The Black Cat By Edgar Allan Poe in Urdu

بلے کا انتقام – کلاسک ہارر

اس سادہ سی کہانی پر مجھے یقین ہے اور نہ ہی میں قاری سے توقع کرتا ہوں کہ وہ اسے سچ تسلیم کرے گا۔ اگر میں ایک ایسی کہانی کو سچ باور کرائوں جہاں خود میرے احساسات آنکھوں دیکھی شہادت ماننے کے لیے تیار نہیں تو کوئی مجھے دیوانہ ہی قرار دے گا؛ البتہ میں دیوانا ہوں اور نہ ہی میں نے کوئی خواب دیکھا ہے، مگر کل میرا اس دنیا میں آخری دن ہے اس لیے آج میں اپنی روح کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ اس تحریر کا مقصد اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کو مختصر طور پر سادہ الفاظ میں قاری کے سامنے بالکل اسی طرح پیش کرنا ہے، جس طرح وہ رو نما ہوئے اور میں اس کہانی میں اپنی رائے شامل کرنے سے گریز کروں گا تا کہ پڑھنے والا اپنے طور پر جو چاہے نتیجہ اخذ کر لے۔ ان تمام واقعات نے مجھے خوف زدہ کرنے کے ساتھ میری روح کو بھی توڑ کر رکھ دیا ہے اور اب میرے سامنے ابدی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر میں ان واقعات کی وضاحت یا توجیہ (بھی) پیش نہیں کروں گا۔ یہ واقعات میرے لیے ایک مسلسل دہشت کے علاوہ اور کچھ نہیں، مگر دوسروں کے لیے ہو سکتا ہے یہ اتنے پریشان کن نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے میرے بعد کوئی سائنسی ذہن ان واقعات کی کوئی عقلی توجیہ پیش کر کے اس کہانی پر پڑا پر اسراریت کا پردہ ہمیشہ کے لیے چاک کر دے اور جس چیز کو میں نے دہشت کا جامہ پہنا کر پیش کیا ہے وہ بعد میں


