Coronavirus's next target is Africa

کورونا وباء سے بھوکے چوہے شیر ہو رہے ہیں – تحقیق

کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ریستوران بند ہیں اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اس عمل کے بہت سے نتائج سامنے آ رہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چوہے کھانے کے نئے ذرائع کی تلاش اور اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گذشتہ ہفتے امریکہ کے ایک ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول‘ نے متنبہ کیا تھا کہ خوراک کی تلاش میں سرگرم چوہوں کے رویوں میں غیر معمولی جارحانہ رویہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اس انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ریستوران بند ہونے کی وجہ سے چوہوں کو دستیاب خوارک میں کمی واقع ہوئی ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہوتی تھیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عموماً چوہوں کا دارومدار اس ضائع ہونے والی خوراک اور کچرے پر ہوتا ہے جو تجارتی مراکز سے نکلتا ہے۔ تاہم اب یہ بھوکے چوہے خوراک کے نئے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ اور چونکہ وہ نئی جگہوں اور ذرائع کی تلاش میں ہیں اس لیے دنیا بھر میں اب ان کی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور وہ عموماً ایسی جگہوں پر نظر آ رہے ہیں جہاں پہلے نظر نہیں آتے تھے۔ سینٹرز فار ڈیزیز نے متنبہ کیا ہے کہ اسی بات کا قوی امکان ہے کہ شہروں میں چوہوں کے جارحانہ رویے سے متعلق شکایات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دنیا کی لگ بھگ ایک تہائی آبادی نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے رویہ بدلا ہے۔ بہت سے ممالک میں قرنطینہ کے نفاذ کی وجہ سے وہ کچرہ پیدا ہونا کم ہو گیا ہے جس سے حاصل ہونے والی خوراک پر چوہوں کا دارومدار تھا اور یہی وجہ ہے کہ چوہوں کے رویے میں بھی بدلاؤ آیا ہے۔ اپریل میں برطانیہ کی نیشنل ’پیسٹ ٹیکنیشیئنز ایسوسی ایشن‘ نے متنبہ کیا تھا کہ سکولوں، شراب خانوں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی بندش اور عوام کی جانب سے سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی روش کے چند ناپسندیدہ نتائج ہوں گے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق جب خوراک دستیاب نہیں ہو گی تو کیڑے مکوڑے اور رینگنے والے حشرات خالی عمارتوں سے خوارک کی تلاش میں باہر نکلیں گے۔ آوارہ اور بھوکے چوہوں کا ایک گروہ تباہی مچا سکتا ہے، وہ مکانات اور املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بیماری پھیلا سکتا ہے۔ کوریگن کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے گھر میں موجود ایسے کمرے تک پہنچ جائیں جہاں بچے ہوتے ہیں یا کسی ہسپتال یا نرسنگ ہوم میں۔ چوہے 55 قسم کی مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ ان سے کووڈ 19 کی وبا پھیل سکتی ہے یا نہیں۔ وہ گھر میں موجود بجلی کی تاروں اور لکڑی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے گھروں میں آگ بھڑک اٹھنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ گھر میں موجود ریخوں اور دراڑوں کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ ایسے پائپس اور ان تمام ممکنہ جگہوں کو سِیل کر دیا جائے جہاں سے چوہے آپ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ گھر کے اندر ایسی جگہیں بہت کم ہونی چاہیں جہاں وہ چھپ پر بیٹھ سکیں، تو اپنے گھر کے ہر حصے کو اچھی طرح صاف ستھرا کریں۔ گھروں میں خوراک ایسے برتنوں اور برتنوں میں رکھیں جنھیں مضبوطی سے بند کیا جا سکے اور جن میں رینگنے والے کیڑے یا چوہے داخل نہ ہو سکیں۔ اور پھر بھی اگر وہ آپ کو اپنے گھر میں کہیں نظر آ جائیں تو پروفیسر کوریگن کا مشورہ یہ ہے کہ ان سے خود نمٹنے کے بجائے اس کام کے ماہر افراد سے رابطہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کورونا کے ستائے ہوئے چوہے اگر اچانک آپ کو اپنے گھر میں نظر آ جائیں تو ان سے نمٹنا کوئی ایسا کام نہیں ہو گا جو کہ آپ خود سے کر پائیں۔‘