Oral Sex Causes Mouth Cancer Read Urdu Report

’صنفی فعل فی الدہن سَرطان کے در پر دستک ثابت‘

 تقریباً تمام ہی مذاہب میں غلط سمجھے گئے ’صنفی‘ فعل فی الدہن اور کینسر میں بالآخر تعلق مل گیا ہے۔

مؤقر برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ایک فلاحی ادارے کی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق نہ صرف یہ کہ برطانیہ میں گزشتہ 25 سالوں کی نسبت منہ کے سرطان میں دُگنا اضافہ ہوا ہے، بلکہ تمباکو اور شراب نوشی کے علاوہ اِس جان لیوا بیماری کے اسباب میں صنفی فعل بادہن یا ’اورل سیکس‘ کو بھی برابر کا شریک پایا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں منہ کے کینسر کے جان لیوا کیسز گزشتہ سال ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں جس کا ایک سبب اس کارِ بے مقصد یعنی اورل سیکس کے ذریعے منتقل ہونے والا ایک مہلک وائرس بھی ہے۔


ڈیلی میل لکھتا ہے کہ اگرچہ ملک میں دیگر اقسام کے کینسروں میں کمی دیکھی جا رہی ہے مگر حیرت انگیز طور پر سرطان سمیت منہ کی دیگر بیماریوں میں گزشتہ 20 سے 25 سالوں کی نسبت 135 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2018ء میں اس موذی مرض کے ہاتھوں اوسطاً سات افراد یومیہ لقمۂ اجل بنے جب کہ متاثرہ مریضوں کی کل تعداد ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب تھی۔


یہ ہول ناک انکشافات ’اورل ہیلتھ فاؤنڈیشن‘ نامی ایک فلاحی ادارے کی چشم کشا رپورٹ میں کیے گئے ہیں جب کہ فاؤنڈیشن نے کینسر جیسے مرض کے ہاتھوں ناگہانی موت سے بچنے کے لیے عوام سے ہوش کے ناخن لینے کو کہا ہے۔


مذکورہ رپورٹ جاری کرنے والے اس ادارے کی جانب سے تمباکو اور شراب نوشی کے علاوہ ’ایچ پی وی‘ نامی مہلک ترین وائرس سے بچنے کی بھی تلقین کی جا رہی ہے جو غیرمحتاط اور بطورِخاص غیرازدواجی صنفی تعلقات کے نتیجے میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔


Picture Credit – Independent


او ایج ایف کے رکنِ اعلیٰ ڈاکٹر نائیجل کارٹر کا کہنا ہے کہ اگرچہ برطانیہ میں کینسر کی دوسری اقسام میں کمی ہو رہی ہے مگر دوسری طرف منہ کے سرطان کے کیسز نہایت تیزرفتاری سے پھیل رہے ہیں جس کے اسباب میں شراب اور تمباکو نوشی کے علاوہ ہیومن پاپیلوماوائرس یا ایچ پی وی بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر نائیجل نے تاسّف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منہ کے سرطان کے مریض کی کیفیت ناقابل بیان ہوتی ہے جہاں بسااوقات خود مریض تنگ آکر موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگتا ہے۔


رپورٹ کے مطابق ایچ پی وی 73 فی صد تک منہ کے سرطان کا سبب ہے، جب کہ شراب اور سگریٹ نوشی بالترتیب 81 اور 91 فی صد منہ کے کینسر کی بنیادی وجہ ثابت ہوئے ہیں۔


رپورٹ میں بڑھتی عمر، ایکس ریز، گاما شعاعوں کی تاب کاری، اسبَسطوس نامی معدن، نمک لگی مچھلی، جراثیم کش مادے فارمل ڈیہائیڈ، لکڑی کے برادے کی دھانس، سورج کی تیز روشنی میں زیادہ وقت گزارنے اور دھوئیں نما فضائی آلودگی کو اس موذی بیماری کے نسبتاً چھوٹے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔


خیال رہے منہ کے کینسر کے مریض عام طور پر سال بھر سے زیادہ زندہ نہیں رہ پاتے جب کہ دورانِ حیات ایک طرف وہ کسی بھی طور معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے تو دوسری طرف مرے پر سو درّے کے مصداق کیمو اور ریڈیوتھراپی انہیں ویسے ہی اس دوران جیتے جی مار چکی ہوتی ہیں۔


خیال رکھیے کہیں ایسا نہ ہوا چند لمحوں کی لذتِ ممنوعہ ہمیشہ کا پچھتاوا بن کر  رہ جائے۔