Science Fiction Horror Film Men in Black in Urdu

مین ان بلیک


ترجمہ وتدوین ضُحٰی خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز

zoha@nayrang.com


میرے دادا کی عمر اس وقت 75 سال ہے جن میں سے 54 سال انہوں نے میری دادی کے ساتھ گزارے ہیں۔ دادا کی جب دادی سے ملاقات ہوئی تو ان کی عمر 19 اور دادی کی 21 سال تھی۔ دادی کے والدین نے دادا سے اپنی بیٹی کو ڈرائیونگ سکھانے کے لیے کہا تھا۔ دادا نے انہیں ڈرائیونگ سکھانا شروع کی اور چند مہینوں کے اندر وہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ شادی کے ابتدائی سالوں میں میرے انکل اور ڈیڈ کی پیدائش ہوئی۔ دادا اور دادی ایک دوسرے سے خاموش محبت کرتے تھے اور میں نہیں کبھی انہیں محبت کا مادی اظہار کرتے نہیں دیکھا اور میرا خیال ہے شاید ہی ان دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے ’میں تم سے محبت کرتا/کرتی ہوں‘ کا روایتی جملہ کہا ہو۔ وہ ایک دوسرے کو باس کہہ کر پکارتے تھے اور یہ ان کا محبت کا نام تھا جو انہوں نے اپنے لیے رکھ چھوڑا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں انہیں صرف ایک بار ہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دیکھا؍ مگر مجھے دادا کی دادی سے نا قابل فراموش محبت کا اندازہ گزشتہ سال اس وقت ہوا جب باتھ روم میں پھسل کر گرنے سے دادی کی کولہے کی ہڈی فریکچر ہو گئی۔ دادی کو فوراً ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں اچانک نمونیا ہو گیا اور اس سے پہلے ہم کچھ سمجھ پاتے دادی ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے جا چکی تھیں۔ یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا کہ ہمیں یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ دادی ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی ہیں؍ مگر دادا کی حالت بیان کرنے اور ان کا غم محسوس کرنے کے لیے پتھر کا کلیجہ چاہیے۔  ہسپتال سے واپسی پر انہوں نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اب کیا کریں کیوں کہ دادی ہی ان کا سب کچھ تھیں۔  میرے دادا اور دادی دونوں ہی پرانی وضع کے لوگ تھے۔ دونوں گھر سے بہت کم نکلتے تھے اور ایسا اس وقت ہی ہوتا تھا جب انہیں چرچ جانا ہو؍ گھر کا سودا سلف لینا ہو یا کبھی ڈاکٹر کے پاس جانا ہو۔ وہ دونوں ہی نہایت سادہ مزاج تھے؍ مگر تعلیم کی کمی کے با وجود ان کی شخصیت بہت نفیس تھی۔ مجھے دادا کی تنہائی کا اچھی طرح اندازہ تھا اس لیے میں اپنا سامان اٹھا کر دادا کے ساتھ منتقل ہو گیا اور گھر میں انٹرنیٹ وغیرہ لگوانے کے بعد مجھے یہاں رہنا بہت اچھا لگا۔ دادا کو میرے وہاں آنے سے بہت خوشی ہوئی۔ ہم دونوں مل کر باغ بانی کرتے تھے، کھانا پکاتے تھے اور ٹی وی پر اپنے پسندیدہ پروگرام بھی دیکھا کرتے تھے۔ دادا کی کیفیت پہلے سے کافی بہتر ہو گئی تھی؍ مگر ظاہر ہے میں دادی کا بدل تو ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔  دادا کو صبح جلد اٹھنے کی عادت ہے اورعام طور پر وہ صبح 5 بجے تک لازمی اٹھ جاتے ہیں؍ مگر ایک رات جب 2 بجے کے قریب میں باتھ روم جانے کے لیے اٹھا تو میں نے دیکھا کہ دادا کھڑکی میں کھڑے دور کہیں خلائوں میں تک رہے ہیں۔ میں داد کو اس حال میں دیکھ کر پریشان ہو گیا؍ کیوں کہ مجھے لگا جیسے وہ کسی بھی پل بس رو پڑیں گے۔ میں نے ان سے تھوڑی بہت بات کی اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں اور یہ کہ وہ صرف دادی کو یاد کر رہے تھا۔  ’آئی ایم سوری سن۔ تمہیں بلا وجہ پریشان کر دیا۔‘ انہوں نے مجھ سے کہا۔  ’مگر دادا مجھے لگتا ہے میں نے آپ کو چونکا دیا۔ سب ٹھیک ہے نا؟  مگر بجائے کوئی جواب دینے کے انہوں نے اچانک رونا شروع کر دیا۔ چناں چہ میں نے انہیں گلے سے لگا کر تسلی دی اور ساتھ ہی خود بھی رونے والا ہی تھا کہ یک لخت انہوں نے ایک بہت ہی عجیب سی بات کہی۔  ’تم جانتے ہو مجھے تمہاری دادی سے اتنی محبت کیوں تھی؟ ’دادا رہنے دیں آپ اور غم گین ہو جائیں گے۔‘ میں نے کہا۔  ’کیوں کہ اسے میری بات پر یقین تھا۔‘ دادا نے میرے جملے کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔  مجھے لگا دادا مجھ سے کوئی بات شیئر کرنا چاہتے ہیں اس لیے میں جواب میں کہا:  ’کس بارے میں دادا؟ اس کے بعد انہوں نے جو کہانی سنائی وہ میں ان ہی کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں:  یہ ایک عجیب سی بات ہے سن۔ تم شاید یہ بات سن کر مجھے دیوانہ خیال کرو گے؍ مگر تمہاری دادی کو میری بات پر پورا یقین تھا۔ جب میں نے اسے پہلی بار یہ بات بتائی تو اس نے بغیر کسی تردد کے اس کہانی کے ایک ایک لفظ پر یقین کر لیا۔ میں گزشتہ پچاس سالوں سے ہر رات اسی طرح اٹھ کر آسمانوں کو تکتا ہوں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہ وہاں ہے؟ یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہ میرا پتہ پا لے گا؟ مگر تمہاری دادی ہمیشہ مجھے تسلی دیتی تھی۔ وہ کہا کرتی تھی ’ٹام میں تمہارے پاس ہوں اور میرے ہوتے کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا‘۔ اور مجھے اس کی بات پر پورا یقین تھا؍ مگر سن وہ اب ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔  تمہیں پتہ ہے میری پیدائش ریاست ٹینسی کی ہے اور میں وہیں پلا بڑھا ہوں؍ مگر ہم وہاں کسی شہر میں نہیں بلکہ بالکل جنگلات کے کنارے رہتے تھے۔ اس جگہ کا نام مون شائن کائونٹی تھا۔ ہمارا گھر ایک گھر سے زیادہ جھونپڑی تھا اور یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میری عمر 15؍ 16 کے قریب تھی جس کے بعد ہم نے وہ جگہ چھوڑ دی۔ ہوا یہ کہ ایک دن میں جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا اور یہ گرمیوں کا ایک خوب صورت دن تھا۔ میرا بچپن ان جنگلوں میں گزرا تھا اور میں محض آواز سن کر بتا سکتا تھا کہ یہ کتنے بڑے جانور کی آواز ہے۔ چناں چہ جب میں نے وہ چیخ سنی تو مجھے ایک لمحے میں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کسی جانور کی آواز نہیں ہے۔ یہ ایک عورت کی چیخ تھی جو حلق پھاڑ کر چیخ رہی تھی اور میں نے اپنی زندگی میں پھر کبھی اتنی فلک شگاف چیخ نہیں سنی۔ میں نے سوچا شاید کوئی لڑکی کسی جانور سے خوف زدہ ہو کر چیخ رہی ہے یا پھر کسی ہائکر کا پیر ریچھ پکڑنے والے شکنجے پر پڑ گیا ہے۔ سن مجھے اس وقت کسی ایڈونچر میں پڑنے کی  کوئی ضرورت نہیں تھی؍ مگر میرا ذہن اس وقت کچا تھا اور بجائے اپنے کام سے کام رکھنے کے میں نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور اس سمت چل دیا جہاں سے یہ چیخ سنائی دے رہی تھی۔  