Predictions for Coronavirus in Urdu

سالوں اور صدیوں پہلے کرونا کی پیش گوئی کرنے والے

(نیرنگ/خصوصی رپورٹ) پیشین گوئی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے وجود سے صرف وہی اذہان انکار کر سکتے ہیں جنہیں مذہب سے نفرت نے مکمل طور پر بصارت اور بصیرت دونوں سے محروم کر دیا ہو۔

یہ صلاحیت خالق کائنات کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک انعام ہے اور دنیا کے ہر مذاہب کے ماننے والوں بلکہ ان قوموں میں بھی جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں رکھتیں اس صلاحیت کا ہزاروں سال پہلے تذکرہ ملتا ہے۔

ذیل میں ہم ان گیارہ پیشین گوئیوں کا عقلی بنیادوں پر تجزیہ کریں گے جنہیں نام نہاد عقلیت پسند سائنس دانوں نے ایسے طفلانہ دلائل کے ذریعے مسترد کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں پڑھ کر مزاح سے زیادہ افسوس کا احساس ہوتا ہے۔

خیال رہے غیب کا حال صرف خالق حقیقی کے پاس ہے اور جن لوگوں کو پیش بینی کی صلاحیت عطا ہوتی ہے وہ بس کبھی کبھار ہی مسقبل کا مبہم سے خاکہ خواب یا کسی اور صورت میں دیکھ پاتے ہیں جس کا سو فی صد درست ہونا خدائی قوانین کے تحت ممکن نہیں۔

  • بل گیٹس نے خبردار کیا تھا کہ ہر بیس سال بعد دنیا میں کسی نہ کسی وائرس کے ہاتھوں وباء پھیلا کرے گی

مؤقر اخبار فنانشل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں مائکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا تھا کہ مستقبل میں آنے والی ان وباؤں سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو چاہیے کہ وہ بڑے پیمانے پر تشخصیص، اینٹی وائرس ادویات اور جلد خبردار کرنے والے نظاموں کو تیار کر کے رکھیں۔

بل گیٹس کی اس تنبیہ کو ہنس کر اڑادینے والے سیاست دان اور سائنس دان دونوں ہی آج کرونا مرض کے ہاتھوں اپنے اس طرزعمل کی قیمت چکا رہے ہیں۔

خیال رہے نام ور ماہرینِ امراض اور فلو ایکسپرٹ کی طرح بل گیٹس بھی سالوں سے کرونا جیسی وباء کے بارے میں خبردار کر رہے تھے مگر کوئی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ٹید ٹاک نامی آن لائن فورم پر بل گیٹس کا کہنا تھا – کہ دنیا جلد آنے والی وباء کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔

اسی طرح سال 2018ء میں نام ور طبی اداروں کے ساتھ گفتگو میں بل گیٹس نے کہہ دیا تھا کہ ایک عالمی وباء اگلی دہائی میں آنے کو ہے۔

بل گیٹس نے اس دوران ایک چارٹ دکھایا تھا جس میں ایک بخار جیسی وباء کے نتیجے میں اگلے چھ ماہ کے دوران دنیا بھر میں تین کروڑ افراد کے ہلاک ہونے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

بل گیٹس کا کہنا تھا یہ وباء ٹھیک ایک صدی پہلے دنیا میں پھیلنے والے اسپینش فلو کی طرح ہو گی جس میں کم وبیش پانچ کروڑ جانیں ضائع ہوئیں تھیں جب کہ اس کا سبب قدرتی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کی جنگ ہو سکتا ہے۔

  • متعدی امراض کے ماہر مائیکل اوسٹرہوم نے 2005ء میں عالمی وباء کی پیشین گوئی کر دی تھی

 امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق اوسٹرہوم نے فارن افیئرز نامی میگزین میں لکھا تھا کہ دنیا اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والی عالمی وباء کا سامنا کرنے کے لیے وقت کی ریت ہمارے ہاتھوں سے سرک رہی ہے اور اب ہمارے پاس سوائے فیصلہ کن اور بامقصد کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

