Read Real Story of Harut And Marut in Urdu
جہان اسرار - پیرانارمل - اکتوبر 30, 2020

افسانوں سے ہٹ کر ہاروتؑ اور ماروتؑ کا درست تر قصہ

کیا آپ جانتے ہیں قدیم بابل میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارے گئے دو فرشتوں ہاروتؑ اور ماروتؑ کا درست ترین قصہ کیا ہے؟


Read Real Story of Harut And Marut in Urdu


جھوٹی داستانوں اور افسانوں سے ہٹ کر ان فرشتوں کی اصلیت اور وہ عظیم ترین مقصد جان کر آپ حیران رہ جائیں گے جس کے لیے انہیں اس دنیا میں بھیجا گیا تھا کیوں کہ شاید کروڑوں دیگر لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے حقیقت آج تک آپ کی نگاہوں سے بھی اوجھل رہی ہو۔


Click Here Too


اس مضمون کی تیاری میں تمام تر مدد مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی تفسیر ’تدبّرالقران‘ سے لی گئی ہے۔


Click Here Too


قران پاک میں ان دو فرشتوں کے بارے میں اس طرح ذکر ہے:


’اور ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمانؑ کے عہدِحکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے – حالاں کہ سلیمانؑ نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں ہی نے کفر کیا – یہ ہی لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس چیز میں پڑ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی تھی، حالاں کہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھے جب تک اس کو خبردار نہ کر دیں کہ ہم آزمائش کے لیے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑجانا۔ پس یہ لوگ ان سے وہ علم سیکھتے جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں حالاں کہ یہ اس کے ذریعہ سے خدا کی مشیت کے بغیر کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں بن سکتے تھے اور یہ وہ چیز سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے حالاں کہ ان کو پتہ تھا کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا۔ اے کاش وہ اس کو سمجھتے۔‘ ﴿۱۰۲/۲﴾


قرآن مجید میں شیاطین سے متعدد جگہ جنوں اور انسانوں دونوں گروہوں کے مفسدین اور اشرار مراد لیے گئے ہیں۔

ہمارے نزدیک یہاں بھی دونوں ہی کے اشرار مراد ہیں۔

عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ سے مقصود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہی کا زمانہ ہے۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں نے کتاب الٰہی کو تو پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور سحر وشعبدہ اور علمِ نجوم وغیرہ جیسے علومِ سفلیہ کو جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِحکومت میں جِنوں اور ان کی پیروی کرنے والے انسانوں کے باہمی اشتراک سے رواج پائے اس کی جگہ اختیار کر لیا۔

سحر وساحری اور اس قسم کے سفلی اور شیطانی علوم کا چرچا کچھ نہ کچھ تو ہر دور میں رہا ہے لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے روحانی علوم کے مقابلے کے شوق میں شیاطین جن وانس کے ایک طبقے میں سحر وساحری کے سیکھنے سکھانے کا رواج بہت بڑھ گیا تھا اور ان مفسدین نے اپنے ان علوم کو مرتب ومدون بھی کر ڈالا تھا۔

چناں چہ بعد کے زمانوں میں جب یہودی دینی اور اخلاقی انحطاط میں مبتلا ہوئے اور کتاب وشریعت کا ذوق ان کے اندر مردہ ہوا تو قدرتی طور پر اس طرح کی خرافات کے سیکھنے سکھانے میں ان کا انہماک بہت بڑھ گیا۔

یقیناً ان چیزوں کو تقدس کا رنگ دینے کے لیے وہ ان کو براہ راست حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب بھی کرتے ہوں گے اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کے لیے یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہوں گے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) انہیں علوم کے ذریعہ سے وہ کارنامے انجام دیتے رہے ہیں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔

چناں چہ دیکھیے آج بھی جو لوگ ان سفلی چیزوں کا ذوق رکھتے ہیں وہ اپنی ان خرافات کی تائید میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا حوالہ بہت دیتے ہیں۔

بعض نقش تو خاص ان کے نام نامی ہی سے منسوب بھی ہیں۔

اس لیے اس طرح کی ساری چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خرافات یہود ہی کے ذریعہ سے ہمارے ہاں منتقل ہوئی ہیں اور یہ اسی دفتر ظلالت کے باقیات سیئات میں سے ہیں جس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِحکومت میں اشرار جن وانس نے مرتب کیا اور جس کو بعد میں یہود نے خوب خوب فروغ دیا۔

