Read in Urdu Why Pentagon Releases New UFOs Videos?

پینٹاگون کی ناقابلِ فہم اڑن اجسام کی نئی وڈیوز جاری

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے حال ہی میں ناقابلِ فہم اڑن اجسام – یو ایف اوز  یا اڑن طشتریوں – کی خفیہ ویڈیو جاری کی ہیں۔

Read in Urdu Why Pentagon Releases New UFOs Videos

ان ویڈیوز میں عرفِ عام میں ’اڑن طشتریاں‘ کہلانے والے لاتعداد اجسام کو آسمان پر اڑتے دیکھا جاسکتا ہے ۔

مؤقر برطانوی ٹی وی اسکائی نیوز کے مطابق پینٹاگون نے گزشتہ ماہ عوام کے لیے تین ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں اس بابت مزید تفصیلات فراہم کی گئی ہیں کہ امریکی نیوی کے جنگی جہازوں اور ’ناقابلِ فہم اڑن اجسام‘ کا کس طرح ایک دوسرے سے خطرناک حد تک سامنا ہوا۔

امریکا کے نیوی سیفٹی سینٹر نے ان ’خطرے سے آگاہ کرنے والی رپورٹوں‘ کو سب سے پہلے ’ڈرائیو‘ نامی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔

Click Here

ویب سائٹ پر جاری کردہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح امریکی نیوی کے ایک پائلٹ کا فضاء میں ’ایک نقرئی رنگت والے نامعلوم اڑن جسم‘ سے سامنا ہوا جو سائز میں ایک عام بریف کیس کے برابر تھا‘۔  

اسکائی نیوز اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ ’ڈی کلاسی فائیڈ‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی نیوی کے ایک لڑاکا طیارے نے ایک اڑن جسم کو صرف ایک ہزار فٹ کی دوری سے دیکھا مگر تجربہ کار پائلٹ اس کی اصلیت سمجھنے سے قاصر تھا۔

رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ متذکرہ پائلٹ نے اس ’یو ایف او‘ سے بصری رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی جو مکمل طور پر ناکام رہی۔


خیال رہے کہ امریکی نیوی کے پائلٹوں نے نومبر 2004ء اور جنوری 2015ء میں ان یو ایف اوز کی مختصر ویڈیوز بنائی تھیں اور ان دستاویزات کو ان ویڈیوز کے منظرِعام پر آنے کے بعد ڈی کلاسی فائی کیا گیا ہے۔


دیے گئے لنک میں ان ویڈیوز کو دیکھا جاسکتا ہے ۔

Click Here

جاری کردہ ایک ویڈیو میں ایک تاریک مگر گول ’جسم‘ کو فلم بند کیا گیا ہے جو امریکی جیٹ طیارے کے سامنے تیزی سے اڑ رہا ہے؛ جب کہ دوسری ویڈیو میں ایک مختصر جسامت کے ناقابل فہم جسم کو سطحِ زمین سے محض چند فٹ اوپر نہایت تیزرفتاری سے اڑتے اور پھر تمام تر طبعی قوانین کے برعکس یکایک انتہائی حد تک رفتار کم کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔


Read in Urdu Why Pentagon Releases New UFOs Videos?


ویڈیوز کے پس منظر میں کچھ اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں:

  • ’یہ تو یو ایف اوز کا پورا ایک فلیٹ (جھنڈ) ہے۔‘
  • ’یہ تمام کے تمام ہوا کی مخالف سمت میں اڑ رہے ہیں۔
  • ہوا مغرب کی جانب سے 120 ناٹ کی رفتار سے چل رہی ہے؛ مگر اس کی رفتار کو تو دیکھو . . . ‘

 

اسکائی نیوز کے مطابق سازشی نظریات اور یو ایف اوز میں دل چسپی رکھنے والے افراد ان ویڈیوز سے بہت پہلے سے واقف تھے کیوں کہ ان کے مختصر کلپ کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے ہیں؛ مگر اب امریکہ محکمۂ دفاع کے جانب سے ان ویڈیوز کو باقاعدہ سرکاری طور پر تصدیق شدہ قرار دے کر جاری کیا گیا ہے۔


Read in Urdu Why Pentagon Releases New UFOs Videos


چور چوری سے جائے مگر ہیراپھیری سے نہ جائے کے مصداق پینٹاگون نے بے سبب اشتباہ پیدا کرنے کے لیے ’امکان‘ ظاہر کیا ہے کہ ان مبینہ ’یو ایف اوز‘ میں اکثریت ’ڈرون طیاروں‘ کی ہوسکتی ہے؛ مگر جب مقامی ڈرون آپریٹرز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان ائرکرافٹ کے بارے میں قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا۔

دوسری طرف ڈی کلاسی فائیڈ دستاویزات میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی وقت نیوی کا کوئی جہاز ان یو ایف اوز سے ٹکرا سکتا ہے اور یہ کہ یہ ناقابل فہم اجسام دورانِ پرواز امریکی جنگی جہازوں کے لیے دشمن کے جہازوں سے زیادہ مہلک ثابت ہونے والے ہیں۔


خیال رہے کہ پینٹاگون 2012ء میں ان یو ایف اوز کے بارے میں اپنا تفتیشی پروگرام پُراسرار طور پر بند کر چکا ہے۔


امریکی وزارتِ دفاع کے لیے کام کرنے والے ایک سابقہ اعلیٰ تحقیقاتی افسر نک پاپ نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ پینٹاگون نے جس ناقابلِ فہم اڑن اجسام کی ویڈیوز جاری کی ہیں وہ ’غیرارضی‘ ہو سکتے ہیں اور اس بات کے بہت کم سائنسی امکانات ہیں کہ انہیں ارضی یا انسانی ہاتھوں کا تیار کردہ قرار دیا جاسکے۔