Listen Persian Poetry of Amir Khusro in Urdu and English
شعروادب - ستمبر 30, 2019

امیر خسؔرو کو سنیے اور پڑھیے اردو اور انگریزی میں‌ بھی

کلامِ امیر خسؔرو – نیرنگ ٹیم کی خصوصی پیش کش



فارسی زبان کم و بیش ڈھائی ہزار سال قدیم بتائی جاتی ہے۔ اس خوب صورت زبان میں کی گئی شاعری کا لطف وہ ہی لوگ جان سکتے ہیں جنہیں فارسی آتی ہے۔ ظاہر ہے زبان کی رکاوٹ دور کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ چناں چہ ایک خیال کے تحت ذیل میں نیرنگ ٹیم نے خواجہ امیر خسؔرو کے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجے کے صوفیانہ کلام کو انگریزی اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا ہے تاکہ فارسی سے ناواقف لوگ بھی سمجھ سکیں کہ قدیم ترین زبانوں میں ایک زبان یعنی فارسی کے سمندر میں کیا کیا گہرِ نایاب پوشیدہ ہیں۔ ساتھ میں شائقین کے سننے کے لیے آڈیو فائل بھی دی گئی ہے۔ تراجم کے ذریعے کلام کو سمجھنے کے بعد اس کلام کو بااندازِ قوالی استاد بہاالدین کے لازوال انداز میں سننے کا ایک الگ ہی لطف ہے۔ امیر خسؔرو نے ان خوب صورت مصرعوں میں ستم کرنے والے معشوق اور ستم سہنے والے عاشق کی داستان رقم کی ہے۔ تصوف کے طرز کے تحت خسؔرو نے یہاں عاشق کو ’ستم زدہ‘ جب کہ معشوق کو ’ستم گر‘ کے روپ میں پیش کیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ شاعری ’مجازی‘ نہیں بلکہ ’حقیقی‘ ہے جہاں شاعر بطور مجبور انسان کے خالق حقیقی سے بات کر رہا ہے


’اور آخری مصرعے میں تو خسؔرو نے ہستی کی حقیقت کے دریا کو بلاشبہ کوزے میں بند کر دیا ہے‘


تو پھر دیر کس بات کی ہے۔ پڑھیے، سنیے اور سر دھنیے۔ اردو ترجمے میں جہاں جہاں کسر رہ گئی ہے وہ انگریزی ترجمے نے پوری کر دی ہے۔ ظاہر ہے فہمِ محذوف کا ترجمہ کرنے کے لیے بہت جرات چاہیے۔ ذیل میں اس کلام کا منظوم انگریزی ترجمہ بھی پیشِ خدمت ہے۔  خیال رہے ’گفتم‘ سے مراد ہے ’میں نے کہا یا پوچھا‘ اور ’گفتا‘ سے مراد ہے ’وہ بولے یا جواب دیا‘۔


گفتم کہ روشن از قمر، گفتا کہ رخسارِ منست
گفتم کہ شیرین از شکر، گفتا کہ گفتارِ منست


میں نے کہا (یا پوچھا) چاند سے زیادہ کچھ روشن ہے؟

وہ بولے یا انہوں نے جواب دیا میرے رخسار ہیں

میں نے کہا شکر سے زیادہ میٹھا کچھ ہے؟

وہ بولے میری گفتار ہے یعنی میری بات چیت

I asked what is more beautiful than the moon. He replied, my cheeks. I asked what is far sweeter than sugar. He replied, my words


گفتم طریقِ عاشقان، گفتا وفاداری بود
گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کار منست


میں نے کہا عاشقوں کا کام (فرض) کیا ہے؟

وہ بولے کچھ نہیں مگر صرف محبوب سے وفا کرنا

میں نے کہا جور و جفا نہ کیجیے،

بولے (ایسا کیوں کر ممکن ہے) کہ میرا تو کام ہی یہ ہے

I asked what lover may do. He replied, nothing else, but being faithful. I asked please don’t be cruel and unfaithful. He replied, I am who I am