انجیل میں اسرائیل اور یہودیوں دونوں کا حال اس طرح بیان ہوا ہے:


’اور انہوں نے خداوند کے سب احکام ترک کر کے اپنے ڈھالی ہوئی مورتیں یعنی دو بچھڑے بنا لیے اور یسرت تیار کی اور آسمانی فوج کی پرستش کی اور بعل کو پوجا اور انہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں چلوایا اور فال گیری اور جادوگری سے کام لیا‘۔


﴿وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْر﴾َ یہ جملہ بطور استدراک یا بطور ایک جملۂ معترضہ کے ہے۔

سلسلہ کلام کے بیچ میں حضت سلیمان (علیہ السلام) کو یہود کے لگائے ہوئے الزام سے بری کرنے کے لیے فرمایا کہ سلیمانؑ کا دامن ان علومِ سفلیہ کی آلودگیوں سے بالکل پاک ہے اور انہوں نے اس کفر کا ارتکاب کبھی نہیں کیا۔

البتہ یہ شیاطین جن وانس ہیں جنہوں نے ان چیزوں کو اختیار کیا اور پھر لوگوں کو ان مزخرفات کی تعلیم دی۔

یہاں اسلوبِ کلام سے متعلق دو باتیں ذہن میں رکھنے کی ہیں۔

ایک تو اس جملۂ معترضہ کی بلاغت کہ اس کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متکلم کو ان علومِ سفلیہ کی نسبت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف اتنی ناگوار ہے کہ اس کی تردید کے معاملہ میں اس نے اتنا توقف بھی نہیں کیا کہ بات پوری ہولے؛ بلکہ سلسلۂ کلام کو روک کر فورا اس کی تردید ضروری سمجھی۔

دوسری یہ کہ تردید ایسے اسلوب سے شروع کی ہے جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ سحر کا کفر ہونا ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ اس کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

﴿وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾ اوپر والا جملہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا بطور استدراک یا جملۂ معترضہ کے ہے اور اس وجہ سے اس جملہ کا عطف لازماً مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ پر ہے۔

مطلب یہ ہے کہ ایک تو انہوں نے ان علومِ سفلیہ کی پیروی کی جو سلیمانؑ کے عہدِحکومت میں شیاطین کے ذریعہ سے رواج پائے۔

دوسرے اس چیز کی پیروی کی جو بابل کی اسیری کے زمانہ میں دو فرشتوں یعنی ہاروتؑ وماروتؑ  پر اتاری گئی۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان فرشتوں پر کیا چیز اتاری گئی تھی؟

اس سوال کا جواب عام طور پر مفسرین نے یہ دیا ہے کہ یہ جادو کا علم ہے۔

لیکن یہ جواب کئی پہلوؤں سے کھٹکتا ہے۔

ایک تو یہ کہ اس کا عطف جیسا کہ ہم نے عرض کیا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ پر ہے جس سے مراد خود قرآن کی تشریح کے مطابق جادو ہے۔

اب اگر اس سے بھی مراد جادو ہی ہے تو اس کے علیحدہ ذکر کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔

عربی زبان میں جب اس طرح معطوف اور معطوف علیہ آئیں تو عام اصول کے مطابق ان میں ایک حد تک مغایرت ہونی چاہیے۔

بغیر کسی خاص قرینہ کے اہلِ زبان اس عام ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔  

یہاں دونوں کے ایک ہی چیز ہونے کا نہ صرف یہ کہ کوئی قرینہ موجود نہیں ہے بلکہ قرائن اس کے خلاف ہیں۔

دوسرا یہ کہ اس کے لیے ’انزل‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا واضح مفہوم یہ ہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ علم اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا تھا۔

اس لفظ میں عنایت اور افادیت کی جو شان ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سحر جیسی شیطانی، ناپاک اور سراسر باطل بلکہ کفریہ و شرکیہ چیز کے لیے اس کا استعمال ذوق پر گراں گزرتا ہے۔

اس میں شبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ چوپایوں اور لوہے وغیرہ جیسی چیزوں کے پیدا کیے جانے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے لیکن محض اتنی بات جادو کے لیے اس لفظ کی موزونیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

