UfOs Are Real Pentagon Urdu

سابقہ پینٹاگون عہدے دار کے پراسرار انکشافات

امریکی نیوی نے حال ہی میں اس بارے میں نئے قواعد و ضوابط متعارف کرائے ہیں کہ ’ناقابل فہم اڑن اجسام‘ کے بارے میں اطلاعات کس طرح رپورٹ کی جائیں۔ اس سے قبل اگرچہ نیوی کے درجنوں پائلٹس نے ایسے غیر ارضی کرافٹس دیکھنے کی اطلاعات دی تھیں مگر امریکی نیوی نے جواب میں بدستور چپ سادھ رکھی تھی۔ تاہم حال ہی میں امریکا کے ایڈوانسڈ ایرواسپیس تھریٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام ’اے اے ٹی آئی پی‘ کے سابقہ سربراہ لوئیس ایلیزونڈو نے’ لائیو سائنس‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگرچہ یو ایف اوز دیکھے جانے کی بیش تر اطلاعات کی سائنسی وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ان واقعات میں کچھ ایسے واقعات ہیں جن کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے کسی طور توضیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق ’اے اے ٹی آئی پی‘ امریکا کا خفیہ پروگرام ہے جو مبینہ غیر ارضی کرافٹس پر نظر رکھنے اور ان کی تحقیق کے لیے ’اب بھی‘ کام کر رہا ہے۔ ایلیزونڈو نے اس ضمن میں ایسے ’غیر ارضی کرافٹس‘ کی مثال پیش کی جن کی ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ اس انداز میں اڑ رہے ہیں جس طرح اڑنا جدید ترین طیاروں کے لیے کسی طور ممکن نہیں۔ کیوں کہ وہ کرافٹس چار سو سے پانچ سو کے قریب جی فورس پیدا کر رہے تھے جب کہ جدید ترین امریکی طیارے زیادہ سے زیادہ سولہ سے اٹھارہ تک اتنی قوت کا دباؤ برداشت کر سکتے ہیں؛ جب کہ پائلٹ کے لیے نو سے زیادہ جی فورس موت کا پیغام ہوتی ہے۔ ایلیزونڈو نے بتایا کہ ان کرافٹس میں انجن ہوتے ہیں اور نہ ہی پر مگر اس کے با جود ایسا لگتا ہے جیس ان پر زمین کی کشش ثقل ذرا بھی اثر انداز نہیں ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ مضبوط تر شہادتوں کے باوجود ان کرافٹس کے لیے ’غیر ارضی‘ کا لفظ تاحال سرکاری طور پر اس لیے استعمال نہیں کیا جا رہا کیوں کہ ابھی ان کے سابقہ ادارے کو ایسے نا قابل تردید ثبوت نہیں ملے ہیں جن سے ان کرافٹس کا غیر ارضی ہونا سائنسی طور پر بلاخوف تردید ثابت ہو جائے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ دنیا میں کسی ملک نے ایسے طیارے بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہو تاہم اگر بات اتنی ہی ہے تب بھی یہ اتنی سی بات تمام دنیا کی سیاست کا رخ پلٹ کر رکھ دینے کے لیے کافی ہو گی۔ ایلیزونڈو نے کہا کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر پینٹاگون نہیں سمجھتا کہ یہ طیارے کسی دوسرے ملک کے تیار کردہ ہیں اور یہ ہی وجہ تھی جس نے انہیں اس ادارے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے پر مجبور کیا۔ مگر 2017ء میں ان کے عہدے سے دست بردار ہونے کے بعد یو ایف اوز کے بارے میں امریکی رویے میں بہت زیادہ تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں اور حال ہی میں امریکی نیوی نے ایک ایسے سرکاری چینل کا آغاز کیا ہے جہاں اس کے اہل کار باقاعدہ طور پر ایسے ’اڑن اجسام‘ کو دیکھنے جانے کی رپورٹ درج کرا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں ایسے کرافٹس کی تعداد میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ بہت جلد ان کے انسانی طیاروں سے ٹکرانے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