Latest Scientific Knowledge in Gulliver's Travels | Read in Urdu

قدیم ناول ‘گلیورس ٹریولز’ میں جدید سائنسی علم



جوناتھن سوئفٹ (1667-1745) نے اپنے مشہور زمانہ ناول ’گلیورس ٹریولز‘ میں مریخ کے دو چاندوں کا ان کی دریافت سے سو سال پہلے تذکرہ کیا ہے۔ سوئفٹ نے ناقابل یقین طور پر مریخ کے چاندوں کا رقبہ اور گردش کی رفتار درست ترین بیان کرنے کے علاوہ خود بہ خود کتابیں لکھنے والے ’کمپیوٹر‘ اور ’اسپیس شپ‘ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا انسانوں سے متنفر سوئفٹ کو یہ معلومات کسی ’ماورائی‘ یا ’غیر ارضی‘ ذریعے سے مل رہی تھیں؟ سوئفٹ کو کیا اسی وجہ سے انسانوں سے نفرت تھی؟


جوناتھن سوئفٹ کا تعلق معاشرے کے طبقہ اشرافیہ سے تھا جہاں ہمارے ہی معاشرے کی طرح اس دور میں اپنی خود ساختہ برتری کے زعم میں مشینوں پر کام کرنے والے محنت کشوں اور دنیا کو بدلنے کی خواہش اپنے دلوں میں بسائے سائنس دانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور خاص طور پر اس طبقے کی حقارت کا نشانہ فرانسس بیکن کی تعلیمات کو ماننے والے وہ سائنس دان تھے جو دنیا کی سائنسی روپ میں تشکیل نو کے لیے دن رات کوشاں تھے۔ مگر ٹہریے! اس میں حقیقت کا ایک اور پہلو بھی ہے اور بات صرف اتنی ہی نہیں۔ دراصل سوئفٹ جس دور میں زندہ تھا اس وقت سائنس عہدِ طفولیت میں تھی اور زیادہ تر جن علوم کو سائنسی سمجھا جاتا تھا وہ قطعاً غیر سائنسی تھے جیسے علمِ نجوم یا دست شناسی وغیرہ جن کا عملی زندگی کی بہتری سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔


سوئٹ کی سیارہ مریخ کے بارے میں معلومات اپنے دور کے سائنس دانوں کی نسبت تین گنا زیادہ آگے اور درست ترین تھیں


چناں چہ سوئفٹ نے گلیورس ٹریولز کے تیسرے سفر نامے میں اس دور کی مجہول ’سائنس‘ اور ’ٹیکنالوجی‘ کا بہ انداز ہجو نہایت بے رحمی سے مذاق اڑایا ہے۔ سوئفٹ سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں تھا بلکہ اس کا موقف یہ تھا کہ اس علم کو انسانیت کی خدمت میں مفید طور پر استعمال ہونا چاہیے اور بارہا سوئفٹ نے بیکن کی ’ایڈوانسمنٹ آف لرننگ‘ کی تعریف کی ہے۔ اسی طرح سوئفٹ اہل فکر کے خلاف بھی نہیں تھا مگر وہ مفروضہ سائنسی علوم اور ان کے پھیلانے والے ’جعلی عالموں اور عاملوں‘ سے بری طرح بد ظن تھا جو دن رات اپنا وقت اور سادہ لوح لوگوں سے بٹوری ہوئی رقومات ان فضول تصورات کی ’تحقیق‘ میں ضائع کیا کرتے تھے۔ جی ہاں اس دور کے یورپ میں ایسا ہی ہوتا تھا اور یہ ذہنی و فکری ارتقاء کا وہ ہی دور ہے جس سے اس وقت تیسری دنیا کے ممالک گذر رہے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اپنے وقت سے بہت پہلے اور اس وقت جب دوسروں کو اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا . . .


. . . سوئفٹ نے اس بات کا ادارک کر لیا تھا کہ سائنس بیرونی اور درونی اخلاقیات کے تناظر میں ایک فطری علم ہے مگر یہ ایک ایسا ’جن‘ ہے جس سے اچھے اور برے دونوں کام لیے جا سکتے ہیں مگر یہ فیصلہ محض اس شخص کی صواب دید پر منحصر ہو گا جس کے قبضہ قدرت میں اس جن نے ہونا تھا . . .


چناں چہ سوئفٹ کا ماننا تھا کہ انسانوں کو سائنس کا علم عقلی طور پر ذمے داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے تا کہ اسے اخلاقی حدود قیود میں رہتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے کیوں کہ سوئفٹ کے دور کی ’سائنس‘ کا کوئی عملی پہلو تھا اور نہ ہی اخلاقیات سے کچھ لینا دینا اس لیے سوئفٹ کسی بھی صورت میں اس نام نہاد سائنس کی خاطر شخصی یا بیرونی اخلاقیات کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور آج اس بات کو دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ سوئفٹ کے سائنس کے منفی استعمال کے تمام تر خدشات بیسویں صدی میں کس طرح ایک ایک کر کے درست ثابت ہوئے – خواہ وہ ہٹلر جیسے جنونی کے ہاتھوں کروڑوں انسانی جانوں کا اتلاف ہو یا امریکا جیسے با شعور ملک کے ہاتھوں جاپان پر ایٹم بم گرا کر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کا ’ہمدردانہ فیصلہ‘ جس کے اثرات کی لرزش تاحال محسوس کی جا سکتی ہے۔


مریخ کے چاند ’فوبوز‘ اور ’ڈیموس‘ کے پہلو میں تاریخ کا دل چسپ پہلو پوشیدہ ہے۔ ان دونوں چاندوں کی دریافت سے بہت پہلے 1610ء میں جان کیپلر نے خیال ظاہر کیا تھا کہ اگر زمین کا ایک اور مشتری کے چار – اس وقت اتنے ہی دریافت ہوئے تھے – چاند ہیں تو اس تناسب کے پیش نظر مریخ کے دو چاند ہونے چاہییں۔ 1726ء میں جب جوناتھن سوئفٹ نے اپنا مشہور زمانہ ناول گلیورس ٹریولز تحریر کیا تو غالباً کیپلر کے اسی خیال سے متاثر ہو کر گلیور کے تیسرے سفر نامے میں لکھا کہ ’لپوٹا کے سائنس دانوں نے مریخ کے مدار میں گردش کرنے والے دو مختصر جسامت کے سیارچے یا ستارے دریافت کر لیے تھے۔‘

اسٹیون جے ڈک، مورخ اعلیٰ، ناسا


مگر جوناتھن سوئفٹ کے سائنسی نظریات سے ہٹ کر گلیورس ٹریولز کا ایک پراسرار پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اس مایہ ناز ناول میں سوئفٹ نے حیران کن طور پر ایسی سائنسی معلومات اور ایجادت کا تذکرہ کیا ہے جو اس دور میں اچھے اچھوں کے وہم گمان سے بھی ماوراء ہوں گی اور یہ سوال ہنوز تشنہ لب ہے کہ اس کی ان معلومات کا منبع کیا تھا – کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ذریعہ ’ماورائی‘ تھا اور کچھ کے خیال میں ’غیر ارضی‘ – آپ اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہیں۔ ذیل میں ان چار چیزوں کا ذکر کیا جائے گا جن کا سوئفٹ کے دور میں کوئی وجود نہیں تھا جس کے بعد ہم اس ناول کے اصل پراسرار ترین پہلو پر مفصل بات کریں گے یعنی یہ بات کہ آخر کس طرح ممکن ہے کہ سوئفٹ نے مریخ کے دو چاندوں کا ان کی دریافت سے بہت پہلے درست ترین اعداد و شمار کے ساتھ تذکرہ کیا مگر پہلے ’ایجادت‘ – کی بات ہو جائے۔


نامیاتی مادوں سے بجلی کی پیدائش؟

گلیور کے تیسرے سفر نامے کے باب چہارم میں سوئفٹ ایک سائنسی تجربے گاہ کے بارے میں لکھتا ہے . . .