لوہا اور چوپائے وغیرہ تمدنی اور معاشی نقطۂ نظر سے ہمارے لیے نہایت خیر وبرکت کی چیزیں ہیں اس وجہ سے ان کے لیے تو اس کا استعمال سمجھ میں آتا ہے لیکن ہمارے علم میں قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ کسی ایسی چیز کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے جو جادو کی طرح کفریہ اور شیطانی ہو۔

کفار پر عذابِ الٰہی نازل کرنے کے لیے بھی اس کا استعمال ہوا ہے؛ لیکن کفار پر جو عذاب آتا ہے وہ اہلِ ایمان کے لیے رحمت ہوتا ہے اور اس سے خدا کی زمین کی تطہیر ہوتی ہے۔

ہمیں اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ خیر ہو یا شر دنیا میں جو چیز بھی پائی جاتی ہے خدا کی مشیت ہی کے تحت پائی جاتی ہے۔

لیکن خدا کی مشیت کے تحت کسی باطل کو مہلت ملنا اور چیز ہے اور سحر جیسے شیطانی علم کا دو فرشتوں پر اتارا جانا بالکل دوسری چیز ہے۔

سوم یہ کہ یہ علم جیسا کہ الفاظِ قرآن سے واضح ہے دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا اور یہ فرشتے لوگوں کو اس علم کی تعلیم بھی دیتے تھے۔

فرشتوں کے متعلق یہ بات مسلّم ہے کہ شرک وکفر کی ہر آلائش سے ان کے دامن پاک ہیں۔

ان کے مزاج اللہ تعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں کہ اس طرح کی کسی گندگی کی ان کو کبھی چھوت بھی نہیں لگتی۔

فرشتے ہمیشہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق وعدل کے قیام اور خیر وفلاح کی دعوت وتعلیم کا ذریعہ بنے ہیں اور یہ ہی چیزیں ان کے شایانِ شان ہیں۔

اس وجہ سے جادو کے علم کا ان پر اتارا جانا اور پھر ان دونوں کا اس کی اشاعت کرنا (اگرچہ کتنی ہی احتیاط کے ساتھ کیوں نہ ہو) عقل سے بعید بات ہے۔

اگر فرشتے اس طرح کے کام کرنے لگ جائیں تو پھر شیاطین کے لیے کیا کام باقی رہ جائے گا؟

چہارم یہ کہ فرشتوں نے اپنے اس علم کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے بھی کچھ ایسا ہی مترشح ہوتا ہے کہ ان کا علم شیاطین کے سحر سے کچھ مختلف خصوصیات رکھتا تھا۔

شیاطین کا علم تو جیسا کہ قرآن مجید نے خود وضاحت کردی ہے یکسر کفر تھا لیکن فرشتوں نے اپنے علم کے لیے ﴿فتنے﴾ کا لفظ استعمال کیا ہے۔

فتنے کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔

قرآن میں اس سے عموما وہ چیزیں مراد لی گئی ہیں جو پیدا تو کی گئی ہیں اصلاً انسان کے فائدے کے لیے لیکن انسان اپنے استعمال کی غلطی سے یا ان کی حد سے بڑھی ہوئی محبت میں گرفتار ہو کر ان کو اپنے لیے فتنہ بنا لیتا ہے جس کے سبب سے وہ مفید ہونے کے بجائے مضر بلکہ مہلک بن کر رہ جاتی ہیں۔

مثلاً مال اور اولاد کو قرآن مجید میں فتنہ کہا گیا ہے۔

ہر شخص جانتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں بجائے خود شر نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اور اگر انسان ان کے صحیح مقام کو پہچانے تو یہ اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں نفع پہنچانے والی بن سکتی ہیں؛ لیکن جب انسان ان کی بے جا محبت میں گرفتار ہو کر ان کے پیچھے خدا اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے تو یہی چیزیں اس کے لیے وبال اور عذاب بن کے رہ جاتی ہیں کیوں کہ بعض حالات میں آدمی کو ان کی محبت کفر تک پہنچا کے چھوڑتی ہے۔

یہ سارے پہلو اس بات کے خلاف ہیں کہ ﴿وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ﴾ سے جادو مراد لیا جائے؛ لیکن اگر جادو نہ مراد لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ وہ کون سا علم ہے جس کا فرشتوں پر اترنا موزوں بھی ہو اور جس کے انہماک یا غلط استعمال سے وہ خرابیاں بھی پیدا ہوسکتی ہوں جو یہاں اس علم میں بیان کی گئی ہیں؟

