Research Finds Vaping & Coronavirus Deeply Interlinked -

ویپنگ کورونا کو مقناطیس کی طرح کشش کرتی ہے

ای سگریٹ نوجوانوں کے پھیپھڑوں پر اس قدر زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت ایسے افراد بہت جلد کورونا وائرس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اسٹینفورڈ اسکول آف میڈیسن کے محققین نے اب یہ بات ثابت کر دی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت ای سگریٹ پینے والے نوجوان کورونا وائرس سے زیادہ اور شدت سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسا پہلی بار  ہوا ہے کہ اسٹینفورڈ اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر بونی ہالپرن فیلشر کی سربراہی میں معالجین کی ایک ٹیم نے اعداد و شمار کا موازنہ کر کے یہ ثابت کیا ہے۔ یہ تحقیقی نتائج گیارہ اگست کو جرنل آف ایڈولیسینٹ ہیلتھ میں شائع کیے گئے۔

کورونا کی علامات پانچ گنا زیادہ

اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کووڈ انیس سے جو افراد متاثر ہوئے، ان میں سے ای سگریٹ پینے والوں میں عام مریضوں کی نسبت کورونا کی علامات تقریباﹰ پانچ گنا زیادہ تھی۔ اس ریسرچ کے مطابق اگر کوئی شخص ای سگریٹ پیتا ہے اور کووڈ انیس سے بھی متاثر ہو گیا ہو، تو اس میں کھانسی، بخار، تھکاوٹ اور سانس لینے کے مسائل دیگر مریضوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔

پہلے سے کمزور پھیپھڑے

ایسے افراد جنہوں نے کورونا ٹیسٹ سے تیس دن پہلے سگریٹ یا ای سگریٹ پیے تھے، ان کے کووڈ انیس سے متاثر ہونے کا خدشہ دیگر افراد کی نسبت تقریباﹰ سات فیصد زیادہ تھا۔ اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو کورونا وائرس کے کم خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

اس مطالعاتی رپورٹ کی مرکزی مصنفہ شیوانی میتھور گیہا کہتی ہیں، ”نو عمر نوجوانوں اور لڑکوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ای سگریٹ کے دھوئیں سے براہ راست کووڈ انیس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘‘

ان کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زیادہ تر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ ان کی جواں عمری انہیں کووڈ انیس سے محفوظ رکھے گی لیکن اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے نوجوانوں پر یہ کلیہ صادق نہیں آتا، ”یہ خطرہ صرف ہلکا پھلکا نہیں رہتا بلکہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔‘‘

اس تحقیق کے لیے چار ہزار سے زائد ایسے نو عمر نوجوانوں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جن کی عمریں تیرہ سے چوبیس سال کے درمیان تھیں اور جو کوورنا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