Edison and His Mystery Phone Urdu

کیا آپ ایڈیسن کے پُراسرار’اسپرٹ فون‘ سے واقف ہیں؟

معروف موجد تھامس ایڈیسن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ دنیا میں 80 سے زائد مفید ایجادات کا سہرا تھامس ایڈیسن ہی کے سر جاتا ہے جن میں کیمرا، بجلی، آواز کی ریکارڈنگ کی مشینیں اور بلب چند مشہور ترین ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ہزاروں ایجادات کو اپنے نام سے پیٹنٹ کرنے کی لاتعداد درخواستیں تھامس ایڈیسن کے نام سے پائی گئی ہیں مگر شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ تھامس ایڈیسن نے مُردوں سے بات چیت کرنے کے لیے ایک فون کی ایجاد کا تصور بھی پیش کیا ہے۔

ایک کام یاب بزنس مین اور دنیا میں صف اول کی سائنسی ایجادات کا موجد ہونے کے ’باوجود‘ ایڈیسن اس دنیا کے بعد کی زندگی کے بارے میں نہایت متجسس تھا اور اس تصور نے گویا اسے مسحور کر رکھا تھا۔ ایڈیسن کے نظر میں موت کا تصور لوگوں کی اکثریت سے جدا تھا۔ ایڈیسن کا ماننا تھا کہ کائنات میں زندگی ایک مخصوص ’مقدار‘ میں موجود ہے جسے توانائی کی طرح پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فنا مگر اتنا ہی نہیں ایڈیسن کے بقول یہ زندگی جداگانہ شعور کے ساتھ لامحدود اجسام میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ چناں چہ ایڈیسن کے خیال میں ہر انسان کا شعور ان باریک باریک باشعور مگر مختلف حیاتیوں سے وجود پاتا ہے جنہیں ہم ’روح‘ سے تشبیہ دے سکتے ہیں جو انسان کی موت کے بعد دوبارہ کائنات میں بکھر جاتے ہیں یا ان کے بکھرنے کی کیفیت ہی موت کہلاتی ہے۔


میرے خیال میں زندگی مادے کی طرح ہے جسے نہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فنا – یہ زندگی کائنات میں جوں کی توں موجود ہے اور رہے گی کیوں کہ اسے نہ ہی ختم کیا جاسکتا ہے، نہ ہی تخلیق اور نہ ہی اس کی مقدار میں اضافہ ممکن ہے –

تھامس ایڈیسن


ایڈیسن کا ماننا تھا کہ ہماری زندگی کو ترتیب دینے والے یہ حیاتیے بیرونی خلاء سے آتے ہیں اور اگر انہیں ایک بار پھر کسی انسان کی موت سے پہلے والی شکل میں ترتیب دے دیا جائے تو اس مردہ انسان کا شعور ایک بار پھر فعال ہو جائے گا۔ اس ذیل میں اسے یقین تھا کہ کسی مخصوص قسم کی فوٹوگرافک پلیٹ کے ذریعے ان حیاتیوں کی کسی انسان کی زندگی میں اصل ترتیب کا عکس محفوظ کیا جاسکتا ہے اور پھر اس کے مدد سے اس انسان کی موت کے بعد ان حیاتیوں کو دوبارہ پہلے کی طرح تشکیل بھی دیا جاسکتا ہے۔

ایڈیسن نے اپنے ان نظریات کو عملی شکل دینے کے لیے بے شمار اور طویل تجربات کیے اور باقاعدہ سائنس دانوں کی ایک ٹیم کے ذریعے ایسی کوئی مشین بنانے کی بہت کوشش کی مگر اسے کام یابی نہیں ہوئی۔ مگر دھن کے پکے ایڈیسن نے شکست تسلیم نہیں کی اور اس کے بعد اس نے ایک ایسی ایجاد کا تصور پیش کیا جس کے ذریعے مرنے والوں سے بات چیت ہی ممکن ہو سکے اور اس سلسلے میں اس نے اکتوبر 1920ء کے روز باقاعدہ میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ ایک ایسی مشین ایجاد کرنے پر کام کر رہا ہے اور اس نے اپنی اس ممکنہ ایجاد کو ’اسپرٹ فون‘ یا روحوں سے بات کرنے کے آلے کا نام دیا۔ تاہم اس دوران اس نے پوری سچائی سے تسلیم کیا کہ اسے اس دنیا کے بعد کی زندگی کا کوئی علم نہیں اور وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو صرف اور صرف کسی ’سائنسی مشین‘ کے ذریعے مرنے والوں سے بات چیت کی کوشش کی جائے کیوں کہ ایڈیسن کو نام نہاد ’ماہرین روحانیات‘ سے سخت نفرت تھی۔

چناں چہ اس دور میں جب مغرب میں ’روحانیت‘ کا تصور بہت مقبول تھا ایڈیسن نے اپنے آپ کو ان چیزوں سے ہمیشہ علیحدہ رکھا کیوں کہ اس کی سوچ صرف اور صرف سائنس کے عملی سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود میڈیا تھامس ایڈیسن کے اس اعلان پر گویا ’پل‘ پڑا اور مدتوں تک زرد صحافت نے اس ایجاد کے تذکروں سے خوب کمائی کی اور کسی نے یہ بات سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ایڈیسن نے کبھی بھی اپنی اس مجوزہ ایجاد کے بلیوپرنٹ پیش نہیں کیے تھے۔


مگر حیرت انگیز طور پر آج بھی لوگوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ اس مشین کے بلیوپرنٹ آج بھی  کہیں نہ کہیں موجود ہیں اور یہ کہ ایڈیسن نے اپنی موت سے پہلے اس سلسلے میں کام یاب سنجیدہ تجربات کر لیے تھے۔


مگر لوگ خواہ کچھ بھی کہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج تک یہ راز کسی کو معلوم نہیں کہ ایڈیسن نے کتنے عرصے تک اور کب تک اپنی اس ایجاد پر کام کیا۔


یہ بھی پڑھیے: دادی کا مرنے کے بعد خیریت سے دوسری دنیا میں پہنچنے کا فون


ایڈیسن کی موت کے کچھ عشروں بعد اسی نوعیت کے متعدد آلے بنائے گئے جو الکیٹرونک وائس فینومینا یا EVP کہلاتے ہیں اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے ذریعے مرنے والوں کی روحوں سے بات یا ان کی ’آواز‘ ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔


تاہم ان نام نہاد آلات سے قطع نظر جدید سائنس آج بھی حیران ہے کہ آخر ایڈیسن جیسے ’سخت جان’ سائنسی ذہن رکھنے والے موجد اور کام یاب ترین بزنس مین نے آخر ایسا کیا جان لیا تھا جو اس نے اتنے گہرے پیرانارمل نظریات کھلے عام پیش کیے۔


چوں کہ فی الوقت اس بارے میں کچھ بھی جاننا ناممکن ہے اور جب تک کوئی حتمی بات سامنے نہیں آتی تھامس ایڈیسن کا ’اسپرٹ فون‘ نارمل اور پیرانارمل دونوں ہی حلقوں میں عجیب ترین تاریخی معما بنا رہے گا۔