مقدمے کے دس برس بعد ان کا پولیس کے ساتھ 45000 ڈالر زرِ تلافی کا ماورائے عدالت تصفیہ طے پایا۔

کلارک نیل کہتے ہیں کہ ‘یہ بہت ہی حیران کن بات ہے کہ کن حالات میں عدالت پولیس کو طاقت کے استعمال کی کھلی چھٹی دیتی ہے۔ جیسے میں کہتا ہوں کہ اس طرح کے فیصلے قانون نافذ کرنے والوں کو ہر قسم کے احتساب سے بالکل محفوظ بنا دیتے ہیں۔’

نیل کہتے ہیں کہ استثنیٰ کے اس اصول کی وجہ سے جارج فلائیڈ کے ورثا کے لیے انصاف حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔

‘اگر وہ ایسی کوئی مثال نہیں ڈھونڈ پاتے ہیں جس میں عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہو کہ کسی کی ریڑھ کے ستون کے بالائی سات مہرے نو منٹ دبائے رکھنے سے اس کی موت واقعہ ہوجائے، تو قانونی طور پر یہ طاقت کے استعمال کا ایک غیر قانونی فعل ہے، اور پھر یہاں استثنیٰ کے اصول کا اطلاق ہوگا۔ یعنی پھر آپ مقدمہ دائر نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ اس قسم کے مقدمے کی کوئی مثال نہیں ہے۔’

بی بی سی نے امریکہ میں پولیس افسران کی تنظیم، نیشنل پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن سے ان کے تبصرے کے لیے رابطہ کیا، لیکن کئی مرتبہ ٹیلی فون کالز کے باوجود اس رپورٹ کے فائل کرنے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

پولیس افسران کی اس تنظیم کے صدر مائیکل میک ہیل، جارج فلائیڈ کے واقعے پر پہلے ہی ایک تبصرے میں کہہ چکے ہیں کہ ‘فلائیڈ کا واقعہ قابلِ مذمت ہے۔ جو کچھ ہوا اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، نہ ہی اپنا بچاؤ، نہ ہی کوئی اخلاقی جواز دیا جاسکتا ہے۔’

سیاستدانوں کی جانب سے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

میساچیوسیٹ کی ایک رکنِ کانگریس، ایانا پریسلی نے پولیس کے مظالم کے خلاف ایک قرارداد متعارف کراتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘کافی عرصے سے پولیس کی جانب سے سیاہ فام یا گندمی رنگت والے لوگوں کی لاشیں پیش کی جارہی ہیں، انھیں حراست میں لیا جا رہا ہے، انھوں مارا پیٹا جارہا ہے، ان کا گلا دبا کر دم گھونٹا جا رہا ہے، ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، انھیں قتل کیا جا رہا ہے۔ اب ہم نا انصافیوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔’

جارج فلائیڈ کے واقعے میں پولیس افسران کے خلاف کی گئی کارروائی کے پیچھے بڑھتا ہوا عوامی دباؤ ہے، لیکن اس دباؤ کے ساتھ قوانین میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

ماہرین اور میڈیا کے تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ چاہے تو استثنیٰ کے اصول کے اطلاق کے پیمانے اور معیار پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔

اور کئی سماجی اور سیاسی کارکنان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کو پولیس کے طاقت کے استعمال کے وقت زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کا قانون یا ‘پیس ایکٹ’ بنانا چاہیے۔

قانون کا یہ مسودہ قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں پر مہلک قسم کی طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے، اور اسے صرف آخری حربے کے طور استعمال کی اجازت دیتا ہے جب تمام دیگر مناسب حربے ناکام ہوگئے ہوں۔

کانگریس کے کئی ارکان نے ایسے قانون کی منظوری کی حمایت کرنے کا اعلان کیا جو فوجی ہتھیار پولیس کو دیے جانے پر پابندی عائد کرے گا۔

لیکن امریکہ کی شہری آزادیوں کی تنظیم ‘امیریکن سول لبرٹیز یونین’ کے ڈائریکٹر یوڈی اوفر کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس طرح کی قانون سازیوں سے کہیں زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: پولیس کے رویے کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے اس وفاقی نظام میں پولیس مرکزی ادارہ ہے۔ اوفر کا کہنا ہے کہ یہ بعض شہروں کی مقامی حکومتوں کا 40 فیصد بجٹ کھا رہے ہیں۔

امریکہ میں ہر تین سیکنڈ میں کوئی ایک شخص گرفتار کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آئی کے مطابق سنہ 2018 میں ایک کروڑ تین لاکھ افراد گرفتار کیے گئے تھے۔

اوفر کہتے ہیں کہ ان گرفتاریوں میں ایک بڑی تعداد پر تو تشدد کرنے کا الزام بھی نہیں ہوتا ہے۔ جارج فلائیڈ مبینہ طور پر ایک جعلی کرنسی نوٹ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یوڈی اوفر کہتے ہیں کہ ‘اول تو پولیس کو اس قسم کے جرائم میں پڑنے کا اختیار ہی نہیں ہونا چاہیے۔’

‘ہمیں پولیس پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس رقم کو ان کمیونیٹیز پر خرچ کیا جائے جن کو تاریخی طور پر پولیس (اپنے مظالم کا) نشانہ بناتی رہی ہے۔’

اگرچہ پولیس میں بھرتیوں کے معیار بہتر کرنے کی ضرورت کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں، تاہم اوفر اور نیل دونوں کا ہی خیال ہے کہ پولیس کے احتساب کا (موجودہ) نظام صرف ’سطحی‘ ہے۔

کووِڈ 19 کی وبا کے خطرے کے باوجود احتجاجی مظاہروں میں کمی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے، سماجی اور سیاسی کارکنان اپنی توانائیوں کو ایک تبدیلی کے عمل میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔

اوفر کہتے ہیں کہ ‘ہم امریکہ میں پولیس کی جانب سے تشدد کے رجحان اور اس میں نسل پرستی کا بارے میں بہت بنیادی قسم کا مسئلہ دیکھتے ہیں۔ اور باوجود اس کے کہ ہم نے کئی کوششیں کیں ہیں ہم انھیں قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمیں انفرادی سطح پر کسی ایک آدھ افسر پر مقدمہ چلا کر کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔’