’خودکار گاڑیاں خود کو حادثوں سے نہیں بچا پائیں گی‘

خودکار گاڑیاں بنانے والے ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ان پر انحصار کرنے سے حادثات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن، اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسی گاڑیوں سے صرف ایک تہائی حادثات کم کیے جاسکتے ہیں۔

یہ تحقیق انشورنس انسٹی ٹیوٹ آف ہائی وے سیفٹی نے کی ہے جس میں ملک بھر میں ہوئے پانچ ہزار حادثات کا جائزہ لیا گیا۔ اس گروپ کی مالی معاونت امریکی انشورنس کمپنیاں کرتی ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ دو تہائی حادثات ان غلطیوں سے ہوئے جن کا حل خودکار گاڑیوں کے نظام میں نہیں ہوتا اور کوئی انسان ہی اس سے بچنے کا فیصلہ کرسکتا تھا۔

ٹریفک کے ماہرین کہتے ہیں کہ دس میں سے نو حادثات انسانی غلطی سے ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال امریکہ میں ہوئے ٹریفک حادثات میں 363 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں روایتی آٹوموبائل ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بنارہی ہیں۔ وہ سب بار بار اس موقف کو دوہراتے ہیں کہ انسان سے گاڑی چلانے کا اختیار لے کر مشین کو دے دیا جائے تو ٹریفک حادثات میں اموات کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

لیکن نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ انسان کو تمام حادثات کا ذمے دار قرار نہیں دیا جاسکتا اور کیمرے، ریڈار اور دوسری سنسر ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود حادثات کو نہیں روکا جاسکتا۔

ماہرین نے حادثات کے ڈیٹا میں اس بات کا جائزہ لیا کہ ان کے وجوہات کیا تھیں۔ انھیں علم ہوا کہ ایک تہائی حادثات کی وجہ ڈرائیور کی صلاحیت میں کمی، اندازے کی غلطی یا کوئی غلط فیصلہ تھا۔

لیکن بیشتر حادثات زیادہ پیچیدہ غلطیوں کا نتیجہ تھے۔ مثلاً سڑک پر موجود دوسرے ڈرائیوروں کے بارے میں غلط اندازہ، سڑک کی حالت کے لحاظ سے زیادہ یا کم رفتار یا پھسلن جیسی صورتحال۔ بہت سے حادثات کا سبب ایک سے زیادہ غلطیاں تھیں۔

آئی آئی ایچ ایس کی نائب صدر جیسیکا چیکینو نے کہا کہ اس تحقیق کا سبب یہ بتانا تھا کہ اگر ان غلطیوں سے نہ نمٹا گیا تو خودکار گاڑیوں سے محفوظ سفر کا مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔

s