’اس تجربے گاہ میں پروفیسرز اور ماہرین زراعت اور تعمیرات کے نئے اصول و قواعد تشکیل دینے کی کوششوں کے علاوہ جدید ترین اوزار اور آلات بنانے کے تجربات کر رہے تھے جنہیں ہر طرح کے تعمیراتی پیشے میں بخوبی استعمال کیا جا سکے۔

. . . ان آلات کی مدد سے دس آدمیوں کا کام محض ایک آدمی بخوبی کر سکتا تھا . . .

. . . اور ایک محل محض ایک ہفتے میں بنایا جا سکتا تھا جب کہ تعمیراتی میٹیریل اتنا مضبوط تھا کہ تا قیامت ان عمارتوں کی مرمت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ان پروفیسروں کے اذہان میں ایسے منصوبے تھے جن کی مدد سے سال کے کسی بھی موسم میں من پسند فصلیں، سبزیاں اور پھل سو گنا زیادہ مقدار میں اگائے جا سکتے تھے۔ یہ پروفیسر اتنے قابل اور ذہین تھے کہ ان کے زرخیز اذہان اس نوعیت کے بے شمار منصوبوں سے بھرے رہتے تھے۔ مگر یہاں صرف ایک مسئلہ تھا اور وہ یہ کہ ان تصورات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطیر رقومات کی ضرورت تھی اور نتیجتاً ملک عملی طور پر ویران ہو چکا تھا، مکان کھنڈر ہوئے جا رہے تھے اور لوگوں کے پاس پہننے کے لیے کپڑے اور کھانے کے لیے روٹی تک نہیں رہی تھی۔


سوئفٹ اسی ذیل میں آگے لکھتا ہے . . .


یہ تجربے گاہ محض ایک عمارت پر مشتمل نہیں تھی بلکہ لا تعداد گھروں کی ایک قطار تھی جو خریدنے جانے کے بعد سے عدم استعمال کے باعث ٹوٹ پھوٹ اور ویرانی کا شکار تھے۔ تجربے گاہ کے منتظم نے میرا خوش دلی سے استقبال کیا جہاں میں کئی دنوں تک مقیم رہا۔ یہاں جس شخص پر میری پہلی نظر پڑی وہ نہایت بری حالت میں تھا۔ اس کے ہاتھوں اور چہرے پر کالک لگی تھی، اس کے بال اور داڑھی بے تحاشا بڑھی ہوئی اور جگہ جگہ سے جلی ہوئی تھی۔ یہی حال اس کے غلیظ کپڑوں کا تھا۔ یہ شخص گزشتہ آٹھ سالوں سے لگاتار ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا تھا جس کا مقصد کھیروں سے سورج کی شعاعوں کو ’ست کی طرح کشید‘ کرنا تھا – نامیاتی توانائی یا کوڑے سے برقی طاقت کے حصول کا تصور؟ – جنہیں بعد ازاں شیشے کی سیل بند بوتلوں میں بند کر کے موسم سرما میں ماحول کو گرم کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ اس نے مجھے یقین دلایا کہ زیادہ سے زیادہ آٹھ سالوں بعد وہ گورنر کے باغیچے کو باکفایت طور پر گرم رکھنے میں کام یاب ہو جائے گا مگر اس نے قدرے مایوسی سے کہا کہ یہاں کھیروں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس آدمی نے مجھ سے تحفتاً کچھ مانگا  کیوں کہ اسے ہر شخص سے کچھ نہ کچھ مانگنے کی عادت تھی چناں چہ میں نے اسے معمولی سی رقم دے دی۔‘


 


