Nicolaus Copernicus | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | انیسواں باب | کوپرنیکس

پولینڈ کا عظیم ماہرِفلکیات نیکولاس کوپرنیکس (میکولاج کوپرنیک) 1473ء میں دریائے وسٹولا کے کنارے آباد پولینڈ کے شہر ٹورن میں پیدا ہوا۔ کوپرنیکس کا تعلق ایک خوش حال گھرانے سے تھا اور نوجوانی کی عمر میں اُس نے کریکائو یونی ورسٹی میں علم الاعضا کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ اپنی عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں وہ اٹلی چلا آیا جہاں اس نے یونی ورسٹی آف بولوگانا اور یونی ورسٹی آف پاڈوا میں قانون اور طب کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں فیرارا یونی ورسٹی سے کلیسائی قانون کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی سند بھی لی۔ کوپرنیکس نے اپنی زیادہ تر جوانی فران برگ کلیسا میں گزاری جہاں وہ پادریوں کی مجلس کا ایک رکن تھا۔دل چسپ امر یہ ہے کہ کوپرنیکس نے فلکیات کے علم کو کبھی بھی بطورِ پیشہ اختیار نہیں کیا اور تحقیقی کام اس کی اصل وجۂ شہرت ہے وہ اس نے فارغ وقت میں تخلیق کیا تھا۔ اٹلی میں قیام کے دوران کوپرنیکس کو یونانی فلسفی آرسٹارکس آف ساموس – 300 ق م – کے اس تصور کا علم ہوا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔ کوپرنیکس اس شمس المرکز نظریے کی سچائی کا قائل ہو گیا اور 40 سال کی عمر میں اس نے اپنے دوستوں میں ایک مختصر قلمی مسودہ تقسیم کرنا شروع کیا جس میں اس نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا ابتدائی خاکہ پیش کیا تھا۔ کوپرنیکس نے کئی سال مشاہدوں اور حساب کتاب میں صرف کیے جو اس کی مستقبل کی عظیم ترین  کتاب ’فلکی اجسام کی گردش پر ایک نگاہ‘ کی تیاری کے لیے ناگزیر تھے۔ اس کتاب میں اس نے اپنے نظریے کو مفصّل واضح کیا اور درکار شواہد و دلائل فراہم کیے۔ 1533ء میں 60 سال کی عمر میں اس نے روم میں متعدد خطبات دیے جس میں چرچ کو برہم کیے بناء اس نظریے کے بنیادی اصول واضح کیے گئے تھے۔کوپرنیکس نے 70 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی کتاب کی اشاعت کا ارادہ کیا۔ 24؍مئی 1543ء کو اپنی موت کے دن اسے اس کتاب کا پہلا چَھپا ہوا نسخہ موصول ہوا۔ اس کتاب میں کوپرنیکس نے درست طور پر بیان کیا تھا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہے؛ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے جب کہ زمین اور دیگر تمام سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں؛ تاہم سابقہ ماہرین کی طرح اس کا شمسی نظام کا پیش کردہ نقائص سے پُر ہے نیز وہ اس بات کو فرض کرنے میں بھی غلطی پر تھا کہ مدارات دائروں یا چھوٹے دائروں پر مشتمل ہیں۔ گوکہ اس کا نظریہ نہ صرف یہ کہ ریاضیاتی طور پر شدید پیچیدہ بلکہ مکمل طور پر غلط بھی تھا مگر اس کے باوجود اس کتاب نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی اس مضمون میں دل چسپی کو مہمیز کیا۔ کوپرنیکس نے بے شمار ماہرینِ فلکیات بطور خاص پولینڈ کے فلیکات کے ماہر ٹائیکو براحے کو ترغیب دی کہ وہ سیاروں کی گردش کا درست ترین مشاہدہ کریں۔ چناں چہ یہ ٹائکو کا اکٹھا کردہ مشاہداتی مواد ہی تھا جس کے ذریعے کوپرنیکس سیاروں کی گردش کے درست ترین قوانین تشکیل دینے میں بلآخر کامیاب ہوا۔ اگر چہ ساموس نے اپنا شمس مرکز نظریہ 17 سے زائد صدیاں قبل پیش کیا تھا مگر پھر بھی اس کا زیادہ تر سہرا کوپرنیکس کے سر دینا ہی مناسب ہے کیوں کہ ساموس نے صرف ایک وجدانی اندازہ لگایا تھا اور ایسی کوئی وضاحت نہیں پیش کی تھی جس سے اس نظریے کی مفید سائنسی حیثیت کا تعین ہو سکتا مگر کوپرنیکس نے اس نظریے کی مفصل ریاضیاتی تشکیل کرنے کے بعد اسے ایک مفید سائنسی نظریے میں تبدیل کر دیا جس کے ذریعے فلکیاتی پیش گوئیوں کو مشاہدات کے بعد پرکھ کر درست قرار دیا جا سکتا تھا ۔ کوپرنیکس کے نظریے کا بامعنی انداز میں اس قدیم نظریے سے موازنہ بھی ممکن تھا کہ ہر فلکی جسم زمین کے گرد گھومتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ کوپرنیکس کے نظریات نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصور میں انقلاب برپا کر دیا جس سے ہماری فلسفیانہ بصیرت میں اہم ترین تبدیلیاں آئیں مگر کوپرنیکس کی اہمیت کا تعین کرتے وقت یاد رکھنا چاہیے کہ علم فلکیات اتنا وسیع البنیاد اطلاقی علم نہیں ہے جتنا طبیعات، کیمسٹری اور حیاتیات وغیرہ ہیں۔ اصولی طور پر آپ کوپرنیکس کے نظریات سے آگاہ ہوئے بغیر یا ان کا اطلاق کیے بنا بھی ٹی وی، مشینی گاڑیاں یا جدید کیمیائی فیکٹری بنا سکتے ہیں مگر ظاہر ہے فرائیڈے، میکس ویل، لیوازیے یا نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کا اطلاق کیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اگر ہم کوپرنیکس کے صرف ٹیکنالوجی پر براہ راست اثر پر غور کریں تو اس کے اصل اثرات مکمل طور پر نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ کوپرنیکس کی کتاب گلیلیو اور کیپلر کے تحقیقی کام پر ایک ناگزیر مقدمے کی حیثیت رکھتی ہ۔ اور یہ ہی لوگ نیوٹن کے اہم ترین پیش رو تھے اور یہ ان ہی کی دریافتیں تھیں جن کے مدد سے نیوٹن نے اپنے قوانین حرکت و تجاذب تشکیل دیے مگر پھر بھی آج تاریخ گواہ ہے کہ ’فلکیاتی اجسام کی گردش پر ایک نگاہ‘ کی اشاعت نہ صرف جدید علم فلکیات کا نقطۂ آغاز بلکہ جدید سائنس کے سرچشمے کی ایک بنیاد بھی ثابت ہوئی۔