مثلاً یہ کہ اس کا انہماک کتابِ اللہ سے برگشتہ کرتا ہو؛ اس کی نوعیت ایک فتنے کی سی ہو جس کے غلط استعمال سے آدمی کفر تک میں پڑ سکتا ہو؛ اس کو بدطینت لوگ میاں اور بیوی کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہوں؛ وغیرہ وغیرہ۔

چناں چہ ہمارے نزدیک اس سے مراد اشیاء اور کلمات کے روحانی خواص وتاثیرات کا وہ علم ہے جس کا رواج یہود کے صوفیوں اور پیروں میں ہوا اور جس کو انہوں نے گنڈوں، تعویذوں اور مختلف قسم کے عملیات کی شکل میں مختلف اغراض کے لیے استعمال کیا۔

مثلاً بعض امراض یا تکالیف کے ازالے کے لیے یا نظرِبد اور جادو وغیرہ کے برے اثرات دور کرنے کے لیے یا شعبدہ بازوں وغیرہ کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یا محبت اور نفرت کے اثرات ڈالنے کے لیے۔

یہ علم اس اعتبار سے جادو اور نجوم وغیرہ کے علم سے بالکل مختلف تھا کہ اس میں نہ تو شرک کی کوئی ملاوٹ تھی اور نہ اس میں شیطان اور جنّات کو کوئی دخل تھا لیکن اپنے اثرات و نتائج کے پیدا کرنے میں یہ جادو ہی کی طرح زود اثر تھا۔


چناں چہ دیکھیے کہ ہمارے حضور پاک ﷺ نے زمانۂ جاہلیت کے مگر کفر وشرک سے پاک دم وغیرہ کے استعمال کی اجازت دی ہے۔


ممکن ہے بنی اسرائیل کو یہ علم بابل کے زمانۂ اسیری میں دو فرشتوں کے ذریعہ سے اس لیے دیا گیا ہو کہ وہ اس کے ذریعہ سے بابل کی سحر وساحری کا مقابلہ کریں اور اپنی قوم کے کم علموں اور سادہ لوحوں کو جادوگروں کے رعب سے محفوظ رکھ سکیں۔

اس بات کی طرف ہمارا ذہن دو وجوہات کے باعث جاتا ہے۔

ایک تو اس وجہ سے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بابل میں سحر وساحری اور نجوم کا بڑا زور تھا۔

یسعیاہ نبی بابل سے خطاب کر کے فرماتے ہیں :


’تیرے جادو کی کثرت اور تیرے سحر کی افراط کے باوجود یہ مصیبتیں پورے طور سے تجھ پر آپڑیں گی۔ تجھ پر مصیبت آپڑے گی جس کا منتر تو نہیں جانتی۔ اب اپنا جادو اور اپنا سحر جس کی تو نے بچپن ہی سے مشق کر رکھی ہے استعمال کر۔ اب افلاک پیما اور منجم اور وہ جو ماہ بماہ آئندہ حالات دریافت کرتے ہیں اٹھیں اور جو کچھ تجھ پر آنے والا ہے اس سے تجھ کو بچائیں‘۔


دوسری یہ کہ یہ بات سنتِ اللہ کے موافق معلوم ہوتی ہے کہ اگر کسی جگہ ایک غلط علم کا رعب اور زور ہو جس سے مفسد لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں تو وہاں اللہ تعالیٰ اس کے مقابلہ کے لیے اہلِ ایمان کو کوئی ایسا علم بھی عطا فرمائے جو جائز اور نافع ہو۔

﴿هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾ قرآن سے واضح ہے کہ خدا کے دو فرشتے تھے اس وجہ سے تفسیر کی کتابوں میں ان کے متعلق جو فضول سا قصہ منقول ہے، وہ ہمارے نزدیک بالکل ناقابل التفات ہے۔