دس منٹ بعد میرا گھر نظروں سے اوجھل ہو گیا اور میرے تمام حسیات کو غلیظ قسم کے اشارات سے ملنے لگے۔ جیسے آگے کوئی چیز مری پڑی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ چیخیں کسی لڑکی کی تھی تو وہ اتنی جلد مر کر گل سڑ نہیں سکتی تھی اور پھر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ آواز ہر گز کسی لڑکی کی نہیں تھی؍ کیوں کہ ایک بار پھر یہ چیخ میرے کانوں میں سنائی دی؍ مگر اس بار یہ بہت بلند تھی اور مجھے ایسا لگا جیسے یہ میرے عقب سے اٹھی ہو۔ مڑ کر دیکھنے پر وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ کچھ قدم آگے بڑھنے کے بعد مجھے اس بدبو کا سبب دکھائی دیا۔ میری آنکھوں کے سامنے کم از کم 4؍ 5 بہترین اور نہایت طاقت ور کتے مردہ پڑے تھے ۔ ۔ ۔ جنہیں کسی نے نہایت بے رحمی سے روئی کی گڑیا کے طرح چیر پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ ان کتوں میں میرا کتا بھی شامل تھا۔ وہ کچھ ہفتے پہلے گھر سے بھاگ گیا تھا اور پھر واپس نہیں آیا تھا۔ ہم آج کے لوگوں کی طرح اپنے پالتو جانوروں کے پیچھے دیوانے نہیں تھے اس لیے ہم نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا۔ مگر پھر بھی اسے اس طرح موت نہیں آنی چاہیے تھی۔ اصل حیرت کی بات یہ تھی کہ صرف ایک مکمل نشو نما یافتہ کالے ریچھ کے بازئوں میں ایسا کرنے کی طاقت ہوتی ہے؍ مگر ظاہر ایک ریچھ کو ایسا کرنے کی کیا پڑی تھی؟ ریچھ کبھی بھی اپنے شکار کا اس طرح ڈھیر نہیں لگاتا اور اس سے بھی عجیب بات یہ تھی کہ ریچھ کبھی بھی کتے کا شکار نہیں کرتا۔ یہ ایک غیر فطری واقعہ تھا؍ بلکہ اسے شیطانی کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے مردہ کتوں کو ذرا قریب جا کر دیکھا اور پھر وہاں سے پلٹنے کا ارادہ کیا کیوں کہ سورج غروب ہونے والا تھا چناں چہ میں اپنی جگہ سے مڑا ۔ ۔ ۔  آج تک میں یہ بات نہیں جان سکا کہ وہ شے کس طرح بغیر کوئی آواز پیدا کیے میرے اتنے قریب آ گئی تھی، جب کہ میری ساری حسیں اس جنگل میں پروان چڑھی تھیں۔ وہ مجھ سے غالباً 10 فٹ دور ہو گا؍ مگر اس کا قد کسی طرح 9 فٹ سے کم نہیں تھا۔ چوں کہ وہ اپنی دو ٹانگوں پر کھڑا تھا اس لیے اسے ایک آدمی سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے جلد کی بیماری ہے کیوں کہ اس کے تمام جسم پر سفید فرکے دھپڑے سے چپٹے ہوئے تھے۔ اس کا جسم ایسا تھا جیسے مرنے کے ایک یا دو ہفتوں بعد کسی انسان کا ہو جاتا ہے۔ وہ بالکل میری پشت کے پاس کھڑا تھا اور وہاں میری موجودگی پر انتہائی مشتعل دکھائی دیتا تھا۔ میں نے سوچا شاید وہ کتے اس کا کوئی راز تھے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی غلطی کر ڈالی ہے۔ یہ ہی وہ بلا تھی سن؍ جو اس جنگل میں اتنی بری طرح چیخ رہی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں اس سے بچ کر نہیں بھاگ سکتا اس لیے میں کلہاڑی کو اپنے ہاتھوں میں تولا اور اس مخلوق نے ایک اور فلک شگاف چیخ ماری۔ ۔ ۔  ’آرام سے؍ آرام سے؍ میں جا رہا ہوں یہاں سے۔‘ میں نے اس سے کہا۔  میں نے ایک قدم پیچھے ہٹایا اور وہ پھر چیخا۔ اس بار میں نے آئو دیکھا نہ تائو اور بری طرح کلہاڑی کا وار کیا؍ مگر جب میں نے کلہاڑی واپس کھینچی تو میرے ہاتھ میں صرف اس کا ڈنڈا آیا کیوں کہ میں نے اتنی طاقت سے وار کیا تھا کہ کلہاڑی کا پھل اس بلا کے جسم میں گڑا رہ گیا تھا؍ اگر وہ واقعی کوئی بلا ہی تھی۔ اس کے بعد میں وہاں سے بری طرح بھاگا۔ وہ مخلوق کچھ دیر تک میرے پیچھے آئی؍ مگر پھر وہیں ٹہر گئی۔ میں اب بھی بھاگ رہا تھا مگر میری نظر میں ابھی تک کوئی جھونپڑی نہیں آئی تھی اور اوپر سے شدید اندھیرا ہر سو پھیل گیا تھا۔ البتہ اچھی بات یہ تھی کہ وہ بلا اب میرے تعاقب میں نہیں تھی؍ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اس سے بھی زیادہ عجیب بات تھی۔  اس بار میرے کانوں میں ایک اور آواز سنائی دی؍ مگر یہ کوئی چیخ نہیں تھی بلکہ ٹرین کے ڈیزل انجن کی ناکنگ کی طرح ایک تھرتھراہٹ سی تھی اور یہ تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی یہاں تک کے میرے جسم نے اس کے ارتعاشات واضح طور پر محسوس کرنا شروع کر دیے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی بہت بڑے ٹربائن کے نزدیک کھڑا ہوں۔ اس دوران میری کن انکھیوں میں ایک روشنی سی پڑی۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو یہ ایک بہت بڑی روشنی تھی جو اوپر سے نیچے زمین پر ایک بہت بڑے دائرے کے شکل میں پڑ رہی تھی؍ مگر اس روشنی کا ماخذ واضح نہیں ہو رہا تھا۔ بس ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت اوپر آسمان سے روشنی کی ایک دھار سی گر رہی ہو۔ میں نے اس روشنی کی طرف اوپر سے نیچے کی طرف دیکھا اور اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ وہ مخلوق اس روشنی کے دائرے میں بالکل ساکت کھڑی تھی۔ اس نے ہاتھ میں کوئی چیز اٹھائی ہوئی تھی اور میں نے دیکھا کہ وہ چیز دراصل میری کلہاڑی کا پھل تھا۔ اس وقت وہاں جو کچھ ہو رہا تھا وہ میرے فہم سے بالکل بعید تھا۔ مجھے لگا جیسے جہنم کی کوئی مخلوق میرے تعاقب میں ہے اور اوپر سے خداوند ہم دونوں پر روشنی ڈال رہا ہے تا کہ میں وہاں سے بھاگ نکلوں۔ مگر اچانک اس روشنی نے حرکت کرنا شروع کر دی۔ میری طرف ۔ ۔ ۔ بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری آواز میرے کانوں میں پڑی وہ اس مخلوق کی ایک اور چیخ تھی اور اس کے بعد میرے لیے ہر چیز تاریک ہو گئی۔  سن؍ کاش میں تمہیں مزید بتا سکتا؍ مگر جہاں تک مجھے یاد ہے تھوڑی ہی دیر بعد میں اپنے ہوش و حواس میں واپس آ گیا؍ اور جب میری آنکھ ایک اور روشنی پر پڑی تو میرا سارا خوف نکل گیا۔ میں اس روشنی سے اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح واقف تھا۔ یہ اس لالٹین کی روشنی تھی جو میرے بچپن سے ہمارے کچن کی کھڑکی میں ٹنگی ہوئی تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے گھر کا ہیولہ موجود تھا اور میں زمین سے اٹھ کر اپنے گھر کے اندر چلا آیا۔  میرا خیال تھا اتنی دیر سے گھر لوٹنے پر مجھے مار پڑے گی؍ مگر میرا خدشہ غلط ثابت ہوا۔ ما اور پا میرے دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔ جب ان کی مجھ پر نظر پڑی تو وہ سب ساکت ہو گئے اور ان کے ہاتھ اور منہ سے کھانے کے نوالے گرنے لگے۔ پا اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے پاس آئے۔ مجھے لگا میرے منہ پر کم از کم ایک گھونسا ضرور پڑے گا؍ مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر بری طرح اپنے بازئوں میں بھینچ لیا۔  ’خداوند کا شکر کہ تم لوٹ آئے۔‘ انہوں نے عجیب سی بات کہی۔  اس دوران ما رو رہی تھیں اور میرے بہن بھائی آنکھیں پھاڑے حیرت سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔  ’میں بس تھوڑی تاخیر سے آیا ہوں اور بالکل ٹھیک ہوں؍ مگر آپ لوگ اس طرح کا برتائو کیوں کر رہے ہیں۔‘  پا نے مجھے چھوڑا اور پھر میرے شانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ پھر انہوں نے ما کی طرف دیکھا اور میں نے محسوس کیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو تشویش آمیز نظروں سے تک رہے تھے۔  پا نے مجھ سے کہا ’سن؍ تم کئی ہفتوں سے لا پتہ تھے۔ ہم نے ہر جگہ تمہیں ڈھونڈا۔ سارا جنگل چھان مارا۔ پھر ہم نے سوچا شاید خداوند نے تمہیں ہم سے واپس لے لیا ہے۔ تم کہاں تھے سن ۔ ۔ ۔ ؟ میرے پاس ان کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لیے میں نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ میں رونے لگا۔ میں پا کے سامنے کبھی نہیں روتا تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر مجھے سینے سے لگا لیا۔  ’بس اہم بات یہ ہے سن کہ تم زندہ سلامت گھر لوٹ آئے۔‘  پھر میں ان کے ساتھ میز کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا اور ہم نے اس بارے میں دوبارہ کبھی بات نہیں کی۔ حتیٰ کہ اس واقعے کے بعد بھی جو اگلے روز پیش آیا۔ اگلے روز ما اور پا پورچ میں کھڑے ہم بہن بھائیوں کو کھیلتے دیکھ رہے تھے۔ میرے چھوٹے بھائی میری چھوٹی بہنوں کے پیچھے دوڑتے پھر رہے تھے اور میں لان میں گھاس پر لیٹا اپنے ساتھ پیش آئے اس واقعے کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا تھی کہ میں ایک مہینے کہاں رہا ۔ ۔ ۔  اس دوران ہمارے کانوں میں ایک کار کے آنے کی آواز سنائی دی۔ چوں کہ ہم بچوں نے کاریں کبھی کبھار ہی دیکھی تھیں اس لیے اشتیاق میں ہم سب ما کے پاس کھڑے ہو کر اس قیمتی کار کو حیرت سے تکنے لگے۔ یہ ایک سیاہ رنگ کی چمچماتی ہوئی انتہائی شان دار گاڑی تھی جو  ہمارے گھر کے دروازے پر آ کر رک گئی۔ ہم اس کے اندر کسی کو نہیں دیکھ سکے کیوں کہ اس کے تمام شیشے بالکل تاریک تھے۔ ایک منٹ بعد ایک آدمی گاڑی سے اترا۔ میں نے آج تک کسی آدمی کو سوٹ پہنے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے چہرے سے مسکراہٹ کا آبشار بہہ رہا تھا اور وہ دھیرے سے چلتا ہوا ہماری طرف آیا۔ اس کے عقب میں ڈرائیونگ سیٹ سے ایک اور آدمی اترا؍ مگر اس کا قد کافی لمبا چوڑا تھا اور اس کے چہرے پر درشتگی کے آثار تھے۔ جس آدمی کے چہرے پر مسکراہٹیں کھدی ہوئی تھیں اس نے ہم سے بات چیت کرنا شروع کر دی۔  ’ہیلو بوائز اینڈ گرلز۔‘ اس نے کہا اور پا کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا؍ مگر پا نے اس سے ہاتھ نہیں ملایا اور خاموشی سے اس کی جانب دیکھتے رہے۔  پا کے ہاتھ میں ان کی شاٹ گن تھی اور انہوں نے اس آدمی سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ پا اس دوران با رعب دکھائی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس آدمی کو اس بات کا اندازہ تھا اس لیے وہ براہ راست میری طرف آیا۔  ’سن ہم تم سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا تعلق حکومت سے ہے۔