Qin Shi Huang | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | سترھواں باب | چن شی هوانگ

نام ور چینی شہنشاہ چن شی نے اپنے دورِحکومت – 210-238 ق م – میں چین کو بزورِطاقت منظّم کیا اور بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں جنہوں نے چین کے ثقافتی اتحاد میں اس طرح بنیادی کردار ادا کیا ہے کہ دستِ وقت آج تک ان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا۔ ’چن شی ھوانگ تی‘ کے نام سے بھی جانے جانے والے مستقبل کے اس معروف ترین شہنشاہ کی پیدائش 259 ق م میں جب کہ انتقال 210 ق م میں ہوا۔ تی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے دور کی تاریخی معلومات ازبس لازمی ہیں۔ تی؍ چاؤ خاندان کے آخری سالوں میں پیدا ہوا جس کی بنیاد 1100 ق م میں اس سے صدیوں قبل رکھی گئی تھی تاہم چاؤ شہنشاہوں نے اپنا اثر رسوخ کھو دیا تھا اور اسی باعث چین بے شمار جاگیردارنہ ریاستوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ یہ جاگیردار مستقل ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار رہتے تھے جس کی وجہ سے بہت جلد بے شمار چھوٹے حکم رانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ چین کے مغربی حصے میں موجود چن نامی ریاست جنگی اعتبار سے سب سے زیادہ طاقت ور تھی۔ اس ریاست کے حکم رانوں نے حکومت کی بنیادی پالیسی سازی کے لیے ملک میں رائج فلسفوں میں ایک یعنی ’لیگلسٹ‘ مکتب فکر کے تصورات اپنا لیے تھے۔ کنفوشش کی تعلیم تھی کہ ایک اچھے حکم ران کو انسانوں پر بنیادی طور پر اخلاقی مثالوں کے ساتھ حکومت کرنا چاہیے، مگر لیگلسٹ نظریے کے مطابق انسانوں کی اکثریت اتنی عمدہ نہیں تھی کہ ان پر اس طرزِعمل کے ساتھ حکومت کی جاسکتی اور انہیں صرف اور صرف غیر جانبدارنہ مگر سخت ترین قوانین کے ذریعے ہی قابو میں رکھنا ممکن تھا۔ حکم ران قوانین بناتے تھے جنہیں ان کی خواہش کے مطابق تبدیل کر کے ریاستی پالیسی میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ غالباً ان تصورات کو قبول کرنے اور جغرافیائی حیثیت کے سبب یا پھر چن حکم رانوں کی لیاقت کے باعث تی کی پیدائش کے وقت یہ ریاست چین کی سب سے طاقت ور ریاست بن چکی تھی۔ غالباً 238 ق م میں تی تخت نشین ہوا اور اس وقت اس کی عمر صرف 13 سال تھی تاہم جب تک تی حکومت کرنے کے قابل نہیں ہوا 238 ق م تک ایک قائم مقام بادشاہ ریاستی نظم و نسق سنبھالے رہا۔ بعدِازاں تی یعنی نئے شہنشاہ نے بہترین جنرلوں کا تقرر کیا اور باقی ماندہ جاگیردارانہ ریاستوں کے خلاف پوری طاقت سے تلوار اٹھائی چناں چہ تمام رجواڑوں کو 221 ق م تک فتح کر لیا گیا جس کے بعد تی نے اپنے آپ کو ’وانگ‘ یعنی تمام چین کا شہنشاہ قرار دے دیا۔ ماضی سے تمام تر ناتے توڑنے کے لیے اس نے ایک نیا خطاب منتخب کیا اور اپنے آپ کو ’شی ھوانگ تی‘ کہا جس کے معنی ’پہلے شہنشاہ‘ کے ہیں۔ تی نے فوری طور پر اہم ترین اصلاحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ چاؤ شہنشاہیت کے خاتمے کا سبب بننے والی عدم اجتماعیت سے بچنے کے لیے اس نے مکمل طور پر جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ملک میں 36 صوبے بنائے اورہر صوبے کے لیے ایک شہری گورنر مقرر کیا۔ تی نے حکم دیا کہ صوبائی گورنر کا تقرر وراثتی بنیادوں پر نہیں ہو گا چناں چہ چند سالوں بعد ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں گورنروں کی منتقلی کا سلسلہ شروع ہو گیا تا کہ کسی گورنر کو اتنا طاقت ور ہونے کا موقع نا مل سکے کہ وہ خود مختاری کا سوچنے لگے۔ اسی طرح ہر صوبے کا علیحدہ سپہ سالار تھا جس کی تعیناتی اور سبک دوشی کا اختیار صرف شہنشاہ کے پاس تھا۔ صوبوں میں وفاق کی جانب سے ایک اور افسر کا بھی تقرر کیا گیا تا کہ وہ فوجی اور غیر فوجی گورنروں کے مابین توازن برقرار رکھ سکے۔ اس دور میں طویل ترین مگر بہترین سڑکیں تعمیر کی گئیں جنہوں نے صوبوں کو وفاق سے منسلک کیا اور اس بات کو یقنی بنایا کہ علاقائی بغاوت کی صورت میں وفاقی فوج فوری طور پر وہاں بھیجی جا سکے۔ تی نے یہ فرمان بھی جاری کیا کہ باقی ماندہ سابقہ اشرافیہ کے تمام لوگ اس کے اپنے دارالحکومت ہاسن ہانگ منتقل ہو جائیں تاکہ ہمہ وقت ان پر نظر رکھی جا سکے۔ مگر تی ملک میں صرف سیاسی اور فوجی اجتماعیت پر ہی قانع نہیں تھا اور اس نے تجارتی شعبے کو بھی منظّم کیا۔ تی نے ملک بھر میں پیمانوں کا یکساں نظام رائج کیا، سکّوں کی معیاری درجہ بندی کی، گاڑیوں کی چوڑائی کا یکساں پیمانہ بنایا اور سڑکوں اور نہروں کی تعمیر پر بھی بھرپور توجہ دی۔ اس نے تمام چین میں قوانین کا یکساں نظام جاری کیا اور تحریری زبان کی معیاربندی کی۔ تی کا سب سے معروف یا سب سے بدنام قانون 213 ق م کا فرمان تھا جس کے تحت اس نے پورے ملک میں کتابوں کو جلانے کا حکم دیا تاہم اُن تیکنکی کتابوں کو استثناء دیا گیا جو زراعت اور طب سے متعلق تھیں اور اسی طرح ملک کا تاریخی ریکارڈ اور لیگلسٹ مصنفین کی فلسفیانہ کتابوں کو بھی محفوظ رکھا گیا مگر دیگر تمام مکاتبِ فکر کی کتابوں کو جن میں کنفیوشس کی تعلیمات بھی شامل تھیں تلف کر دیا گیا۔ اس ڈریکونیئَن قانون کے تحت جو تاریخِ عالم میں اتنے بڑے پیمانے پر سنسر کی شاید اولین مثال ہے تی کو امید تھی کہ مخالف دانش وروں کے اثرات کا خاتمہ ہو جائے گا جس میں خاص طور پر کنفیوسش کے مکتبِ فکر کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم اس نے ساتھ ہی ایک اور حکم بھی دیا تھا اور وہ یہ کہ تلف کی جانے والی تمام کتابوں کی ایک نقل شاہی لائبریری میں رکھی جائے جو دارالحکومت میں واقع تھی۔ تی کی خارجہ پالیسی بھی اسی طرح شدید تھی۔ اس نے چین کے جنوب میں زبردست فتوحات کیں اور فتح شدہ علاقوں کو بتدریج کلّی طور پر چین میں جذب کر لیا۔ شمالی اور جنوبی علاقوں میں بھی اس کی فوج نے کام یابی حاصل کی مگر وہ وہاں کے باشندوں کو مستقل طور پر زیرِنگیں نہیں کر سکا تاہم اس نے چین کو ان لوگوں کے حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے اُن متعدد دیواروں کو ایک عظیم دیوار چین کی شکل میں ایک دوسرے سے ملا دیا جو پہلے سے چین کے شمالی سرحدی حصوں میں موجود تھیں۔ یہ دیوار آج بھی موجود ہے۔ غیر ملکی جنگوں کے ساتھ ان تعمیراتی منصوبوں کے لیے محصولات کی بلند تر شرح درکار تھی جس کے وجہ سے شہنشاہ تی عوامی مقبولیت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ چوں کہ اس کی آہنی حکومت کے خلاف بغاوت ناممکن تھی اس لیے اسے قتل کرنے کے کوششیں کی گئیں تاہم ان میں سے کوئی بھی کوشش کام یاب نہیں ہوئی اور تی کا 210 ق م میں طبعی طور پر ہی انتقال ہوا۔ تی کے انتقال کے بعد اس کا دوسرا بیٹا تخت نشین ہوا جس نے ’ایرہ شی ھوانگ تی‘ کا خطاب اختیار کیا مگر وہ اپنے باپ کی لیاقت سے محروم تھا چناں چہ جلد ہی ملک بھر میں بغاوتیں پھوٹ پڑیں اور محض چار سال بعد اسے قتل کر کے محل اور شاہی کتب خانے کو نذرِآتش کر دیا گیا جس کے بعد اگرچہ چن شہنشاہیت کا ملک میں ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا مگر جس کام کا تی نے بیٹرا اٹھایا تھا وہ ختم ہونے والا نہیں تھا۔ اہلِ چین خوش تھے کہ تی کے ظالمانہ دور حکومت کا خاتمہ ہوا مگر اب عوام میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں رہا تھا جو ملک میں تی سے پہلے کی طوائف الملوکی کی طرف پلٹنے کا خواہش مند ہوتا چناں چہ نہ صرف یہ کہ اگلی شہنشاہیت یعنی ’ہان خاندان‘ نے تی کے نافذکردہ نظم و نسق کو جوں کا توں جاری رکھنے میں ہی عافیت سمجھی بلکہ آئندہ 21 صدیوں تک چینی حکم ران نظم و نسق کے اسی راستے پر گام زن رہے جس کا تی نے تعین کیا تھا۔ اگر چہ چن کے سخت ترین قوانین کو ہان حکم رانوں نے جلد ہی نرم کر دیا مگر اس کے نتیجے میں لیگلسٹ فلسفہ منہ کے بل آن گرا اور کنفیوشس ازم نے ریاستی پالیسی کی جگہ لے لی گوکہ تی کی تخلیق کردہ ثقافتی اور سیاسی اجتماعیت کا سلسلہ بدستور چلتا رہا۔ چین اور دیگر دنیا کے لیے تی کی اہمیت اب واضح ہو جانی چاہیے۔ اہلِ مغرب ہمیشہ چین کے رقبے کو دیکھ کر حیران ہوتے چلے آئے ہیں مگر گذرے دنوں میں حقیقت یہ ہے کہ چین یورپ سے کچھ زیادہ آباد نہیں تھا۔ فرق یہ ہے کہ یورپ شروع ہی سے متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم رہا مگر چین کی حیثیت ہمیشہ سے ایک اکائی کی رہی ہے۔ اس امتیاز کا سبب جغرافیائی لحاظ سے زیادہ؍ داخلی سیاسی اور سماجی عناصر میں پنہاں ہے جیسا کہ چین میں بھی داخلی بندشیں مثلا پہاڑوں کے سلسلے اتنے ہی نمایاں ہیں جتنا کہ یورپ میں ہیں۔ اگرچہ چین کی اجتماعیت کا سہرا صرف تی کے سر نہیں باندھا جا سکتا اور اس سلسلے میں متعدد دیگر افراد مثلاً سوئی وان تی کا کردار بھی قابل ذکر ہے مگر اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ضمن میں مرکزی اہمیت بلاخوفِ تردید تی ہی کی ہے۔ تی کے بارے میں تذکرے اس کے ذہین اور جانے مانے وزیر اعلٰی لی سسو کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔ سسو کے اثرات تی پر اتنے گہرے ہیں کہ ان دونوں کی ملک میں لائی عظیم تبدیلیوں کا سہرا کسی ایک کے سر باندھنا بہت دشوار ہے۔ ایسی کوئی کوشش کرنے کے بجائے میں نے مشترکہ کام یابی کا سہرا تی کے سر دیا ہے کیوں کہ لائی سسو نے اگرچہ شہنشاہ کو مشورے دیے مگر یہ تی ہی تھا جس نے آخری فیصلہ کیا۔ اگر چہ کنفیوشس کے فلسفے سے متاثر بعد میں آنے والے مصنفین نے تی کے ہاتھوں کتابوں کے جلائے جانے کی شدید مذمت کے ساتھ اسے ایک ’جابر‘، ’توہم پرست‘، ’نفرت انگیز‘، ’ناجائز اولاد‘ اور ’اوسط لیاقت کا حامل‘ کہا ہے مگر دوسری طرف چینی کمیونسٹوں نے اسے ایک ترقی پسند مفکر کہہ کر عمومی طور پر سراہا بھی ہے۔ مغربی مفکرین عموماً تی کا موازنہ نپولین سے کرتے ہیں مگر اس کا تقابل سلطنت روما کے بانی اگسٹس سیزر سے کرنا زیادہ مناسب ہے۔ ان دونوں نے جن سلطنتوں کی بنیاد رکھی وہ کم و بیش یکساں رقبے اور آبادی کی حامل تھیں مگر سلطنت روما نسبتاً بہت جلد زوال پذیر ہو گئی اور اگسٹس کی سلطنت تادیر اپنا داخلی اتحاد برقرار نہیں رکھ سکی مگر دوسری طرف تاریخ  گواہ ہے کہ بطور شہنشاہ تی کی شخصیت کے ان مٹ نقوش اسے اپنے زیرِنگیں علاقوں میں ایک پُراثر ترین شخصیت کا اعزاز بہت پہلے ہی عطا کر چکے تھے۔