جن لوگوں کے خیال میں ان فرشتوں کو مجرموں پر حجت تمام کرنے کے اس طرح بھیجا گیا تھا جس طرح پولیس والے نشان زدہ نوٹ لے کر کسی رشوت خور افسر کے پاس جاتے ہیں ایک بالکل ہی غلط بات ہے۔ کیوں کہ پولیس والوں کا مقصد جال لگا کر مجرم کو پھانسنا ہوتا ہے نہ کہ یہ کہ نشان زدہ نوٹ دے کسی بدفطرت سے پہلے کوئی جرم کرایا جائے اور پھر ان نوٹوں کو برآمد کر کے اسے سزا دی جائے۔ ذرا سوچیے کیا حکومت کسی بدفطرت کو نشان زدہ نوٹ دے کر کسی مظلوم لڑکی کی عصمت لٹوا سکتی ہے تاکہ بعدِازاں ان نوٹوں کو برآمد کر کے اس کے حالیہ اور سابقہ جرائم ثابت کیے جائیں اور اسی طرح یہ ہی مثال ہر طرح کے جرم جیسے رشوت خوری، قتل، چوری اور دہشت گردی وغیرہ پر بھی بالکل صادق آتی ہے۔ نشان زدہ نوٹ جہاں دیے جاتے ہیں وہاں ان کا جال لگا کر جرم سرزد ہونے سے پہلے ہی مجرم کو پکڑ لیا جاتا ہے نا کہ یہ کہ پہلے اس سے جرم سرزد کروایا جائے ورنہ حکومت وپولیس اور مجرموں میں بھلا کیا فرق رہ جائے گا۔ ﴿نیرنگ﴾


چناں چہ ہمارے خیال میں یہ دونوں فرشتے ملکوتی صفات ہی کے ساتھ دنیا میں بھیجے گئے تھے اور ملکوتی صفات کے ساتھ ہی یہاں رہے۔

ان کا علم بھی جیسا کہ عرض کیا گیا ایک جائز اور مفید علم تھا لیکن یہود نے اپنے اخلاق کی پستی اور مذاق کی خرابی کی وجہ سے اس کو بری نیت سے سیکھا اور برے مقاصد ہی میں استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ علم بھی ان کے ہاں سحر وساحری کا ایک ضمیمہ بن کے رہ گیا۔

یہودی اس پُراسرار علم کی دل چسپیوں میں ایسا کھوئے کہ کتابِ اللہ سے اول تو انہیں کوئی تعلق ہی باقی نہیں رہ گیا اور اگر رہا بھی تو محض عملیات اور تعویذوں کی حد تک کہ فلاں آیت کے پھونکنے سے یہ فائدہ ہوا کرتا ہے اور فلاں آیت کے تعویذ سے یہ اثر پڑتا ہے۔

ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا اس طرح کا علم دنیا میں اپنا کوئی وجود بھی رکھتا ہے تو اس کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اس کا انکار ایک بالکل بدیہی بات کا انکار ہے۔

اگرچہ میں خود ﴿جناب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب) اس طرح کے کسی علم کا کبھی عامل نہیں بنا لیکن متعدد بار میرے اپنے تجربے میں ایسی باتیں آئی ہیں جن کے بعد میرے لیے اس جز کا انکار ممکن نہیں رہا۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ اسی علم کے باقیات ہیں جن کو ہمارے صوفیوں اور پیروں کے ایک طبقے نے اپنایا اور اس سے انہوں نے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچایا بلکہ واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض حالات میں اس کی مدد سے انہوں نے جوگیوں اور جوتشیوں وغیرہ کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کی برتری بھی ثابت کی۔

لیکن اخلاقی زوال کے بعد جس طرح یہودیوں کے ہاں یہ علم علومِ سفلیہ کا ایک ضمیمہ اور دکان داری کا ایک ذریعہ بن کے رہ گیا اسی طرح ہمارے یہاں بھی یہ صرف جھوٹی پیری مریدی کی دکان چلانے کے لیے بچا اور حق سے زیادہ اس میں باطل کے اجزاء شامل ہوگئے جس کے سبب سے لوگ پر اس کے اثرات بھی وہی پڑے جو قرآن نے بیان فرمائے ہیں۔

فرشتوں کی طرف سے تعلیم سے پہلے تنبیہ

﴿وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ﴾ جس طرح ’وما کفر سلیمان‘ والا ٹکڑا بطور جملۂ معترضہ کے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بریت کے لیے وارد ہوا ہے اسی طرح یہ ٹکڑا بطورِ استدراک ان فرشتوں کی بریت کے لیے وارد ہوا ہے۔

مدعا یہ ہے کہ یہ فرشتے جب اپنے اس علم کا کسی پر انکشاف کرتے تھے تو ساتھ ہی اس کو یہ تنبیہ بھی ضرور کرتے کہ دیکھو ہمارا یہ علم ایک فتنہ ﴿آزمائش﴾ ہے تو تم اس کو برے مقاصد میں استعمال کر کے کفر میں نہ پڑ جانا بلکہ اس کو صرف اچھے مقاصد ہی میں استعمال کرنا۔