اٹھارویں صدی میں دورِ جدید کی کمپیوٹر گرافکس میں استعمال ہونے والی جیومیٹری


سوئفٹ وہ پہلا قلم نگار نہیں ہے جس نے انسانوں کو جیومٹری کی نظر سے دیکھا ہے کیوں کہ اس بات کا اصل سہرا دور احیاء کے فن کاروں کے سر ہے مگر سوئفٹ نے گلیور کے تیسرے سفر نامے میں جس انداز میں ایک انسان کو جیومیٹری کی نظر سے دیکھا ہے اس میں دور جدید میں کمپیوٹر گرافکس میں استعمال ہونے والے ’نربس‘ کے اشارے واضح تر ہیں۔ پڑھیے:


میں چوں کہ حساب کے علم سے واقف تھا اس لیے مجھے یہاں ریاضی اور جیومیٹری کے ماہرین کی پیشہ ورانہ زبان سجھنے میں نہایت مدد ملی جس کا تعلق سائنس اور موسیقی سے تھا مگر مسئلہ پھر بھی یہ تھا کہ موسیقی کے بارے میں میرا علم بالکل کورا تھا اور یہ لوگ ہمشہ لکیروں، خطوط اور دائروں کی اصطلاحات کے ساتھ بات کیا کرتے تھے۔ چناں اگر انہیں کسی عورت یا جانور  کی تعریف کرنی ہوتی – جس کے مواقع کم ہی آتے ہوں گے کیوں کہ ان لوگوں کا عورتوں اور جنس سے فطری لگاؤ بالکل ختم ہو چکا تھا نیز نوٹ کریں کہ کس طرح سوئفٹ نے عورت کے فوراً بعد جانور کا لفظ استعمال کر کے اس صنف کی تحقیر کی ہے – تو وہ اس کا اظہار دائروں، خطوط اور قوسوں کی اصطلاحات میں کیا کرتے تھے یا پھر موسیقی کی اس پیچیدہ ترین زبان میں جس سے میں واقف نہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے سے قاصر ہوں۔ میں نے دیکھا کہ شاہی باورچی خانے میں کھانے پکانے کی چیزیں جیومیٹری اور موسیقی کے آلات کی شکل میں تھیں تا کہ ان کی مدد سے مطلوبہ کھانے کو اسی شکل کے روپ میں لانے کے بعد بادشاہ کی میز پر پیش کیا جائے۔


 


علم کا انجن – کمپیوٹر؟

سوئفٹ نے حیرت انگیز طور پر گلیور کے تیسرے ہی سفر نامے میں ایک ایسی مشین کا ذکر کیا ہے جو ہمارے دور جدید کے کمپیوٹر کی اولین شکل کہی جا سکتی ہے۔ پڑھیے . . .  


ہر شخص جانتا ہے کہ سائنس اور فنون کی تخلیق کتنا مشکل کام ہے۔ مگر یہاں اس مشین – انجن – کے ذریعے ایک ناخواندہ ترین گنوار انسان بھی مناسب معاوضے اور تھوڑی سی جسمانی مشقت کے عوض فلسفہ، شاعری، سیاست، قانون، ریاضی اور ٹیکنالوجی پر کتابیں لکھ سکتا تھا اور حیران طور پر اس دوران کسی معاون کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ یہ بتانے کے بعد پروفیسر مجھے اس مشین کے قریب لے  گیا جہاں اس کے شاگرد ترتیب وار کھڑے تھے۔ یہ مشین 20 فٹ چوڑی تھی جسے کمرے کے وسط میں رکھا گیا تھا – ذرا دور جدید کے پہلے کمپیوٹر کی جسامت کا تصور کریں – اس مشین کی سطح لکڑی کے چھوٹے چھوڑے ٹکڑوں یا گٹکوں پر مشتمل تھی اور اس مشین اور ٹکڑوں میں طرح طرح کے گول تار لگے ہوئے تھے – پاور سپلائی؟ – ان ٹکڑوں پر کاغذ چسپاں تھے جن پر ان کی زبان میں مختلف الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ یہ الفاظ ہر طرح کے جملوں پر مشتمل تھے مگر ترتیب سے عاری تھے۔ پروفیسر کی ہدایت پر اس کے شاگردوں نے اس انجن میں لگے بے شمار ہینڈلوں میں سے ایک ایک تھام لیا۔ ان ہینڈلوں کی کل تعداد چالیس تھی جو انجن کے چاروں طرف اوپری کناروں پر لگے تھے۔ جیسے ہی شاگردوں نے ان چالیس کے چالیس ہینڈلوں کو یک لخت گھمایا تو سطح پر لکھے الفاظ یک دم تبدیل ہو گئے – کمپیوٹر اسکرین؟ – اس کے بعد پروفیسر نے اپنے 36 شاگردوں سے کہا کہ وہ فریم کی سطح پر نمودار ہونے والی ہر لائن کو آہستگی کے ساتھ پڑھیں۔ جی ہاں فریم کے سطح پر ایسے کچھ الفاظ ابھر آئے تھے جو مکمل جملے تشکیل دے رہے تھے جنہیں وہاں موجود چار کاتبوں کے ذریعے کاغذ پر لکھوا دیا گیا۔ اس عمل کو بار بار دہرایا گیا یہاں تک کہ لکڑی کے ان بے شمار گٹکوں کی بار بار اوپر نیچے حرکات کے نتیجے میں ایک باقاعدہ مضمون تشکیل پا گیا۔


