Powers of Jews in Urdu

’یہودیوں کی ماورائی طاقتیں‌ اور خفیہ عملیات‘



یہودیوں کی پراسرار دنیائے عملیات میں جسے قبالہ کے نام سے جانا جاتا ہے باطنی تعلیمات کا ایک چھوٹا مگر الگ حصہ بھی موجود ہے جسے ’عملی قبالہ‘ کہا جاتا ہے۔ پراسرار یہودی علوم کی یہ شاخ ’سفلی اثرات اور شیطانی قوت‘ کے خلاف استعمال کی جاتی ہے جسے مغربی دنیا ’ کالے جادو‘ کے برعکس ’سفید جادو‘ سے تعبیر کرتی ہے۔ خیال رہے کہ اسلام اور عیسائیت کی طرح یہودی مذہب میں بھی سفلی علوم حرام ہیں البتہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے روحانی عملیات سے مدد لی جا سکتی ہے۔ مگر یہودی ان عملیات میں مقدس ناموں، تعویذات اور مختلف نوعیت کے روحانی طریقے استعمال کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی سب سے اہم ترین کتاب ’فرشتہ رزائیل کی کتاب‘ ہے۔



پراسرار علوم کی کتاب کے سامنے یہودی روایات کے مطابق عملیات کے دوران جلائی گئی موم بتیاں


اس کتاب میں یہودیوں کے دعوے کے مطابق’تمام کائنات کا علم ہے‘ خواہ اس کا تعلق علم نجوم سے ہو، یا نظام شمسی کے سیاروں سے یا زندگی کی پیدائش، موت، تناسخِ روح یا اسی نویت کے دیگر ’روحانی‘ معاملات سے۔ بنیادی طور پر اصل قبالہ کا تعلق خدا اور ہستی کی حقیقت کو سمجھنے سے ہے جس میں فلسفیانہ مباحث اور غور و فکر کے لیے طویل مراقبوں کا سلسلہ شامل ہے مگر اس کے برعکس عملی قبالہ میں ’عملیات‘ کے ذریعے بذات خود زندگی پیدا کرنے کی کوشش کے علاوہ خدا اور فرشتوں سے کلام کرنے کے ساتھ فرشتوں کو وقت ضرورت طلب بھی کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہودی مذہب کی مقدس کتابیں سختی سے سحر کی ممانعت کرتی ہیں اس لیے عملی قبالہ کے ’عاملین‘ شیطان سے اپنی راہیں جدا رکھنے کے لیے سخت مشقت کرتے ہیں۔ تاہم یہاں یہ بات ہمیشہ سے ایک تشنہ لب سوال رہی ہے کہ آخر یہودی عملی قبالہ کو اتنی کم اہمیت کیوں دیتے ہیں اور یہ کہ یہ علم صرف بلند رتبہ یہودی علماء تک ہی محدود کیوں ہے؟ اور اس ذیل میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ فرشتہ رزائیل اصل میں آخر کون یا کیا ہے؟



یہودی روایات کے مطابق فرشتہ رزائیل کا تصوراتی روپ


رزائیل کے لغوی معنی ’خدا کے راز‘ کے ہیں اور اس فرشتے کو اکثر فرشتۂ اسرار بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کی باطنی دنیا میں رزائیل ایک نہایت بلند رتبہ فرشتہ ہے جو نہ صرف بے شمار فرشتوں کا سردار ہے بلکہ اس کے کھڑے ہونے  کی جگہ خدا کے تخت کے نزدیک ہے۔ یہودیوں کے مطابق اس فرشتے کے پر نیلگوں ہیں اور لہراتے ہوئے سفید چغے میں اس کے سر پر زرد رنگ کا نورانی ہالہ دکھائی دیتا ہے۔



