Online Paisay Kamana Dhooka Hey Ya Haqeqat
نقطۂ نظر - جامِ جہاں نما - جولائی 28, 2020

کیا آپ کو بھی گھر بیٹھے لاکھوں روپے مل رہے ہیں؟

آج کل آن لائن کاروبار یا گھر بیٹھے پیسے کمانے کا بڑا زور وشور ہے اور ایک عالم ہے کہ خوابوں اور خیالوں میں لکھ پتی بنا بیٹھا ہے۔


Online Paisay Kamana Dhooka Hey Ya Haqeqat


نیرنگ نے اس موضوع پر مکمل تحقیق کے بعد ایک مفصل رپورٹ شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے جس میں نہایت وضاحت سے اس سلسلے میں درست ترین معلومات فراہم کرنے کی مخلص کوشش کی جائے گی۔


’ویسے آن لائن کمائی بذات خود کسی پیراڈوکس سے کم نہیں . . . ‘

Click Here Too


مثال کے طور پر نیرنگ ٹیم نے آزمائشی طور پر آن لائن کنٹینٹ رائٹنگ کی بے شمار قانونی اور جائز ویب سائٹس سے رابطہ کیا اور جو کچھ سامنے آیا وہ کچھ یوں تھا کہ محض 15 سے 20 ہزار روپے ’تن خواہ‘ دینے والی کمپنیاں بھی ایک رائٹر میں وہ ’پچاس‘ خصوصیات طلب کر رہی تھیں جن کا سعادت حسن منٹو اور ابنِ صفی جیسے بلند قامت قلم نگاروں کے ہاں بھی ملنا محال ہے۔

اس طرح پیراڈاکس یوں پیدا ہوئی کہ اگر کوئی قلم کار فی الواقع اتنا ہی بلند قامت ہے تو اسے محض چند ہزار روپوں کے لیے کسی اور کی نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے کیوں کہ کیا وہ خود ہی اپنا بلاگ بنا کر لاکھوں روپے گوگل ایڈ سینس کے ذریعے ماہانہ نہیں کما سکتا؟

کیا ابنِ صفی اور منٹو نے کبھی کسی کے پاس نوکری کی؟


Click Here Too


بس یہ ہی وہ پیراڈکس تھی جس نے نیرنگ کو اس دل چسپ موضوع پر تحقیق کرنے اور قلم اٹھانے کی ترغیب دی۔

چناں چہ بہت جلد اس ’حساس‘ سوال کا مفصل جواب نیرنگ پر آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔

پڑھتے رہیے کہ نیرنگ زندگی ہے۔