The 100 Isaac Newton Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | دوسرا باب | آئزک نیوٹن

 


. . . اصولِ فطرت اور حتیٰ کے خود فطرت تیرگیِ شب میں نہاں تھی یہاں تک کہ خالق کائنات نے کہا نیوٹن کی تخلیق ہو پس کارخانہِ قدرت کا ہر گوشہ نورِ علم سے چمک اٹھا –  الیگزینڈر پوپ


دنیا کے پرُاثر ترین بے مثال سائنس دان نیوٹن کی پیدائش 1642ء میں انگلینڈ کے مقام وولز تھروپ میں کرسمس کے روز ہوئی۔ اسی سال گلیلیو دنیا سے رخصت ہوا۔ پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ کی طرح نیوٹن بھی پیدائش کے وقت سایۂ پدر سے محروم تھا۔ بچپن سے ہی نیوٹن کی گہری دلچسپی میکانکی علوم کی طرف تھی اور اس کے ہاتھوں میں گویا قدرت نے کرشمہ ساز اثرات سمو ہوئے تھے مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پیدائشی طور پر غیر معمولی ذہانت سے بہرہ ور ہونے کے باوجود نیوٹن کا دل اسکول میں اچاٹ رہتا تھا اور یہ ہی وجہ ہے کہ کم عمری میں اسے بہت کم لوگوں کی توجہ حاصل ہو سکی حتیٰ کہ  کچھ عرصے بعد اس کی ماں نے مجبور ہو کر اسے اسکول سے اٹھا لیا۔ اس کی ماں کو امید تھی کہ اس کا بچہ کم از کم ایک کامیاب کسان تو بن ہی جائے گا مگر اسے خوش قسمتی ہی کہا جائے گا کہ نیوٹن کی ماں کو یہ بھی یقین تھا کہ اس کے بیٹے کی ذہانت کے اصل گوہر کہیں اور ہی نہاں ہیں اور ایسا ہی ہوا جب صرف اٹھارہ سال کی عمر میں نیوٹن کو کسی نہ کسی طرح کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا جہاں مسقتبل کے اس عظیم ترین سائنس دان نے نہایت سرعت کے ساتھ ریاضی اور سائنس کے علوم میں کلی مہارت حاصل کر لی اور پھر اپنے طور پر تحقیق و جستجو میں جت گیا۔ نیوٹن نے اپنی زندگی کے اکیس سے ستائیسویں سال کے دوران ایسے سائنسی نظریات کی داغ بیل ڈالی جنہوں نے آگے چل کر دنیا میں انقلاب برپا کر دینا تھا۔ سترہویں صدی کے وسط میں یورپ میں سائنسی علوم پر تحقیقی کام زور و شور سے جاری تھے اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ صدی کے آغاز میں دوربین کی ایجاد نے علم فلکیات کی دنیا میں مکمل طور پر انقلاب برپا کر دیا تھا۔ ہوا یوں کہ برطانوی فلسفی فرانسس بیکن اور فرانسیسی فلاسفر دیکارت نے یورپی سائنسدانوں کو ترغیب دی تھی کہ وہ ارسطو کو استاد ماننا ترک کرتے ہوئے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں چناں جو کچھ دیکارت اور بیکن کا کہنا تھا اس پر گلیلیو نے جوں کا توں عمل کر دکھایا اور اپنی ایجاد کردہ دوربین کے ذریعے اس کی فلکی مشاہدوں نے فلکی علوم میں ایک بالکل نیا دریچہ وا کر دیا جب کہ اس کے میکانکی تجربوں نے اس اصول کو ثابت کر دکھایا جسے دنیا آج نیوٹن کے قانون حرکت کے نام سے جانتی ہے۔ اس دوران ولیم ہاروے نے جسم میں خون کی گردش کا اصول دریافت کیا اور اس کی ہی طرح کے دوسرے بڑے سائنس دان جیسے سورج کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کی حرکت کے قوانین واضح کرنے والے جوہانس کیپلر اور دوسرے اہل علم دنیائے سائنس میں نت نئی بنیادی معلومات کا اضافہ کر رہے تھے؛ تاہم اب بھی سائنس ذہین ترین لوگوں کے نزدیک محض ایک مشغلے سے زیادہ نہیں تھی اور ایسا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں تھا کہ اگر اس علم کو تیکنالوجی کی ذیل میں استعمال کیا جائے تو اس سے ایک روز تمام تر حیات انسانی کا رخ بالکل اسی طرح تبدیل ہو جائے گا جس طرح فرانسس بیکن نے پیش گوئی کی تھی۔ اگرچہ گلیلیو اور کاپرنیکس قدیم سائنس کی متعدد غلط فہمیوں کو ثابت کرنے کے بعد کائنات کو سمجھنے کے لیے وسیع تر فہم کی بنیاد رکھ چکے تھے مگر تاحال ایسے کوئی اصول و ضوابط ترتیب نہیں دیے جا سکے تھے جن کی مدد سے ایسی مبینہ غیر متعلق سچائیوں کو کسی مربوط فلسفے کے دائرے میں لا کر سائنسی پیشگوئیوں کا سلسلہ شروع کیا جاتا۔ بلآخر آئزک نیوٹن ہی وہ شخص ثابت ہوا جس نے اس ذیل میں ایک مربوط ترین نظریہ پیش کیا جس کے بعد سائنس کو ان جدید خطوط پر ڈالنا احاطہ امکان میں آیا جن پر آج تک اس  کا سفر جاری ہے۔ اگرچہ نیوٹن نے 1669ء میں اپنی زیادہ تر تحقیقات کے بنیادی اصول تیار کر لیے تھے مگر چوں کہ ابتدا میں وہ اپنی تحقیقات کی اشاعت میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا اس لیے اس کے بیش تر نظریات بہت دیر بعد منظر عام پر آئے۔ نیوٹن کی تہلکہ برپا کر دینے والی دریافتوں میں سب سے پہلی اشاعت روشنی کی ماہیت سے متعلق تھی جس میں اس نے محتاط ترین تجربات کے بعد پالیا تھا کہ عام سفید روشنی دراصل قوسِ قزح کے تمام رنگوں کا مجموعہ ہے جب کہ اس دوران نیوٹن انعطاف و انکعاسِ نور سے تعلق رکھنے والے قوانین اور ان کے نتائج کا بھی مکمل ترین تجزیہ کر چکا تھا اور 1668ء میں اس نے ان ہی قوانین کی مدد سے دنیا کی پہلی انعکاسی دوربین تیار کی اور یہ وہی دوربین ہے جو ہم آج تک بیشتر رصد خانوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ ان تمام مشاہدات و نتائج کو آئزک نیوٹن نے انتیس سال کی عمر میں اپنے دیگر بصری تجربات کے ساتھ برٹش رائل سوسائٹی کے سامنے پیش کیا۔ اگرچہ نیوٹن کے صرف بصری تجربات و مشاہدات ہی دی ہنڈریڈ میں اس کے تذکرے کے لیے کافی تھے تاہم بات یہ ہے کہ ان کا درجہ اس کی ان بیش قیمت کامیابیوں سے بہت کم ہے جو اس نے خالص میکانیات اور ریاضی کے علوم میں حاصل کیں۔ چناںچہ ریاضیات میں نیوٹن کا سب سے بڑا کارنامہ احصائے تکملی کو کہا جا سکتا ہے جو اس نے تئیس یا چوبیس سال کی عمر میں ماہرین فن کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ احصائے تکملی جدید ریاضیات میں ایک اہم ترین دریافت تھی۔ یہ ایک بیج نہیں تھا جس سے جدید ریاضی کی تشکیل ممکن ہوئی بلکہ وہ بنیادی اوزار تھا جس کے بغیر دور جدید کی سائنس کے متعدد پہلوؤں کی ترقی کا تصور تک محال ہوتا۔ اگر نیوٹن نے صرف علم ریاضی ہی کے اس شعبے میں نام کمایا ہوتا تب بھی یہ امر اس کتاب میں اس کے بلند درجے پر تذکرے کے لیے کافی سے زیادہ تھا تاہم نیوٹن کی سب سے اہم دریافتیں میکانیات کے شعبے میں ہیں جہاں اس نے مادی اجسام کی حرکت کے بارے میں قابل فہم تجزیے پیش کیے ہیں۔ درحقیت عملی طور پر تمام مادی اجسام پر بیرونی طاقتوں کے اثرات ہوتے ہیں اور گلیلیو نے اسی بیرنی طاقت کے زیر اثر اجسام کی حرکت کے پہلے قانون کے بارے میں پہناں راز سے پردہ اٹھا دیا تھا تاہم علم میکانیات میں اہم تر سوال یہ تھا کہ اجسام کی ان حالات میں حرکات کس چیز کی تابع ہوتی ہیں چناں نیوٹن نے یہ عسیرالفہم مسئلہ اپنے مشہور زمانہ حرکت کے دوسرے قانون کے ذریعے حل کیا جو بے شک کلاسیکی فزکس کا محوری قانون سمجھا جاتا ہے۔ ریاضی میں F = ma سے ظاہر کیے جانے والے حرکت کے دوسرے قانون کے تحت کسی مادی جسم کی حرکت کی شرح جہاں اس جسم کی حرکت کی رفتار تبدیل ہوتی ہے اس پر اثر ڈالنے والی اس طاقت کے برابر ہوتی ہے جسے اس جسم کے کُل حجم پر تقسیم کیا جائے۔ ابتدائی دو قوانین حرکت میں نیوٹن نے بعد ازاں معروف زمانہ حرکت کے تیسرے قانون کا اضافہ کیا جس کی رو سے مادی طاقت کے تحت ہر مادی عمل کا یکساں رد عمل ہوتا ہے اور ساتھ ہی قانون کشش ثقل بھی پیش کیا جس سے آج ہر خاص و عام واقف ہے۔ ان چاروں قوانین نے باہمی طور پر ایسے مربوط سائنسی نظام کی طرح ڈالی جس نے آخر کار کائنات کے وسیع تر میکانکی نظام کی وضاحت کو ممکن بنایا اور پنڈولم کی حرکت سے لے کر سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے والے سیاروں کی حرکات کی وضاحت اور اس بارے میں پیشگوئیاں ممکن ہوئیں۔ نیوٹن نے صرف میکانیات کے اصول ہی بیان نہیں کیے بلکہ بذات خود کیلکیولس کی مدد سے ثابت کیا کہ ان محوری قوانین کے ذریعے کس طرح اصلی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس طرح سائنس اور انجینیئرنگ کے نہایت وسیع البنیاد مسائل پر نیوٹن کے قوانین کا کامیابی سے اطلاق کیا گیا۔ خود نیوٹن ہی کی زندگی میں اس کے قوانین کو ڈرامائی انداز میں علم الفلکیات میں استعمال کیا گیا اور یہ علوم کا وہ شعبہ ہے جہاں نیوٹن کی حیثیت کسی سنگِ میل سے کم نہیں۔ 1687ء میں نیوٹن کے ’فطری فلسفہ کے نظریاتی قوانین‘ شائع ہوئے جنہوں نے ایک تہلکہ سا مچا دیا۔ نیوٹن کی یہ کتاب ’پرنسیپا‘ کے نام سے جانی جاتی ہے جس میں نیوٹن نے قانون ثقل و حرکت کی مفصل وضاحت کے ساتھ ثابت کیا کہ ان قوانین کے ذریعے کس طور سورج کے گرد سیاروں کی قطعی گردش کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔ چوںکہ حرکیاتی علم الفلکیات کا بنیادی سوال یہ تھا کہ سورج اور ستاروں کے قطعی مقام اور حرکات کی پیشگوئی کس طرح کی جائے مگر نیوٹن کے پیش کردہ قوانین نے ان تمام مسائل کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی نیوٹن کو اکثروبیشتر دنیا کے عظیم تر ماہر فلکیات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ نیوٹن کی سائنسی اہمیت کا تجزیہ کس طرح کیا جائے میرا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی انسائکلوپیڈیا کی فہرستوں میں نیوٹن، اس کے پیش کردہ قوانین اور دریافتوں کا تذکرہ دیگر کسی بھی سائنس دان کے مقابلے میں نسبتاً دو یا تین گنا زیادہ ملتا ہے اور اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دیگر عظیم سائنس دانوں کا نیوٹن کے بارے میں کیا کہنا ہے۔ چناں چہ لائبنیز جس کی ایک بار نیوٹن سے شدید تلخ کلامی ہوئی تھی اور جسے کسی بھی طور نیوٹن کے دوستوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا رقم طراز ہے – ابتدا سے لے کر نیوٹن کے دور تک اگر ریاضی کے علم پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ نیوٹن کے کارنامے اس علم کا روشن ترین باب ہیں۔ عظیم فرانسیسی سائنسدان لاپلیس کا کہنا ہے – ذہنِ انسانی کی ذہانت کے بلکی گئی  کاوشوں میں پرنسیپا کا مقام نہایت اہم ہے۔ لاگرینج اکثروبیشتر نیوٹن کو دنیا کا سب سے عظیم فطین قرار دیا کرتا تھا۔ 1901ء میں ارنسٹ ماخ نے ان الفاظ کے ذریعے نیوٹن کو اپنے ایک مضمون میں خراج تحسین پیش کیا – نیوٹن کے دور سے لے کر تاحال ریاضی کے شعبے میں ہوئی ہر ترقی ایک رسمی اور ریاضیاتی ارتقاء ہے جس کی بنیاد صرف اور صرف نیوٹن کے پیش کردہ قوانین پر ہی ہے جب کہ ماخ کی نگاہ میں نیوٹن کے قوانین مینارہ نور کی طرح ہیں۔ سائنس منفرد سچائیوں اور اصول و ضوابط کا ایک ملا جلا علم ہے جس کی رو سے مظاہرِ فطرت کی وضاحت تو ممکن ہے مگر اس کے ذریعے قطعی پیشگوئیاں نہیں کی جا سکتیں؛ تاہم نیوٹن نے دنیا کے سامنے قوانین کا ایسا مربوط نظام پیش کیا ہے جسے وسیع تر بنیادوں پر طبیعاتی نظام پر منطبق کرنے کے بعد بالکل درست سائنسی پیشگوئیاں کی جا سکتی ہیں۔ چوں کہ دی ہنڈریڈ کی اس مختصر سے تحریر میں نیوٹن کی تمام کامیابیوں کا احاطہ کرنا محال ہے اس لیے یہاں مجبوراً اس کے نسبتاً کم درجے کے متعدد کارہائے نمایاں سے صرف نظر کیا گیا ہے اگرچہ ان کی اہمیت بھی اپنی جگہ کسی طور کم نہیں۔ علم صوتیات اور حرحرکیات میں بھی نیوٹن کا کردار اہم تر ہے جہاں اس نے معیارِ حرکت اور زاویاتی معیارِ حرکت کی بقا سے متعلق گراں قدر طبعیات قوانین پیش کیے۔ نیوٹن نے دو عددی کلیہ کی دریافت کے علاوہ ستاروں کی تخلیق کے بارے میں سب سے پہلے قابل قبول اور سمجھ میں آنے والی توجیہ پیش کی۔ یہاں قاری کے ذہن میں یہ سوال نمودار ہو سکتا ہے کہ بے شک نیوٹن دنیا کا سب سے پُراثر سائنسدان ہے مگر کیا وجہ ہے کہ اسے دی ہنڈریڈ میں حضرت عیسٰیؑ اور گوتم بدھ جیسی مذہبی اور جارج واشنگٹن یا سکندر اعظم کی طرح نمایاں ترین سیاسی شخصیات سے اوپر جگہ کیوں دی گئی ہے؟ اس سوال کے جواب میں میرا شخصی نکتہ نظر یہ ہے کہ بے شک سیاسی تغیرات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں مگر کیا سکندر اعظم کی موت کے پانچ سو سال بعد بھی روئے ارض پر انسان اسی حالت میں زندہ نہیں تھے جس طرح صدیوں سے ان کے آباء و اجداد زندگیاں گزارتے چلے آ رہے تھے؟ اسی طرح انسانوں کی اکثریت اپنے روزانہ کے معمولات میں اسی طرح زندہ تھی جس طرح وہ حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش سے ڈیڑھ ہزار سال قبل یا ان کے دنیا سے جانے کے ڈیڑھ ہزار سال بعد دیکھی گئی مگر کیا آخری پانچ صدیوں میں جدید سائنس نے حیات انسانی کے زمین و آسمان کو کچھ سے کچھ نہیں کر دکھایا؟ آج ہمارے کھانوں کا انداز اور لباس بالکل مختلف ہیں۔ ہمارے پیشے اور ملازمتیں یکسر تبدیل ہو گئی ہیں اور ہم اپنا فارغ وقت کسی طور اس طرح نہیں گزارتے جس طرح لوگ 1500ء بعد از مسیح میں گزارا کرتے تھے۔ سائنس نے صرف معیشت اور تیکنالوجی ہی کا رخ نہیں پلٹا بلکہ اس نے فلسفہ، فن و ثقافت، مذہبی سوچ اور سیاست تک کو سربسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ آج انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جہاں سائنس کا اثر دکھائی نہ دیتا ہو اور یہ ہی سائنسی انقلاب کا وہ آنچک ہے جس کے باعث دی ہنڈریڈ میں آپ کو سب سے زیادہ تذکرہ سائنسدانوں اور موجدوں  کا ملے گا۔ نیوٹن صرف ایک ذہین ترین سائنسدان ہی نہیں تھا بلکہ نظریہ سائنس کے ارتقاء میں اس کے علمی اثرات نے محوری کردار ادا کیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں اسے پراثر ترین افراد کی فہرست میں درجہ دوم پر جگہ دی گئی ہے۔ تاریخِ عالم  کا یہ ذہین ترین انسان 1727ء میں اس سرائے فانی سے رخصت ہوا اور وہ پہلا سائنس دان تھا جسے اس کی علمی کاوشوں کے اعتراف میں ویسٹ منسٹر گرجا کے احاطے میں دفن کیے جانے کے اعزاز سے نوازا گیا۔