Starving Cancer by Cutting off Its Foods in Urdu

’کینسر کو بھوکا مارو‘، مشرقی علاج مغرب نے مان لیا

 کینسر وہ موذی مرض ہے جو ابتدا ہی سے انسانوں کی رگ جاں میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ آج تک اس کا ’سائنسی‘ حتمی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ جو کچھ میڈیکل سائنس نے اس ذیل میں کیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ مریض کی زندگی میں کچھ سالوں کا بڑھاوا دینے اور پھر ان سالوں کی اذیت کو مصنوعی کوما جیسے طریقوں سے ٹالنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ جہاں ایک طرف جدید سائنس اس موذی مرض سے لڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے وہاں ’پیرانارمل‘ معالجین کی کمی بھی نہیں جو غیرسائنسی طریقوں سے اس مرض کا علاج کرنے کے صرف دعوے کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ متعدد مثالیں ایسی ہیں جہاں مریضوں نے کسی نہ کسی پیرانارمل طریقے سے اس مرض کا حتمی علاج کر لیا اور ایسے کیسز کو بی بی سی یا سی این این جیسے ’معتبر‘ چینلز پر ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ خواجہ شمس الدین عظیمی ایک ایسے ہی پیرانارمل معالج تھے جن کے جوابات جنگ اخبار میں عشروں تک باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کینسر کے بارے میں دعویٰ تھا کہ یہ ایک ’باشعور‘ اور ’شریف‘ مخلوق ہے اور اگر اس سے تنہائی میں بات چیت کی جائے تو یہ مریض کی جان چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے ظاہر ہمارے پاس اسے جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں مگر اس سے قطع نظر ہندوستان اور خاص طور پر قدیم ہندوستان میں ایسے حکیموں کی کمی نہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے کام یابی سے کینسر کا علاج کیا اور ان کا طریقہ علاج یہ تھا کہ وہ باہمی رضامندی سے ہفتوں مریض کو بھوکا رکھا کرتے تھے اور اپنی خوراک نہ ملنے کی وجہ سے کینسر جڑ سے ختم ہو جاتا تھا۔ صدیوں تک مغربی سائنس نے اس نظریے کا مذاق اڑایا مگر جوں جوں سائنس عہدِطفولیت سے نکل دورِبلوغت میں داخل ہوئی دانشوروں کی آنکھیں بھی ساتھ ہی کھلنا شروع ہوئیں اور انہیں اندازہ ہوا کہ ہم اس کائنات اور اس کے پوشیدہ رازوں کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہں جتنا علم روشنی کی رفتار کے بارے میں کنویں کے مینڈک کو ہو سکتا ہے چناں چہ اب جدید تحقیق کے بعد مغربی سائنس نے تسلیم کر لیا ہے کہ کینسر کو اس کی پسندیدہ غذا سے محروم کرنے کے بعد بھوکا رکھ کر مارا جا سکتا ہے۔ کیمیکل بائلوجی نامی معروف سائنسی جرنل میں شائع ایک تحقیق کے مطابق شکر انسانی جسم کے خلیوں کی پسندیدہ ترین غذا ہے اور جسم میں شکر کم ہونے سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ چوں کہ عام زبان میں کینسر بھی ’ان چاہے‘ خلیات کے سوا اور کچھ نہیں اس لیے ان موذی خلیوں کی پسندیدہ ترین غذا بھی گلوکوز یا شکر ہی ہوتی ہے۔ چناں چہ کینسر گلوکوز کو نہایت بے دردی سے کھاتا ہے اور ساتھ ہی جسم میں موجود گلوٹومائن پر بھی ہاتھ صاف کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک امینوایسڈ ہے جو پروٹین میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کینسر کے مریض میں حد سے زیادہ کم زوری ہو جاتی ہے۔ جب یہ بات سامنے آئی تو نظریہ پیش کیا گیا کہ کیا کینسر کو گلوکوز اور گلوٹومائن سے ’بھوکا‘ رکھ کر ’مارا‘ جا سکتا ہے۔ جرنل کے مطابق الینا ریکزی نامی محقق کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے ایک طاقت ور ترین مالیکول – جسے گلوٹر کا نام دیا گیا ہے – دریافت کیا ہے جس نے کام یابی سے گلوکوز کی مختلف اشکال کو پروٹین تک پہنچنے سے روک دیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اس نوعیت کے تمام تجربات اس قسم کے مالیکول کی طاقت کم ہونے کی وجہ سے کام یاب نہیں ہو سکے تھے۔ تاہم اس مالیکیول کی مدد سے کینسر کے 44 کیسز میں موذی خلیات تک گلوکوز اور گلوٹومائین کو پہنچنے سے روک دیا گیا۔ اگرچہ یہ ریسرچ نہایت سنسنی خیز ہے مگر اس کی مکمل کام یابی میں ابھی وقت لگے گا کیوں کہ مدافعتی سیل، بالغوں میں اسٹیم سیل اور بالوں کے خلیات وغیرہ بھی موذی خلیات ہی کی طرح تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اور ان تک گلوکوز کی ترسیل میں رکاوٹ نہایت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ علاوہ اذیں اس نوعیت کی سابقہ تیار کردہ دواؤں کو امریکی محکمہ صحت نے زہرانگیز ہونے کے باعث منظور نہیں کیا تھا۔ اگرچہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎ ’ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے‘ میں مگر ؎ ’گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں‘ کے مصداق سائنس دان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس موذی مرض کے خلاف کام یابی میں امید کا کم ازکم ایک در تو وا ہوا ہے۔