 


لپوٹا – اڑن جزیرہ یا اسپیش شپ؟

سوئفٹ نے تیسرے سفر نامے میں جس اڑن جزیرے کا ذکر کیا ہے اسے خلائی جہاز کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے جس کی پرواز کا راز ’ضد کشش ثقل‘ میں پنہاں تھا۔ جی ہاں اس دور میں جب خود کشش ثقل اچھے خاصے علماء کی سمجھ کے لیے ثقیل ترین شے تھی سوئفٹ نے ’ضد کشش ثقل‘ کی بات کی ہے جسے آج بھی جدید سائنس سمجھنے سے قاصر ہونے کی بناء پر مفروضے سے زیاہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ پڑھیے . . .


میں نے جب اپنی نگاہ اوپر کی تو مجھے اپنی آنکھ اور سورج کے درمیان ایک ٹھوس جسم نظر آیا – یو ایف او؟ – جو اصل جزیرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یہ ایک میل اونچا تھا جس نے چھ یا سات منٹ تک سورج کی روشنی کو چھپائے رکھا۔ اس جزیرے پر لوگ آباد تھے – وار آف دی ورلڈز؟ – اس ’جزیرے‘ کے فضا میں بلند ہونے اور نیچے اترنے کے لیے مقناطیسی لہروں کی طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جس کے لیے اس کے درمیان میں ایک نہایت بڑا مقناطیس نصب تھا۔ مگر اس عظیم مقناطیس کو ایک نہایت مضبوط ایکسل میں پرویا گیا تھا تا کہ ہلکے سے اشارے سے حرکت دے کر اڑن جزیرے کو مطلوبہ طور پر اوپر نیچے یا آگے پیچھے چلایا جا سکے۔  اصول یہ تھا کہ جب مقناطیس کے اپنی جانب کھینچے والے حصے کا رخ زمین کی جانب کیا جاتا تھا تو یہ اڑن جزیرہ نیچے اترنے لگتا تھا اور جب اپنی جانب سے دھکیلنے والے حصے کا رخ زمین کی طرف کیا جاتا تھا تو یہ اڑن جزیرہ – ہیلی کاپٹر یا غبارے – کی طرح فضاء میں بلند ہونے لگتا تھا جب کہ مقناطیس کے دونوں کناروں کو مختلف زاویوں میں ترچھا کرنے سے یہ اڑن جزیرہ آگے یا پیچھے سفر کرتا تھا۔


 


مریخ کے دو چاندوں کی درست ترین پیش گوئی

جوناتھن سوئفٹ نے نہ جانے کن معلومات کی بنا پر گلیور کے تیسرے سفر نامے میں مریخ کے دو چاندوں کی دریافت کا ذکر کیا ہے جنہیں مسقبل میں بہت بعد میں سائنس نے دریافت کیا۔ سوئفٹ کی ان معلومات کو ’ماورائی‘ کہا جائے یا ’غیر ارضی‘ ہر دو صورتوں میں انسانی اذہان کے لیے حیران کن اور پراسرار ترین ہیں۔ پڑھیے . . .