خفیہ یہودی زبان کے پراسرار حروف


یہودیوں کے کچھ مکاتب فکر اس فرشتے میں خدا کی عقل کو مجسم دیکھتے ہیں۔ چوں کہ یہودی روایات کے مطابق رزائیل آسمانوں میں خدا کے تخت کے بالکل نزدیک کھڑا رہتا ہے اس لیے ان کے خیال میں اسے خدائی فیصلوں کا علم رہتا ہے۔ اس فرشتے کو زمین پر اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ وہ بھٹکے ہوئے انسانوں کو اپنے ابدی گھر کی جانب واپسی کا راستہ دکھائے۔ ’فرشتہ رزائیل کی کتاب‘ پانچ حصوں پر مشتمل ہے اور یہودیوں کے دعوے کے مطابق اس کے ایک حصے میں حضرت آدمؑ کی آسمان سے اتارے جانے کے فوراً بعد رزائیل سے ہونے والی گفتگو بھی موجود ہے ۔ کتاب کے اس حصے میں حضرت آدمؑ جنت سے نکالے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کے ساتھ اس بات پر معافی مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے اس کے احکام کے برعکس ’علم کے درخت‘ سے ممنوعہ پھل کھا کر اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اللہ تعالیٰ حضرت آدمؑ کی اس دعا کو قبول کرنے کے بعد ان کے پاس رزائیل کو بھیجتا ہے جو اس کے بہترین فرشتوں میں ایک ہے تا کہ وہ حضرت آدمؑ کو زمین پر رہنا بسنا سکھائے۔ چناں چہ رزائیل زمین پر آ کر حضرت آدمؑ کو کم و بیش ہر چیز کے بارے میں علم سکھاتا ہے جس میں وہ پراسرار کلمات بھی شامل ہیں جن سے انسان کسی دوسرے انسان کی روح اور مادی دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا یا اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ رزائیل اس کے علاوہ آدمؑ کو فطرت اور پودوں کے قوانین کے علاوہ حیات و موت اور ستاروں میں موجود زندگی یا زندگیوں کے بارے میں بھی تعلیم دیتا ہے۔



یہودی عملیات کی پوشیدہ ترین کتاب


یہاں سب سے اہم تعلیم جو یہ فرشتہ حضرت آدمؑ کو دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی روح زمین پر گوشت پوست کے پنجرے میں مقید ہونے کے با وجود ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے انسان روحانی اور مادی دنیا کے مابین توازن کی حقیقت کا ادارک کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ رزائیل حضرت آدمؑ کو عبرانی حرف تہجی کے بائیس حروف اور ان سے ماورائی کام لینے کے طریقہ بھی بتاتا ہے۔ متعدد دیگر یہودی ذرائع کے مطابق اس کتاب میں یہ علوم بھی پوشیدہ ہیں کہ کن فیکون سے یہ کائنات کس طرح وجود میں آئی اور کائنات کے وجود میں آنے کے بعد کن فیکون کے اس اثر نے کس طرح مادی مظاہر میں جذب ہو کر انسانی زبان اور  اعمال میں اپنا جلوہ دکھایا۔ اس کتاب میں خدا اور فرشتوں کے نام بھی درج ہیں جب کہ ستاروں اور بروج کی چالوں سے ’فائدہ‘ اٹھانے کے علاوہ بے شمار حفاظتی کلمات اور تعویذات کو مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرنے کے طریقے بھی درج ہیں۔ مشہور یہودی روایت کے مطابق متعدد فرشتوں نے ’سازش‘ کر کے اس کتاب کو حضرت آدمؑ اور بی بی حواؑ سے چھین  کر سمندر میں پھینکنے  کی کوشش کی کیوں کہ وہ اس بات پر غصہ تھے کہ کہیں انسان کو بہت کم اعمال کے بدلے ہی معاف نہ کر دیا جائے مگر خدا نے اس کتاب کو واپس نکال کر حضرت آدمؑ کے حوالے کر دیا جو ان کی کئی نسلوں کے پاس رہی جن میں حضرت نوحؑ بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت نوحؑ نے اپنی عظیم کشتی بنانے کا طریقہ اسی کتاب سے سیکھا تھا۔



یہودی روایات کے مطابق رزائیل کا آسمانوں سے زمین پر اترتے ہوئے ایک روپ


یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد یہ کتاب غائب ہو گئی جسے کئی صدیوں بعد قرون وسطیٰ میں یہودیوں علماء یا باطنی عاملین نے قدیم جرمنی میں کہیں سے برآمد کیا۔ اس  کتاب کا ذکر قرون وسطیٰ میں یکایک عوام کی زبان پر آیا کیوں کہ تیرہویں صدی سے پہلے اس کتاب سے کوئی بھی واقف نہیں۔ اس کتاب کو ابتدائی طور پر عبرانی اور آرامی زبان میں لکھا گیا تھا جب کہ الفانسو دہم نے اس کے لاطینی ترجمے کا حکم بھی دیا تھا۔ بات کچھ بھی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ آج تک اس کتاب کے سحر نے صدیوں سے تمام دنیا میں روحانیت اور پراسرار علوم سے شغف رکھنے والے کو روز اول ہی کی طرح اپنے دام میں جکڑا ہوا ہے۔