چوں کہ انسان اپنی کم زوریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو زیادہ تر غلط ہی استعمال کرتا ہے اس وجہ سے فرشتوں نے ایک خیر خواہ معلّم کی طرح اپنے ربط پیدا کرنے والے کو پہلے سے آگاہ کر دیا کہ ہمارا علم ایک شمشیرِ دوم کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ کہ کوئی اس علم کو سیکھ کر اس کو برے مقاصد میں نہ استعمال کرے ورنہ اس طرح وہ کفر وشرک میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

یہاں فرشتوں کے تعلیم دینے کے معاملے کو اس طرح بیان فرمایا ہے جس سے بادی النظر میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو انسانی روپ میں تعلیم دیا کرتے تھے۔

اگر یہ بات ہو تو اس میں کوئی خاص اشکال نہیں ہے۔

متعدد ایسے واقعات کا خود قرآن سے پتہ چلتا ہے جب فرشتے انسانوں کے اندر خود انسانوں کی شکل وصورت میں نمایاں ہوئے ہیں لیکن امکان اس بات کا بھی ہے کہ عملیات کے دل دادہ لوگ کسی خاص قسم کی ریاضت اور چلہ کشی کے ذریعہ سے ان سے روحانی قسم کا ربط پیدا کر کے یہ تعلیم حاصل کرتے رہے ہوں۔

اگر مطلب یہ لیا جائے تو قرآن کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کے خلاف جاتی ہو۔

﴿فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ﴾ اب یہودیوں  کی پست مذاقی دیکھیے۔

فرشتوں کی مذکورہ بالا تنبیہ کے باوجود لوگ خاص طور پر ان سے ان عملیات کی تعلیم حاصل کرتے تھے جن کے ذریعے سے شوہر اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔

اس ٹکڑے سے یہود کے فسادِ اخلاق اور ان کی پست ہمتی اور خیانت پسندی پر روشنی پڑتی ہے کہ ان کی سب سے زیادہ رغبت اس عمل سے تھی جس کو وہ میاں بیوی کے رشتۂ محبت کو قطع کرنے کے لیے بطور مقراض استعمال کرسکیں۔

میاں بیوی کے رشتے کے استحکام پر پورے نظامِ تمدن کے استحکام کی بنیاد ہے اور اگر کوئی ’مذہبی‘ جماعت اپنے علم کو اس بنیاد کے اکھاڑنے میں لگا دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے شیطان کے کرنے کا جو کام تھا اس کو خود سنبھال لیا۔

﴿وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ یہ ٹکڑا بھی بطورِ استدراک کے ہے یعنی ان عملیات کے شائقین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیزیں بجائے خود نافع یا نقصان پہنچانے والی ہیں مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔

اعمال شیطانیہ ہوں یا اعمال روحانیہ؛ ان سے اگر کسی کو نفع یا ضرر پہنچتا ہے یا پہنچایا جاسکتا ہے تو صرف اللہ کے اذن اور اس کی مشیت کے تحت یہ چیزیں بذات خود مؤثر نہیں ہیں۔

اس استدراک سے اس توحید واخلاص کو اجاگر کیا گیا ہے جو قرآن کی تمام تعلیمات کی بنیاد ہے۔

ایک موحد کو اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ اللہ کی کتاب کے ہوتے ہوئے اول تو وہ اس طرح کی چیزوں کی رغبت ہی نہ کرے نیز اگر ان میں سے کوئی چیز اس کے علم میں آئے تو اس کو مؤثربالذات ہرگز نہ مانے۔

اگر اسی طرح کی کسی چیز سے اس کو ضرر کا اندیشہ لاحق ہو تو صرف اللہ واحد ہی کی طرف مدد کے لیے رجوع کرے؛ ٹونوں، ٹوٹکوں اور عاملوں اور سیانوں کے چکر میں نہ پھنسے۔

﴿وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنْفَعُهُمْ﴾ یہ ٹکڑا اس علم کے سیکھنے والوں کی اخلاقی اور ذہنی پستی کو ظاہر کر رہا ہے۔

جو علم وہ سیکھتے تھے وہ بجائے خود تو جیسا کہ ظاہر ہوا اپنے اندر نفع ونقصان دونوں کے پہلو رکھتا تھا لیکن سیکھنے والوں کی ذہنیت وہی ہوتی تھی جو اوپر مذکور ہوئی کہ اس کے ذریعے سے کسی جوڑے کے درمیان تفریق کرائیں، جن میں الفت ہے ان کے درمیان نفرت کے بیج بوئیں، جن میں وصل ہے ان میں فصل پیدا کریں۔

