Sinistromanual Persons Face More Challenges In Life?

سیدھا ہاتھ یا الٹا — معاشرے میں کیا فرق پڑتا ہے؟

جو لوگ قدرتی طور پر دائیں ہاتھ کی بجائے بائیں ہاتھ کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں انہیں روز مرہ کی زندگی میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بیشتر مغربی ممالک میں ان کے لیے سہولتیں پیدا کرنے پر کام کیا گیا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق دنیا میں دس سے پندرہ فیصد لوگ دائیں کی بجائے بائیں ہاتھ پر انحصار کرتے ہیں۔ پنجابی زبان میں ایسے افراد کو ‘کھبُو‘ کہا جاتا ہے۔  لیکن ایسے لوگوں کو روز مرہ کی زندگی میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سن 1992 میں پہلی بار لیفٹ ہینڈرز یا بایاں ہاتھ زیادہ استعمال کرنے والوں کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن ہر سال تیرہ اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں لیفٹ ہینڈرز کو درپیش مسائل، مشکلات اور امتیازی سلوک کے حوالے سے آگہی پھیلائی جائے۔

لوگ ’کھبُو‘ کیوں ہوتے ہیں؟

جرمنی جیسے ملک میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ایسے افراد کو مشکلات کا سامنا رہا۔یہاں لیفٹ ہینڈرز کے لیے سہولیات فراہم کرنے والی خاتون ژوہانا باربرا زاٹلر کا کہنا ہے کہ غالب بایاں ہاتھ رکھنے والے بچوں کو پرائمری اسکول میں ہی مشکلات دیکھنی پڑتی ہے جب وہاں دستیاب بیشتر آلات ان کے لیے موافق اور موزوں نہیں ہوتے۔

انہوں نے قینچی کی مثال دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب جرمنی میں لیفٹ ہینڈرز کے لیے قینچی اور پین بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ایسے بچوں کو بدستور چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔

زاٹلر کا کہنا ہے کہ ”لیفٹ ہینڈرز کو بچپن سے ہی کئی بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، انہیں اسکولوں میں لکھنے، ڈرائنگ یا کچھ بنانے میں مشکل ہوتی ہے کیونکہ تمام دستیاب اشیاء ان کے لیے مناسب اور موزوں نہیں ہوتی۔‘‘ ژوہانا باربرا زاٹلر نفسیاتی تھراپی کی ماہر ہیں اور لیفٹ ہینڈرز کو درپیش امتیازی رویوں کے بارے میں کئی کتابیں بھی لکھ چکی ہیں۔

جرمنی میں ان سے ڈاکٹرز، والدین اور اساتذہ بھی مشاورت کرتے رہتے ہیں۔ وہ خود بھی زیادہ فعال ہاتھ بایاں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ انہیں دایاں ہاتھ استعمال کرنے کی ہدایت انجیل (بائبل) کے حوالے سے دی گئی کہ کہ دایاں ہاتھ ‘خدا کا ہاتھ‘ ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیفٹ ہینڈرز اپنی بہت ساری توانائی اپنے دماغ کے غیر فعال حصے کو استعمال کرنے میں گزار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں  متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق لیفٹ ہینڈرز کے مسائل صرف اسکول تک محدود نہیں۔ ایک جرمن لیفٹ ہینڈرز ٹِل فیر بیک کا کہنا ہے انہیں روزانہ کی بنیاد پر کئی مشکلات آتی ہیں مثلاً کپڑے استری کرنا، کبھی دروازے کا ہینڈل بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں اور کئی الیکٹرانک ڈیوائسز بھی دایاں ہاتھ استعمال کرنے والوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

فیر بیک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب کمپیوٹر کا ماؤس دائیں ہاتھ سے استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔

ژوہانا باربرا زاٹلر کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں بایاں ہاتھ استعال کرنے والوں کو امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے اور ان میں مسلم دنیا کے علاوہ جنوبی ایشیا کے ممالک ہیں جہاں بائیں ہاتھ کو ‘صاف‘ نہیں خیال کیا جاتا۔ اس سے مراد حفظان صحت ہے اور اسی باعث بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کو پسند نہیں کیا جاتا۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں لیفٹ ہینڈرز کو قبولیت حاصل ہے اور قانونی طور پر بھی انہیں برابری میسر ہے۔