Real Horror Story in Urdu

پَر نانا

دو سال پہلے مجھے کینسر کا مرض لا حق ہوا۔ یہ ایک نا قابل یقین بات تھی۔ ایک لمحہ پہلے میں اپنے کام، بیوی، بچوں اور گھریلو کام کاج کے حوالے سے متفکر تھا۔ مگر جب تشخیص کی رپورٹ میرے ہاتھ میں آئی تو میرے لیے دنیا کی چیز تبدیل ہو گئی۔ میرے سوچنے کا انداز تبدیل ہو گیا۔ یہ ایک اچھی بات تھی اور دنیا میں کینسر کے ہر مریض کو اسی طرح سوچنا چاہیے۔ ہم نے ڈاکٹروں کی ہر بات کو غور سے سنا اور ہر طرح کے علاج کے طریقوں کے بارے میں غور و فکر کیا۔ میں نے اور میری بیوی نے فیصلہ کیا کہ ہم اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔ کم از کم ابھی نہیں۔ ڈاکٹر ابھی بھی حتمی طور پر شناخت کرنے کے لیے ٹیسٹ کر رہے تھے۔ وہ جانا چاہتے تھے کہ کینسر کس مرحلے میں ہے۔ اگر چہ انہوں نے بتا دیا تھا کہ یہ ابتدائی مرحلے میں ہر گز نہیں ہے مگر وہ پھر بھی دیگر معاملات کا تعین کرنا چاہ رہے تھے۔ چناں ہم نے آخری رپورٹ آنے تک انتظار کیا۔ بیتھ مجھ سے زیادہ خوف زدہ تھی جو ایک قابل فہم بات تھی۔ اب کچھ بھی ہو اس نے ہر چیز کا انتظام سنھالنا تھا۔ خواہ اس مرض سے میری موت ہو جائے یا میں کام کرنے کے قابل نہ رہوں ہر صورت میں اس نے میرا اور بچوں کا خیال رکھنا تھا – اور ہمارے لیے کمانا بھی تھا۔ ہمارے والدین کے لیے جس حد تک ممکن تھا انہوں نے ہماری مدد کی مگر مجھے پتہ تھا کہ میرے ماں باپ دولت مند نہیں تھے۔ وہ اپنے گھر کا ’ہمشیہ باقی‘ رہنے والا قرضہ اتارنے کے لیے کل وقتی طور پر کام کرتے تھے۔ مجھے اپنے ساس سسر کے بارے میں اس حوالے سے کچھ پتہ نہیں تھا۔ آخری رپورٹ ہماری زندگیوں کا بد ترین دن تھا۔ ڈاکٹروں نے مہینوں میرا علاج اور ٹیسٹ کروانے کے بعد حتمی طور پر میری بقیہ زندگی کا تعین کردہ تھا۔ نصف سال۔ جی ہاں صرف چھ ماہ۔ کینسر میرے وجود کے ہر تانے بانے میں اتر چکا تھا۔ ڈاکٹر انتہائی مہنگے علاج کے ذریعے میری عمر میں صرف ایک سال کا اضافہ کر سکتے تھے۔ مگر اس کے بعد میری زندگی میں سوائے موت کے کچھ نہیں تھا۔ موت میرا مقدر ہو چکی تھی اور دولت، دعائیں یا رونے پیٹنے سے کچھ بدلنے والا نہیں تھا۔ آج میرے اور بیتھ کے درمیان جھگڑا ہوا۔ میرا کہنا تھا کہ میں اب اپنے علاج پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بعد میرے بیوی بچے قرض کے جوے میں جکڑے رہیں۔ مگر بیتھ نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں عقل کی بات نہیں کر رہا اور یہ کہ ہمیں اپنا آخری پیسہ بھی علاج پر خرچ کرنا چاہیے۔ میں مذہب پر یقین رکھتا ہوں مگر وہ نہیں۔ شاید اس بات کا سبب یہ ہی تھا۔ جب وہ سو کر اٹھی تو میں نے اسے منا لیا۔ میں اپنے علاج پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ میں اور کیا کرتا۔ اس نے مجھ سے زیادہ تکلیف اٹھانی تھی۔ میرا مرض اس کہانی کا خوف ناک پہلو نہیں ہے۔ لوگوں کو جب میرے لا علاج مرض کا علم ہوا تو ملنے والوں کا ایک تانتا بندھ گیا۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر میرے نام نیک پیغامات کے ڈھیر لگ گئے۔ یہ بات ہمارے والدین نے ہی افشا کی تھی۔ میں نے فیس بک استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ مگر میں نے اپنا علاج شروع کر ادیا جس سے میں دن بدن چڑچڑا اور کم زور ہوتا چلا گیا۔ میں بات بات پر بیتھ پر چیخ پڑتا تھا۔ مگر میرے لیے خود کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں تھا گو کہ مجھے پتہ تھا اس طرح اس کی روح پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ مجھے اب اس بات پر پچھتاوا ہو رہا تھا کہ میں نے اسے اپنا علاج جاری رکھنے کی اجازت کیوں دی۔ میری زندگی کا بدترین دن وہ تھا جب بیتھ کے ہاتھوں میرے بستر پر چائے گر گئی۔ میں بری طرح چلایا اور اسے گالیاں دی۔ میں نے اسے وہ کچھ کہا جس پر میں تا قیامت اپنی قبر میں پچھتاتا رہوں گا۔ اور بیتھ میرے رویے کی وجہ سے کئی دنوں تک آنسوئوں میں بھیگتی رہی۔ وہ میری زندگی کا ایک اور بد ترین دن تھا جب بیتھ مجھ سے نا راض ہو گئی۔ اب وہ بہت کم مسکراتی تھی اور اس نے میری آنکھوں میں دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں بستر میں پڑا دن بدن موت کی طرف بڑھ رہا تھا جس میں غیر ضروری علاج نے تھوڑی سی تاخیر پیدا کر دی تھی۔ مگر یہ بھی اس کہانی کا خوف ناک پہلو نہیں ہے۔ بے شک یہ ایک غم زدہ کہانی ہے مگر اصل دہشت میرے نانا کی کہانی میں پنہاں ہے۔ ایک دن وہ اچانک میرے گھر چلے آئے۔ ان کی عمر 90 سال تھی اور وہ ابھی بھی گھومتے پھرتے رہتے تھے۔ اگر چہ وہ اس کام کے لیے ٹیکسی کرتے تھے یا پھر گھر کا کوئی فرد انہیں مطلوبہ جگہ تک پہنچاتا کیا کرتا تھا۔ مگر اس کے با وجود وہ پوری طرح فعال تھے۔ بیتھ نانا کو میرے کمرے میں لے کر آئی اور پھر ہمیں تنہا چھوڑ دیا۔ وہ اب میرے کمرے میں زیادہ دیر نہیں ٹہرتی تھی اور اس طرف کم ہی آتی تھی۔ ’میں نے سنا ہے تم مجھ سے پہلے قبر میں جانے والے ہوں‘ نانا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اپنا لرزتا کانپتا ہاتھ میرے ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ ان کی کھال چمڑے جیسے محسوس ہو رہی تھی جو ان کی ہڈیوں سے محض چند ٹانکوں کے سہارے چپکی ہو۔ ان کے بازئوں کی کھال پھٹے ہوئے غباروں کی طرح لٹک رہی تھی۔ میں نے سوچا مرنے کے بعد میری کھال کا کیا حال ہو گا؟ ’نانا شاید ایسا ہی ہے‘۔ میں نے ہلکا سا مذاق کیا۔ ’مجھے امید ہے آپ میرے جنازے میں ضرور آئیں گے‘۔ وہ اس بات پر زور سے ہنسے۔ ہم دونوں ہی موت کی آغوش میں بیٹھے تھے اور اس طرح اس بارے میں مذاق کر رہے تھے جیسے یہ عام سی بات ہو۔ مگر مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار مجھے اپنے نانا سے ایک گہرے رشتے کا ادراک ہوا۔ یہ شاید موت کا رشتہ تھا۔ ’تمہاری طبیعت کیسی ہے آج‘ انہوں نے پوچھا۔ روزمرہ کی طرح ہی ہے۔ میں ںے جواب دیا۔ مگر آپ ابھی تک چل پھر رہے ہیں۔ ’ہاں میں چلتے پھرتے اس دنیا سے جانا چاہتا ہوں‘ انہوں نے خاموشی سے کہا۔ ان کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بجھ سی گئیں۔ ’کیا تم میرا ایک کام کرو گے‘ انہوں نے بالآخر کہا۔ مجھے ایسا لگا وہ خود کو میری طرف دیکھنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ یہ ایک عجیب سے بات تھی کیوں کہ اب لوگ مجھے سے پوچھتے تھے کہ وہ میرے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ’جی کہیے‘۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں اگر چاہتا تو بیتھ سے نرم الفاظ میں بات کر سکتا تھا۔ نانا کے لہجے میں ان کی عمر کے با وجود تلخی نہیں تھی۔ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ پر ہی تھا۔ اور جب انہوں نے اپنی بات شروع کی تو میرا ہاتھ ہلکے سے بھینچ لیا۔ ’یہ ایک عجیب سے درخواست ہے۔ کیا میں تمہیں پہلے اس کی تمہید بتائوں؟ مگر میں پہلے ان کی درخواست سننا چاہتا تھا۔ مجھے ان کی بات بڑھانے پر تھوڑی سی چڑچڑاہٹ ہوئی۔ ’میں چاہتا ہوں کہ تمہیں مرنے کے بعد دفنانے کے بجائے جلا دیا جائے‘ بلآخر انہوں نے کہہ ہی ڈالا۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ’کیا؟ میں ایک پکا کیتھولک ہوں۔ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں۔ ہمارے نزدیک تدفین ہی مقدس ہے‘۔ انہوں نے ایک بار پھر ایک الگ انداز سے اپنی بات دہرائی۔ ’مگر یہ بات مذہب کے خلاف ہے‘ میں نے کہنا چاہا۔ ’نہیں اب نہیں۔ 1960 کے بعد سے کیتھولک چرچ نے اس بات کی اجازت دے دی ہے۔ مجھے تمہاری راسخ العقیدگی کا علم ہے اس لیے میں نے پہلے ہی ہر بات کی اچھی طرح تصدیق کر لی ہے‘۔ میں نے تحیر کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ صدمے سے میرے لب گنگ ہو گئے تھے۔ میری خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’تمہیں جلانے کے بعد تمہاری راکھ ایک راکھ دان میں رکھ دی جائے گی جس کی تدفین کے لیے میں نے اپنے آبائی قصبے میں جگہ خرید لی ہے۔ تم ہمیشہ میرے اور میرے بیوی کے پاس رہو گے۔ میں نے اپنے تمام بچوں اور ان کی اولادوں کے لیے بھی جگہ خریدی ہوئی ہے‘۔ مجھے بیتھ سے اپنی لڑائیاں یاد آئیں۔ مگر میں اس بار چیخ نہیں سکھا اور میں نے سختی سے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ ’نانا میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ عام لوگوں کی طرح ۔ ۔ ۔‘ مجھے بولنے کے لیے تھوک نگلنا پڑا۔ میرا گلا خشک ہو رہا تھا۔ ’میں جنت کا دروازہ خود پر بند نہیں کرنا چاہتا‘۔ مگر نانا نے کہا ’میں نے اچھی طرح تصدیق کر لی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر تمہاری راکھ بکھیری نہیں جائے گی اور چرچ کے مطابق لازمی ہے کہ اسے کسی مقدس جگہ پر دفن کیا یا رکھا جائے۔ یہ دفنانے ہی کی طرح ہے‘۔ ’مگر کیوں؟ یہ اس کہانی کا سب سے درد ناک سوال ہے۔ انہوں ںے آہ بھری۔ نانا نے دروازے کی طرف مڑ کر دیکھا کہ وہ کھلا ہوا تو نہیں۔ ’کیا تمہیں ماما یاد ہیں؟ اپنی نانی؟ میں نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا دیا۔ مجھے ان کی فوت شدہ بیوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہو رہی تھی۔ وہ میری نانی تھیں۔ ’تھوڑا بہت‘ میں نے تسلیم کیا۔ انہوں نے سر ہلایا۔ ’تم اس وقت صرف 8 سال کے تھے جب اس کا انتقال ہوا۔ ظاہر ہے تمہیں اس کے بارے میں کیا یاد ہو گا۔ وہ ایک رات دل کے دورے سے چل بسی۔ بالکل اچانک۔ نہ کوئی علامت نہ کوئی آثار۔ ہم اسے اسپتال لے کر گئے جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔ یہ میرے لیے انتہائی شدید صدمہ تھا۔ میں ہمیشہ کے لیے یاسیت کا شکار ہو گیا‘۔ ’مجھے افسوس ہے نانو‘۔ میں نے ان کا ہاتھ ہلکا سا دباتے ہوئے کہا۔ انہوں نے دھیرے سے اپنا سر ہلایا۔ ’مجھے خود کو سنبھالنے میں مہینوں لگے۔ بہت کم لوگ میرے دکھ کو سمجھ پاتے تھے۔ ان میں سب کی بیویاں حیات تھیں۔ شاید اس لیے۔ اسے دفنانے کے بعد میں کچھ دن گھر میں آوارہ روح کی طرح بھٹکتا رہا۔ میری سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا میں کیا کروں۔ میرا برتن تک دھونے کو دل نہیں کرتا تھا۔ جوزف مجھے لگتا تھا جیسے میں کسی تاریک اور وحشت ناک جگہ پر پھنس گیا ہوں‘۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو تکتے ہوئے ایک گہری سانس لی اور مجھے اپنے آنسوئوں کو چھلکنے سے باز رکھنے کے لیے خود پر گہرا جبر کرنا پڑا۔ نانا نے مجھے دوبارہ آرام دہ حالت میں لیٹنے میں مدد کی۔ ’مرنڈا کو دفنانے کے چار روز بعد کی بات ہے۔ یہ رات کا وقت تھا۔ میں بستر میں لیٹا جاگ رہا تھا جب میں گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ مجھ چوروں کی پروا نہیں تھی۔ لے جائیں وہ جو کچھ لے جانا چاہتے تھے۔ اگر وہ مجھے مارنا چاہتے تھے تو یہ زیادہ بہتر تھا۔ میں نے زینے پر قدموں کی آہٹ محسوس کی۔ کوئی اوپر آ رہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر کے سوتا نظر آنے کی کوشش کی۔ کوئی کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ سر اٹھایا، مگر میں نے اس وقت اپنی آنکھیں کھولیں جب کسی نے میرے رخسار پر دھیرے سے ہونٹوں کو رکھا۔ جوزف بستر کے برابر میں مرنڈا کھڑی تھی۔ وہ میرے پاس چلی آئی تھی۔ میں نے بستر سے اترنے کی کوشش کی اور وہ وہاں کھڑی مجھے دیکھتی رہی۔ وہ مکمل ساکت کھڑی تھی اور اس کی آنکھوں میں شعور کی چمک تھی۔ جب آخری مرتبہ میں نے اس کی آنکھیں دیکھی تھیں تو ان میں خالی پن کے سوا اورکچھ نہیں تھا۔ مردہ۔ مگر اس وقت ان میں ذہانت کے رنگ چھلک رہے تھے۔ میں نے اس کا نام لیا اور اسے قریب سے دیکھنے کے لیے بستر کے اس طرف چلا گیا‘۔ نانا نے اپنی آنکھیں صاف کرنے کے لیے ایک وقفہ لیا۔ یہ نانی کا بھوت ہو گا میرے ذہن میں خود بخود سوچ ابھری۔ ’اور پھر ہم دونوں ہم آغوش ہو گئے‘ نانا نے اپنی بات پوری کی۔ میری آنکھیں بے یقینی سے کھل گئیں۔ ’نانا نے کہا شروع میں میں نے خیال کیا کہ وہ مرنڈا کی روح یا بھوت ہے۔ مگر وہ تو جسمانی حالت میں وہاں موجود تھی۔ میں نے اسے گلے لگایا۔ پیار کیا اور اس نے بھی جواب میں ایسا ہی کیا۔ جوزف وہ وہاں کھڑی تھی۔ اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ میں اسے پا کر نہایت مسرور تھا اور ہم دونوں بستر میں جا لیٹے۔ ہم نے وہاں کیا کیا مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ وہ واپس آ گئی تھی اور میرے لیے اتنا ہی بہت تھا‘۔ نانا نے چہرہ اٹھا کر میرے ماتھے پر پڑی تیوریوں اور میری الجھن آمیز نظروں کو دیکھا۔ ’میں تم سے جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل سچ ہے‘ انہوں نے زور دے کر کہا۔ ’میں تم سے جھوٹ نہیں بول رہا اور یہ کوئی فریب نظر بھی نہیں تھا۔ کیوں کہ میرے پاس ثبوت موجود ہے‘۔ ’مجھے دکھائیں‘ میں نے شک بھرے لہجے میں کہا۔ ’آخر میں دکھائوں گا‘ انہوں نے مجھے یقین دلایا۔ ’جب میری آنکھ کھلی تو میرا خیال تھا وہ جا چکی ہو گی۔ میرے نزدیک وہ صرف ایک خیالی تصور تھا۔ ایک روح مگر جسم کے ساتھ۔ مگر وہ بستر پر میرے ساتھ لیٹی ہوئی مجھے دیکھ رہی تھی۔ میرے وجود پر ایک بار پھر سرور سا چھا گیا اور ہم دونوں ایک بار پھر ہم آغوش ہو گئے۔ میں نے زندگی میں کبھی ایسی مسرت محسوس نہیں کی تھی۔ ایک ایسی لذت جو آپ کو کھوئی زندگی دوبارہ پا کر ملتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے یہ ایک عارضی بات تھی‘ انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ’میں نے اس سے پوچھنے کی کوشش کی کہ ماجرا کیا ہے۔ میں نے اسے یاد دلایا کہ میں نے اسے خود دفنایا تھا اور اس سے پوچھا کہ وہ گھر کس طرح واپس آئی۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور ٹکر ٹکر مجھے تکتی رہی۔ ایسا لگتا تھا اس نے میرا کہا ایک لفظ بھی نہ سنا ہو‘۔ میں اس روز اسے ساتھ لے کر قبرستان گیا۔ مجھ پر ایک بار پھر عقلیت غالب آنے لگی اور میں نے کچھ ’جوابات‘ بنانے شروع کیے۔ ہو سکتا ہے ہم نے کسی اور مردہ جسم کو دفنا دیا ہو۔ ہو سکتا ہے مرنڈا کا اسپتال میں انتقال ہوا ہی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے مرنڈا کے نام پر کسی اور کی بیوی کو دفن کر دیا گیا ہو۔ میں نے قبرستان کے منتظم سے بات کی اور اس سے اپنی بیوی کے بارے میں پوچھا۔ مگر اس نے میری بیوی کو نہیں دیکھا تھا اور اسے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیسی تھی۔ مگر وہ سخت شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری بیوی کی قبر میں کسی اور کو دفنا دیا گیا ہو مگر اس نے کہا کہ یہ نا ممکن ہے۔ میں نے اس سے قبر کشائی کا کہا مگر اس نے صاف منع کر دیا۔ مجھے بہت غصہ آیا اور اپنی بات سمجھانے کے لیے برہمی کا اظہار بھی کیا مگر اس نے قطعی طور پر جواب دیا کہ وہ اس سلسلے میں میری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں اس وقت غصے میں کھول رہا تھا۔ بھلا میں کیسے گوارا کرتا کہ کسی اور کی بیوی کو میری بیوی کی جگہ دفنا دیا جائے۔ مگر گھر واپس آتے وقت مرنڈا نے مجھے کار میں بہت تسلی دی۔ مگر میں قصے کو اس طرح ختم کرنے کے لیے کسی طور آمادہ نہیں تھا۔ گھر آتے ہی اچانک تمہاری ماں کا فون آ گیا۔ وہ میری خیریت دریافت کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اسے یہ حیرت انگیز خبر سنائی مگر اس نے یقین کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ یہاں آ کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ تم میری ذہنی حالت سمجھ سکتے ہو‘۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں اپنی ماں سے تمام کہانی کی سچائی پوچھ سکتا ہوں۔ ’ڈنر کے وقت وہ میرے گھر پہنچی۔ مگر وہ کار سے نہیں نکل سکی۔ کار کا دروازہ صحیح سلامت تھا مگر وہ اتر نہیں سکی۔ میں نے اس کی آنکھیں مرنڈا سے چار ہوتی دیکھیں اور وہ اتنی حیرت زدہ تھی کہ وہ کسی طور بھی کار کا دروازہ نہیں کھول پائی۔ ظاہر ہے کوئی اپنی مان کو دفنانے کے بعد اگر زندہ سلامت دیکھے تو اس کا یہ ہی حال ہو گا۔ وہ اندر نہیں آئی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں کار میں آ کر بیٹھ جائوں اور اس کے ساتھ چلوں۔ میں نے اپنے ساتھ مرنڈا کو لانا چاہا مگر اس نے تیزی سے گاڑی موڑی اور فراٹے بھرتی ہوئے واپس نکل گئی۔ میں انتہائی الجھن کے عالم میں تھا مگر میں نے سوچا اس کا سبب میرے غم کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ مگر تمہاری ماں نے ایک منٹ بعد فون کیا اور مجھ سے کہا کہ میں مرنڈا کے بغیر اس کے ساتھ آئوں۔ میں نے اس سے پوچھا ماجرا کیا ہے مگر اس نے کچھ بھی کہنے سننے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ گھر لوٹ آئے کیوں کہ اس کی ماں اسے بہت یاد کر رہی تھی۔ اس تمام بات چیت کے دوران مرنڈا اس طرح میری پیٹھ سہلا رہی تھی جیسے وہ اپنی موت کا غم مجھ سے دور کرنا چاہ رہی ہو۔ وہ صرف مسکرا کر رہ گئی جب میں نے اسے بتایا کہ اس کی اپنی بیٹی اس سے خوف زدہ ہے۔ میرا خیال ہے وہ بات سمجھ رہی تھی۔ نانا نے ایک وقفہ لیا اور تھوک نگلتے ہوئے گہرے سانس بھرے۔ ان کے پھیپھڑے مسلسل بولنے سے تھک گئے تھے۔ مجھے پتہ تھا کچھ دنوں بعد میرا بھی یہ ہی حال ہو گا۔ ’نانا پانی دوں‘۔ انہوں نے منع کر دیا۔ ’میں پورے تین دنوں تک مرنڈا کے ساتھ رہا۔ مگر ہم گھر سے باہر نہیں گئے۔ میں ںے اس کے پسندیدہ کھانے پکائے۔ مگر میرا خیال ہے دل کے دورے کی وجہ سے اس کی بھوک مر گئی تھی کیوں وہ کچھ بھی نہیں کھا رہی تھی۔ میرے لاکھ پوچھنے کے با وجود اس کے لب نہیں کھلے۔ چناں مجھے شبہ ہوا کہ شاید اس کا دماغ درست کام نہیں کر رہا تھا یا ہو سکتا ہے وہ اب بولنا ہی نہیں چاہتی ہو۔ میں نے ایک ڈاکٹر سے وقت لیا مگر اس بار میں تنہا ہی گیا۔ ڈاکٹر نے ایک ٹھنڈی سانس لی مگر کچھ جواب نہیں دیا۔ میں مایوس ہو کر لوٹ آیا۔ ’تمہاری ماں کے آنے کے تین روز بعد تمہارا باپ یہاں آیا۔ میں اس وقت باغ میں کام کر رہا تھا اور مرنڈا گھر کے اندر کتاب پڑھ رہی تھی۔ مجھے اس کے آنے پر حیرت ہوئی کیوں کہ وہ کار باہر چھوڑ کر اندر پیدل آیا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ میں کپڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ آنے کو کہا کیوں کہ وہ مجھے کچھ دکھانا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے کہا میں مرنڈا کو بتا کر آتا ہوں مگر اس نے مجھے بازو سے پکڑا اور تقریباً گھسیٹتا ہوا کار میں لے گیا۔ میں نے الجھن کی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اس نے میری سیٹ بیلٹ باندھی اور ہم چل پڑے۔ مجھے یاد ہے کار چلاتے وقت وہ بار بار عقبی آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت پریشان تھا مگر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ کار قبرستان کے باہر جا کر رک گئی اور میں سمجھ گیا کہ ماجرا مرنڈا کا تھا۔ مرنڈا کی قبر کے گرد 4 افراد کھڑے تھے۔ آرتھر میرا ہاتھ تھام کر مجھے وہاں تک لے گیا۔ گروپ میں دو پولیس والوں کے علاوہ تمہاری ماں اور قبرستان کا منتظم شامل تھا۔ قریب پہنچ کر میں نے دیکھا کہ مرنڈا کا تابوت قبر سے باہر زمین پر رکھا ہے اور قبر کے کنارے مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو قبرستان کے منتظم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ بریڈلی ڈنکن ہیں؟ ’ہاں میری کچھ دن پہلے ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی‘ میں نے جواب دیا۔ اس نے سر ہلایا۔ ’تو تم نے میرے مشورے پر عمل کر ہی لیا۔ اس قبر میں مرنڈا کی جگہ کسے دفنایا گیا تھا؟ ہر شخص چپ ہو گیا۔ تمہاری ماں زمین کو تک رہی تھی۔ تمہارے باپ کے چہرے پر تفکر کے آثار تھے۔ ’کوئی بھی نہیں‘ آخر کار منتظم نے جواب دیا۔ میں اور الجھ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر دیکھا۔ تابوت بالکل خالی تھا۔ ایسا لگتا ہے اسے کبھی استعمال نہ کیا گیا ہو۔ میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ میں نے تابوت کا ڈھکنا گراتے ہوئے کہا۔ اس بار ایک پولیس افسر آگے آیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ آج صبح قبر اس حالت میں پائی گئی کہ اس کے کنارے مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور پاس ہی ایک بیلچہ پڑا تھا۔ پولیس افسر نے مجھ سے ہلکے سے مشکوک لہجے میں پوچھا کہ کیا میں اس بارے میں کچھ جانتا ہوں۔ یہ سوال ایک الزام کی طرح تھا۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ میں نے اسے یقین دلایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تمام دوران مرنڈا میرے ساتھ رہی ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق کرے گی کہ میں گھر سے باہر نہیں نکلا ہوں۔ پولیس افسر نے میرے مٹی زدہ کپڑوں کی طرف اشارہ کیا جس پر میں نے جواب دیا کہ میں باغیچے میں مصروف تھا اور اس بات کی آرتھر نے بھی تصدیق کی۔ مگر میں اس وقت رو پڑا جب تمہاری ماں نے مجھ سے صاف طور پر پوچھا کہ کیا میں نے اس کی ماں کی قبر کھود کر اس میں سے لاش نکالی تھی۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگ کیا سمجھ رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ مرنڈا کو سرے سے دفن ہی نہیں کیا گیا۔ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ وہ زندہ اور صحیح سلامت ہے۔ ہم ایک کاروان کی شکل میں گھر روانہ ہوئے۔ تمہاری ماں اور باپ کار میں میرے ساتھ تھے جب کہ پولیس افسران ہمارے پیچھے سرکاری گاڑی میں چل رہے تھے۔ تمہاری ماں اور باپ ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے رہے۔ اور مجھے پتہ تھا کہ ان کے ذہنوں میں کیا تھا۔ میں نے لاریل سے کہا کہ تم نے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے دانت بھینچ لیے۔ گھر کے باہر پہنچ کر ہم سب گاڑیوں سے اتر آئے۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں گھر سے باہر رہوں۔ تھوڑی دیر بعد ایک پولیس افسر گھر سے باہر آیا۔ اس نے کہا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ میں نے فکر کا اظہار کرتے ہوئے گھر کے اندر دوڑ لگائی۔ اور میرے پیچھے لاریل اور آرتھر فکر مند ہو کر دوڑتے چلے آئے۔ پولیس افسر بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ گھر میں مکمل تاریکی تھی۔ شاید مرنڈا نے تمام لائٹیں بند کر دی تھیں۔ ہم دروازے سے اندر برآمدے میں آ گئے۔ میری گردن پر انگلیوں کے لمس نے مجھے چونکا دیا اور میں خوف زدہ ہو کر چیخنے ہی والا تھا مگر جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ تمہاری ماں تھی۔ اس نے مجھے مڑنے کو کہا۔ کسی نے برآمدے کی لائٹ جلائی اور لاریل نے میری گردن کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ اس نے آرتھر سے نظر اٹھانے کے لیے کہا اور اس کی سانس اس کے گلے میں گھٹ گئی۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے مگر اس دوران کوئی چیز دھڑ سے گری۔ بیڈ روم میں۔ میں نے پولیس افسران کو نظروں کا تبادلہ کرتے دیکھا۔ باہر آنے والے افسر نے یقین دلایا تھا کہ گھر خالی ہے۔ اور اسی لمحے ایک قیامت سی آ گئی۔ ایک ہیولہ کمرے سے زقند مار کر نکلا مگر اس کے ہاتھ پیر جانوروں کی طرح تھے۔ ہر شخص بری طرح چیخ رہا تھا جب کہ ہیولہ بیرونی دروازے کی طرف بھاگا۔ تاریکی کے باعث اس کا منہ نظر نہیں آ رہا تھا مگر اس کی چال غیر فطری تھی۔ میں نے سانپ کی سی پھنکار سنی اور پھر میرے کانوں کے پاس ایک زور دار دھماکا ہوا۔ کچھ لمحے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ دونوں پولیس افسران ہیولے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ ہیولہ ساکت ہوا مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔ میں نے چیخ کر کہا کہ مرنڈا پر فائرنگ نہیں کریں۔ مگر میں ساتھ ہی سمجھ گیا تھا کہ اب تک غلطی پر کون تھا۔ شروع میں میں نے سوچا شاید کوئی گھر میں گھس آیا تھا – کوئی جانور یا کوئی شخص – مگر میری جب اس ہیولے پر اچھی طرح نظر پڑی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ مرنڈا ہی تھی۔ مگر وہ تھی بھی اور نہیں بھی تھی۔ اسے گولیوں سے فرق نہیں پڑا تھا۔ اس کے جسم میں ایک سوراخ تک نہیں تھا۔ میں کائوچ کے اوپر گر پڑا اور زمین پر لوٹتا چلا گیا۔ لاریل چلائی اور اس نے مجھے اٹھانے کی کوشش کی۔ دونوں پولیس والے اس چیز کے اور ہمارے درمیان ایک رکاوٹ بن کر کھڑے ہو گئے۔ ہر شخص چیخ رہا تھا مگر میرے کان ابھی تک بج رہے تھے۔ یکایک تمہارے باپ نے راہ داری سے چھلانگ لگائی اور مرنڈا کے اوپر جا گرا۔ میں نے مرنڈا کا منہ کھلتا ہوا دیکھا اور اس نے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی کہ اس کے اوپر کون سوار ہے۔ اس وقت میری نظر مرنڈا کے باہر کو نکلے لمبے اور نوک دار دانتوں پر پڑی۔ دونوں دانت ایک فٹ لمبے تھے جن کے سرے سوئیوں کی طرح نوکیلے تھے۔ اس لمحے میرے لیے وقت ٹہر گیا اور میں نے دیکھا کہ مرنڈا اصل میں کیا تھی۔ مگر وقت رکا نہیں تھا۔ آرتھر نے مرنڈا کی پشت میں لمبا چاقو جڑ تک پیوست کر دیا۔ وہ جو چیز بھی تھی فوری طور پر فرش پر گری اور ساکت ہو گئی۔ میرے خیال کے بر عکس اس نے کوئی چیخ نہیں ماری۔ پولیس افسران بلا وجہ چیختے رہے۔ آرتھر لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور اس شے سے دور ہو گیا۔ ہم سب ساکت ہو گئے مگر آرتھر نے جرات کر کے اس شے کے پیٹ میں لات ماری۔ مگر وہ مر چکی تھی۔ میں بری برح سن ہو چکا تھا مگر لاریل نے مجھے کئی دنوں تک سنبھالا دیا۔ دونوں پولیس والوں نے باری باری الٹیاں کیں۔ اور جب میرے کان سننے کے قابل ہوئے وہ دونوں حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ اب کیا کیا جائے۔ مرنڈا کے چہرے پر ڈالی جانے والی ایک نظر ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ جو بھی چیز تھی کم از کم انسان نہیں تھی۔ مجھے آج تک نہیں پتہ آرتھر نے معاملہ کس طرح سلجھایا۔ اس نے کچھ دیر پولیس والوں سے علیحدگی میں بات کی جس کے بعد وہ مجھ سے نظریں چراتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔ لاریل اور آرتھر نے آپس میں بات کی اور پھر وہ دونوں مجھے کئی دنوں کے لیے اپنے گھر لے آئے۔ اس کے بعد آرتھر کچھ دنوں تک میرے گھر پر رہا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ ہر بات اس کی سمجھ سے بالا ہے۔ اس نے کہا ’میں سوائے اندازے لگانے کے کچھ اور نہیں کر سکا۔ مجھے نہیں پتہ آپ کی بیوی کے ساتھ کیا ہوا۔ مگر میرا خیال ہے میں نے مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اس نے شیشے کی ایک چھوٹی سے بوتل نکالی جس میں پتلی سے زنجیر جڑی ہوئی تھی اور اسے میرے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ مرنڈا کے دل کی راکھ ہے۔ باقی جسم کی راکھ راکھ دان میں ہے۔ میں ںے آپ کے قصبے میں یہ راکھ رکھنے کے لیے جگہ لے لی ہے۔ ایک ہفتے بعد میں تمام راکھ کو وہاں رکھوا دوں گا۔ مگر اس شیشی میں موجود راکھ آپ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں چاہتے تو میں اسے بھی وہیں رکھوا دوں گا۔ میں نے یہ راکھ لے لی جوزف‘۔ نانا نے کہا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر سے ہٹایا۔ میرا جسم یہ داستان سن کر پسینے میں بھیگ رہا تھا۔ نانا نے جیب سے نکال کر وہ شیشی میرے ہاتھ میں رکھ دی۔ یہ سیاہ راکھ سے بھری ہوئی تھی اور جس طرح یہ شیشی کی دیواروں سے چمٹی ہوئی تھی اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ راکھ ہی ہے‘۔ میں کچھ دیر تک شیشی کو بغور دیکھتا اور ہر بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے وہ شیشی نانا کو واپس دے دی جو انہوں نے نہایت احتیاط سے جیب میں رکھ لی۔ ’جب لاریل اس روز میرے گھر آئی تو وہ حقیقت کو جان گئی تھی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ مرنڈا نہیں تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کس طرح یہ بات جان گئی اور میں کیوں اس بارے میں لا علم رہا۔ اور جب اس نے آرتھر کو بتایا تو وہ بھی شروع میں یقین کرنے پر تیار نہیں تھا۔ مگر لاریل اتنی شدید خوف زدہ تھی کہ کچھ دنوں بعد ان دنوں نے ایک غیر قانونی کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ آرتھر نے مرنڈا کا تابوت کھود نکالا جو خالی تھا۔ اس نے اس کام کے لیے میرا بیلچہ استعمال کیا تا کہ اس پر نام نہ آئے۔ جس رات اس نے تابوت کھود کر باہر نکالا وہ جاگتا رہا اور انٹرنیٹ پر اس بارے میں سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مگر جب اس نے مجھے اسٹرائی گوئی کی لوک کہانی کے بارے میں بتایا تو میں جان گیا وہ سچ کہہ رہا تھا۔ کیا تم اس لفظ سے واقف ہو؟ میں نے انکار میں سر ہلایا۔ ’اس داستان کا تعلق رومانیہ سے ہے جو ہمارا آبائی علاقہ ہے۔ اسٹرائی گوئی ان بے شمار کہانیوں کی ماں ہے جو وہاں ویمپائروں کے بارے میں پائی جاتی ہیں‘۔ میں اچانک ہنس پڑا۔ ظاہر ہے وہ اب تک مجھے صرف ایک کہانی ہی سنا رہے تھے۔ ان کے چہرے پر دکھ کے تاثرات پھیل گئے اور میں فوراً چپ ہو گیا۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ میرے قہقہے نے ان کے لب سی دیے تھے۔ ’یہ ہی وجہ ہے کہ میں چاہتا ہوں تمہاری لاش جلا دی جائے‘ انہوں نے یک لخت کہا۔ ’میں چاہتا ہوں کہ تم اس بات کی وصیت کر دو۔ جو کچھ تمہاری ماما کے ساتھ ہوا میرے پاس اس سب کا ثبوت ہے۔ جوزف میرے بدن پر کاٹنے کے نشانات موجود ہیں‘۔ نانا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ ’کم از کم میری بات سننے کے لیے تمہارا شکریہ‘۔ ’نانا ٹہریں‘ میں نے اپنے دل میں شدید ندامت محسوس کرتے ہوئے کہا۔ مگر انہوں نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں یہ سب تمہارے لیے صرف ایک کہانی ہے۔ انہوں نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا۔ مجھ میں کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ ’جوزف خواہ تم اس بات کی وصیت کرو یا نہ کرو مگر میں ہر حال میں تمہاری لاش جلوائوں گا‘۔ انہوں نے یہ کہہ کر تیزی سے دروازہ بند کر دیا اور میں اپنے کمرے میں تنہا رہ گیا۔ کمرہ پہلے سے زیادہ سرد محسوس ہو رہا تھا۔ میں گھنٹوں تک جاگتا رہا اور یہ کہانی میرے دماغ کی غلام گردشوں میں گردش کرتی رہی۔ میں ان ’شرائط‘ سے واقف ہوں جو آپ کو مرنے کے بعد ’اسٹرائی گوئی‘ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ وقت سے پہلے پیدائش۔ نا جائز پیدائش۔ شدید ترین ندامت اور درد سے گزرنا۔ خود کشی۔ غیر فطری موت وغیرہ۔ میری پیدائش وقت سے پہلے ہوئی ہے۔ میں اپنے ماں باپ کی نا جائز اولاد ہوں۔ انہوں نے میری پیدائش کے بعد شادی کی تھی۔ میں بلا شبہ شدید تکلیف میں ہوں۔ اور مجھے اس بات کی شدید ندامت ہے کہ میں بیتھ کے ساتھ کچھ مہینوں سے اچھا سلوک نہیں کر رہا۔ شاید کینسر سے موت فطری نہیں کہی جا سکتی۔ اور بلا شبہ میں علاج سے انکار کرتے وقت خود کشی کی راہ پر ہی چلنے لگا تھا۔ ممکن ہے میری موت وقت سے پہلے کی ہے۔ نانا کی کہانی میرے دماغ میں آوارہ جھونکے کی طرح بھٹکتی رہی۔ میں نے تب سے اب تک ان سے بات نہیں کی مگر ان کی بات بدستور میرے دماغ میں ہے۔ میں حیرت سے سوچ رہا ہوں کہ اگر میں بھی نانی کی طرح مرنے کے بعد گھر واپس آ گیا تو بیتھ کا رد عمل کیا ہو گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اس طرح گھر لوٹ کر آئوں اور ہر وقت مسکراتے رہنے کے علاوہ رات کو بیتھ اور بچوں کی رگوں سے ان کی زندگی چراتا رہوں۔ شاید کینسر میرے دماغ تک پہنچ گیا ہے اور میں بے سبب خوف زدہ ہو رہا ہوں۔ بہر حال میں نے بیتھ کو کہہ دیا ہے کہ مرنے کے بعد مجھے دفن نہیں کیا جائے۔ میری لاش کو جلا کر راکھ کر دیا جائے۔

ختم شد