لپوٹا کے اڑن جزیرے – اسپیس شپ – پر موجود سائنس دانوں نے مریخ کے گرد گردش کرنے والے دو چاند یا سیارچے یا ستارے دریافت کر لیے تھے جن کی جسامت بہت کم تھی۔ ان چاندوں میں سے اندرونی چاند کا مریخ سے فاصلہ اس کے حجم سے تین گنا ہے جب کا دوسرے چاند کا اس کے حجم سے پانچ ہے۔ اندرونی چاند دس گھنٹوں میں مریخ کے گرد اپنی گردش مکمل کرتا ہے جب کہ دوسرے چاند کو بیس گھنٹے لگتے ہیں۔


چاندوں کی تعداد بالکل درست ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ڈیڑھ صدی بعد 1877ء میں دریافت کیا گیا اور اسی طرح چاندوں کا سیارے سے فاصلہ بھی درست ہے۔ فوبوس اور ڈیموس دونوں چاندوں کو معروف امریکی ماہر فلکیات اساف ہال سینیئر نے دریافت کیا تھا۔ سائنس نے اس حقیقت کو محض اتفاق کہہ کر آج تک اپنی جان چھڑائے ہوئی ہے۔ چناں چہ دور حاضر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ’سوئفٹ کی مریخ کے بارے میں کسی غیر معمولی ڈیٹا تک رسائی‘ تھی مگر اس سوال پر ان کے لب سل جاتے ہیں کہ آخر یہ غیر معمولی ڈیٹا سوئفٹ کے ہاتھ لگا کیسے اور کہاں سے؟ خیال رہے سوئفٹ کی تحریر کردہ مریخ کی جسامت اور جدید دور میں معلوم کی گئی جسامت میں صرف دو فیکٹر کا فرق ہے جب کہ سوئفٹ کے زمانے میں سائنسی طور پر درست ترین سمجھے جانے والے اعداد و شمار پانچ فیکٹر کے قریب تھے۔ سادہ زبان میں یوں کہہ لیں کہ سوئفٹ کی سیارہ مریخ کے  بارے میں معلومات اپنے دور کے سائنس دانوں کی نسبت تین گنا زیادہ آگے اور درست تھیں۔ دوسری طرف سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کا یہاں تک ماننا ہے کہ مریخ کے چاند قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی ہیں جنہیں ممکنہ طور پر غیر ارضی مخلوق نے لاکھوں سال پہلے اپنے سیارے کے مدار میں چھوڑا تھا کیوں کہ حیرت انگیز طور پر ان چاندوں کو اس وقت دریافت کیا جا سکا جب انہیں دریافت کرنے کے لیے خلائی حالات بالکل موزوں نہیں تھے جب کہ اس سے پہلے اس وقت جب انہیں سائنسی نظر سے دیکھنے کے لیے خلائی حالات بالکل موزوں تھے ان دونوں چاندوں  کی ایک جھلک تک نہیں دیکھی جا سکی۔ کیا یہ بھی ایک اتفاق ہے؟


بہر حال اصل حقیقت کچھ بھی ہو 1752ء میں جوناتھن سوئفٹ اور فرانسیسی مفکر فوسوا میری وولٹائر دونوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مریخ کے چاند فوبوس پر بنے دو کریٹرز یا گڑھوں کو بالتریتب ’سوئفٹ‘ اور ’وولٹائر‘ سے موسوم کیا گیا جو بلا شبہ درست ترین اعترافِ حقیقت ہے۔