2017ء میں اوسٹرہوم نے اپنی کتاب میں لکھا کہ امریکا آنے والی وباء کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔ اس کتاب کا نام تھا – مہلک ترین دشمن:

جان لیوا جرثوموں کے خلاف ہماری جنگ

  • جرثوموں اور بخار کے ماہر رابرٹ جی ویبسٹر کی اپنی کتاب میں عالمی بخار کی وباء کی پیشین گوئی 

’بخار کا شکار: وائرس کے رازوں سے آگاہی‘ نامی کتاب میں جو دسمبر میں شائع ہوئی تھی رابرٹ نے واضح طور پر جوابی انداز میں لکھا کہ عالمی وباء کوئی افسانہ نہیں بلکہ چند ماہ میں یہ دنیا بھر میں آفت ڈھانے والی ہے۔


رابرٹ کے مطابق اس وباء کو کنٹرول کرنے سے پہلے ہی دنیا بھر میں کروڑوں انسان موت کا شکار ہو جائیں گے۔


رابرٹ نے بھی اس وباء کو اسپینش فلو سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں اس کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

  • امریکی انٹیلی جینس ٹیم نے حالیہ برسوں میں عالمی وباء سے خبردار کیا تھا

دنیا بھر میں خطروں پر نظر رکھنے والے ایک امریکی خفیہ ادارے کی ذیلی تنظیم ’ورلڈ وائڈ تھریٹ اسیسمینٹ‘ نے 2018ء میں خبردار کیا تھا کہ بہت جلد دنیا میں ایک نئی قسم کے متعدی خرد حیاتیے کی لڑی سامنے آئے گی جو بہت تیزی سے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہو گی۔

خفیہ ادارے کے حوالے سے سی این این نے اس وائرس کو دنیا کے لیے مہلک ترین اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

2019ء میں بھی اس ادارے نے قطعی کووِڈ 19 جیسی وباء سے خبردار کیا تھا جو امریکا اور یورپ میں بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنے گی۔

ادارے کی پیشین گوئی کے مطابق یہ وبا دنیا کی معیشت اور عالمی وسائل کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہونی ہے۔

  • یو ایس ایڈ کے سابقہ ڈائرکٹر جرمی کونینڈائک کی پیش بینی

امریکا کے سابقہ صدر اوباما کی انتظامیہ میں یو ایس ایڈ آفس برائے تجزیۂ غیرملکی آفات کے سابق ڈائرکٹر جرمی کونینڈائک نے 2017ء میں ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگرچہ میں وقت کا تعین تو نہیں کر سکتا مگر ایک عالمی وباء ہر صورت میں آنے کو ہے۔

جرمی نے بھی اس وباء کو اسپینش فلو سے تشبیہ دی تھی جس میں پانچ سے دس کروڑ لوگ مارے گئے تھے۔

جرمی کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس وباء سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔

یاد رہے ’نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن‘ میں بل گیٹس نے حال ہی میں تحریر کیا ہے کہ ’کووِ19 اب بالکل صدی قبل پھیلنے والے اسپینش فلو جیسی ہوتی جا رہی ہے جس نے دس کروڑ انسانوں کی جانیں لی تھیں۔‘

کیا ہم اب بھی بل گیٹس کی بات کو نظرانداز کر سکتے ہیں؟

  • وائٹ ہاؤس نیشنل سیکورٹی کونسل کی سابقہ رکن ڈاکٹر لوسیانا بوریو کی پیشین گوئی

وائٹ ہاؤس نیشنل سیکورٹی کونسل کی سابقہ رکن ڈاکٹر لوسیانا بوریو بھی بخار کی عالمی وباء کی پیشین گوئی کر چکی ہیں۔

این ایس سی کے ذمے ہے کہ وہ عالمی وباؤں کی صورت حال پر نظر رکھے۔

سی این این کے مطابق ڈاکٹر بوریو نے 2018ء میں کہا تھا کہ آنے والے عالمی بخار کی وباء ہمارے لیے سیکورٹی کا سرفہرست معاملہ ہے کیوں کہ ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر بوریو کی اس پیشین گوئی کے بعد ٹرم انتظامیہ نے این ایس سی کو تحلیل کرنے کے بعد اس کی ازسرنو تنظیم کی۔

