Satanic dream portal to hell

خوف ناک خواب

آج شب میرا چار سالہ بیٹا جب جاگا تو اس کے بال سفید ہو چکے تھے فلپ کئی ہفتوں سے کہہ رہا تھا کہ اسے خوف ناک خواب آ رہے ہیں اور میری بیوی کا خیال تھا کہ ہمیں اسے کسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے مگر میں لزا کی اس بات سے متفق نہیں تھا کیوں جب میں فلپ کی عمر کا تھا تو مجھے بھی ڈرائونے خواب آیا کرتے تھے اور یہ خواب اتنے وحشت ناک ہوتے تھے کہ آج بھی میں ان کا تصور کر کے کانپ جاتا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ فلپ اس معاملے میں اپنے باپ یعنی مجھ پر گیا ہے مگر ایک رات فلپ کی ہیبت ناک چیخیں سن کر بالآخر میں لزا کی بات ماننے پر تیار ہو گیا۔ میں کسی صورت میں گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ننھا فلپ ہر رات ایک ایسی دہشت کا سامنا کرے جو اس کے فہم سے بعید تھی، مگر نفسیاتی معالج کے پاس جانا بھی محض وقت اور پیسے کا ضیاع ثابت ہوا۔  ۔ بچوں کے ماہر نفسیات نے ہمیں یہ یقین دلانے کی پوری کوشش کی کہ کچھ بچے کچھ زیادہ ہی تخلیقی خیال آرائی کے مالک ہوتے ہیں۔ ’میں جانتا ہوں یہ بات آپ لوگوں کے لیے بہت تشویش ناک ہے مگر خود میری بیٹی نٹالی بھی ٹی وی پر کچھ ڈرائونے پروگرام دیکھنے کے بعد رات کو بری طرح خواب میں ڈر جاتی ہے۔‘ ماہر نفسیات نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر کا خیال تھا کہ چوں کہ فلپ اپنی زندگی میں کسی سانحے سے نہیں گزرا اس لیے وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف اس کے ڈرائونے خوابوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا بلکہ ان سے اس کی آئندہ زندگی پر بھی کوئی برا اثر نہیں پڑے گا۔ اس مشورے پر ہمارے 650 ڈالر [تقریباً 7 ہزار روپے] خرچ ہوئے۔  ۔ ہم خاموشی سے گھر واپس آئے اور وقت پہلے کی طرح گزرنے لگا۔ فلپ دن بھر محبت، رحم دلی اور معصومیت کا برتائو کرتا تھا مگر اندھیرا چھاتے ہی وہ متفکر ہو جاتا تھا جو ایک چار سالہ بچے کے لیے نا ممکن سی بات ہے۔ ایسا لگتا تھا  جیسے اسے اچھی طرح پتہ ہو کہ اب بھیانک ترین وقت شروع ہونے ہی والا ہے۔ اس رات سوا تین بجے کے قریب لزا نے فلپ کے کمرے سی آتی اس کی چیخیں سنی اور وہ دوڑتی ہوئی وہاں گئی کیوں کہ آج رات یہ فرض انجام دینے کی باری اس کی تھی۔ ہمارے کمرے میں اندھیرا تھا اور میں فلپ کے دوبارہ سونے اور لزا کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا مگر آج کی رات ماجرا کچھ اور تھا۔ فلپ نے چیخنا بند نہیں کیا بلکہ الٹا چیخوں میں شدت آ گئی کیوں کہ اس کے ساتھ اب لزا بھی چیخ رہی تھی۔ میں چھلانگ مار کر بستر سے اترا اور ہال میں کسی خوف زدہ ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا فلپ کے کمرے کی جانب بھاگا۔ فلپ کے کمرے میں لائٹ جل رہی تھی اور ابھی میری آنکھیں روشنی میں دیکھنے کے قابل نہیں ہوئی تھیں۔ ہر چیز گویا ایک دھند میں لپٹی ہوئی تھی اور کچھ دیر تک میرا ذہن کچھ نہیں سمجھ سکا۔ تھوڑی دیر بعد میری آنکھیں دیکھنے کے اور میرا ذہن سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے دیکھا کہ لزا نے فلپ کو سینے سے لگایا ہوا تھا اور وہ کچھ مختلف دکھائی دے رہا تھا۔ سانس میرے حلق میں اٹک گئی ۔ ۔ ۔  ۔ میرے بیٹے کے بالکل سیاہ بال اس وقت چمک دار سرمئی رنگ میں تبدیل ہو گئے تھے اور لزا کے گہرے رنگ کے نائٹ گائون کی وجہ سے اچھی طرح نمایاں ہو رہے تھے۔ میں نے اکھڑی اکھڑی آواز میں لزا سے پوچھا کہ ہوا کیا ہے۔ لزا نے سسکیاں بھرتے ہوئے جواب دیا کہ جب وہ فلپ کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی یہ ہی حالت تھی۔ ’ہمیں فوراً اسپتال جانا ہوگا‘ لزا نے کہا۔ اس بار میں نے کوئی بحث نہیں کی اور فلپ کو لے کر اسپتال پہنچ گئے۔ ڈاکٹر فلپ کی حالت دیکھ کر ششدر رہ گئے جب کہ نرسوں کے چہرو ں سے خوف جھلک رہا تھا اور ہم دونوں میاں بیوی کا وہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ ۔ ۔ فلپ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہ ہماری زندگی کا سب سے مشکل ترین پہلو تھا۔ بے شک فلپ کو ڈرائونے خواب آتے تھے مگر وہ لا محدود نہیں تھے اور سورج نکلتے ہی ختم ہو جاتے تھے مگر اس وقت اسپتال میں فلپ کے خوف کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ ڈاکٹروں اور ماہرین کی ایک پوری ٹیم نے اسے چیک کرنے کے لیے ہماری گود سے لے لیا۔ فلپ بس ایک جگہ بیٹھا سسکیاں بھر رہا تھا اور اس کی آنکھیں مستقل ہم دونوں پر جمی تھیں۔ اگر اس کے ذہن میں دھوکے کا تصور ہوتا تو وہ بلا شبہ یہ ہی سوچ رہا ہوتا کہ ہم نے اسے دھوکے سے ڈاکٹروں کے حوالے کیا ہے۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ میڈیکل سائنس کے مطابق فلپ کو کوئی جسمانی عارضہ نہیں تھا اور وہ مکمل طور پر فٹ تھا مگر ’ماہرین‘ سمجھنے سے قاصر تھے کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔  ۔ تمام تر ٹیسٹوں اور ہر طرح کی تفصیلی جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ وہ فلپ کی نیند میں کیفیات کا مطالعہ کریں گے۔ لزا اور میرے پاس ظاہر ہے ان کی بات ماننے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔ ہم فلپ کو گھر واپس لے گئے اور ہر ممکن کوشش کی کہ وہ خود کو محفوظ اور پر سکون محسوس کرے۔ مجھے امید تھی کہ وہ جلد سو جائے گا کیوں کہ وہ بہت تکھا ہوا نظر آ رہا تھا اور بالوں کے رنگ کی تبدیلی نے اسے نہایت خوف زدہ بھی کر دیا تھا۔ اسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے آپ کسی تھکے ہوئے بڑی عمر کے خوف زدہ شخص کو دیکھ رہے ہوں مگر میرا خیال غلط تھا۔ اس واقعے نے اس کے ذہن پر شدید دبائو ڈالا تھا اور اسے کسی طور نیند نہیں آئی۔ مگر لزا کا خیال تھا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کیوں اس طرح آج رات وہ ٹیسٹ کے لیے جلد سو جائے گا۔ مجھے پتہ تھا وہ درست کہہ رہی ہے مگر فلپ کے چہرے پر پھیلا خوف میرے لیے نا قابل برداشت تھا۔ اس رات نو بجے ہم نے ایک بار پھر اسپتال کا رخ کیا۔ ڈاکٹروں نے فلپ کے بدن سے بے شمار تار منسلک کر دیے تھے جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ فلپ بھی خوف زدہ اور الجھا ہوا تھا مگر اس کے ساتھ وہ بری طرح تھکا ہوا بھی تھا۔ اس نے لزا سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اس کی پلکیں بند ہونے لگیں اور وہ جلد گہری نیند میں چلا گیا۔  ۔ لزا فلپ کا ہاتھ تھامے اس کے بستر کے برابر بیٹھی تھی جب کہ میں کنٹرول روم میں دو ڈاکٹروں کے ساتھ تھا جو مشینوں پر اس کے جسم سے ملنے والے اشارات دیکھ رہے تھے۔ ’جب تک آپ کا بچہ ریم سلیپ میں نہیں چلا جاتا اس وقت تک کسی بات کے سامنے آنے کی توقع نہیں ہے‘ ایک ڈٓاکٹر نے مجھ سے کہا۔ یہ میرا بیٹا ہے میں نے اپنے آپ کو سمجھایا مگر میری نظریں برقی اسکرینوں پر جمی تھیں جہاں فلپ کے دماغ میں پیدا ہونے والی لہریں دکھائی دے رہی تھیں۔ ڈاکٹروں کے چہرے پرسکون تھے جس سے میرے اندر بھی امید کی ایک قوی لہر پیدا ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد لزا بھی کمرے میں آ گئی اور ہم ایک گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ مگر ایک گھنٹے بعد مجھے ایسا لگا جیسے میری آنکھیں بھی نیند سے بند ہو رہی ہوں مگر یک لخت میری نظر شیشے کے پار بستر پر سوئے فلپ پر پڑی جو دھیرے سے کسمسا رہا تھا۔ میں نے فوراً اسکرین کی طرف دیکھا جہاں اوپر نیچے ہوتی لہریں اس بات کا اظہار تھیں کہ اس کے ذہن میں خوابوں کی تحریک شروع ہو گئی ہے۔  ۔ ’فلپ ریم سلیپ میں پہنچ گیا ہے‘ ایک ڈاکٹر نے با آواز بلند اور کہا پھر لزا سے باتیں شروع کر دیں۔ حالات کو پرسکون دیکھ کر میں نے کرسی کی پشت پر ٹیک لگائی اور کچھ دیر کے لیے سو گیا۔ اچانک کمرے میں آوازوں کی تیز بھن بھناہٹ نے مجھے بیدار کر دیا۔ ڈاکٹر اور لزا اب باتیں نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اسکرینوں کے قریب گھسے انہیں بغور دیکھ رہے تھے۔ فلپ کے دماغ میں اٹھتی لہریں نہایت بلند تھیں اور انتہائی تیزی سے ان کا انداز مسلسل تبدیل ہو رہا تھا۔ یکایک فلپ نے چیخنا شروع کر دیا۔ میں اپنے قدموں پر اچھلا اور لزا سے ٹکرا کر گر پڑا کیوں کہ وہ بھی دوڑتی ہوئی فلپ کے کمرے میں جانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ’نہیں نہیں اسے سونے دو۔ ۔ ۔ ہمیں فلپ کی دماغی کیفیت کا ابھی اچھی طرح مطالعہ کرنا ہے۔‘ ایک ڈاکٹر نے ہمیں روکتے ہوئے ہدایت کی۔ مجبوراً ہم دونوں میاں بیوی اپنی جگہ پر رک گئے اور میں نے لزا کو بانہوں میں بھر لیا کیوں کہ اب فلپ بستر پر مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے خوف ناک انداز میں چیخیں مار رہا تھا۔ دونوں ڈاکٹر جس ’انگریزی‘ میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے وہ ہمارے فہم سے باہر تھی مگر ان کے تجسس کا پیمانہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ میں ان دونوں کی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ فلپ کی حالت کتنے خطرے میں ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ دونوں ڈاکٹروں کی اسکرینوں کو تکتی آنکھیں حیرت میں حد سے زیادہ پھیل رہی ہیں تو میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔ ۔ ۔  ۔  پانچ منٹ تک چیخنے چلانے کے بعد فلپ خاموش ہو گیا۔ میں نے ایک اطمینان بھری سانس لی۔ فلپ نے اپنی آنکھیں کھولیں اور میں نے سوچا شاید ٹیسٹ ختم ہو گیا ہے۔ ’وہ جاگ گیا ہے –  کیا میں اب اسے جا کر دیکھ سکتی ہوں؟ لزا نے پوچھا مگر ایک ڈاکٹر نے جواب دیا کہ نہیں وہ ابھی بھی سو رہا ہے کیوں کہ آلات کے مطابق وہ ریم سلیپ کی کیفیت میں تھا۔ میں نے ایک اور آہ بھری اور سوچا خدا کرے یہ ٹیسٹ جلد ختم ہو جائے۔ ریم وہ کیفیت ہوتی ہے جب کوئی شخص سوتے میں خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یک لخت ایک ڈاکٹر کچھ کہتے کہتے رک گیا اور ہم چاروں کی ایک نظر ایک ساتھ شیشے کے پار لیٹے فلپ پر پڑی جو اس طرح منہ کھول رہا تھا جیسے پھر چیخنے والا ہو مگر اس بار وہ خاموش رہا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا سینہ اندر کو دب رہا تھا جیسے وہ ایک گہری سانس لے رہا ہو مگر اسکرین پر اس کی دماغی لہریں ایک دم بلند ہو گئیں۔ ۔ ۔  ۔ دوسری طرف فلپ کا منہ کھلتا ہی چلا گیا اور جب اس کے جبڑے کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی تو لیزا نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ڈاکٹر فلپ کے روم کی طرف بھاگے۔ ان کے پیچھے پیچھے لزا بھی تھی مگر میرے قدموں نے حرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ ۔ ۔ میں نے اسکرین پر لہروں کے درمیان بہت کچھ دیکھ لیا تھا ۔ ۔ ۔  ۔  لزا اور ڈاکٹر فلپ کو جگانے کی کوشش کر رہے تھے جب کہ میری نظریں بے یقینی کے عالم میں مانیٹر کی اسکرین پر جمی تھیں جہاں بے ترتیب آڑھی ٹیڑھی اوپر نیچی ہوتی لہروں کے درمیان ایک ہیولہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ یہ ہیولہ بار بار اپنی جگہ بدل رہا تھا اور اس کی صورت مسلسل دھندلی اور صاف ہو رہی تھی مگر میری آنکھیں جس چیز کو دیکھ رہی تھیں وہ ایک نہایت مکروہ اور غراتی ہوئی شکل تھی ۔ ۔ ۔  ۔ آسمانی صحائف میں اس ’شے‘ کا نام ابلیس ہے اور وہ جس مقام پر تھا وہ بلا شبہ جہنم تھی۔

 ختم شد