Remote Viewing and Search for Life on Mars in Urdu

’ریموٹ ویوئنگ‘ اور مریخ پر مہذب حیات کی تلاش

اسّی کی دہائی کی ابتدا میں یعنی 1984ء کے آس پاس امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ’حکومتی مطالبے‘ پر نہایت پراسرار طور پر ایک ایسے پروجیکٹ کا آغاز کیا جس کا مقصد ’ماورائی‘ طریقے سے سیارہ مریخ پر زندگی کے آثار تلاش کرنے تھے۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ سی آئی اے مریخ پر تہذیب کے آثار موجودہ دور میں نہیں بلکہ آج سے تقریباً ایک ملین یعنی دس لاکھ سال پہلے سائنسی ذرائع کے بجائے ایک ایسے طریقے سے ’دیکھنا‘ چاہ رہی تھی جسے ’ریموٹ ویوئنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس میں مبینہ ماورائی صلاحیتوں کا دعوے دار ’میڈیم‘ –  شخص – اپنے ذہن کو مطلوبہ شے پر مرتکز کرنے کے بعد اپنی ’باطنی‘ آنکھ سے اس کا نظارہ کرتا ہے اور اس عمل میں زمان و مکان کی اس طور کوئی قید نہیں ہوتی کہ اس شے کو لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں سال پہلے یا اسی طرح مستقبل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جی ہاں یہ حقیقت ہے کہ امریکا، روس اور جرمنی کے خفیہ ترین ادارے ماورائی طاقتوں کے بارے میں تجربات کرتے رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ مشاہدات اب بھی جاری ہیں۔


 


Remote Viewing


22 مئی 1984ء وہ تاریخ ہے جب سی آئی اے کو اپنے ان تجربات میں’ کام یابی‘ ملی۔ مارچ 2017ء کو سلیٹ میگزین میں شائع ہونے آرٹیکل میں واشنگٹن پوسٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر جیکب بروگین نے لکھا –


’اس تجربے سے متعلق دستاویزات سی آئی اے کی ان فائلوں میں برآمد ہوئیں جن کا تعلق امریکی حکومت کے پیرانارمل تجربات سے تھا۔ ان پیرانارمل تجربات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ واشنگٹن نے ان کے ذریعے ایران میں سفارتی عملے کو یرغمال بنانے والے بحران سے نمٹنے کے لیے ٹیکسوں کی رقوم کو بے دریغ لٹا کر اپنا مذاق بنوایا تھا۔ جلد ہی مجھے علم ہوا کہ ان دستاویزات کا تعلق ’اسٹار گیٹ پروگرام‘ سے تھا‘


یہاں حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سی آئی اے دس لاکھ سال پہلے مریخ پر کیا دیکھنا چاہتی تھی؟ سی آئی اے اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی اور اس تجربے میں جس ریموٹ ویوئر یا میڈیم کو استعمال کیا گیا اس کا نام ان دستاویزات سے کھرچ دیا گیا ہے تاہم ان دستاویزات میں جو کچھ اس میڈیم نے کہا وہ اس طرح درج ہے –


’جو کچھ میں نے اپنے ذہن میں دیکھا وہ قدرے ترچھی اشیاء تھیں جنہیں بے شک اہرام یا اہرامات کے سوا کچھ اور نہیں کہا جا سکتا۔ ان اہرامات کی بلندی نا قابل بیان تھی اور یہ نہایت نشیبی جگہ میں تعمیر کیے گئے تھے۔ میں نے دیکھا جیسے مریخ کے آسمان پر بادل اور مٹی کے عظیم طوفان تھے۔ میری ’باطنی‘ نظر جو کچھ دیکھ رہی تھی وہ مناظر ایک ایسی دنیا کے تھے جہاں نا قابل بیان قدرتی تباہی ہوئی تھی۔ میری نگاہ میں بار بار بہت بڑے قد و قامت کے ’لوگ‘ آ رہے تھے۔ وہ بہت ہی لمبے اور بہت دبلے پتلے تھے جنہوں نے عجیب طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھے‘