اپنے اس فساد نیت کی وجہ سے انہوں نے اس کے نفع کے پہلو کو بالکل ہی ختم کردیا تھا۔

﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ﴾ یعنی یہود کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جو لوگ اس طرح کے فتنوں میں پڑیں گے آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

تورات میں نہایت واضح الفاظ میں انہیں ان چیزوں سے روک دیا گیا تھا۔


دیکھیے: ’جب تو اس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا۔ تجھ میں ہرگز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فال گیر یا شگون نکالنے والا یا افسوں گر یا جادوگر یا منتری یا جنات کا آشنا یا رما یا ساحر ہو کیوں کہ وہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خدا کے نزدیک مکروہ ہیں اور اور انہی مکروہات کے سبب سے خداوند تیرا خدا تیرے سامنے سے ان کو نکالنے پر ہے‘۔


مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ان واضح ترین تنبیہات کے باوجود یہود نے ان ساری چیزوں کو اختیار کیا اور ان کا ذوق ان کے اندر اس قدر بڑھ گیا کہ طالوت کو اپنے زمانے میں پوری قوم کی تطہیر کرنی پڑی۔

چناں چہ بائبل کے مطابق سموئیل اور ساؤل دونوں ہی نے جنات کے آشناؤں اور افسوں گروں کو ملک سے خارج کردیا تھا۔

اس روحانی علم کے بارے میں مزید تذکرہ سورۃ نمل کی آیت ۷۰ میں اس طرح ہے۔

حضرت سلیمانؑ کو جب ایک جن نے بہت ہی جلد تخت اٹھا لانے کی پیشکش کی تو دربار کے ایک عالمَ کتاب کی غیرت جوش میں آگئی۔

انہوں نے فرمایا کہ یہ کیا بات ہوئی یہ دربار برخاست ہونے تک تخت کے لانے کا وعدہ کرتا ہے میں آپ کی پلک جھپکتے اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔

اتنے میں حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ تخت ان کے سامنے موجود ہے۔

یہاں علمِ کتاب سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کی کتاب وشریعت یعنی تورات کا علم ہے۔

مگر لگتا ہے اس عالمِ کتاب کو اُس علم میں بھی مہارت حاصل تھی جس کا ذکر ہم کر رہے ہیں۔

چناں چہ یہ خواصِ کلمات واسمائے الٰہی کا وہ ہی علم ہے جو سحر وشعبدے وغیرہ جیسے علومِ سفلیہ کے مقابلے کے لئے دو فرشتوں کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بایل کے اسیری کے زمانہ میں عطا ہوا تھا۔

حضرت سلیمانؑ کے زمانے تک تو ان کے شدید احتساب کے سبب سے اس علم کو کوئی غلط مقاصد میں استعمال کرنے کی جرأت نہ کر سکا لیکن سورۃ بقرہ میں اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے بعد یہودی صرف اسی علم کے ہو کے رہ گئے اور تو رات سے ان کو کوئی دل چسپی باقی نہیں رہی۔

ان بدبخت یہودیوں نے مزید ستم یہ کیا کہ اپنے عوام کو باور کرایا کہ حضرت سلیمانؑ کی تمام عظمت وشوکت ان ہی چیزوں کے بل پر قائم تھی۔

یہاں خیال رہے کہ یہ علم تورات یا آسمانی صحیفوں کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ان سے بالکل الگ ہے۔

یہ ایک خاص دور میں ایک خاص ضرورت ومصلحت کے تحت بنی اسرائیل کو عطاء ہوا تھا جس کی وضاحت اوپر کی جا چکی ہے۔

اس طرح قران کے مطابق کتاب وشریعت کے علم کے ساتھ بھی ایسا علم حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی تاثیر وتسخیر کا مقابلہ شیاطین جن وانس اپنی عملیات سفلیہ کے زور سے نہیں کرسکتے۔

تاہم خیال رہے کہ اب ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے اس پُراسرار روحانی علم کے سچے معلّم کو خود سے تلاش کیا جا سکے تاہم اگر دل میں لگن خالص ہو تو ممکن ہے اللہ پاک کسی کے لیے اس کے حصول کا غیب سے ذریعہ بنا دیتے ہوں۔