کیوں؟

  • چودہ سال قبل کروڑوں افراد کے بیمار پڑنے کی پیشین گوئی

عالمی بخار کی وباء سے نمٹنے کی تیاری کی منصوبہ بندی کرنے والے ماہرین اور حکام نے 2006ء میں کہہ دیا تھا کہ ایک عالمی وباء کے ہاتھوں کم ازکم بیس لاکھ افراد امریکا میں متاثر ہوں گے۔

اس پیشین گوئی کے مطابق صرف امریکا میں ایسے دس لاکھ مریضوں کا گھر پر جب کہ اسی ہزار کا ہسپتالوں میں علاج کیا جائے گا۔

اس تخمینے کے مطابق امریکا میں اس وباء سے کم ازکم بیس ہزار ہلاکتیں ہوں گی کیوں ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنے کے لیے جگہ نہیں بچے گی۔

ان ماہرین نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ قبل از وقت اتنے بڑے پیمانے پر متاثرین کے علاج کے لیے اضافی جگہیں مختص کی جانی چاہییں۔

  • زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

کم ازکم بیس سال سے انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی آنے والی وباء کی ’پیشین گوئیاں‘ گردش کر رہی ہیں۔

ان نام نہاد پیشین گوئیوں کا تعلق اگرچہ فکشن کی دنیا سے ہے مگر انہیں کلی طور پر پائے حقارت سے ردّ بھی نہیں کیا جاسکتا۔

معروف امریکی مصنف ڈین کونٹز نے 1981ء میں ’تاریکی کی آنکھیں‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا تھا جس میں چین کے شہر ووہان سے ایک جراثیمی وباء کے پھیلنے کا افسانہ درج ہے۔  

تاہم اس کتاب میں اس وائرس کو ایک سائنس دان نے حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر تیار کیا ہے جس کی ہلاکت خیزی کی شرح سو فی صد ہے۔

  • نام نہاد ’پراسرار صلاحیتوں‘ کی مالک سلویا براؤنی کی پیش گئی

دو ہزار تیرہ میں دنیا سے رخصت ہوئی امریکی مصنفہ سلویا براؤنی کو کون نہیں جانتا جس کا اپنے بارے میں دعویٰ تھا کہ وہ پیرانارمل صلاحیتوں کی حامل یا ’میڈیم‘ ہے۔

سلویا نے 2008ء میں ’دنیا کا خاتمہ‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں پیشین گوئیاں کی گئی ہیں کہ کرہ ارض پر زمین کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ سلویا لکھتی ہیں –


’دو ہزار بیس کے آس پاس دنیا بھر میں ایک سخت نمونیے جیسی وباء پھیلے گی۔ اس وباء کا عفریت انسانوں کے پھیپڑوں اور سانس کی نالیوں کو نشانہ بنائے گا جس کے سامنے دنیا کی ہر دوا ناکام رہے گی۔‘


سلویا ’ٹائم ٹریولر‘ نہیں تھی جو اس نے دو ہزار بیس میں وقت سے پہلے جا کر اس وباء کی تمام تر کیفیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔

کیا کسی انسان کے لیے اس سے زیادہ واضح پیشین گوئی کرنا ممکن ہے؟ مگر نام نہاد سائنس دانوں نے انتہائی بچکانہ انداز میں اس پیشین گوئی کو رد کرنے کے دلائل دیے ہیں۔

چناں چہ ایک خود ساختہ پیرانارمل تفتیش کار بینجمن ریڈفورڈ کی ’دلیل‘ ہے کہ کووِڈ 19 ’سخت نمونیے‘ کی بیماری نہیں۔

اس ’ماہرانہ‘ دلیل کے جواب میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ سلویا براؤنی ’میڈیم‘ ہوسکتی تھی مگر کسی بھی طور وہ ڈاکٹر یا سائنس دان نہیں تھی اور نہ ہی اسے سال دو ہزار بیس کی وباء پر کسی پیش گوئی نے مکمل ’بریفنگ‘ دی تھی۔