The Black Cat By Edgar Allan Poe in Urdu


محض ایک فطری چیز ثابت ہو۔ میں بچپن سے ہی اپنے مزاج کی نرمی اور دوسروں کے ساتھ رحم دلانہ برتائو کے حوالے سے مشہور تھا۔ میرا دل اس قدر نرم تھا کہ میرے ساتھی میرا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ میں جانوروں سے بہت شوق رکھتا تھا اور میرے والدین نے میرے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے گھر میں متعدد پالتو جانور پالے ہوئے تھے۔ میں زیادہ تر وقت ان پالتو جانوروں کے ساتھ گزارتا تھا۔ میری خوشی کا اس وقت کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا جب میں ان کی کھال پر ہاتھ پھیرتا اور انہیں اپنے ہاتھ سے کھلاتا تھا۔ یہ شوق میری عمر کے ساتھ بڑھتا ہی گیا اور جب میں بالغ ہوا تب بھی ان پالتو جانوروں کے ساتھ میرا یہ ہی رویہ بر قرار رہا۔ جو لوگ پالتو جانوروں سے محبت رکھتے ہیں وہ میری بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ایک جانور کی مخلصانہ اور بے غرض محبت میں کوئی نہ ایسا پہلو ضرور پنہاں ہے جو اس کے پالنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ خاص کر ایک ایسے انسان کے دل میں جس نے اپنے ہی جیسے انسانوں سے فریب پر فریب کھایا ہو۔ میں نے کم عمری میں ہی شادی کر لی تھی اور میں اپنے جیسے نرم مزاج والی جیون ساتھی کو پا کر بہت خوش تھا۔ جانوروں سے میرا از حد لگائو دیکھ کر وہ بھی بہت جلد میرے رنگ میں رنگ گئی۔ ہمارے گھر میں اس وقت پرندے، گولڈ فش، ایک بہترین نسل کا کتا، متعدد خرگوش اور ایک چھوٹا سا بندر پلا ہوا تھا اور ہاں ایک سیاہ بلا بھی ہمارا پالتو تھا۔ یہ بلا مکمل طور پر سیاہ تھا اور غیر معمولی جسامت کے ساتھ نہایت خوب صورت بھی، تا ہم اس کی بے پناہ ذہانت اکثر ہمیں چونکا دیا کرتی تھی۔ اگر چہ میری بیوی ذرا بھی توہم پرست نہیں تھی، مگر اس بلے کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے اکثر کہا کرتی تھی کہ تمام سیاہ بلے اپنی اصل میں چڑیل ہوتے ہیں، جنہوں نے کسی مقصد کی خاطر یہ روپ دھارا ہوتا ہے، تا ہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دل سے ان توہمات پر یقین بھی رکھتی تھی اور میری قاری سے گزارش ہے کہ وہ اس نکتے کو اچھی طرح ذہن نشین کر لے۔ اس بلے کا نام پلوٹو تھا اور میں دل سے اسے پسند کرتا تھا۔ پلوٹوصرف میرے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا اور میں گھر میں جہاں کہیں بھی جاتا یہ ہمیشہ میرے پیروں میں لپٹنے کے لیے بے چین رہتا تھا۔ حالت یہ تھی کہ اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے گھر سے چھپ کر نکلنا پڑتا تھا ورنہ وہ وہاں بھی بلا توقف میرے پیچھے پیچھے چلا آتا۔ اس طرح ہماری دوستی کئی سالوں تک جاری رہی، مگر رفتہ رفتہ میرے مزاج میں تبدیلی آنے لگی۔ شروع میں اس تبدیلی کو میں نے شیطان کا خلل قرار دیا، مگر جیسے جیسے دن گزرتے گئے میں چڑچڑے سے چڑچڑا ہوتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ میرا دل دوسروں کے لیے نرم جذبات سے بالکل عاری ہو گیا۔ میں اب نہ صرف اپنی بیوی سے درشت مزاجی کے ساتھ پیش آتا تھا بلکہ کئی بار میں نے اس پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ میرے پالتو جانوروں نے فوری طور پر میرے مزاج کی اس تبدیلی کو محسوس کر لیا۔ میں اب نہ صرف انہیں نظر انداز کرنے لگا تھا بلکہ اکثر انہیں نا روا سلوک کا نشانہ بھی بناتا تھا۔ سوائے پلوٹو کے میں نے خرگوشوں، بندر اور حتیٰ کہ کتے کے ساتھ بھی برا سلوک کیا۔ یہ جانور میری محبت میں میرے پاس آتے تھے اور میں ان کے ساتھ جواب میں بری طرح پیش آتا تھا۔ کسی دانش مند نے درست کہا ہے کہ شراب نوشی سے بڑی بیماری کوئی نہیں اور یہ بیماری میری نس نس میں سما چکی تھی۔ آخر کار پلوٹو نے بھی میرے مزاج کی اس بھیانک تبدیلی کا احساس کرنا شروع کر دیا کیوں کہ اب وہ بوڑھا ہو رہا تھا اور ایک نوعیت کی چڑچڑاہٹ اس کے مزاج میں بھی در آئی تھی۔ ایک رات میں شراب میں دھت قصبے میں ادھر ادھر آوارہ گردی کے بعد اپنے گھر لوٹٓا اور میں نے محسوس کیا جیسے پلوٹو میرا سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔ میں نے اس بات پر چڑ کر اسے زبردستی دبوچ لیا، مگر میرے اس رویے سے گھبرا کر اس نے میرے ہاتھوں پر ہلکا سا اپنے دانتوں سے کاٹ لیا۔ یک لخت میرے وجود میں گویا ابلیس سما گیا اور میں اپنے آپے سے باہر ہو کر خود کو بھی فراموش کر بیٹھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے میری روح اس وقت میرے جسم سے نکل گئی ہو اور اس کی جگہ میری رگوں میں کوئی آسیب دوڑ رہا ہو۔ میں نے اپنی واسکٹ کی جیب سے سفری چاقو نکالا اور اسے کھولتے ہوئے بے چارے پلوٹو کی گردن دبوچ کر قصداً اس کی ایک آنکھ چاقو سے باہر نکال دی۔ آج اس بد ترین ظلم کی روداد قلم بند کرتے وقت میرا رواں رواں شرم سار ہے، میرے وجود میں ندامت کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور میرا دل پتے کی طرح لرزاں ہے۔ دن نکلنے پر جب میرے ہوش و حواس بحال ہوئے اور رات بھر کی نیند لینے کے بعد میرے دماغ سے شراب کا نشہ اتر گیا تو میرے وجود میں ایک نوعیت کی دہشت سما گئی۔ یہ خوف اور ندامت کا ملا جلا احساس تھا اور میرا جرم میرے ضمیر پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا، مگر یہ ایک وقتی کیفیت ثابت ہوئی جو میری روح کا ایک بھی تار مرتعش نہ کر سکی۔ میں ایک بار پھر اپنی عیاشوں میں پڑ کر شراب کے نشے میں ایسا ڈوبا کہ یہ واقعہ میرے لیے صرف ایک خواب بن کر رہ گیا۔ اس دوران دھیرے دھیرے پلوٹو کی آنکھ کا زخم بھر گیا۔ اس کا آنکھ سے خالی ڈیلا دیکھ کر خوف ضرور آتا تھا، مگر اب یہ زخم اس کے لیے تکلیف دہ نہیں تھا۔ پلوٹو اپنے سابقہ معمول کے مطابق گھر میں گھومنے پھرنے لگا، مگر حسب توقع مجھے دیکھتے ہی وہ موت کی حد تک خوف زدہ ہو جاتا تھا۔ شاید میرے دل میں ابھی تک رحم کا کوئی نہ کوئی پہلو باقی تھا کیوں کہ شروع شروع میں اپنے محبوب پالتو بلے کو اس طرح اپنے آپ سے خوف زدہ ہوتے دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا، مگر میرے ان احساسات پر جلد ہی چڑچڑاہٹ غالب آ گئی اور اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے شیطان میرے سر پر سوار گیا۔ اگر چہ میری بات سائنسی منطق سے محروم ہے، مگر آج مجھے ایسا لگتا ہے جیسے اس وقت میری روح نے میرے وجود میں دم توڑ دیا ہو کیوں کہ میں مکمل طور پر کج روی کا شکار ہو گیا تھا۔ کج روی اور ہٹ دھرمی انسانی قلب کی قدیم ترین اکساہٹیں ہیں جن سے مکمل طور پر پیچھا چھڑانا ممکن نہیں یا پھر یہ وہ جذبات ہیں جو ایک انسان کے کردار کا رنگ متعین کرتے ہیں۔ اس دنیا میں آخر ایسا کون سا شخص ہے جس نے جانتے بوجھتے کبھی نہ کبھی کسی برائی یا حماقت کا ارتکاب نہ کیا ہو ۔ ۔ ۔ ؟

 

جاری ہے ۔ ۔ ۔