‘ اس نے مجھے اپنا بیج دکھایا مگر اس وقت مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ ایک فیڈرل ایجنٹ ہے۔ وہ میرے نزدیک کچھ بھی ہو سکتا تھا؍ اس لیے میں نے پا کی طرف دیکھا؍ مگر وہ بیج دیکھتے ہی اپنی عمر سے دگنے دکھائی دے رہے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے وہ ایک عمر کے دکھ سکھ اس آدمی کے ساتھ جھیل چکے ہیں۔ انہوں نے اپنا سر ہلا کر مجھے اس آدمی کی ہر بات کا جواب دینے کا اشارہ کیا۔  اس آدمی نے اس واقعے کے بارے میں جو میرے ساتھ جنگل میں پیش آیا تھا درجنوں سوالات کیے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انہیں اس واقعے کی تفصیلات کہاں سے ملیں۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے جنگل میں کسی بلا یا عفریت کو دیکھا ہے۔ یہ سوال سن کر میرے بہن بھائی خوف زدہ ہو کر ما کے قریب جا کھڑے ہوئے چناں چہ وہ انہیں لے کر گھر کے اندر چلی گئیں۔ اس آدمی نے انہیں اندر جانے سے نہیں روکا؍ مگر پا باہر میرے ساتھ ہی کھڑے رہے۔ ہر سوال کے ساتھ ان کی حیرت میں اضافہ پر اضافہ ہو رہا تھا۔ اس آدمی نے مجھ سے پر اسرار آوازوں اور روشنیوں کے بارے میں پوچھا؍ مگر اس کا آخری سوال نہایت ہی عجیب تھا۔  اس نے پوچھا ’سن، ہو سکتا ہے تمہیں یہ بات ذرا عجیب سی لگی؍ مگر کیا تم نے اپنے جسم پر سوکھے ہوئے زخموں کے کچھ نئے نشانات دیکھے ہیں؟  میرے نہیں کہنے سے پہلے ہی اس نے اپنے ساتھی کی طرف سر ہلا کر اشارہ کیا۔ ’ہم اس چیز کو خود چیک کرنا چاہتے ہیں۔ ٹھیک ہے سر؟‘ اس نے پا کی جانب دیکھا جنہوں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا رضا مندی میں سر ہلا دیا۔ میرا خیال ہے وہ خفیہ ترین حکومتی اداروں کے لیے کچھ بھی دل سے کرنے کو تیار تھے۔ انہوں نے میری شرٹ اتروائی اور درشت چہرے والے آدمی نے میرے جسم کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ میں دعا کر رہا تھا کہ کہیں یہ لوگ میری پتلون بھی نہ اتار دیں۔ اس دوران درشت چہرے والے کو میرے جسم پر کوئی چیز نظر آ گئی۔ اس نے اپنے (مبینہ) باس کو میری پشت کی جانب اشارہ کیا۔ ’باس‘ نے پورے ایک منٹ تک اسے غور سے دیکھا اور اس دوران وہ بڑی خوب صورت دھن میں کچھ گنگنا بھی رہا تھا۔  ’دل چسپ۔‘ اس نے کہا۔ پھر اس نے کوئی کیمرے جیسی چیز نکالی اور میری پشت کی ایک تصویر لے کر پا کی طرف دیکھا۔ ’تھینک یو جینٹل مین۔‘ اس نے کہا۔ ’ہم آپ لوگوں سے دوبارہ رابطہ نہیں کریں گے۔ آپ لوگ نے بڑے تحمل سے وقت گزارا ہے۔‘ پھر اس نے پا کو سیلوٹ کیا اور اس کے بعد وہ دونوں کار کی طرف بڑھ گئے۔ خوش مزاج آدمی نے درشت چہرے والے آدمی سے کچھ کہا جس کے جواب میں اس نے اس طرح گردن ہلائی؍ جیسے اسے اچانک کوئی بات یاد آ گئی ہو۔ پھر اس نے کار کا عقبی دروازہ کھولا اور دو چیزیں اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا لی۔ قریب آنے پر ہم نے دیکھا کہ اس کے الٹے ہاتھ میں ایک بریف کیس تھا اور سیدھے ہاتھ میں میری کلہاڑی کا پھل تھا ۔ ۔ ۔  پھل کو دیکھنے پر میرا رد عمل دیکھ کر بالآخر درشت چہرے والے کے چہرے پر بھی مسکراہٹ در آئی۔