کیا سلویا نے ’سخت نمونیہ‘ کہا تھا یا ’سخت نمونیے سے ملتی جلتی‘ بیماری؟

بقیہ کہانی کے تانے بانے نیرنگ کے قارئین خود باآسانی بُن سکتے ہیں۔


تاہم سلویا کی پیشین گوئی میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ بقول مصنفہ یہ وباء اتنی ہی تیزی سے ایک دن اچانک دنیا سے غائب ہو جائے گی جتنی تیزی سے اس نے یکایک انسانوں پر حملہ کیا ہو گا۔


دل کے خوش رکھنے کو غالؔب کیا یہ خیال اچھا نہیں؟

  • ہالی وڈ فلم ’دی کنٹیجن‘ اور کووِڈ 19

دو ہزار گیارہ میں پیش کی گئی ہالی وڈ فلم ’کنٹیجن‘ میں بھی بالکل کووِڈ 19 جیسی وباء کا تذکرہ ہے جو ایک چمگاڈر سے سؤر اور پھر اس سؤر سے انسانوں کو لگ کر تمام دنیا کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔

جی آپ نے بالکل درست پڑھا ہے – ’چمگاڈر سے سؤر کو‘

 

  • چار سو سال قبل دو ہزار بیس میں عالمی وباء کی پیش گوئی

سولہویں صدی کے معروف معالج، نجومی اور نام نہاد ’مستقبل بین‘ ناسٹراڈیمس سے کون واقف نہیں۔

1555ء میں ناسٹراڈیمس کی ’پیشین گوئیوں‘ کے عنوان سے کتاب شائع ہوئی جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ اس میں قطعات کی شکل میں ہزار سے زائد پیشین گوئیاں کی گئی ہیں۔

ناسٹراڈیمس نے اپنی اس کتاب میں کرونا وائرس سے پھیلنے والے ’پلیگ‘ کا تذکرہ کیا ہے۔

بقول ناسٹراڈیمس کے اس پر جاگتے میں یکایک دھندلے سے خواب کی کیفیت طاری ہوتی تھی جس میں وہ آنے والے واقعات کو جھلکیوں کے روپ میں تھوڑا بہت دیکھ پاتا تھا۔

کرونا وباء کے بارے میں آج کل ناسٹراڈیمس کے دو قطعات کا بہت چرچا ہے۔

پہلے قطعے میں وہ لکھتا ہے:


امیروں کے عیاشانہ بے مصرف کاروبار اور لوگوں کے بے جا شکووں کے سبب اٹلی میں جہاز غرقاب ہو جائیں گے اور وہاں سخت سردی، فاقہ کشی او طوفانوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ اٹلی کے دریائے ٹبر سے جڑی زمینیں لہو سے لال ہو جائیں گی اور انسانوں پر ایک ایسی وباء (پلیگ) پھیلے گی جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔


دوسرے قطعے کے مطابق:


مغربی دنیا اور بطورخاص اٹلی کے پانیوں میں جہاز جل اٹھیں گے اور ان جگہوں کے طول وعرض میں وباء (پلیگ) اور قید (لاک ڈاؤن) کا دوردورہ ہو گا جب کہ اس دوران عطارد اور زحل سیارے جو برج قوس میں ہوں گے وہ دھندلا جائیں گے۔


سیاروں کی تشبیہ سے مراد زمین پر بڑی تباہی کا اشارہ ہے نیز یہ جنوری کی تیئس یا چوبیس تاریخ کی علامت بھی ہے۔

یاد رہے چین کے شہر ووہان میں لوگوں کو لاک ڈاؤن کے نام پر جنوری دو ہزار بیس کی تیئس تاریخ ہی کو گھروں میں مجرموں کی طرح بند کر دیا گیا تھا۔  

نیرنگ نے اگرچہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے رکھ دیا ہے مگر قارئین خود کوئی بھی نتیجہ نکالنے میں آزاد ہیں۔

کہتے ہیں یار زندہ صحبت باقی سو پڑھتے رہیے کہ نیرنگ زندگی ہے۔