Saint Paul By Michael Hart In Urdu

دی ہنڈریڈ | چھٹا باب | سینٹ پال

 سینٹ پال حضرت عیسٰیؑ کے اس نوجوان ساتھی کا نام ہے جس نے عیسائی مذہب کے دنیا میں پھیلاؤ میں مرکزی اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چناں تمام عیسائی تعلیمات پر سینٹ پال کے اثرات دیگر عیسائی مصنفین اور اہل فکر سے زیادہ ثابت اور دور رس ہیں۔ سینٹ پال جسے سائول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے موجودہ ترکی اور اُس وقت کے سلیسیا کے شہر ٹارس میں عیسائی دور کے ابتدائی سالوں میں پیدا ہوا۔ رومن شہری ہونے کے ساتھ وہ پیدائشی یہودی تھا۔ پال نے اپنی جوانی میں عبرانی زبان کے ساتھ یہودی مذہب کی بہترین تعلیم حاصل کی اور خیمہ سازی کے فن میں بھی کمال حاصل کیا۔ ابتدائی جوانی میں وہ سینٹ ربی گمالیل سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے یروشلم گیا جو یہودی مذہب کے ایک ممتاز عالم تھے۔ اگر چہ پال جس وقت یروشلم گیا اس وقت وہاں حضرت عیسٰیؑ بھی موجود تھے مگر یہ بات ثابت نہیں کہ آیا کہ ان دونوں کی ملاقات ہوئی یا نہیں۔ چوں کہ حضرت عیسٰیؑ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ابتدائی دور میں عیسائیوں کو کافر قرار دے دیا گیا تھا اس لیے اس مذہب کے ماننے والوں نے شدید تکلیفیں سہیں۔ کچھ عرصے تک عیسائیوں کے خلاف مظالم میں سینٹ پال نے بھی حصہ لیا مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ دمشق کی جانب سفر کے دوران اسے ’کشف‘ ہوا جس میں حضرت عیسٰیؑ نے پال سے گفتگو کی جس کے بعد وہ ایک راسغ العقیدہ عیسائی بن گیا۔ یہ پال کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہی پال جو کبھی عیسائیت کا بدترین مخالف تھا اس نئے مذہب کی تبلیغ و فروغ میں نہایت اہم اور پراثر شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پال نے بعد ازاں اپنی تمام زندگی عیسائیت کے بارے میں لکھنے اور سوچ و بچار کرنے میں گزاری اور لوگوں کے ایک اکثریت کو اس نئے مذہب میں شامل کیا۔ پال نے اپنی تبلیغی کاوشوں کے سلسلے میں کثرت سے ایشیائے کوچک، یونان، شام اور فلسطین کے سفر کیے تاہم اسے یہودیوں کو عیسائیت کی طرف لانے میں یہاں تک ناکامی ہی کا سامنا ہوا کہ شدید مخالفت کے باعث اس کی جان کے بھی لالے پڑ گئے مگر دوسری طرف غیر یہودیوں کو عیسائیت کی جانب متوجہ کرنے میں اسے اتنی غیر معمولی کام یابی ہوئی کہ بسا اوقات اسے ’غیر یہودیوں کے حواری‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ دنیائے عیسائیت میں کسی دوسرے شخص نے اس نئے مذہب کی ترویج میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو سینٹ پال کا ہے۔ رومن سلطنت کے مشرقی علاقوں میں تین طویل تبلیغی سفر کرنے کے بعد پال جب یروشلم واپس آیا تو اسے گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے اسے روم بھیج دیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس مقدمے کا انجام کیا ہوا اور یہ کہ وہ کبھی روم سے واپس آیا یا نہیں تاہم تقریباً 64 بعد مسیح میں اسے روم کے قریب سزائے موت دے دی گئی۔ عیسائیت کے ارتقا پر پال کے ان مٹ اثرات کی بنیاد تین نکات پر ہے: اول، بطور مبلغ اس کی زبردست کام یابیاں؛ دوم، اس کی تحریریں جن کا عہد نامہ جدید کی تحریر میں اہم کردار ہے اور سوم، عیسائی الہٰیات کی تشکیل میں اس کا کردار۔ عہد نامہ جدید کے کل 27 ابواب میں سے کم از کم 14 سینٹ پال کے تحریر کردہ ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ جدید مفکرین کا ماننا ہے کہ ان میں سے صرف چار یا پانچ ابواب ہی در اصل دوسرے لوگوں کے تحریر کردہ ہیں اور یہ امر بالکل واضح ہے کہ سینٹ پال ہی عہد نامہ جدید کی تصنیف میں واحد اہم ترین منصنف ہے۔ چناں چہ عیسائیت پر پال کے اثرات کا تعین ممکن نہیں۔ اس کے عقائد ان تصورات پر مبنی ہیں: حضرت عیسٰیؑ صرف پیغمبر ہی نہیں بلکہ در حقیقت ایک آسمانی وجود تھے۔ حضرت عیسٰیؑ نے ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے صلیب پر جان دی اور ان کی تکلیفات ہماری نجات ابدی کا ذریعہ ہیں۔ انسان صرف بائبل کی تعلیمات پر علم پیرا ہو کر نجات اخروی حاصل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لائے کیوں کہ جب  کوئی حضرت عیسٰیؑ پر ایمان لاتا ہے تو اسے نجات مل جاتی ہے۔ اسی طرح پال نے ’گناہ حقیقی‘ کے عقیدے کو بھی واضح کیا۔ (رومی: 5:12-19)۔ چوں کہ صرف الہامی قانون کی اطاعت سے نجات ممکن نہیں، اس لیے پال نے زور دیا کہ عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں پر لازمی نہیں کہ وہ یہودی مذہب کی کھانے پینے سے متعلق پابندیوں کی اطاعت کریں یا شریعت موسویؑ کا اتباع کریں یہاں تک کہ اس نے ختنہ کو بھی غیر ضروری قرار دے ڈالا۔ چناں چہ اکثر اولین عیسائی رہ نمائوں نے پال کے اس نقطہ نظر سے شدید اختلاف کیا اور اگر ان کے نظریات کی پیروی کی جاتی تو غالب گمان ہے کہ عیسائیت سلطنت روما میں اس تیزی سے نہیں پھیل سکتی تھی۔ پال نے کبھی بھی شادی نہیں کی اور اگر چہ اس بات کو ثابت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں مگر پھر بھی باور کیا جاتا ہے کہ پال نے کبھی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ چوں کہ عورتوں اور جنس کے بارے میں پال کے ذاتی تصورات نے عہد نامہ جدید میں جگہ پالی تھی اس لیے بعد ازاں لوگوں پر ان کے شدت کے ساتھ نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس حوالے سے اس کا مشہور قول ہے: ’اگرچہ غیر میں شادی شدہ افراد اور بیوائوں سے کہتا ہوں کہ ان کے لیے وہ ہی راہ بہتر ہے جس پر میں چل رہا ہوں مگر اگر وہ ایسا نہ کر پائیں تو پھر چاہیے کہ وہ شادی کر لیں کیوں کہ ابدی آگ میں جلنے کی نسبت رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا بہتر ہے‘۔ (کورنتھیانز 8:9-7)۔ تاہم پال خواتین کے درست طرز عمل پر بھی یقین رکھتا تھا مگر پھر بھی اس نے کہا – عورت کو چاہیے کہ وہ خاموشی اور اطاعت کے ساتھ سیکھے کیوں کہ میں عورت کو معلم بننے اور مرد پر اپنے اختیارات چلانے کی اجازت نہیں دیتا اور میری تعلیم یہ ہی ہے کہ عورت کو (مرد کے سامنے) خاموش ہی رہنا چاہیے کیوں کہ آدمؑ کو حواؑ سے پہلے پیدا کیا گیا ہے۔ (I-Timothy 2:11-13)۔ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ پال کے یہ ہی نظریات کورنتھیانز میں بیان کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ یہاں سینٹ پال نے وہ نقطہ نظر پیش کیا ہے جس پر اس کے متعدد ہم عصر یقین رکھتے تھے۔ مگر قابل تذکرہ بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ نے کہیں بھی ایسے تصورات و نظریات پیش نہیں کیے مگر پھر بھی سینٹ پال نے تن تنہا عیسائیت کو محض ایک یہودی فرقے سے دنیا کے ایک عظیم مذہب میں تبدیل کر دیا۔ حضرت عیسٰیؑ کے آسمانی وجود ہونے کی بابت سینٹ پال کے مرکزی تصورات اور محض عقیدے کی بنیاد پر نجات کا عقیدہ صدیوں تک عیسائیت میں بنیادی حیثیت کا حامل رہا اور بعد کے تمام اہم عیسائی علماء جیسے اگسٹائن، تھامس اکوئینیس، لوتھر اور کالوین وغیرہ سینٹ پال کی تحریروں سے شدید متاثر تھے۔ سینٹ پال کے تصورات کا اثر اتنا وزنی ہے کہ بعض مفکرین نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ حضرت عیسٰیؑ کو نہیں بلکہ سینٹ پال کو عیسائی مذہب کا بانی سمجھنا چاہیے اگرچہ یہ نظریات خاصے شدت پسندانہ ہیں تاہم سینٹ پال کے اثرات حضرت عیسٰیؑ کے برابر نہ بھی ہوں تب بھی عیسائی دنیا پر اس کا اثر دیگر کسی بھی عیسائی عالم کی نسبت سب سے زیادہ ہی رہے گا۔