پھر اس نے کہا۔  ’اس سے آپ کے تمام درد کا مداوا ہو جائے گا۔‘  اس نے یہ بات پا سے کہی اور پھر مزید کہا ’اب آپ لوگوں کو یہاں سے جانا ہو گا۔ جدید وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرو۔ اب انسان جنگلوں میں نہیں رہتے۔‘  اس نے وہ بریف کیس پا کے ہاتھ میں تھمایا اور پھر میری جانب مڑا۔  اس نے میرے ہاتھ میں کلہاڑی کا پھل تھماتے ہوئے کہا ’سنو بچے۔ ۔ ۔ ! اب اسے گم نہیں کرنا۔ ہم اسے بہت مشکلوں سے تمہارے لیے واپس لائے ہیں۔‘ اس نے میری طرف حقارت سے مسکرا کر دیکھا اور اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے وہ کار میں بیٹھ کر وہاں سے ہوا ہو چکے تھے۔  ان کے جانے کے بعد سب سے پہلے ہم نے دیکھا کہ انہوں نے میری پشت پر کیا دیکھا تھا۔ پا نے مجھے بتایا کہ وہاں تین نقطے ہیں جو ایک مثلث کی طرح بنے ہوئے ہیں۔ یہ نشان میری کمر کے نیچے تھا اور تقریباً ایک انچ چوڑا تھا؍ مگر یہ کسی سوکھے ہوئے زخم کا نشان نہیں تھا؍ کیوں کہ یہ کچھ سالوں بعد وہاں سے مٹ گیا۔ میری کمر پر یہ نشان دیکھنے کے بعد پا نے بریف کیس کھول کر دیکھا۔  اس میں 10 ہزار ڈالر تھے۔ ہم اس وقت اپنی سات پشتوں میں بھی اتنی خطیر رقم کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ پا ایک دن اسے لے کر نزدیکی شہر گئے اور وہاں سے ایک نئی گاڑی لے کر آئے۔ یہ بہت بڑی گاڑی تھی اور اس میں ہم سب آ سکتے تھے۔ اس کے بعد ہم سب نے مل کر اس پر اپنا سامان لادا اور پھر وہاں سے بہت دور ملک کے شمالی علاقے میں ہمیشہ کے لیے منتقل ہو گئے۔ جب ہم اس گاڑی میں وہاں سے آ رہے تھے تو میں نے اس جنگل کی جانب ایک آخری نظر ڈالی اور میں نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے بیچ میں وہ ہی عفریت کھڑا مجھے گھور رہا ہے؍ مگر میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا کیوں میں انہیں مزید خوف زدہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔  کچھ عرصے بعد میں نے تمہاری دادی سے شادی کر لی اور اس کے بعد ما اور پا کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد مجھے پتہ چلا کہ اس جنگل میں زبردست آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں ایک بھی درخت باقی نہیں بچا۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی، کیوں کہ ٹینسی کا موسم بہت نم ہے اور وہاں جنگلات میں کبھی خود بہ خود آگ نہیں لگتی۔ میں نے اس رات تمہاری دادی کو سارا واقعہ سنایا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے دیوانا سمجھ کر چھوڑ کر چلی جائے گی؍ مگر اس نے مجھے سینے سے لگایا بالکل اسی طرح جیسے اس رات پا نے مجھے اپنے سینے سے لگایا تھا۔ اس رات کے بعد تمہاری دادی نے مجھے کبھی سورج ڈوبنے کے بعد باہر نہیں جانے دیا۔ میں آج تک اس واقعے کو اپنے ذہن سے نہیں مٹا پایا۔ مجھے پتہ ہے وہ آج بھی وہیں ہے۔ پوری طرح جلا ہوا مگر زندہ۔ وہ آج بھی میرے پیچھے ہے؍ گویا اس کے گھر کے جل جانے کا ذمے دار میں ہوں۔ مجھے تمہاری دادای کی اس بات پر پورا یقین تھا کہ اس کے ہوتے کوئی مجھے ہاتھ تک نہیں لگا سکتا کیوں کہ وہ ایک بہادر عورت تھی۔ مجھ سے کئی گنا زیادہ بہادر۔ دادا کی آنکھیں ایک بار پھر آنسوئوں سے بھر گئیں۔ مجھے ان کی بات کے ایک ایک لفظ پر یقین تھا۔ ظاہر ہے ان کے پاس اس عمر میں اس طرح کا جھوٹ بولنے کی وجہ نہیں تھی۔ چناں چہ میں نے ان سے کہا:  ’دادا فکر نہ کریں میں آپ کے ساتھ ہوں اور میرے ہوتے کوئی آپ کو ہاتھ تک نہیں لگا سکتا۔‘ 

 


اس کہانی کا اگلا حصہ آ سکتا ہے