The 100 by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | مائیکل ہارٹ | جدید با محاورہ اردو ترجمہ

نام ور امریکی ماہرِفلکیات مائیکل ایچ ہارٹ کی معروفِ زمانہ کتاب ‘دی ہنڈریڈ’ جب 1978ء میں پہلی بار شائع ہوئی تو ناقدین نے ’تاریخِ عالم کی سو نہایت پُراثرشخصیات‘ کی فہرست پر بہت اعتراض کیا۔


The 100 by Michael Hart in Urdu – First Authentic Urdu Translation – 2020


انہوں نے تعصب میں اندھے ہو کر مائیکل ایچ ہارٹ پر الزام عائد کیا کہ اس نے یہ درجہ بندی اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کے اعتبار سے کی ہے۔

مگر آج اس کتاب  کے پانچ ملین سے زائد نسخوں کی فروخت اور قریب پندرہ زبانوں میں ترجمہ ہونے کے بعد یہ بات کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان تمام ناقدین کی سوچ بالکل غلط اور سخت متعصبانہ تھی۔

اگرچہ کتاب کے نظرِثانی شدہ ایڈیشن کی تیاری کے وقت مصنف نے تسلیم کیا تھا کہ چوں کہ زمانۂ حاضر میں کتاب میں مندرج شخصیات میں سے بعض کا اثر بلاشبہ کم اور بعض کا زیادہ ہوا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اس فہرست پر نظر ثانی کی جائے۔

مگر اس نظرِثانی اور ناقدین کے تمام تر متعصبانہ اعتراضات کے باوجود ہارٹ نے انصاف اور حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا اور پہلے ایڈیشن ہی کی طرح نظرِثانی شدہ دوسرے ایڈیشن میں بھی رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کا نامِ مبارک ہی دنیا کی سو پُراثرترین شخصیات کی فہرست میں سرفہرست رکھا۔


Also Read This – The Muhammad (PBUH) – First Chapter


الحمداللہ اب ’نیرنگ ڈاٹ کام‘ کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ یہاں اس کتاب کا اردو زبان میں پہلا معیاری ترین ترجمہ شخصیات کے اعتبار سے مرحلہ وار نزولی ترتیب میں پیش کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ کتاب ’دنیا کے سو عظیم انسانوں‘ کی فہرست ہرگز نہیں اور نبی اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرامؑ کے مقدس تذکروں کے پیشِ نظر یہ ترجمہ کرنا بھی نہیں چاہیے کیوں کہ اس میں ہٹلر، چنگیز خان اور اسٹالن جیسی بدنامِ زمانہ شخصیات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں اُن کی تمام تر ’اثر پذیری‘ کے با وجود کسی طور بھی عظیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔


مائیکل ہارٹ کی ترتیب جس میں اس نے پیغمبرِاسلام حضرت محمد ﷺ کا نامِ مبارک سب سے اوپر رکھا ہے بلاشبہ ایک ایسی بات ہے جو آج تک نام نہاد آزادیِ اظہار کی حامی روشن خیال مغربی دنیا کو ہضم نہیں ہوئی۔


دراصل یہ کتاب ان شخصیات کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنی کوششوں سے کروڑوں لوگوں کی سوچ کا تعین کیا، تہذیبوں کے عروج وزوال کی راہ مقرر کی اور بلآخر تاریخ کے دھارے کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا اس بات سے قطع نظر کہ ان کی کوششیں مثبت تھیں یا منفی۔


یہ بھی پڑھیے


حیرت انگیز طور پر ’دی ہنڈریڈ‘  تاریخ کی دیوار میں ایک نیا دریچہ ہے جہاں قلم نگار نے دنیا کے اہم ترین مذاہب کے قائدین اور سیاسی سربراہوں کے علاوہ موجدوں، مصنفوں، فلسفیوں، مہم جوؤں، فن کاروں اور جدت طرازوں کی زندگیوں کو گویا ایک کوزے میں بند کر دیا ہے۔


The 100 by Michael Hart in Urdu – First Authentic Urdu Translation – 2020


یہ کتاب لاکھوں لوگوں کو آج بھی اس لیے ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے کیوں کہ مصنف نے تاریخ کے سفر میں حضرت عیسٰیؑ اور نہ ہی مارکس بلکہ پیغمبرِاسلام حضرت محمد ﷺ کو اس کتاب کے جدید ترین ایڈیشن میں بھی سرفہرست رکھا ہے۔

ممکن ہے متعدد قارئین مصنف کے دلائل سے اتفاق نہ کریں مگر اس کے باوجود یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہارٹ نے جس انداز میں اس فہرست کو ترتیب دیا ہے وہ نہایت ہی معلوماتی اور مسحور کن ہے۔

بلاشبہ ‘دی ہنڈریڈ’ دنیائے کتب میں ایک یادگار حیثیت رکھتی ہے اور ناقدین کے تمام تر اعتراضات کے باوجود یہ کتاب  آج بھی فکرِانسانی کے لیے جِلابخش اور ایک کام یاب ترین کوشش ہے جسے فلسفے اور تاریخ کی دنیا میں ایک مکمل ترین حوالہ جاتی کتاب کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