گفتم کہ مرگِ ناگہاں، گفتا کہ درد هجر من
گفتم علاجِ زندگی، گفتا کہ دیدار منست


میں نے کہا اچانک موت کیا چیز ہے؟

بولے میری جدائی (یا خواہشِ وصل)  کا غم

میں نے کہا زندگی (دکھوں)  کا علاج کیا ہے؟

بولے وہ لمحہ جب میرا چہرہ بے حجاب دیکھو گے

I asked what the cruel sudden death is. He replied, the pain of living without me and what else. I asked, what eternal life without pain is. He replied, nothing but gazing at me


گفتم بہاری یا خزاں، گفتا کہ رشک حسن من
گفتم خجالت کبک را، گفتا کہ رفتار منست


پوچھا  کہ بہار اور خزاں کیا ہے؟

بولے میرے حسن پر رشک (کا عکس)

کہا کہ قمر کب (ایک پرندہ جس کی چال

 نہایت خوب صورت ہوتی ہے جسے چکور یا تیتر

زیادہ تر اردو شاعر اسے شاعری میں محبوب کی

چال سے تشبیہ دیتے ہیں) شرما جاتا ہے؟

بولے میری رفتار یعنی میری (چال) دیکھ کر

I asked what is spring and autumn. He replied, fragments of my beauty. I asked what makes partridge ashamed. He replied, the way I walk


گفتم کہ حوری یا پری، گفتا کہ من شاهِ بتاں
گفتم کہ خسرو ناتوان، گفتا پرستارِ منست


میں نے پوچھا آپ حور ہیں یا پری؟

بولے میں شاہِ اصنام یا حسن کا شہنشاہ ہوں

(یعنی میری یا میرے حسن کوئی مثال نہیں)

میں نے کہا خسؔرو تو بہت ہی کم زور ہے

وہ (مسکراتے ہوئے) گویا ہوئے تو کیا ہوا)

جیسا بھی ہے آخر میرا پرستار تو ہے

I asked what are you houri or fairy. He replied I am lord of beauties hence can be compared to none. I asked (said) Khusrow is too feeble. He replied (so what?) (does) he (not) love me dearly


قوالی کے پہلے دو اشعار بالترتیب شیخ سعؔدی اور فخرالدین عراؔقی کے ہیں:​
اگرم حیات بخشی و گرم هلاک خواهی
سر بندگی بہ حکمت بنہم که پادشاهی


چاہے حیات بخش دو اور دل چاہے تو ہلاک کر دو
تمہاری حکمت پہ سر تسلیم خم ہے کہ تم بادشاہ ہو


نہ شود نصب دشمن، کہ شود ہلاک تیغت
سر دوستاں سلامت، کہ تو خنجر آزمائی


کسی دشمن کا نصیب کہاں کہ تیری تلوار سے ہلاک ہو
دوستوں کے سر سلامت ہیں تو خنجر آزمائی جاری رکھ

’منظوم انگریزی ترجمہ‘


I asked, is aught more radiant than when the moon shines

Yes’, he replied, ‘this countenance of mine

And is aught sweeter than sugar in the land

He declared, ‘my words make sugar seem bland

What is death for a lover?’ asked I

Separation from the beloved’, was the reply

What of the pains of life, can there a cure be

For you’, he spoke, ‘it is the sight of me

And the right path for a lover?’ I enquired

He answered, ‘Of lovers only faithfulness is required

Do not be so cruel and unfair’, I pled

But that is my work and affair’, he said

I said, ‘art thou of the houri or pari

I am the lord of them all’, said he

Thine love hath left Khusrow broken’, I prayed

To be my devotee, this price must be paid


آخر میں گذارش ہے کہ اگر کوئی غلطی محسوس ہو تو براہ مہربانی مطلع فرمائیں اور اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرنا نہ بھولیے۔ شکریہ