اس کے بعد ریموٹ ویوئر کے مطابق اس نے مریخ کی سطح پر بہت بڑی بڑی عمارات دیکھیں جنہیں کسی نہایت ذہین مخلوق نے تعمیر کیا تھا۔ ریموٹ ویوئر یا میڈیم کے مطابق –


’میں ایک بہت بڑی وادی کو دیکھ رہا ہوں جس کی ستواں دیورایں لگتا ہے اونچائی میں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور یہاں ایک عمارت سی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس وادی کی سخت پتھریلی چٹان سے بنی دیوار کو تراش کر کچھ بنایا گیا ہے۔ میری نظر ایک بار پھر بہت عظیم عمارتوں کو دیکھ رہی ہے جہاں بڑے بڑے ہم وار پتھروں کو تعمیر میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عمارت خرگوش کے بل کی طرح ہے جہاں کمروں کے کنارے انسانی تصور سے بھی بڑے ہیں۔ اس عمارت کی چھت فلک بوس ہے اور دیواریں نہایت چوڑی۔ ایک بہت طویل سڑک کے اختتام پر ایک عجیب و غریب اشارہ نصب ہے۔ کہیں عمارتیں ستونوں کی طرح ستواں ہیں اور کہیں کثیر تعداد میں اہرامات کی طرح۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں ریت کے طوفانوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا ہے۔ مگر یہ تمام کمرے خالی ہیں۔ شاید انہیں زندگیاں بچانے کے لیے طویل ترین نیند کی پناہ گاہ کے طور پر بنایا گیا ہے تا کہ جغرافیائی قدرتی آفات اور طوفانوں کے خاتمے کے بعد بیدار ہو کر ایک بار پھر زندگی معمول کی مطابق گزاری جا سکے۔ یہ نہایت ہی قدیم تہذیب ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ لوگ اور تہذیب بس نیست و نابود ہوا چاہتے ہیں۔ جو کچھ میری نگاہ میں ہے وہ ان کی عظیم تہذیب کی اختتامی جھلکیاں ہیں اور یہ لوگ اپنے گزرے ہوئے شان دار دنوں کو اب فلسفیانہ نکتہ نظر سے دیکھتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا ہے اور یہ صرف کسی نہ کسی طور اپنی زندگیاں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب کارِ محال ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان لوگوں نے کہیں اور رہنے کی جگہ تلاش کرنے کے لیے کسی گروپ کو روانہ کیا ہے۔ مگر اس سیارے پر پھیلی بربادی میری رگوں میں زہریلے تیروں کی طرح تیرنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ سیارہ بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے مگر کچھ ’لوگ‘ یہاں سے رہنے کی نئی جگہ ڈھونڈنے جا چکے ہیں‘


کیا سی آئی اے کے ریکارڈ سے برآمد ہونے والی یہ پراسرار ترین دستاویز سیارہ مریخ پر لاکھوں سال آباد کسی ذہین ترین مخلوق کے بارے میں پتہ نہیں دیتی جن کی تہذیب ماحولیاتی تباہی کے ہاتھوں بربادی کی دلدل میں ہمیشہ کے لیے ڈوب گئی مگر کیا ایسا نہیں لگتا کہ اسی بربادی نے اس تہذیب کے ’لوگوں‘ کو زندہ رہنے کے لیے کسی نئی دنیا کی تلاش پر مجبور کیا ہو؟ کیا وہ نیا سیارہ زمین نہیں ہو سکتی؟ بے شک یہ تصور اپنے آپ میں نہایت ہی غیر معمولی اور اذہان کو تھر تھرا کر رکھ دینے والا ہے مگر کیا ہمیں اس نظریے سے جان بوجھ کر آنکھیں چرائے  گزر جانا چاہیے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس کو جواب قاری کو اب خود تلاش کرنا ہو گا۔