Warning Sent from Future

ماضی سے مستقبل میں بھیجی گئی تنبیہ

یہ 2078 عیسوی ہے۔ اس دور میں اگر چہ وقت میں سفر کرنا (ٹائم ٹریول) ایک حقیقت ہے مگر یہ اس طرح نہیں ہے جیسا کہ آپ 21 ویں صدی کی سائنس فکشن فلموں میں دیکھا کرتے ہیں۔ چناں یہ بات ابھی بھی ایک افسانہ ہی ہے کہ ایک انسان کسی مشین میں داخل ہو اور ماضی میں پہنچ جائے۔ یہ ایک نا ممکن بات ہے۔ ہم وقت کے سفر پر صرف معلومات بھیج سکتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ بات 2018 میں آپ لوگوں کے لیے بھی کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اگر آپ اس معلومات کو انٹرنیٹ پر تلاش کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے سائنس دان بنیادی بائنری معلومات کو وقت کے سفر پر بھیجنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آج 2078 میں اس ٹیکنالوجی کو وجود میں آئے 10 سال گزر چکے ہیں مگر اس سے چند لوگ ہی واقف ہیں اور محض گنتی کے چند ماہرین کو ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ظاہر ہے عام نہیں کی جا سکتی۔ مگر ابتدائی تجربات کے دوران ہی حالات جہنم سے بد تر ہو گئے اور اب میں ان چند لوگوں میں ایک ہوں جو اس ٹیکنالوجی پر کام کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کس طرح کام کرتی ہے؟ اس بارے میں گفتگو کرنا لا حاصل ہے۔ آپ 17ویں صدی میں رہنے والے کسی شخص کو کبھی بھی یہ بات نہیں سمجھا سکتے کہ ایک اسمارٹ فون کس طرح کام کرتا ہے۔ انسانی عقل بتدریج ارتقا کے ذریعے ہی کائنات کے راز سمجھ سکتی ہے۔ اگر چہ اس ٹیکنالوجی پر تجربات کام یابی سے مکمل کر لیے گئے تھے لیکن ابھی تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا جس سے ماضی میں فی الواقع کوئی تبدیل کر کے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑا جا سکے کیوں کہ ماہرین اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ مگر آج میں جس دور میں زندہ ہوں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ برے حالات کبھی نہیں ہو سکتے۔ یہ حالات 2071 میں خراب ہونا شروع ہوئے۔ مگر آپ کو مکمل طور پر بات سمجھانے کے لیے میرا خیال ہے میں آپ کو تھوڑا بہت اپنے دور کی دنیا کے بارے میں بتائوں۔ لوگ مستقبل کے بارے میں ایک رومانوی سا تصور رکھتے ہیں اور بلا شبہ 2071 تک ہر چیز بہت بہتر تھی۔ میرا تعلق امریکا سے ہے اور میں صرف یہیں کے حالات سے واقف ہوں کیوں کہ میں جس دور میں بڑا ہوا ہوں وہاں لوگ تاریخ بہت کم پڑھتے ہیں ۔ ۔ ۔  میری تحقیق کے مطابق ایک بزنس مین ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت امریکا کا صدر ہے۔ وہ کوئی تاریخی شخصیت نہیں ہے اور دوسری بار منتخب نہیں ہو سکے گا مگر اپنی حمایت یا مخالفت ک اعتبار سے وہ ایک مکمل طور پر غیر اہم شخص تھا۔ 2020 میں امریکا میں میڈیا کے حوالے سے اصلاحات ہوئیں جن کی وجہ سے بڑے نیوز چینل کی آمدنی پر زبردست کمی ہوئی۔ اس طرح عام آدمی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے میڈیا نے ہیجان خبز انداز میں خبریں دینے کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا جس سے عوامی شعور آور آگہی میں اضافہ ہوا اور لوگوں نے خوشی سے ماحولیاتی اصلاحات کو قبول کر  لیا۔ 2040 رواں صدی کا وہ پہلا عشرہ تھا جب عالمی درجہ حرارت اور دنیا کی آبادی میں کمی شروع ہوئی۔ قطبین پر جمی برف کبھی نہیں پگھلی جس کا 21 ویں صدی میں بہت زیادہ واویلا کیا جا رہا تھا اور نہ ہی کسی نوعیت کے موسمی تغیرات رو نما ہوئے۔ جہاں تک عالمی سیاست کا تعلق ہے امریکا 2071 میں بھی عالمی طاقت تھا۔ چین معاشی طور پر امریکا کے قریب پہنچ گیا تھا مگر عسکری اعتبار سے ابھی بھی پیچھے تھا۔ روس اور اس کے جوہری ہتھیاروں کا ڈھیر جوں کا توں موجود ہے۔ یورپ مزید ریاستوں میں تقسیم ہو گیا ہے مگر برازیل اور ارجنٹائن اس وقت معاشی طور پر مکمل ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ بھارت نے پاکستان پر 2030 میں حملہ کیا جس کا نتیجہ جوہری جنگ کی صورت میں نکلا اور دونوں ممالک معاشی طور پر بد ترین حالات کی گود میں جا گرے مگر پاکستان نے بھارت کا بڑے پیمانے پر صفایا کر دیا۔ میرا خیال ہے سیاست کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے اور اب میں آپ کو دیگر چیزوں کے بارے میں بتاتا ہوں مثلاً انٹرٹیمنٹ کے ذرائع نے تفریح کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے مگر اس تنبیہ کا مقصد آپ کو اس بارے میں بتا کر حیران کرنا نہیں۔ اگر آپ اس طرح کی دوسری باتوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کمینٹس سیکشن میں سوال پوچھ سکتے ہیں اور میں وہاں ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا کیوں کہ یہاں میرے پاس اب کرنے کے لیے کچھ اور کم ہی بچا ہے ۔ ۔ ۔  2071 وہ سال ہے جب تباہی کا آغاز ہوا ۔ ۔ ۔  بات دماغی بیماری سے شروع ہوئی اور زیادہ تر ایسے لوگوں میں جن میں اس نوعیت کی علامات پہلے کبھی نہیں پائی گئی تھیں۔ شروع میں کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اصل وجہ کیا تھی مگر کافی بعد میں پتہ چلا کہ یہ مریض انسانوں میں ’پاگل گائے کی بیماری‘ سے مشابہ تھا۔ اس کا سبب 2017 میں میڈ کائو ڈیزی کی ایک وبا سے تھا ۔ ۔ ۔  جی ہاں آپ نے تاریخ بالکل درست پڑھی ہے ۔ ۔ ۔  اس سال بڑے بڑے گوشت فراہم کرنے والے اداروں میں گائیں اس بیماری میں مبتلا ہو گئی تھیں مگر ایک تو اس وبا کے نتائج کو بالکل غلط طور پر سمجھا گیا اور دوئم کارپوریٹ سیکٹرز کو بچانے کے لیے اس بات کو عوام تک نہیں پہنچنے دیا گیا اور اس سے پہلے کہ کوئی اس بارے میں کچھ کرتا دنیا میں گائے کے گوشت کا 30 فی صد حصہ اس بیماری سے آلودہ ہو چکا تھا اور اس وقت تک گوشت کو مارکیٹ سے اٹھا کر تلف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب ہے 2017 میں لوگ بڑے پیمانے پر اس بیماری کی زد میں آئے مگر یہ مرض انسانی جسم میں جا کر 50 سالوں کے لیے خوابیدہ ہو گیا۔ آپ میں سے زیادہ تر لوگ 50 سال بعد اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہیں مگر اصل المیہ یہ ہے کہ آپ سے یہ بیماری آپ کے بچوں اور ان پھر ان کے  بچوں میں مکمل طور پر منتقل ہو چکی ہے۔ اس دوران کسی کو شائبہ تک بھی نہیں گزرا کہ یہ مرض ہمارے جسموں میں خاموش پڑے رہنے کے علاوہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہا ہے۔ 2071 تک اس بیماری کے اکا دکا اور عام سے مریض سامنے آئے مگر 2071 میں گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔ دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ اچانک ذہنی بیماری کا شکار ہو گئے کیوں کہ یہ مرض دماغ کو کھا جاتا ہے۔ اس مرض کا شکار زیادہ تر ’ترقی یافتہ‘ ممالک کے لوگ ہوئے کیوں کہ 2017 میں ایسی ہی اقوام گوشت کا بڑے پیمانے پر استعمال کر سکتی تھیں۔ 2071 کے بعد شہروں کی گلیاں پاگلوں سے بھر گئیں۔ وہ لوگ جو اس سے پہلے ایک کام یاب اور تعمیری زندگی گزار رہے تھے اب مجذوبوں کی طرح نا قابل فہم الفاظ بڑبڑاتے ہوئے ہر وقت بے مقصد ادھر سے ادھر گھومتے نظر آتے تھے۔ شروع شروع میں ایسے افراد کو علاج کے لیے مختلف اداروں میں رکھا گیا مگر چند مہینوں کے اندر اندر ایسے مریضوں کی تعداد میں کروڑوں کا اضافہ ہو گیا اور اس وقت صورت حال بالکل ہی قابو سے باہر ہو گئی جب ان پاگلوں کی تعداد کل آبادی کے 15 فی صد سے زیادہ بڑھ گئی۔ اب ان لوگوں کے پاس جانے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ لوگوں نے شروع میں اپنے پیاروں کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر ظاہر ہے ان کے پاس ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا اور کچھ عرصے بعد جب مریضوں کی تعداد حد سے بڑھنے لگی تو یہ سلسلہ بھی موقوف ہو گیا۔ اب یہ ایک نا ممکن کام تھا۔ مگر جب پاگلوں کی تعداد کل آبادی کے نصف تک پہنچی تو امریکی معاشرہ بکھر کر ختم ہونے لگا تا ہم جب یہ تعداد 80 صد تک بڑھ گئی تو امریکا عملی طور پر ایک عظیم پاگل خانے میں بدل چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔    میں یہاں یہ بات واضح کردوں کہ یہ کوئی زومبی (زندہ مردے) قسم کی وبا نہیں تھی جس پر آپ کے زمانے میں ہالی وڈ مقبول ترین فلمیں بنا رہا تھا۔ 2071 کی وبا میں جو لوگ بیمار ہوئے وہ کسی بھی قسم کے تشدد کے قابل نہیں تھے اور بہت جلد پیاس اور بھوک کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتے تھے۔ یہ لوگ عام طور پر گلیوں میں بیٹھے رہتے تھے اور کبھی کبھی ذہنی الجھائو جیسی کیفیت میں نا قابل فہم الفاظ بڑبڑایا کرتے تھے۔ کچھ مریضوں میں ابھی بھی اتنا شعور تھا کہ وہ تباہ شدہ دکانوں سے کھانے پینے کی چیزیں ڈھونڈھ کر نکال لیتے تھے مگر زیادہ تر پاگل موت کے مہربان ہونے تک سڑکوں اور گلیوں میں نہایت قابل رحم حال میں ساکت پڑے رہتے تھے، مگر کچھ پاگلوں کا رد عمل بالکل مختلف بھی تھا۔ ایک بار میں ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک آدمی پر پڑی جو گلی کے وسط میں کھڑا حلق پھاڑ کر چلا رہا تھا۔ جب میں اس کے نزدیک پہنچا تو ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔ میں اس درد، الجھن اور دیوانگی کو قلم بند نہیں کر سکتا جو میں نے اس آدمی کی آنکھوں میں دیکھی۔ اس نے اپنے تیز ناخنوں سے اپنے چہرے کی کھال نوچنا شروع کر دی۔ اس کے چہرے سے خون کے قطرے ٹپکنے لگے اور اس نے اپنی انگلیوں سے اپنا ہی لہو چاٹنا شروع کر دیا مگر اس دوران وہ بدستور بری طرح چلا رہا تھا اور پھر اس نے اپنے چہرے کا گوشت کھانا شروع کر دیا۔ میں تیز قدموں سے وہاں سے نکل گیا۔ میں نے ایک او رشخص کو دیکھا جس نے کسی نہ کسی طرح اپنا پورا بازو شانے سے اکھاڑ لیا تھا۔ اس نے اس بازو کو دوسرے ہاتھ میں کسی ڈنڈے کی طرح تھاما ہوا تھا جس سے وہ دیگر پاگلوں کو مارتے ہوئے سڑک پر دوڑ رہا تھا۔ جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے سمجھ میں نہ آنے والے الفاظ میں چیخ کر کچھ کہا اور اپنے ہاتھ میں اس بازو کو بیس بال کے بیٹ کی طرح پکڑے کافی دیر تک لنگڑاتے ہوئے قدموں سے میرا پیچھا کرتا رہا۔ مگر سب سے زیادہ بری حالت بچوں کی تھی۔ انہیں جبلی طور پر پتہ تھا کہ وہ بہت بری حالت میں ہیں اور وہ ابھی بھی رویا کرتے تھے۔ نہ جانے کس طرح وہ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے اور دیوانگی کی حالت میں آواز سے آواز ملا کر بین کرتے تھے۔ میں ان کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ مگر ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ اس مرض کے ہاتھوں ایک نیم دیوانہ شخص ایسے بچوں کے ایک گروہ کی طرف دوڑا اور وہاں موجود ایک ایک بچے کو اٹھا کر پل سے نیچے پانی میں پھینکنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہ بری طرح چیخ چیخ کر ان سے خاموش رہنے کو کہہ رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ ہنستا تھا اور اپنے سر پر دو ہتھڑ مار مار کر روتا تھا اور خاص طور پر اس وقت جب بچے پانی میں ڈوب رہے ہوتے تھے۔ شاید اس کے اندر ابھی بھی عقل کے کچھ ذرات موجود تھے اور ممکن ہے وہ ان بچوں کو اس اذیت سے نجات دلانا چاہتا تھا یا پھر شاید یہ دیوانگی ہر قسم کی عقلیت سے ماورا تھی۔ بتانے کے لیے تفصیلات کا ایک انبار ہے مگر میری تحریر پہلے ہی کافی طویل ہو چکی ہے۔ مجھے نہیں پتہ اس وقت دنیا کے دوسرے حصوں میں کیا حالات تھے مگر اس بیماری کے با وجود امریکی حکومت مکمل طور پر ختم اور طاقت سے محروم نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اس بیماری سے بچ رہنے والوں کو اکٹھا کر کے دوسرے اہم شہروں میں اس توقع پر بھیجنا شروع کیا کہ شاید ہم معاشرے کو دوبارہ قائم کر پائیں ۔ ۔ ۔  یہ بچ رہنے والے لوگ ان لوگوں کی اولادوں میں سے تھے جنہوں نے 2017 میں گائے کا گوشت نہیں کھایا تھا اور اس کے علاوہ بہت تھوڑی تعداد میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن پر اس وبا کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا تا ہم ایسا کیوں ہوا تھا کوئی کبھی بھی اس راز کا سرا نہیں پا سکا۔ کچھ عرصے تک ایسا لگا شاید حالات پھر سے پہلے کی طرح معمول پر آجائیں گے کیوں ابھی بھی صرف امریکا میں 20 ملین کے قریب ایسے لوگ تھے جو اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے اور اب کوئی متاثرہ شخص زندہ بھی نہیں بچا تھا۔ شاید مصیت کے دن ختم ہونے والے تھے۔ مگر اچانک یہ مرض ہوا میں پھیل گیا اور پھر کچھ بھی نہیں بچا۔ بچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اب اس قیامت کے ٹوٹنے کے بعد میں ان چند لوگوں میں سے ایک ہوں جو اس وقت امریکی حکومت کے کچھ اراکین کے ساتھ ایک ہوا بند بنکر میں رہ رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں صرف ہم لوگ ہی زندہ بچے ہیں اور ہماری تعداد 30 کے آس پاس ہے۔ میں نہیں جانتا کہ مستقبل کو تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں کیوں کہ ابھی تک سائنس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ممکن ہے 2078 میں انسانی نسل کا خاتمہ ہو جائے اور اب یہ بات اٹل ہے کیوں کہ اب حالات کو بدلنا ممکن نہیں رہا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ ایک سال تک گائے کے گوشت سے پرہیز کریں۔ میری یہ تنبیہ ایک سچ ہے اور میری اس تحریر کا مقصد آپ کو سبزی خور بنانا نہیں کیوں کہ میں خود بھی گوشت کھاتا ہوں اور جانوروں کے ساتھ ظلم کے خلاف کام کرنے والی کسی غیر معقول تحریک کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا اور نہ ہی میں ہندو مت کا ماننے والا ہوں کہ اس طرح گائے کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کی کوشش کروں ۔ ۔ ۔  میں صرف ایک ایسا شخص ہوں جو انسانی تاریخ کے اختتام کو اپنی نظروں سے دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی اس کی کوشش ہے کہ نسل انسانی کو بچانے کے لیے وہ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کر پائے۔ آپ میری تنبیہ پر توجہ دیں یا نہیں میرا کام صرف آپ کو آگاہ کرنا تھا۔ کم ایک کم از کوشش مجھے کرنا ہی تھی جو میرا فرض تھی ۔ ۔ ۔

  ختم شد