The Colour Out of Space | Read in Urdu | H.P. Lovecraft

ایچ پی لَوکرافٹ کا ہول ناک افسانچہ بامحاورہ اردو میں


ترجمہ وتدوین ضُحٰی خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز

zoha@nayrang.com


آرکھم قصبے کے شمال میں پہاڑوں اور جنگلات کا ایک طویل سلسلہ ہے اور یہاں موجود وادیاں اتنی گہری ہیں کہ درختوں کو کاٹنے کے لیے اترنا انسانی بساط سے باہر ہے۔ یہاں گہری کھائیوں میں تاریکی چھائی رہتی ہے اور پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر اگے بلند و بالا درخت ایک انوکھا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ درختوں کے درمیان بے شمار چھوٹے چھوٹے جھرنے ہمیشہ بہتے رہتے ہیں مگر درختوں کے گہرے سایوں کی وجہ سے آج تک ان پر سورج کی ایک کرن بھی نہیں پڑی ہے۔ جہاں جہاں پہاڑوں کی ڈھلانیں نسبتاً ہم وار ہیں وہاں فارم بنے ہوئے ہیں مگر یہ فارم نہایت ہی قدیم ہیں جن ک تعمیر میں چٹانی پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ بنے کاٹیجوں کی دیواروں اور چھتوں پر سبز اور نم کائی ک دبیز تہیں چڑھی ہوئی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے یہ کاٹیج نیو انگلینڈ کی ان ڈھلانوں اور پہاڑوں میں صدیوں سے چھپے رازوں پر سر جھکائے خاموشی سے غور و فکر کر رہے ہوں مگر یہ تمام کاٹیج اب خالی پڑے ہیں اور ان کی بھاری بھرکم چمنیاں خستہ حال ہو کر جھڑ رہی ہیں جب کہ چھتوں پر لگائی گئی چھپریل ایک قصہ پارینہ سے کم نہیں۔ ان کاٹیجوں میں رہنےوالے پرانے لوگ یہاں سے جا چکے ہیں اور دوسرے ملکوں کے لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے۔ کینیڈا کے فرانسیسی نژاد باشندوں، اٹلی کے لوگوں اور پولینڈ کے تارکین وطن نے یہاں بسنے کی کوشش کی مگر بالآخر واپس لوٹ گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس علاقے میں دن دہاڑے غیر فطری واقعات رو نما ہوتے ہیں بلکہ اس کا سبب صرف انسانی تخیل یا وہم سے ہے۔ بے شک یہ جگہ انسانی تخیل کے لیے بہتر نہیں ہے اور یہاں اگر کسی کو خواب آتے ہیں تو وہ ڈرائونے ہی ہوتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ تمام غیر ملکی لوگوں نے یہاں سے واپس لوٹنے میں ہی عافیت سمجھی ورنہ یہاں آباد کاشت کار ایمی پیئرس نے کسی کو بھی ان پراسرار واقعات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا جو اس کے سینے میں مدفون ہیں۔ تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے با وجود ایمی ابھی بھی یہیں رہتا ہے۔ ایمی وہ واحد شخص ہے جو کبھی کبھار ان گزرے دنوں کے بارے میں بات کر لیتا ہے اور اس کی اس جرات کی وجہ یہ ہے کہ اس کا گھر کھلے کھیتوں اور آرکھم کے اطراف پھیلے صدیوں پرانے راستوں سے بہت قریب ہے۔ ۔ کسی زمانے میں یہاں پہاڑوں کے ڈھلوانوں پر وادیوں سے گزرتی ایک سڑک ہوا کرتی تھی جو سیدھی ’منحوس دلدل‘ تک پہنچ کر ختم ہو جاتی تھی مگر جب لوگوں نے خوف زدہ ہو کر اس راستے کو استعمال کرنا ترک کر دیا تو جنوب کی سمت ایک نئی گھمائو دار سڑک تعمیر کی گئی۔ پرانی سڑک کے آثار اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں مگر اب دوبارہ اس کی طرف بڑھتی جنگلی جھاڑیوں نے اس کے بڑے حصے کو ڈھانپ لیا ہے مگر پانی کے نئے ذخیرے کی بنیادیں ڈالنے اور نصف سے زائد گڑھوں میں پانی بھرنے کے با وجود اس سڑک کے آثار کافی حد تک ایک طویل عرصے کے لیے باقی رہیں گے مگر اس تاریک جنگل کی کٹائی کے بعد ’منحوس دلدل‘ ہمیشہ کے لیے نیلے پانی کی تہہ میں گم ہو جائے گی جس کی سطح پر سورج کی روشنی میں چھوٹی چھوٹی لہریں سدا ہلکورے لیتی رہیں گی۔ اس وقت ان پراسرار دنوں کے راز دیگر مدفون رازوں کے ساتھ مل کر اس کرہ ارض کی پیدائش کے وقت سے چلی آ رہی پرانی داستانوں کی آغوش میں سو چکے ہوں گے۔ جب میں پانی کی نئی مصنوعی جھیل کے سرکاری منصوبے کے سلسلے میں ان پہاڑوں اور وادیوں کا پیشہ ورانہ جائزہ لینے یہاں آیا تو قصبے کے لوگوں نے مجھے سے کہا کہ وہ جگہ منحوس اور آسیب زدہ ہے۔ مجھے یہ باتیں آرکھم قصبے میں سننے کو ملیں مگر چوں کہ یہ ایک نہایت قدیم قصبہ ہے اس لیے اس کی تاریخ چڑیلوں اور بھوتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جو میرے خیال میں یہاں رہنے والی عورتیں صدیوں سے اپنے بچوں کو سناتی آ رہی ہیں۔ مگر ’منحوس دلدل‘ کا نام مجھے نہ صرف عجیب بلکہ خاصا ڈرامائی محسوس ہوا اور میں سوچنے لگا کہ پیوریٹن دور میں (انگریز پروٹسٹنٹ عیسائیوں کا ایک کٹر حلقہ جو ایلزبتھ اوّل کے زمانے کی کلیسائی اصلاحات کو ناکافی سمجھتا تھا: مترجم) یہ نام کس طرح لوک داستانوں کا حصہ بنا ہو گا مگر جب میری نظر پیڑوں سے بھری ان ڈھلانوں اور وادیوں پر پڑی تو میرے ذہن سے تمام توہمات نکل گئے اور میں نے صرف یہ اندازہ لگانے کی کوشش کہ یہ جگہ کتنی قدیم ہو سکتی ہے۔ جب میں یہاں پہنچا تو یہ صبح کا وقت تھا مگر اس کے با جود یہ جگہ دھندلکوں سے اٹی پڑی تھی۔ یہاں اگے درخت گولائی میں بہت زیادہ چوڑے اور نیو انگلینڈ میں دوسرے مقامات پر پائے جانے والے جنگلات کے مقابلے میں بہت جسیم تھے۔ ان درختوں کی نیم تاریک ڈھلانوں میں صرف خاموشی کا راج تھا جب کہ زمین پر صدیوں پرانی کائی اور گلے سڑے پتوں کی دبیز قالین بچھی ہوئی تھی۔ ۔ پرانی سڑک کے ساتھ ساتھ کھلی جگہوں میں چھوٹے پہاڑی فارم تھے جن میں کچھ کی عمارتیں ابھی تک صحیح سلامات تھیں اور کچھ میں اکا دکا گھر یا ایک آدھ تہہ خانہ ہی باقی بچا تھا، مگر ان میں بھی تیزی سے جنگلی پیڑوں نے اگنا شروع کر دیا تھا۔ کئی عمارتوں میں سالوں سے خاموش کھڑی خستہ حال چمنیاں اپنی بے وقعتی پر ماتم کناں دکھائی دیتی تھیں جن کے تلے اگی گھاس میں طرح طرح کے چھوٹے جنگلی جانور ادھر سے ادھر دوڑتے پھر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہاں ہر شے پر بے چینی اور دکھوں کی چادر تنی ہو اور ماحول غیر حقیقی اور غیر ارضی سا محسوس ہو رہا تھا گویا یہ علاقہ ہماری دنیا کا حصہ نہ ہو۔ بے شک یہ جگہ ایسی نہیں تھی جہاں ایک رات بھی رکنے کا سوچا جا سکتا۔ یہ منظر اطالوی مصور سالویٹر روزا کے بنائے اجاڑ مناظر کی طرح تھا۔ کسی ڈراوئی کہانی میں بیان کی جانے والی کوئی اجاڑ اور ویران جگہ جہاں جانا ممنوع ہو۔ مگر خدا کی پناہ جب میری نظر ’منحوس دلدل‘ پر پڑی تو اس کے مقابلے میں مجھے اس منظر پر کسی جنت کا گمان ہوا۔ بے شک ’منحوس دلدل‘ کو اس نام کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی شاعر نے اس دلدل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد یہ نام تجویز کیا ہو۔ دور سے دیکھنے پر گمان ہوتا تھا گویا یہاں بڑے پیمانے پر آتش زدگی ہوئی ہو مگر اس پانچ ایکڑ زمین کے ٹکڑے پر ایک پتہ بھی نہیں اگا ہوا تھا۔ یہ قطعہ آسمان تک پھیلا محسوس ہوتا تھا اور قریب سے دیکھنے پر لگتا تھا جیسے اس پر تیزاب کی بارش ہوئی ہو۔ ۔ ۔ یہ جگہ زیادہ تر پرانی سڑک کے شمالی حصے میں تھی مگر یہ کسی حد تک دوسری طرف بھی پھیلی ہوئی تھی۔ مجھے اس کی طرف بڑھتے ہوئے عجیب سی ہچکچاہٹ ہوئی اور میں اسے کوئی نام نہیں دے پایا۔ زمین کے اس پھیلے ہوئے قطعے پر کسی قسم کی نباتات موجود نہیں تھیں۔ اس کی مٹی باریک اور رنگت میں سرمئی تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے ہوا کے جھونکے کبھی بھی اسے راکھ کی طرح اڑانے پر قادر نہیں تھے۔ اس دلدل کے پاس اگے درخت بیمار اور ٹیڑھے میڑھے تھے جب کہ اس کے بالکل کنارے پر ماضی کے بے شمار درختوں کے مردہ تنے کھڑے گل سڑ رہے تھے۔ جب میں وہاں تیز قدموں سے آگے بڑھا تو میری نظر داہنی طرف ایک پرانی چمنی اور تہہ خانے کی ٹوٹی ہوئی اینٹوں اور پتھروں پر پڑی جن کے قریب ہی ایک متروک تاریک کنواں تھا جس کا منہ کسی بھیانک عفریت کی مانند کھلا تھا۔ اس کنویں سے خارج ہونے والے بخارات سورج کی روشنی کے رنگوں میں گھل کر مستقل نظروں کو فریب دے رہے تھے کیوں کہ جب بھی ہوا چلتی تو ان پر ہلکورے لیتے ہیولوں کا گمان گزرتا تھا۔ اس جگہ کی وحشت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد مجھے ان کہانیوں پر تعجب نہیں رہا جو آرکھم میں لوگوں نے مجھے سنائی تھیں۔ دلدل کے قریب و جوار میں ایک بھی گھر نہیں تھا اور میرا خیال تھا کہ زمانہ ماضی میں بھی یہ جگہ غیر آباد اور اجاڑ ہی ہو گی۔ جھٹپٹے کے وقت میں نے وہاں ٹہرنا مناسب نہیں سمجھا اور جنوب کی سمت واقع نئی سڑک پر تیز قدموں سے چلتا قصبے میں واپس آ گیا۔ قصبے میں واپس آنے کے بعد میں نے وہاں رہنے والے بڑی عمر کے افراد سے منحوس دلدل کے بارے میں سوال کیا اور ان سے پوچھا کہ ’پراسرار دنوں‘ سے آخر مراد کیا ہے جس کا لوگ دبے لفظوں میں تذکرہ کرتے ہیں؟ مگر مجھے سوائے اس بات کہ کوئی دوسرا جواب نہیں ملا کہ یہ پراسرار واقعہ حال ہی میں پیش آیا تھا اور میری توقع کے بر عکس یہ کوئی صدیوں پرانی داستان نہیں تھی اور یہ کہ اس کے چشم دید گواہ تا حال حیات تھے۔ یہ واقعہ 80 کی دہائی کا تھا جس کے دوران ایک پورا خاندان یا تو لا پتہ یا پھر موت کا شکار کا ہو گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ لوگ مجھے پوری اور درست بات سے آگاہ نہیں کر رہے تھے اور چوں کہ انہوں نے بار بار مجھے تاکید کی کہ میں ایمی پیئرس کی احمقانہ داستانوں پر توجہ نہ دوں اس لیے دوسری صبح میں ایمی کی تلاش میں نکل گیا۔ میں نے سنا تھا کہ وہ ایک قدیم خستہ حال کاٹیج میں تنہا رہتا ہے اور سب سے پہلے اس کے کاٹیج کے پاس لگے درختوں کی جسامت میں زبردست اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔ یہ ایک بہت پرانا گھر تھا اور یہاں سے ایسی سڑاند پھوٹ رہی تھی جو صدیوں پرانی عمارتوں کے تہہ خانوں میں بسی ہوتی ہے۔ دروازے پر کافی دیر تک دستک دینے کے بعد وہ بوڑھا شخص نیند سے بیدار ہوا اور جب وہ بوجھل قدموں سے چلتا دروازے تک آیا تو اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ مجھے وہاں دیکھ کر خوش نہیں تھا۔ وہ شخص بوڑھا ضرور تھا مگر میرے خیال کے برعکس نحیف و نا تواں نہیں تھا البتہ اس کی آنکھیں عجیب انداز میں جھکی ہوئی تھیں اور اس کے گندے کپڑے اور سفید بال دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اس دنیا میں اب اس کے لیے جیینے کی کوئی وجہ نہیں رہی۔ میں نے ابتدا میں اس سے اپنے سرکاری کام کی بات کی اور اپنے سروے کی بابت بتا کر علاقے کے بارے میں مبہم سے سوالات پوچھے۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ کسی طرح اس پراسرار داستان پر بات کرنے کے لیے تیار ہو جائے جس نے مجھے شدید تجسس میں مبتلا کر دیا تھا۔ لوگوں کی باتوں کے بر عکس ایمی نہایت ذہین اور تعلیم یافتہ ثابت ہوا اور تھوڑی ہی دیر کی گفتگو میں وہ سرکاری منصوبے کو اچھی طرح سمجھ گیا۔ وہ اس علاقے میں موجود دوسرے دیہاتیوں سے بالکل مختلف نظر آیا۔ اگر چہ اس کا گھر بھی اس سرکاری کام کی زد میں آ رہا تھا مگر اس نے دیگر لوگوں کی طرح کسی بھی قسم کی شکایات کے انبار نہیں لگائے ورنہ دوسرے دیہاتیوں کا خیال تھا کہ یہاں پانی کی مصنوعی جھیل بنانے سے میلوں تک جنگلات اور کاشت کاری کی زمینیں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ میری بات سن کر اسے گہرا سکون ملا اور اس نے اس بات پر نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ اس سرکاری منصوبے سے ان لاکھوں کروڑوں سال پرانی تمام وادیوں کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا جن کے درمیان گھومتے پھرتے اس کی زندگی گزری تھی۔ اس کے نزدیک بہتر یہ ہی تھا کہ اب اس منحوس دلدل اور اس سے ملحقہ زمین کو پانی کے نیچے ہمیشہ کے لیے چھپا دینا چاہیے۔ مگر جب اس نے یہ جملہ کہا تو اس کی پھنسی پھنسی آواز دھیمی ہو گئی۔ اس دوران وہ تھوڑا خمیدہ ہوا اور اس کے سیدھے ہاتھ کی پہلی انگلی تاکیدی انداز میں اشارہ کرنے لگی۔ ۔ یک لخت اس نے اس داستان کو سنانا شروع کر دیا اور جیسے جیسے اس کی سرگوشیوں بھری گونج دار آواز میری سماعتوں میں گھلتی گئی میرے جسم پر گرم موسم کے با وجود کپکی طاری ہونے لگی۔ ایمی اس دوران بار بار کہیں خلا میں کھو جاتا تھا اور مجھے ہر بار اسے کسی اور جہاں سے کھینچ کر لانا پڑتا تھا اور اسی طرح ان سائنسی حقائق کو چن کر درست تصویر بنانی ہوتی تھی جو ایمی نے ایک پروفیسر کی زبان سے سن کر توتے کی طرح رٹ لیے تھے۔ میرے لیے بار بار ان خلائوں کو پر کرنا بھی آسان نہیں تھا جہاں اس بوڑھے کا منطقی شعور اور تسلسل جواب دے جاتا تھا، مگر جب اس نے اپنی بات پوری کی تو مجھے لگا کہ واقعی اس کا دماغ تھوڑا سا ہلا ہوا ہے یا پھر یہ کہ اس قصبے کے باشندوں نے مجھے منحوس دلدل کے بارے میں پوری بات نہیں بتائی ہے۔ میں وہاں سے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اپنے ہوٹل میں لوٹ آیا کیوں کہ اب میرے لیے اس جگہ رات کی تاریکی میں پیدل چلنا ممکن نہیں رہا تھا اور اگلے روز میں نے بوسٹن واپس جا کر اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ ۔ ۔ میرے لیے اب اس تاریک جنگل اور ان پہاڑوں کی ڈھلانوں پر لوٹنا ممکن نہیں تھا۔ میں کسی بھی صورت میں اس سرمئی منحوس دلدل کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا جہاں پتھروں اور اینٹوں کے درمیان وہ تاریک کنواں منہ کھولے پڑا تھا۔ بے شک میرے نوکری سے استعفیٰ دینے کے با وجود حکومت بہت جلد وہاں مصنوعی جھیل بنا لے گی اور وہاں موجود زمانہ قبل از تاریخ کے تمام راز ہمیشہ کے لیے پانی کے تہہ میں پوشیدہ بھی ہو جائیں گے مگر پھر بھی میں کبھی رات کی تاریکی میں اس جگہ کا رخ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا بالخصوص ایک ایسی رات میں جب نحس ستارے اپنی تمام تر تاب ناکیوں کے ساتھ میرے سر پر چمک رہے ہوں۔ ۔ ۔ اور اب پانی کی ذخیرے کی تیاری کے بعد دنیا کا بڑے سے بڑا لالچ بھی مجھے آرکھم قصبے کا پانی پینے پر آمادہ نہیں کر سکے گا۔ ۔ ایمی نے مجھے بتایا کہ پراسراریت کا سلسلہ خلا سے زمین پر ایک بھاری پتھر کے گرنے کے بعد شروع ہوا۔ اس سے قبل اس علاقے میں کسی قسم کی پراسرار داستانوں کو کوئی وجود نہیں تھا البتہ لوگ کبھی کبھار جادوگرنیوں پر چلائے گئے مقدموں کے بارے میں بات ضرور کیا کرتے تھے مگر لوگ کبھی بھی ان جنگلات سے نہ صرف یہ کہ خوف نہیں کھاتے تھے بلکہ اس قصبے کے لوگ ایسے قصوں کا مذاق اڑاتے تھے جن کے مطابق مسکاٹونک کے نزدیک ایک چھوٹے سے جزیرے میں شیطان ایک ایسی پتھر کی بنی قربان گاہ کے پاس بیٹھ کر اپنا دربار لگاتا ہے، جو وہاں انسانوں کی پیدائش سے بھی بہت پہلے سے موجود ہے۔ ایمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ان جنگلات کو کبھی بھی آسیب زدہ نہیں سمجھا گیا اور لوگوں کے لیے وہاں ’پراسرار دنوں‘ سے پہلے سورج غروب ہونے کا منظر نہایت دل کش ہوا کرتا تھا، مگر ایک روز اس جگہ پر دوپہر کے وقت اچانک بادل چھا گئے اور ہوا میں بہت دیر تک دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں جس کے بعد جنگل میں بہت دور دھوئیں کے ایک ستون نے جنم لیا۔ رات ہونے سے پہلے آرکھم میں رہنے والے تمام لوگوں کو خبر ہو گئی تھی کہ آسمان سے ایک بڑا چٹانی پتھر گرا ہے جو ناہم کے گھر میں کھدے کنویں کے ساتھ موجود زمین میں دھنس گیا ہے۔ ناہم ایک عرصے سے اپنے خاندان کے ساتھ وہاں رہائش پذیر تھا اور باغ بانی کا کام کرتا تھا۔ یہ ناہم ہی کا گھر تھا جس کے کھنڈرات منحوس دلدل کے پاس موجود تھے مگر پراسرار دنوں سے پہلے یہ کھنڈرات پتھروں سے بنی ایک نہایت خوب صورت سفید عمارت تھی جس کے اطراف میں دور تک زرخیز زمین اور باغات پھیلے ہوئے تھے۔ ۔ اس شب ناہم قصبے کے لوگوں کے اس خلائی چٹان کے بارے میں بتانے آیا اور اس دوران وہ ایمی کے پاس سے ہوتا ہوا آیا تھا۔ اس وقت ایمی کی عمر 45 سال تھی اور اس کا دماغ بھی مکمل طور پر صحت مند تھا۔ ایمی اور اس کی بیوی مسکاٹونک یونی ورسٹی کے ان تین پروفیسروں کے ساتھ اس جگہ گئے تھے جہاں یہ پراسرار خلائی پتھر گر کر زمین میں دھنس گیا تھا، مگر جب انہوں نے اس پتھر کی جسامت کو دیکھا تو یہ ناہم کے گزشتہ روز کے بیان کے برعکس کافی کم تھی اور ناہم کا کہنا تھا کہ یہ پتھر سکڑ گیا ہے اور اپنی بات کی تائید میں اس نے زمین پر پتھر کے گرنے سے بننے والے گڑھے اور جلی ہوئی گھاس کے حلقے کی جانب اشارہ بھی کیا۔ ناہم کی بات بالکل درست تھی کیوں کہ پتھر اس کے گھر کے سامنے صحن میں بنے دلدلی کنویں کے نزدیک گرا تھا، مگر یونی ورسٹی کے پروفیسروں نے ناہم کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پتھر کبھی نہیں سکڑ سکتے۔ یہ پتھر اس وقت بھی خوب گرم تھا جب کہ ناہم کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں اس میں سے ہلکی سی روشنی بھی پھوٹ رہی تھی۔ پروفیسروں نے اس پتھر کو ہلکے سے ہتھوڑے سے بجا کر دیکھا جس سے پتہ چلا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے۔ یہ پتھر حیرت انگیز طور پر پلاسٹک کی طرح نرم تھا اور پرفیسروں کو لیبارٹری میں لے جا کر تجزیہ کرنے کے لیے اس پتھر سے نمونہ بجائے کھرچنے کے ایک نوک دار چیز سے نوچ کر نکالنا پڑا۔ چوں کہ یہ پتھر ابھی دہک رہا تھا اس لیے انہوں نے ناہم کے گھر سے ایک پرانی بالٹی لی تا کہ گرم نمونے کو اس میں ڈال کر لیبارٹری لے جا سکیں۔ ناہم کے گھر سے واپسی پر یہ لوگ سستانے کے لیے کچھ دیر ایمی کے گھر رک گئے۔ جب ایمی کی بیوی نے انہیں بتایا کہ دہکتا ہوا نمونہ نہ صرف بالٹی میں سکڑ رہا ہے بلکہ بالٹی کی تہہ میں سوراخ بھی کر رہا ہے تو تمام پروفیسر نہایت متفکر ہو گئے۔ بے شک نمونے کا یہ ٹکڑا پہلے کے مقابلے میں کافی چھوٹا ہو گیا تھا۔ ۔ یہ جون 1882 کی بات ہے جب اگلے روز یہ پروفیسرز نہایت پر جوش حالت میں وہاں دوبارہ آئے اور جب وہ ایمی کے گھر پر رکے تو انہوں نے اسے اس پتھر کے ٹکڑے کی عجیب و غریب ’حرکات‘ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب اسے پانی سے بھرے بیکر میں ڈالا گیا تو یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوا اور پھر شیشے کے بیکر کے ساتھ مکمل طور پر وہاں سے غائب ہو گیا۔ پروفیسروں نے ایمی کو یہ بھی بتایا کہ یہ پتھر مقناطیس کی طرح سلیکون کو کشش کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا جیسے لیبارٹری میں پتھر کے اس ٹکڑے کا رد عمل شعوری ہو۔ جب اسے گرم کیا گیا تو اس نے کسی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس میں سے کوئی گیس وغیرہ خارج ہوئی۔ بوریکس کے قطرات ٹپکانے پر بھی اس نے کوئی رد عمل نہیں دیا اور ہر قسم کے درجہ حرارت میں ڈالنے پر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جب اسے لوہے پر رکھ کر کوٹا گیا تو پتہ چلا کہ یہ نہایت نرم ہے اور تاریکی میں اس سے روشنی پھوٹتی ہوئی دیکھی گئی البتہ یہ ٹکڑا کسی بھی صورت میں ٹھنڈا نہیں کیا جا سکا اور جلد ہی یونی ورسٹی میں اس کی شہرت پھیل گئی۔ جب اسے طیف بین کے سامنے گرم کیا گیا تو اس میں سے ایسے رنگ پھوٹتے دکھائی دیے جو دنیا میں آج تک نہیں دیکھے گئے۔ پروفیسرز کے مطابق یہ عجیب و غریب خواص سے پُر کچھ نئی قسم کے عناصر تھے مگر وہ اس کے بارے میں کچھ بھی قطعی طور پر کہنے سے قاصر تھے۔ ۔ پروفیسروں نے مختلف مائعات کے ساتھ بھی اس کا تعامل کر کے دیکھا۔ اس پر پانی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور نہ ہی ہائڈروکلورک ایسڈ کا اور اسی طرح تیز ترین تیزاب بھی اس پر بے اثر تھے۔ ایمی نے بہت مشکل سے ان سائنسی باتوں کا تذکرہ کیا تھا اور مجھے اس کی یاد داشت کو مہمیز کرنے کے لیے اس کے سامنے بہت سی سائنسی چیزوں کے نام دہرانے پڑے۔ ایمی نے امونیا، کاسٹک سوڈا، الکوحل، کاربن ڈی سلفائیڈ اور اسی طرح کے دیگر ایک درجن کے قریب ناموں کو پہچان لیا۔ پروفیسروں نے اسے بتایا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ پتھر کے اس ٹکڑے کا حجم کم ہوتا گیا اور یہ تھوڑا سا ٹھنڈا بھی ہوا مگر ہر طرح کے تیزاب اس پر بے اثر تھے۔ بغیر کسی شک و شبہے کے یہ پتھر کسی قسم کی دھات تھا۔ اس میں مقناطیسی خواص موجود تھے اور تیزابی محلول میں ڈالنے سے پتہ چلتا تھا کہ اس میں بہت کم مقدار میں غیر زمینی لوہے کے ذرات بھی ہیں۔ پتھر کے اچھی طرح ٹھنڈے ہونے کے بعد مزید تجربات کے لیے اسے شیشے کے ایک بیکر میں ڈال دیا گیا تھا مگر اگلی صبح لیبارٹری سے نمونے کا یہ پتھر اور بیکر دونوں غائب تھے اور لکڑی کے جس شیلف پر یہ بیکر رکھا گیا تھا وہ جگہ بیکر کی جسامت کے مطابق جلی ہوئی تھی۔ یونی ورسٹی کے ان پروفیسرز نے یہ تمام باتیں ایمی کو بتائیں تھی اور وہ ایک بار پھر ان کے ساتھ ناہم کے گھر کے نزدیک دھنسے اس خلائی پتھر کو دیکھنے گیا، مگر اس مرتبہ اس کی بیوی اس کے ساتھ نہیں تھی۔ وہاں جا کر انہوں نے دیکھا کہ یہ چٹان بہت زیادہ سکڑ چکی تھی اور ان تعلیم یافتہ پروفیسرز کے پاس بھی اب اس بات کی تردید کرنے کا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس تیزی سے معدوم ہوتی خلائی چٹان کے اطراف کی تمام جگہ خالی تھی ما سوائے اس مٹی کے جو اندر گڑھے میں گر گئی تھی۔ گزشتہ روز اس چٹان کی لمبائی پورے سات فٹ تھی جو اب گھٹ کر پانچ فٹ رہ گئی تھی مگر یہ ابھی بھی گرم تھا اس لیے پروفیسرز نے نہایت احتیاط سے اس چٹان سے پتھر کا ایک اور نمونہ حاصل کیا جس کے لیے انہیں ہتھوڑے اور چھوٹی چھینی سے کام لینا پڑا۔ انہوں نے چٹان میں اس بار پہلے کی نسبت زیادہ گہرا سوراخ کیا اور دیکھا کہ اس چٹان کے اندر کی تہہ باہر سے مختلف تھی۔ ۔ اس بار پروفیسرز نے جو نمونہ لیا وہ ایک رنگ دار بلبلے کی طرح تھا مگر اس کے رنگ بیان کرنا ممکن نہیں تھا کیوں کہ انہیں اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھا گیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں رنگ قرار دینا بھی ایک استعارے سے زیادہ نہیں تھا۔ پتھر کے ٹکڑے کی سطح چمک دار تھی اور ہلکی چوٹ مارنے پر نہ صرف یہ کھوکھلا محسوس ہوتا تھا بلکہ کانچ کی طرح نازک بھی اور جب ایک پروفیسر نے اس پر ہتھوڑے سے ذرا زور سے ضرب لگائی تو یہ ایک چھناکے کے ساتھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ اگر چہ اس میں سے کچھ خارج نہیں ہوا مگر یہ ٹوٹتے ہی ہوا میں گھل کر غائب ہو گیا اور جو چیز باقی بچی وہ ایک تین انچ چوڑی کھوکھلی گیند نما شے تھی اور سب نے خیال ظاہر کیا کہ یہ چٹان اس طرح کے رنگ دار مادے سے بھری ہوئی ہے۔ مگر یہ قیاسات ناکام ثابت ہوئے اور ڈرل مشین کے ذریعے سوراخ کرنے کے با وجود یہ پراسرار مادہ پھر ہاتھ نہیں آ سکا چناں پروفیسرز اس نمونے کو لے کر وہاں سے رخصت ہو گئے، The Colour Out of Space | Read in Urdu | H.P. Lovecraftمگر پہلے کی طرح اس بار بھی لیبارٹری میں تجزیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور اسے تمام تر عجیب و غریب خواص کے با وجود کسی طور بھی شناخت نہیں کیا جا سکا۔ یہ پتھر اس زمین کا نہیں تھا بلکہ خلا سے آیا تھا اس لیے اس کے تمام تر خواص بھی غیر ارضی تھے۔ یہ پلاسٹک کی طرح نرم تھا۔ اس میں حرارت موجود تھی اور مقناطیسی خواص بھی تھے۔ یہ رات کی تاریکی میں چمکتا تھا اور طاقت ور ترین تیزابوں میں ڈالنے پر ہلکا سا ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ اس میں سے وہ رنگ خارج ہوتے تھے جنہیں دنیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ ہوا میں گھل کر غائب ہو جاتا تھا۔ یہ سلیکون پر مقناطیس کی طرح لپکتا تھا اور اسے تلف کر دیتا تھا، مگر ان سب کے با وجود اس کی کوئی خصوصیت ایسی نہیں تھی جسے اس زمین پر شناخت کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ اس شب آرکھم میں برق و باراں کا طوفان آیا اور اگلے روز جب پروفیسر چٹان کو دیکھنے آئے تو ان کی ساری امیدوں اور جوش پر پانی پڑ گیا۔ چوں کہ اس پتھر میں مقناطیسی خواص موجود تھے اس لیے اس میں یقیناً کچھ مخصوص برقی خصوصیات ضرور ہوں گی کیوں کہ یہ ناہم کے مطابق آسمانی بجلی کو خود پر کشش کر رہا تھا۔ ناہم کے مطابق اس پر صرف ایک گھنٹے کے اندر چھ مرتبہ بجلی گری تھی جس سے کم از کم یہ محاورہ تو غلط ثابت ہو گیا تھا کہ بجلی کسی جگہ پر دوسری بار نہیں گرتی، مگر ناہم نے بتایا کہ جب طوفان تھم گیا تو یہ خلائی چٹان اپنی جگہ سے غائب ہو چکی تھی اور وہاں قدیم دلدلی کنویں کے ساتھ ایک کھردرا گڑھا باقی رہ گیا تھا جو نصف کے قریب اندر گرنے والی مٹی اور گھاس سے بھرا ہوا تھا۔ کھدائی کا کچھ نتیجہ نہیں برآمد نہیں ہوا اور سائنس دانوں نے چٹان کے مکمل غائب ہونے کے واقعے کی تصدیق کر دی۔ یہ ایک مکمل نا کامی تھی اس لیے پروفیسروں کے پاس لیبارٹری واپس جا کر وہاں موجود نمونے پر تجربات کرنے کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اس بار اس نمونے کو یونی ورسٹی کی لیبارٹری میں نہایت احتیاط سے سیسے کے خول کے اندر رکھا گیا تھا تا کہ یہ پھر غائب نہ ہو جائے۔ مگر یہ نمونہ ایک ہفتے تک باقی رہا اور اس سے کوئی قابل قدر معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ جب یہ غائب ہوا تو اس نے اپنے پیچھے کوئی بھی نشان نہیں چھوڑا۔ یونی ورسٹی میں ماہرین اور سائنس دانوں کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے فی الواقع اپنی جاگتی آنکھوں سے خلائے بسیط کی جانب کھلنے والے ایک پراسرار دریچے کو دیکھا اور ایک ایسے انوکھے اور عجیب و غریب یپغام کو پڑھا ہے جو ان کے پاس ایسی کائناتوں اور ان جہات سے آیا تھا جہاں موجود مادے، توانائی اور مخلوق کے خواص ہماری دنیا سے بالکل جدا ہیں۔ حسب عادت آرکھم میں پریس نے اس حوالے سے خوب شور مچایا اور نائم باغبان اور اس کی فیملی سے بات کرنے کے لیے رپورٹروں کی لائن لگ گئی۔ بوسٹن ڈیلی نے بھی ایک بارناہم کا انٹرویو لینے ایک رپورٹر کو روانہ کیا اور اس طرح ناہم بہت جلد علاقے کی مشہور و معروف شخصیت بن گیا۔ ناہم کی عمر 50 سال کے قریب تھی اور وہ ایک دبلے پتلے جسم کا آدمی تھا جو اپنی بیوی اور تین بیٹوں کے ساتھ اس زرخیز وادی میں رہائش پذیر تھا۔ ایمی اور ناہم اکثر ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے رہتے تھے اور ان کی بیویوں کا بھی آپس میں ملنا جلنا تھا اور ایمی کے مطابق ناہم ایک سچا اور پر خلوص شخص تھا۔ ناہم کو زندگی میں پہلی بار ملنے والی اس توجہ سے تھوڑا تفاخر محسوس ہوا اور وہ آئندوں کئی ہفتوں تک اس خلائی چٹان کا لوگوں سے تذکرہ کرتا رہا۔ اس سال جولائی اور اگست سال کے گرم ترین مہینے ثابت ہوئے اور ناہم کو اپنی تین ایکڑ زمین پر سخت مشقت کرنا پڑی۔ اس کا فارم پہاڑوں سے نکلنے والے پانی کے ایک دھارے کے پاس واقع تھا جہاں نرم مٹی میں اس کی بیل گاڑی کے پہیوں کے گہرے نشانات کھدے ہوئے تھے اور وہ اس پر سوکھی گھاس کے گٹھے لاد کر مطلوبہ جگہ پہنچاتا تھا مگر اس سال کی مشقت نے اسے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھکن سے چور کر دیا اور ناہم نے سوچا کہ شاید اب بڑھاپا رنگ لا رہا ہے۔ اس کے بعد فصلوں کے پکنے کا موسم آیا۔ درختوں پر لگی ناشپاتیاں اور سیب دھیرے دھیرے پکنے لگے اور ناہم کے فارم کے پھلوں پر اتنی زیادہ بہار آ رہی تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ پھلوں کی جسامت غیر معمولی ہو رہی تھی اور ان پر ایک انوکھی سی چمک تھی۔ پھلوں کی تعداد اتنی زیادہ تھا کہ انہیں رکھنے کے لیے اضافی ڈرموں کا آرڈر دیا گیا۔ مگر جیسے جیسے پھل پکتے گئے ناہم اور اس کے گھر والوں کی امیدیں خاک ہونے لگیں کیوں کہ ایک بھی پھل کھانے کے قابل نہیں تھا۔ پھلوں کے رنگ اگر چہ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے مگر یہ کھانے میں شدید تلخ اور بد بو دار تھے۔ ناشپاتیوں، سیبوں، خربوزوں اور ٹماٹروں سب کا یہ ہی حال تھا اور اپنی سال بھر کی محنت کو اس طرح برباد ہوتے دیکھ کر ناہم کے غم کی کوئی انتہا نہ رہی تھی۔ البتہ وہ بہت تیزی سے اس بات کا سبب سمجھ گیا۔ یقیناً خلا سے گرنے والے اس پتھر نے باغ کی مٹی کو زہریلا کر دیا تھا مگر شکر کی بات یہ تھی کہ اس کی زیادہ تر بڑی فصل باغ کے ساتھ نہیں بلکہ آگے سڑک کے ساتھ تھی۔ اس سال سردیاں جلد شروع ہو گئیں اور موسم میں بلا کی شدت تھی۔ ایمی اب ناہم کو شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا تھا اور نظر آنے پر اس کے چہرے سے پریشانی جھلک ہو رہی ہوتی تھی۔ ناہم کے بیوی اور بچوں نے بھی بولنا چھوڑ دیا تھا اور یہ لوگ اب چرچ یا علاقے کی دیگر تقریبات میں بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ اس کیفیت کا کوئی سبب نہیں تھا مگر ناہم اور اس کے بیوی بچے کبھی کبھار علاقے کے لوگوں کو اپنی خراب طبیعت اور ایک عجیب طرح کی بے چینی میں مبتلا رہنے کی کیفیت سے آگاہ ضرور کرتے تھے۔ ناہم نے ایک بار لوگوں کو بتایا کہ اس نے اپنے گھر کے پاس پڑی برف پر عجیب سے قدموں کے نشان دیکھے ہیں اور اس بات نے اسے شدید متفکر کر دیا ہے۔ یہ سردیوں میں نکلنے والی سرخ گلہریوں، سفید خرگوشوں اور زرد لومڑیوں کے پیروں کے عام سے نشانات تھے مگر ناہم اس کے باوجود ان نشانات کی وجہ سے بہت پریشان تھا کیوں کہ اسے کچھ کچھ نہ کچھ معمول سے ہٹ کر محسوس ہو رہا تھا۔ ناہم اگر چہ کبھی بھی اپنی بات کو پوری طرح واضح نہیں کر سکا مگر اسے نہ جانے کیوں لگتا تھا کہ یہ نشانات وہاں عام طور پر پائے جانے والے جانوروں کے پیروں کے نشانوں سے بالکل مختلف ہیں اور جس ترتیب اور انداز میں وہ نشان برف پر بنتے تھے وہ ایک انوکھی سی بات تھی۔ ایمی کئی دنوں تک بغیر کوئی دل چسپی لیے ناہم کی یہ باتیں سنتا رہا اور پھر ایک شب وہ کہیں سے واپس آتے ہوئے اپنی برف گاڑی میں ناہم کے گھر کے پاس رکا۔ یہ ایک پورے چاند کی رات تھی اور جا بجا خرگوش اچھلتے پھر رہے تھے مگر ایمی نے دیکھا یہ خرگوش معمول سے ہٹ کر بہت لمبی لمبی چھلانگیں لگا رہے تھے۔ ایمی اور اس کی برف گاڑی میں جتا گھوڑا یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ سے ہو گئے اور اگر ایمی نے گھوڑے کی لگام کو مضبوطی سے نہیں کھینچ رکھا ہوتا تو وہ یقیناً وہاں سے بھاگ نکلتا۔ اس رات کے بعد ایمی نے ناہم کی باتوں کو توجہ اور متفکر ہو کر سنا شروع کر دیا۔ ایمی کو اس بات پر بھی بہت حیرت تھی کہ ناہم کے کتے دن نکلنے پر اتنے خوف زدہ اور لرزتے کانپتے کیوں دکھائی دیتے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ناہم کے کتے بھونکنا ہی بھول گئے ہوں۔ فروری میں قصبے کے گوشت فروش ڈیوڈ کے لڑکے جنگل میں موش سرمائی (woodchucks) کے شکار کے لیے گئے۔ میڈو ہل نامی یہ جگہ ناہم کے گھر کے نزدیک تھی اور یہاں انہوں نے ایک بہت عجیب سا موش سرمائی شکار کیا۔ اس جانور کے اعضا کو لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل تھا اور اس کے چہرے پر اس طرح کے ’تاثرات‘ تھے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ڈیوڈ کے لڑکے اس جانور کو دیکھ کر بری طرح خوف زدہ ہو گئے اور انہوں نے فوری طور پر اسے دور پھینک دیا جس سے یہ بات قصبے میں کسی کے بھی علم میں نہیں آ سکی مگر ناہم کے گھر کے پاس ایمی کے گھوڑے کے بدکنے کا واقعہ پورے قصبے میں پھیل گیا۔ ایمی کے گھوڑے نے ایک پوری داستان کی بنیاد رکھ دی تھی۔ قصبے کے لوگ قسم کھانے کو تیار تھے کہ ناہم کے گھر کے قریب برف دوسری جگہوں کے نسبت تیزی سے پگھل رہی تھی اور جا بجا اس بات کے تذکرے شروع ہو گئے۔ قصبے کا لوہار اسٹیفن رائس ایک صبح ناہم کے گھر کے پاس سے گزرا تھا اور اس نے دیکھا کہ اسکَنک گوبھیاں (شُمالی امریکا کا سوسنی قبیلے کا بَڑے بَڑے پتوں والا سدا بہار پودا جِس کی ناگوار بُو ہوتی ہے: مترجم) سڑک کے پاس زمین پر اگ رہی تھیں۔ مگر ان کی جسامت معمول سے بہت زیادہ تھی اور ان کے رنگوں کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا کیوں کہ انسانی نظر ان سے سدا نا واقف تھی۔ سڑک کنارے اگی ان گوبھیوں کو دیکھ کر عفریتوں کا گمان ہوتا تھا اور ان سے پھوٹنے والی بد بو سے بے چین ہو کر اسٹیفن کا گھوڑا بری طرح ہنہنانے لگا۔ اس دوپہر قصبے کے لوگ ان گوبھیوں کو دیکھنے آئے اور سب کا یہ ہی خیال تھا کہ اس قسم کے پودے اس دنیا میں نہیں اگنے چاہیے تھے۔ ناہم کے باغ میں موسم خزاں میں اترنے والے پھلوں کی فصل بھی خراب ہو گئی اور اب یہ بات قصبے میں ہر شخص کی زبان پر تھی کہ ناہم کی زمینوں میں زہر پھیل گیا ہے۔ یقیناً اس کا سبب اس خلائی چٹان کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا چناچہ کچھ لوگوں نے یونی ورسٹی کے ان پروفیسروں سے اس بات کا تذکرہ کیا جو اس سے قبل وہاں خلائی چٹان کا معائنہ کرنے آئے تھے اور نا کام ہو کر واپس لوٹ گئے تھے۔ ایک روز یہ پروفیسر پھر ناہم کے گھر آئے مگر ان پودوں کو دیکھ کر انہوں نے صرف منطقی نتیجہ نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے شک ان پودوں کی شکلیں مختلف ہیں مگ اسکنک گوبھی ہمیشہ شکل میں عجیب اور بد بودار ہوتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید اس خلائی چٹان میں موجود کسی معدن نے عارضی طور پر زمین کو زہریلا کر دیا ہے اور انہوں نے یقین دلایا کہ بہت جلد مٹی اس زہر سے پاک ہو کر پہلے کی طرح زرخیز ہو جائے گی۔ جہاں تک قدموں کے عجیب نشانات اور گھوڑوں کے خوف زدہ ہونے کی بات تھی تو پروفیسروں کا خٰیال تھا کہ یہ بات ایک افسانے سے زیادہ نہیں اور اگر کسی چھوٹے علاقے میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ رو نما ہو تو ایسی کہانیوں کا جنم لینا عام سی بات ہے۔ ظاہر ہے ان پروفیسروں کے پاس لوگوں کے توہمات کا کوئی علاج نہیں تھا اس لیے یہ لوگ دوبارہ ناہم کے گھر نہیں آئے۔ البتہ ان میں سے ایک پروفیسر نے جب ڈیڑھ سال بعد اس مٹی سے بھری دو چھوٹی بوتلیں تجزیے کے لیے پولیس کے حوالے کیں تو اس وقت اسے یاد آیا کہ ان گوبھیوں کا رنگ بالکل ان رنگوں کی طرح تھا جو لیبارٹری میں چٹان سے لیے ہوئے نمونے کو طیف بین کے سامنے رکھ کر گرم کرنے سے پیدا ہوئے تھے۔ چناں چہ جب ان بوتلوں میں موجود مٹی کا بھی پہلے کی طرح تجزیہ کیا گیا تو گرم ہونے پر اس میں سے بھی وہی رنگ نکلنا شروع ہوئے، مگر بعد ازاں اس مٹی کی یہ خاصیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ ناہم کے باغیچے میں پیڑوں پر وقت سے پہلے کلیاں نکل آئیں اور رات کے وقت جب وہ ہوا سے ہلتی تھیں تو ایک نا پاک سا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ایک بار ناہم کے پندرہ سالہ لڑکے تھاڈیس نے قسم کھا کر لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس نے انہیں ہوا کی عدم موجودگی میں بھی لہراتے دیکھا ہے مگر کسی نے بھی اس کی بات پر کان نہیں دھرے البتہ ناہم کے گھر کے پاس ایک طرح کی یاسیت اور بے قراری سے ماحول میں گھلی محسوس ہوتی تھی۔ ناہم اور اس کے تمام گھر والوں کو چھپ چھپ کر کچھ سنتے دیکھا جانے لگا مگر ایسا لگتا تھا کہ وہ جو کچھ بھی سن رہے وہ آواز سے ماورا کوئی پکار ہے۔ مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ لوگ شعور سے عاری ہونا شروع ہو رہے تھے۔ بد قسمتی سے ان واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اور قصبے کا بچہ بچہ کہنے لگا کہ ناہم اور اس کے گھر والوں کا دماغ چل گیا ہے۔ جب کوہ الپس کے سرخ پھول وہاں وقت سے پہلے کھلے تو سب نے دیکھا کہ ان کا رنگ بالکل انوکھا تھا اور کوئی بھی شخص اس رنگ کوئی نام نہیں دے سکا۔ البتہ یہ رنگ اسکنک گوبھیوں کی طرح نہیں تھا۔ ناہم کچھ پھولوں کو لے کر قصبے میں آیا اور انہیں مقامی اخبار کے مدیر کو دکھایا مگر اس نے ان پھولوں کے بارے میں صرف ایک مزاحیہ کالم لکھنے پر اکتفا کیا جس میں دیہاتیوں کی تاریک ذہنیت کی نرم انداز میں ہجو کی گئی تھی اور یہ ناہم کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جب اس نے ایک بار ایک تعلیم یافتہ شہری کو بتایا کہ ان پھولوں پر کتھئی رنگ کی بڑی بڑی تتلیاں عجیب سے انداز میں منڈلاتی ہیں۔ جب اپریل کا مہینہ شروع ہوا تو تمام دیہاتی ایک نوع کے ہذیان کا شکار ہو گئے۔ ناہم کے گھر کے پاس سے گزرنے والی سڑک کے بارے میں ایسی ایسی عجیب باتیں کی گئیں کہ بالآخر لوگوں نے اس سڑک سے گزرنا ہی چھوڑ دیا۔ ان باتوں کا سبب وہاں اگنے والے پیڑ پودے ہی تھے۔ ناہم کے باغ میں اگے تمام پیڑوں، پودوں اور درختوں نے عجیب رنگ اپنا لیے تھے اور نزدیکی زمین اگرچہ سخت چٹانی اور پتھریلی تھی مگر اس کے با وجود اس میں اس طرح کی نباتات اگ رہی تھیں جن کی شاید ہی کوئی ماہر شناخت کر سکتا تھا۔ سوائے زمین پر اگی گھاس کے ناہم کے باغ میں کہیں بھی کوئی صحت مند رنگ باقی نہیں بچا تھا۔ انسانی تاریخ میں ان بیمار رنگوں کو کبھی اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھا گیا تھا۔ ان رنگ دار پودوں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے ان کے اندر شیطانی شعور موجود ہے۔ ایمی اور ناہم کو یقین تھا کہ یہ رنگ اس خلائی چٹان سے برآمد ہونے والے پراسرار مادے کے رنگوں کی طرح ہیں۔ ناہم نے اپنے گھر سے دور اپنی دس ایکڑ زمین پر ہل چلا کر اس میں بیج ڈال دیے مگر گھر کے اطراف والی زمین کو یوں ہی رہنے دیا۔ اسے پتہ تھا کہ وہاں ہل چلانے کی مشقت کا کوئی فائدہ نہیں تاہم اسے امید تھی کہ موسم گرما میں اگنے والی یہ انوکھی نباتات تمام زمین سے زہر چوس لیں گی۔ مگر اب وہ ہر بات کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا اور اسے لگتا تھا جیسے اس کے نزدیک کوئی آسیب پوشیدہ ہے جو کسی نہ کسی وقت انہیں اپنا شکار ضرور بنائے گا۔ قصبے کے لوگوں نے جس طرح اس کے گھر کے پاس سے گزرنا چھوڑ دیا تھا اس سے اس سے وہ اور اس سے بھی زیادہ اس کی بیوی کے دل فگار ہو گئے تھے۔ اس کے بچوں کا اگر چہ اسکول میں جا کر تھوڑا بہت دل بہل جاتا تھا مگر وہ وہاں ہونے والے کھسر پھسر سے خوف زدہ بھی ہو جاتے تھے۔ تھاڈیس ایک بہت زیادہ حساس دل کا مالک تھا اس لیے ان باتوں کا سب سے زیاہ اثر اس نے لیا۔ مئی کے مہینے میں وہاں کیڑے نکل آئے اور ناہم کا گھر دیکھ کر ایک بہت بڑے چھتے کا دھوکا ہونےلگا۔ یہ کیڑے ہر وقت اس کے گھر پر اڑتے اور رینگتے رہتے تھے۔ The Colour Out of Space | Read in Urdu | H.P. Lovecraftزیادہ تر کیڑوں کی شکل اور حرکت کرنے کا انداز بہت انوکھا تھا اور رات میں ان کی عادتیں دیگر عام کیڑوں اور حشرات الارض سے بالکل مختلف تھیں۔ انہیں دیکھ کر ایک ڈرائونے خواب کا احساس ہوتا تھا کیوں کہ اب ناہم اور اس کے گھر والے تمام رات گھر سے باہر بیٹھ کر خلائوں میں گھورتے رہتے تھے جیسے انہیں وہاں سے کسی کی آمد کا انتظار ہو اور اس طرح انہیں اندازہ ہوا کہ تھاڈیس کی بات بالکل درست تھی۔ ناہم کی بیوی نے ایک رات کچن کی کھڑکی سے دیکھا کہ میپل کے درختوں کی پھولی ہوئی شاخیں چاندنی رات میں آسمان کی طرف بلند ہو کر سانپوں کی طرح لہرا رہی تھیں جب کہ باہر ہوا کے کسی جھونکے کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ شاید اس کا سبب بھی زمین میں موجود زہریلا پانی ہی تھا کیوں کہ وہاں اگنے والی ہر چیز پر اب اجنبیت کے سائے لہرا رہے تھے۔ اس کے بعد جو بات رو نما ہوئی وہ ناہم اور اس کے گھر والوں کی نظروں میں نہیں آئی۔ ہوا یوں کہ ایک رات بوسٹن سے آنے والا ایک سیلز مین ان کے گھر کے پاس ٹہر گیا تا ہم اسے ان واقعات کا کوئی علم نہیں تھا مگر اس نے آرکھم پہنچنے کے بعد جب اس بات کا تذکرہ کیا تو اس کی بات کو مقامی اخبار نے ایک مختصر خبر کی صورت میں شائع کر دیا۔ دوسرے روز اخبار میں یہ خبر پڑھنے کے بعد ناہم سمیت دیگر تمام کاشت کاروں نے پہلی بار اس نئی تبدیلی کو دیکھا۔ گزشت رات تاریک تھی اور اس سیلز مین کی گھوڑا گاڑی میں لگے لیمپ بھی مدہم تھے مگر سیلز مین نے دیکھا کہ ناہم کی زمین کے گرد وادی میں تاریکی نسبتاً کم ہے کیوں کہ وہاں اگی نباتات، گھاس پھونس، پتوں اور پھولوں سے ایک ہلکی سی روشنی پھوٹ رہی تھی اور اس کے ساتھ باڑے میں قریب ہی کوئی چمک دار چیز پیڑوں اور پتوں میں چھپ کر ادھر سے ادھر دوڑ رہی تھی۔ لگتا تھا گھاس ابھی تک محفوظ ہے کیوں گائیں بے فکری سے وہاں چرتی پھر رہی تھیں مگر مئی کے آخری دنوں میں ان کا دودھ خراب ہونے لگا چناں ناہم نے انہیں آگے صاف زمین پر منتقل کر دیا جس کے بعد گائیں معمول کے مطابق دودھ دینے لگیں۔ مگر اس کے بعد گھاس اور پتیوں میں بھی تبدیلی ہونا شروع ہو گئی۔ تمام نباتات کا رنگ سرمئی ہو گیا اور یہ خستہ ہو کر کانچ کی طرح جھڑنے لگیں۔ اس وقت علاقے میں ایمی ہی وہ واحد شخص تھا جو ابھی بھی ناہم کے گھر جایا کرتا تھا مگر اب اس کا بھی اس طرف جانا کم سے کم ہوتا جا رہا تھا۔ اسکول کی چھٹیوں میں ناہم کی تمام فیملی کا باہر کی دنیا سے رشتہ منقطع ہو گیا اور وقتاً فوقتاً ایمی ہی ان کے لیے قصبے سے چیزیں وغیرہ لاتا دکھائی دیتا تھا۔ ناہم اور اس کے گھر والے کسی نا معلوم مرض کے ہاتھوں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج ہوئے جا رہے تھے اور جب ناہم کی بیوی کے دیوانہ ہونے کی خبر قصبے میں پھیلی تو کسی کو بھی کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی۔ یہ واقع جون میں پیش آیا اور گزشتہ سال اسی مہینے وہاں خلا سے چٹان گری تھی۔ ناہم کی دیوانی بیوی ہوا میں ایسی ایسی شکلوں کو دیکھ کر بری طرح چلاتی تھی جن کی وضاحت اس کے بس سے باہر تھی۔ ناہم کی دیوانی بیوی اب اپنی بڑبڑاہٹ میں کسی بھی چیز کا نام نہیں لیتی تھی اور اس کی گفتگو حرکات کو ظاہر کرنے والے الفاظ اور اسمائے ضمیر پر مبنی ہوا کرتی تھی۔ اس عورت کو دکھائی دینے والی شکلیں حرکت کرتی تھیں، اپنی ساخت تبدیل کرتی تھیں، پرندوں کی طرح پر پھڑپھڑاتی تھیں اور اس کے کانوں میں ان آوازوں سے سنسناہٹ ہوتی تھی جنہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں سن پاتا تھا۔ اس کے وجود میں کچھ کم ہو گیا تھا جیسے اس کی روح کا ایک حصہ چرا لیا گیا ہو۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی آسیب اس کے وجود سے اپنی بھوک مٹا رہا ہو۔ ناہم کو رات کے وقت لگتا تھا جیسے گھر میں کچھ بھی ساکت نہیں ہے اور حتیٰ کہ دروازے اور کھڑکیاں بھی دن نکلنے تک اپنی جگہیں تبدیل کرتی رہتی تھیں۔ ناہم نے اپنی بیوی کو پاگل خانے نہیں بھیجا۔ اسے اس وقت تک گھر کے آس پاس پھرتے رہنے کی اجازت تھی جب تک وہ اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتی۔ مگر ناہم نے اس وقت بھی کچھ نہیں کیا جب اس کی بیوی کا رویہ انوکھے انداز میں تبدیل ہونے لگا۔ بچے اب اپنی ماں سے شدید خوف زدہ تھے اور اس کے چہرے کے زاویوں کو دیکھ کر جب ایک بار تھاڈیس اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تو ناہم نے اپنی بیوی کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ جولائی کے مہینے تک ناہم کی بیوی نے بات چیت بالکل بند کر دی اور وہ اپنے چاروں ہاتھوں پیروں پر چوپایوں کی طرح چلنے لگی۔ جولائی کے مہینے کے ختم ہونے سے پہلے ناہم کو ایسا لگا جیسے اس کی بیوی کے جسم سے روشنی پھوٹ رہی ہو۔ ۔ ۔ مگر اس بات کے رونما ہونے سے ذرا پھیلے اصطبل میں بندھے گھوڑوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ رات کو وہاں کسی چیز کے داخل ہونے سے ان کی آنکھ کھل گئی تھی اور وہ دیوانوں کی طرح ہنہناتے ہوئے ایک جنون کے عالم میں اپنے اپنے تھان کی دیواروں پر لاتیں مار رہے تھے۔ گھوڑے کسی طرح بھی پر سکون نہیں ہوئے اور جب ناہم نے اصطبل کا دروازہ کھولا تو وہ خوف زدہ ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتے وہاں سے بھاگ گئے۔ ان چاروں گھوڑوں کو دوبارہ تلاش کرنے میں ایک ہفتہ لگا مگر جب تک وہ کسی کام کے نہیں رہے تھے۔ انہوں نے کچھ ایسا دیکھ لیا تھا جس سے ان کے دماغ الٹ گئے تھے اور مجبوراً انہیں سر میں گولی مار کر اس اذیت سے نجات دلائی گئی۔ ناہم نے گھاس لگانے کے لیے ایمی سے ایک گھوڑا ادھار لیا مگر وہ کسی طرح بھی اس کے باڑے میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں تھا اور وہاں جاتے ہی اس نے دیوانوں کی طرح لاتیں چلانا اور ہنہنانا شروع کر دیا۔ ناہم نے ایمی کو گھوڑا واپس کیا اور پھر خود ہی بھاری گاڑی میں سامان لاد کر مطلوبہ جگہ تک پہنچایا۔ اس تمام دوران تمام پیڑ پودے اپنا رنگ بدلتے رہے بلکہ اب ان پراسرار رنگوں والے پھولوں نے سرمئی رنگ اپنانا شروع کر دیا تھا۔ ان پر بدستور پھل آ رہے تھے مگر اب ان کا رنگ بھی سرمئی ہو گیا تھا۔ یہ پھل اب جسامت میں پستہ اور بے ذائقہ ہو گئے تھے۔ ان عجیب پودوں میں سے چند ایک ناہم کے بڑے بیٹے زین نے کاٹ کر بھی پھینکے مگر بہت جلد ان کی جگہ پہلے سے زیادہ غلیظ نباتات اگ آئیں۔ اس وقت تک ان نباتات پر منڈلانے والے تمام حشرات الارض مر چکے تھے اور شہد کی مکھیاں بھی وہاں اپنے چھتوں سے اڑ کر جنگل کی طرف چلی گئی تھیں۔ ستمبر شروع ہوتے ہی تمام پیڑ پودے مرجھا کر سرمئی راکھ کی شکل میں جھڑنے لگے اور ناہم کو خدشہ تھا کہ زمین سے زہر ختم ہونے سے پہلے ہی وہاں اگے تمام درخت مر جائیں گے۔ اب اس کی بیوی پر فلک شگاف چیخیں مارنے کے دورے پڑنا شروع ہو گئے تھے اور وہ اس کے بیٹے مستقل ذہنی دبائو میں تھے۔ اب انہوں نے لوگوں سے میل جول بالکل ترک کر دیا تھا اور جب چھٹیوں کے بعد اسکول کھلے تو ناہم ک بیٹے غیر حاضر رہے۔ بہت دنوں بعد جب ایک روز ایمی ناہم کے گھر گیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ کنویں کا پانی بھی مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے۔ یہ ذائقہ نہ نمکین تھا اور نہ ہی اس میں کوئی سڑاند تھی مگر اسے پینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی، چناں ایمی نے ناہم کو زمینوں کے اچھا ہو جانے تک ایک دوسرا کنواں کھودنے کا مشورہ دیا۔ ناہم نے اس مشورے پر عمل نہیں کیا کیوں وہ اس وقت تک ان عجیب و غریب واقعات کو دیکھ دیکھ کر ایک طرح سے بے حس ہو گیا تھا۔ ناہم اور اس کے بیوی بچے حسب معمول کنویں کا زہریلا پانی استعمال کرتے رہے اور اس پانی میں پکا کچا پکا کھانا کھاتے رہے۔ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے زندہ لاشیں روز مرہ کے کام انجام دے رہی ہوں۔ جیسے یہ لوگ اپنے اختیار میں نہ ہوں اور انہیں کسی نے اپنا معمول بنا لیا ہو یا پھر ان کا ایک قدم اس دنیا میں اور دوسرا کسی اور ہی دنیا میں ہو۔ تھاڈیس نے ستمبر کے مہینے میں کنویں میں جھانک کر دیکھا جس کے بعد اس کا دماغی توازن مکمل طور پر بگڑ گیا۔ وہ بالٹی لے کر کنویں سے پانی نکالنے گیا تھا مگر جب وہ گھر کے اندر آیا تو اس کے ہاتھ خالی تھے اور وہ چلا چلا کر ان رنگوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا جو اس کی کم عمر آنکھوں نے اس کنویں کے اندر متحرک دیکھے تھے۔ ناہم نے اس صدمے کا بڑی بہادری سے سامنا کیا۔ اس نے اپنے پاگل بیٹے کو گھر کے باہر کھلا چھوڑ دیا مگر جب تھاڈیس نے اپنے آپ کو زخمی کرنا شروع کیا تو ناہم نے مجبور ہو کر اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ کمرے میں بند کر دیا۔ کمرے میں بند ماں بیٹے کی غیر انسانی اور فلک شگاف چیخیں سن کر اچھے اچھوں کا پتہ پانی ہو جاتا تھا۔ خاص طور پر ناہم کے سب سے چھوٹے بیٹے ماروین کی حالت سب سے زیادہ خراب تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ایک ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جو کم از کم اس دنیا کی ہر گز نہیں۔ ماروین کی آنکھیں بھی اب ان چیزوں کو دیکھنے لگی تھیں جو صرف ایک خوف زدہ ترین تخیل کی پیداوار ہو سکتی ہیں مگر اس کی بے قراری دیگر گھر والوں کی نسبت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ سارے بھائیوں میں تھاڈیس اس کا سب سے اچھا دوست تھا اور اس کے پاگل پن اور جدائی نے اس کا دل خون کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ کھیلنے والا کوئی نہیں رہا تھا۔ کم و بیش اسی وقت مویشیوں کے مرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مرغیوں کے پر سرمئی ہو گئے اور وہ تمام کی تمام ہلاک ہو گئیں۔ کاٹنے پر ان کا گوشت خشک اور سڑا ہوا پایا گیا۔ باڑے میں پلے خنزیر حد سے زیادہ موٹے ہو گئے اور پھر ان کے جسمانی خدوخال بھیانک انداز میں تبدیل ہونے لگے مگر کوئی اس کا سبب نہیں جان سکا۔ ان کا گوشت بھی کسی کام کا نہیں رہا تھا اور ناہم کی عقل جواب دے رہے تھی۔ جانوروں کا کوئی بھی ڈاکٹر وہاں آنے کے لیے تیار نہیں تھا اور جب شہر سے ڈاکٹر بلائے گئے تو حیرت سے ان کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ جلد فارم میں پلے جنگلی سوروں کی کھال بھی سرمئی ہو گئی اور پھر ان کے جسم کانچ کی بکھر کر ٹوٹ گئے۔ مرنے سے پہلے ان کی آنکھیں اور تھوتھنیاں مکمل طور پر تبدیل ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ سب سے زیادہ پر اسرار تھا کیوں کہ ان سوروں کو کبھی بھی بیمار پیڑ پودے نہیں کھلائے گئے تھے۔ اس کے بعد گائیوں کی باری آئی۔ ان کے جسم سے رگیں پھٹ کر باہر نکل آئیں اور آخر میں ان کا انجام بھی سوروں کی طرح ہوا۔ ان باتوں کا سبب زہر کو قرار نہیں دیا جا سکتا تھا کیوں کہ یہ واقعات گھر سے دور ایک بند باڑے کے اندر رونما ہوئے تھے جو اس سے قبل ہر طرح کی بیماری سے پاک تھا۔ چوں کہ کسی قسم کے وائرس کا حامل کوئی جانور باڑے کے بند دروازوں سے نہیں گزر سکتا تھا اس لیے یہ بات بھی قیاس سے باہر تھی۔ ان بیماریوں کو فطری قرار دیا گیا مگر ایسی کون سے فطری بیماری ہے جس میں جسم ٹوٹ کر کانچ کی بکھر جاتے ہیں اور شکلیں شیطانوں سے زیادہ بھیانک ہو جاتی ہیں۔ ۔ ۔ فصل کٹائی کے وقت تک ناہم کی زمین پر موجود ہر جانور ہلاک ہو چکا تھا جب کہ کتے وہاں سے ایسے بھاگے تھے کہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے۔ یہ تینوں کتے ایک رات اچانک غائب ہو گئے اور پھر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ناہم کی بیوی کی پالتو پانچوں بلیاں بھی کتوں سے کچھ پہلے وہاں سے جنگل میں چلی گئی تھیں مگر ان کے غائب ہونے کا کسی نے نوٹس نہیں لیا کیوں کہ ایک تو وہاں ان کے کھانے کے لیے ایک چوہا بھی نہیں بچا تھا اور دوسرے صرف ناہم کی بیوی کو بلیوں سے لگائو تھا جب کہ ناہم اور بچے انہیں نا پسند کرتے تھے۔ اکتوبر کی 19 تاریخ کو ناہم ایمی کے دروازے پر ایک نہایت بری خبر لے کر وارد ہوا۔ تھاڈیس کو بند کمرے میں موت آ گئی تھی مگر یہ موت ایسی تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔ ناہم نے اپنے گھر کے پیچھے تھاڈیس کی قبر کھودی اور تھاڈیس کے جسم سے جو کچھ باقی بچا تھا اسے وہاں دفنا دیا۔ جس کمرے میں تھاڈیس اور ناہم کی بیوی بند تھی وہاں کچھ بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایمی اور اس کی بیوی نے غم زدہ ناہم کو تسلی دینے کی کوشش کی مگر ایسا کرتے وقت ان دونوں کے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کے سامنے ناہم نہیں بلکہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہو اور یہ احساس اتنا شدید اور حقیقی تھا کہ دہشت سے ناہم اور اس کے بیوی کے دل پھٹے جا رہے تھے۔ ایمی دل پر جبر کر کے کسی نہ کسی طرح ناہم کو اس کے گھر چھوڑنے گیا اور ننھے ماروین کو چپ کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ زین کو کسی تسلی کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اب صرف بیٹھا ہوائوں میں گھورتا رہتا تھا اورThe Colour Out of Space | Read in Urdu | H.P. Lovecraft اپنے باپ کی ہدایات کو کسی روبوٹ کی طرح پورا کرتا تھا۔ ایمی کو زین کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ اس کا انجام آنکھوں کے سامنے تھا۔ وقتاً فوقتاً ماروین کی چیخوں کے جواب میں اوپر بنی دو چھتی سے اس کی ماں کی چیخیں سنائی دیتی تھیں۔ ایمی کی سوالیہ نظروں کے جواب میں ناہم نے کہا کہ اس کی بیوی کی حالت حد سے زیادہ خراب ہو گئی ہے اس لیے اسے اوپر بند کر دیا گیا ہے۔ سورج ڈوبنے کے وقت ایمی نے وہاں سے رخصت چاہی کیوں کہ وہ کسی بھی قیمت پر وہاں رات میں رکنے کے لیے تیار نہیں تھا جہاں پیڑوں اور درختوں سے تاریکی میں روشنی پھوٹتی تھی اور درختوں کی شاخیں سانپوں کی طرح آسمان کی طرف اٹھ کر ہوا کے جھونکوں کے بغیر لہراتی تھیں۔ یہ ایمی کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ایک تخیل سے محروم شخص تھا کیوں کہ اگر اس نے وہاں موجود چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہوتی تو اس کا دماغ بھی الٹ جاتا۔ ایمی سورج غروب ہونے سے ذرا پہلے وہاں سے نکلا اور تیز قدموں سے اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے کانوں میں ابھی بھی ناہم کی دیوانی بیوی کی چیخیں اور غم زدہ ماروین کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔ تین دن بعد اچانک ایک صبح ناہم ایمی کے کچن میں لڑکھڑاتا ہوا داخل ہوا اور ایمی کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی کو ایک اور بری خبر سنائی۔ ایمی کی بیوی کا خوف سے برا حال تھا۔ ننھا ماروین گھر سے غائب ہو گیا تھا۔ وہ رات میں ہاتھ میں لالٹین اور بالٹی تھامے کنویں سے پانی نکالنے گیا تھا مگر پھر واپس نہیں آیا تھا۔ ماروین کی ذہنی حالت کئی دنوں سے بگڑ رہی تھی اور اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ ماروین کے باہر جانے کے کچھ دیر بعد وہاں سے ایک دل دہلانے والی چیخ ابھری تھی مگر اس سے پہلے کہ ناہم گھر کے دروازے تک پہنچتا ننھے ماروین کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ گھور اندھیرے میں اس کی لالٹین کی روشنی بھی نظر نہیں آ سکی۔ جب دن نکلا اور ناہم جنگل اور کھیتوں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد واپس گھر آ رہا تھا تو اسے کنویں کے نزدیک بہت عجیب ماجرا دکھائی دیا۔ وہاں لالٹین دھات کے پگھلے ہوئے ڈھیر کی شکل میں پڑی تھی اور یہ ہی حال بالٹی کا بھی تھا۔ اب ہر بات ناہم کی سوچ سے ماورا ہو گئی تھی۔ ایمی کو گھر واپسی پر جب اس کی بیوی نے یہ بات بتائی تو وہ بھی کوئی اندازہ نہیں لگا سکا۔ ماروین جا چکا تھا اور قصبے کے لوگوں کو اس بارے میں بتانے سے کچھ حاصل نہیں تھا۔ وہ لوگ پہلے ہی ادھر کا رخ نہیں کرتے تھے مگر وہاں کوئی نہ کوئی چیز اپنے وجود کے اظہار کے لیے دن گن رہی تھی۔ ناہم کو پتہ تھا کہ اب اس کا انجام بھی قریب ہے اور اس کی خواہش تھی کہ اس کے بعد اگر اس کی بیوی اور زین بچ رہیں تو ایمی ان کا خیال رکھے۔ ناہم کا خیال تھا کہ اس پر خدا کا قہر برس رہا ہے مگر اسے اپنی ایسی کوئی خطا یاد نہیں تھی جس کی سزا اتنی بھیانک ہو۔ ایمی نے اگلے دو ہفتوں تک ناہم کو نہیں دیکھا چناں چہ ایک روز اس نے اپنے خوف پر قابو پایا اور ناہم کی گھر کی طرف چل دیا۔ ناہم کے گھر کی بڑی چمنی خاموش تھی اور تھوڑی دیر کے لیے ایمی کو لگا جیسے وہاں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ فارم انتہائی بری حالت میں تھا۔ زمین پر سرمئی گھاس اور پتے ہر جگہ بکھرے ہوئے تھے اور قدیم دیواروں سے درختوں کی بد ہیئت شاخیں مردہ سانپوں کی طرح لٹک رہی تھیں۔ ٹنڈ منڈ برہنہ اور بیمار درخت آسمان کی طرف شاخیں اٹھائے نہ جانے کس سوچ میں گم تھے مگر یہ شاخیں کچھ اس انداز میں خمیدہ تھیں کہ ان پر ہر زاویے سے کسی شیطانی مخلوق کا شبہ ہوتا تھا۔ ایمی ان درختوں کی سوچ کو پڑھنے پر قادر نہیں تھا اور یہ بات اس کے حق میں بہتر تھی۔ ناہم ابھی زندہ تھا۔ وہ بہت کم زور ہو گیا تھا اور کچن میں ایک کائوچ پر لیٹا ہوا تھا۔ کم زوری کے با وجود اس کی ذہنی حالت بدرست لگ رہی تھی کیوں کہ وہ مسلسل زین کو کاموں کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا۔ مگر جہاں ناہم لیٹا تھا وہ کمرہ انتہائی سرد تھا۔ ایمی کے بدن کو سردی سے کپکپاتے دیکھ کر ناہم نے زین کو جلانے کے لیے مزید لکڑیاں لانے کو کہا۔ ناہم کی آواز پھنسی پھنسی سی تھی۔ گھر میں کہیں بھی آگ روشن نہیں تھی جو ایک عجیب سے بات تھی۔ چمنی میں اوپر سے سرد ترین ہوا داخل ہو کر نیچے پڑی راکھ کو سارے گھر میں اڑا رہی تھی۔ ہوا کے ان سرد جھونکوں میں خنجر کی سی کاٹ تھی۔ ناہم نے ایمی سے پوچھا کہ کیا اضافی لکڑیاں جلانے سے اسے کچھ سکون مل رہا ہے اور اس سوال پر ایمی کو اصل صورت حال کا اندازہ ہوا۔ ناہم کا دماغ صدمات کی شدت سے چل گیا تھا۔ زین گھر میں تھا ہی نہیں۔ ۔ ۔ ایمی نے محتاط انداز میں ناہم سے اس بارے میں سوال کیے مگر اس کوئی واضح جواب نہیں مل سکا۔ ’کنویں میں ۔ ۔ ۔ وہ اب کنویں میں رہتا ہے۔ ۔ ۔‘ ناہم اپنے مفلوج ذہن کے ساتھ بس اتنا ہی کہہ پایا۔ ایمی کے دماغ میں یک لخت ناہم کی دیوانی بیوی کا خیال ابھرا اور اس نے ناہم سے پوچھا کہ نیبی کہاں ہے۔ ’وہ یہیں ہے۔‘ ناہم نے اس بار بھی مبہم سا جواب دیا اور ایمی نے فیصلہ کیا کہ اسے خود چل کر دیکھنا چاہیے۔ ناہم کو کائوچ پر بڑبڑاتا چھوڑ کر ایمی نے دروازے کے برابر ٹنگی چابیاں اٹھائیں اور دو چھتی کی چرچراتی سیڑھیوں پر چڑھنا شروع کیا۔ یہ ایک بند اور بد بو دار جگہ تھی جہاں ہر طرف خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے چار دروازے تھے جن میں سے صرف ایک پر قفل پڑا تھا۔ ناہم نے قفل پر متعدد چابیاں آزمائیں اور تیسری بار میں تالا کھل گیا۔ ایمی نے اچانک کواڑ کو دھکا دیا۔ اندر مکمل تاریکی تھی کیوں کہ کھڑکی بہت چھوٹی تھی اور ایمی کو کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ ہر طرف تختوں کا فرش بچھا ہوا تھا مگر وہاں سے پھوٹتی بد بو اور تعفن نا قابل برداشت تھا۔ ایمی نے دوسرے کمرے میں جا کر اپنے سینے میں سانس بھری اور پھر اس کمرے میں داخل ہوا جہاں اسے ایک کونے میں کچھ تاریک سی چیز دکھائی دی مگر جب اسے اندازہ ہوا کہ اس کی نظروں کے سامنے کیا تھا تو بے اختیار اس کی چیخ نکل گئی۔ اس دوران اسے لگا جیس کھڑکی کے دوسری جانب لمحاتی طور پر ایک بادل سا لہرایا ہو اور دوسرے ہی لمحے اسے محسوس ہوا جیسے اسے گرم اور مکروہ بخارات نے چھوا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے غیر ارضی رنگ لہرائے۔ اسے لگا جیسے وہ خلائی چٹان سے نکلے پراسرار رنگین مادے کو دیکھ رہا ہے جو پروفیسر نے ہتھوڑے سے ٹھونک کر اس کے اندر سے نکالا تھا۔ ایمی کو ہر طرف وہ ہی بد شکل پیڑ پودے اگے ہوئے محسوس ہوئے مگر اس دوران ایک اور چیز کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے رک سی گئی۔ اس کے سامنے ایک بے جان وجود پڑا تھا جس کا انجام تھاڈیس اور مویشیوں کی طرح ہوا تھا مگر دہشت سے بھی ما ورا دہشت کی بات یہ تھی کہ یہ وجود ٹوٹ کر بکھرنے کے با وجود آہستہ آہستہ حرکت کر رہا تھا۔ ایمی اس منظر کی زیادہ وضاحت نہیں کر سکا مگر یہ بات واضح ہو گئی کہ حرکت اس بے جان وجود میں نہیں ہو رہی تھی۔ اس بے جان وجود سے کچھ ایسی چیزیں لپٹی ہوئی تھیں جنہیں کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ دو چھتی میں ان چیزوں کے علاوہ کوئی دوسری چیز حرکت نہیں کر رہی تھی۔ ایمی بہت بہادر کسان تھا اور اگر اس کے سوا کسی اور نے ان چیزوں کو دیکھا ہوتا تو بلا شبہ اس کے دل کی دھڑکن اسی وقت بند ہو جاتی مگر ایمی خود پر قابو رکھتے ہوئے اس کمرے سے باہر آیا اور درواز ے پر تالا ڈال کر اس منحوس راز کو وہیں چھپا دیا۔ ایمی نے سیڑھیوں سے اترتے وقت سوچا کہ ناہم کو یہاں سے کہیں اور منتقل کرنا ضروری ہے مگر اچانک اس کے کانوں میں نیچے سے کسی چیز کے دھڑ سے گرنے کی آواز آئی۔ اسے لگا جیسے کسی چیخ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ اس کے ذہن میں ان مکروہ بخارات کا تصور ابھرا جو اوپر کمرے سے اسے چھوتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔ اس نے اس چیخ کے بارے میں سوچا مگر کسی خوف کے باعث اس کے قدم وہیں ٹہر گئے۔ نیچے سے کچھ اور آوازیں آئیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بھاری چیز کو فرش پر گھسیٹا جا رہا ہے اور کے ساتھ گوشت کو چوسنے کی مکروہ ترین آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ ایمی نے تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ اس کی آنکھوں نے اوپر کمرے میں کیا دیکھا تھا۔ اسے لگا جیسے وہ زمانہ قبل از تاریخ کے کسی ڈرائونے خواب میں پھنس گیا ہے۔ ایمی اپنی جگہ ساکت کھڑا لرزتا رہا کیوں کہ اس کے قدموں میں نہ آگے بڑھنے کی سکت تھی اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ اس کے ذہن میں سوچنے سجھنے کی صلاحتیں مفلوج ہو رہی تھیں۔ وہ مکروہ آوازیں، کسی عفریت سے سامنا ہونے کا خوف، تاریکی، تنگ سیڑھیوں کی حد سے زیادہ ڈھلوان، چاروں طرف لکڑی کی دیواروں کے عقب سے پھوٹتی روشنی، قدموں کی آہٹ، اطراف کی دیواریں، کھلی ہوئی کنجیاں اور چھت کے بھاری شہتیر ۔ ۔ ۔ ایمی کے لیے جہنم سے کم نہیں تھے۔ اچانک باہر کھڑا ایمی کا گھوڑا بری طرح ہنہنایا اور رسی تڑا کر گاڑی سمیت بھاگ نکلا۔ ایمی تنہا تاریکی میں کھڑا خوف کی شدت سے لرز رہا تھا۔ مگر یہ ابتدا تھی۔ باہر سے ایک اور آواز آئی۔ ایسا لگا جیسے کوئی چپچپاتا ہوا لوتھڑا کنویں کے پانی میں گرا ہو۔ لکڑی کی دیواروں کی درز سے ابھی تک وہ منحوس روشنی پھوٹ رہی تھی۔ ایمی نے سوچا یہ گھر کتنا قدیم ہے۔ اسے یاد آیا کہ اس گھر کا زیادہ تر حصہ 1670 میں بنایا گیا تھا مگر خمیدہ چھت پر کھپریل 1730 میں پڑی تھی۔ نیچے فرش پر کھرچنے کی آواز اب واضح ہو گئی تھی اور ایمی کے ہاتھوں کی گرفت لکڑی کی اس چھڑی پر سخت ہو گئی جو اس نے نہ جانے کیا سوچ کر دو چھتی سے اٹھا لی تھی۔ ایمی نے دھیمے سے اپنے اعصاب کو مضبوط کیا اور زینے سے اتر کر ہمت کرتے ہوئے کچن کا رخ کیا مگر وہاں کوئی عفریت نہیں تھا مگر وہ جو کچھ بھی تھا ایمی سے ملنے آیا تھا اور ابھی بھی زندہ تھا۔ خواہ وہ رینگ کر گیا ہو یا اسے کوئی بیرونی طاقت گھسیٹ کر لی گئی ہو مگر موت اس کے پیچھے تھی اگر چہ ایمی نہیں کہہ سکا کہ ان دونوں باتوں میں سے کون سی درست ہے۔ یہ تمام ماجرا گزشتہ نصف گھنٹے کا تھا مگر سرمئی موت یہیں تک محدود نہیں رہی تھی اور اس وجود سے کھال اور گوشت کے لوتھڑے کانچ کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پر گر رہے تھے۔ ایمی اسے چھو نہیں سکا مگر خوف زدہ نظروں سے اس گول چیز کو دیکھا جو ایک چہرہ نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔ ۔ ’یہ کیا ہے؟ ناہم وہ کون تھا؟‘ ایمی نے سرگوشی کی اور بچے کچھے ناہم کے کٹے پھٹے اور باہر کو ابھرے ہونٹوں سے تیز سیٹی کی آواز میں ایک آخری جواب ادا ہوا ۔ ۔ ۔ ’ایمی ۔ ۔ ۔ ایمی ۔ ۔ وہ رنگ ۔ ۔ ۔ وہ جلتا ہے ۔ ۔ ۔ سرد اور گیلا ۔ ۔ ۔ مگر جلتا ہے ۔ ۔ ۔ جلاتا ہے۔ ۔ ۔ وہ کنویں میں رہتا ہے ۔ ۔ ۔ میں نے اسے دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ وہ دھویں جیسا ہے ۔ ۔ ۔ پچھلے سال کھلنے والے پھولوں کی طرح ۔ ۔ ۔ رات کو کنویں سے روشنی نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ تھاڈیس۔ ماروین۔ زین۔ ہر چیز زندہ ہے ۔ ۔ ۔ ہر چیز سے زندگی چوسی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ اس پتھر میں ۔ ۔ ۔ وہ یقیناً اس پتھر میں آیا ہے ۔ ۔ ۔ ہر چیز کو زہریلا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ نہ جانے کیا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ان یونی ورسٹی کے گدھوں نے پتھر کو کھود نکالا ۔ ۔ ۔ اسے چور چور کر دیا ۔ ۔ ۔ وہ اسی رنگ کا تھا ۔ ۔ ۔ بالکل ایسا ہی ۔ ۔ ۔ پھولوں اور پیڑوں کی طرح ۔ ۔ ۔ اس میں اور بھی ہوں گے ۔ ۔ ۔ بیج ۔ ۔ ۔ بیج ۔ ۔ ۔ وہ اگ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ اس ہفتے پہلی بار اسے دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ زین کو ہضم کر گیا ۔ ۔ ۔ زین بہت طاقت ور تھا ۔ ۔ ۔ بالکل صحت مند ۔ ۔ ۔ یہ پہلے تمہیں پاگل کرتا ہے۔ ۔ ۔ پھر تم اس کے ہو جاتے ہو ۔ ۔ ۔ تمہیں جلا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ کنویں کے پانی میں ۔ ۔ ۔ تم نے پانی کے بارے میں ٹھیک کہا تھا ۔ ۔ ۔ جہنمی پانی ۔ ۔ ۔ زین کبھی کنویں سے واپس نہیں آیا ۔ ۔ ۔ وہاں سے نہیں نکل سکا ۔ ۔ ۔ یہ تمہیں کھینچتا ہے ۔ ۔ ۔ تم جانتے ہو وہ آئے گا ۔ ۔ ۔ مگر کچھ نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ وہ زین کو لے گیا ۔ ۔ ۔ نیبی کہاں ہے؟ ۔ ۔ ۔ ایمی؟ ۔ ۔ ۔ میرا ذہن کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں یاد میں نے اسے کب سے کھانا نہیں دیا ۔ ۔ ۔ وہ اسے بھی لے جائے گا ۔ ۔ ۔ محتاط رہو ۔ ۔ ۔ وہ ایک رنگ ہے بس ۔ ۔ ۔ نیبی کا رنگ بھی رات میں اسی طرح ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ جلاتا ہے اور چوستا ہے ۔ ۔ ۔ وہ وہاں سے آیا ہے جہاں ہر چیز یہاں سے الگ ہے ۔ ۔ ۔ اس پروفیسر نے صحیح کہا تھا ۔ ۔ ۔ ایمی محتاط رہو ۔ ۔ ۔ وہ ابھی اور قیامت مچائے گا ۔ ۔ ۔ وہ زندگی کو چوس لیتا ہے ۔ ۔ ۔‘ مانسٹر اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا۔ وہ جو کچھ بھی تھا اس سے زیادہ نہیں بول سکا کیوں کہ اس کا چہرہ – اگر وہ چہرہ ہی تھا – اندر کو دھنس کر گل گیا۔ ایمی نے اس بچے کھچے ’ناہم‘ پر میز کا سرخ کپڑا ڈال دیا اور کھیتوں کے طرف کھلنے والے عقبی دروازے سے اپنے قدم گھسیٹتا گھر سے باہر نکل آیا۔ وہ اس دس ایکٹر قطعے کی ڈھلان پر چڑھا اور جنگلات کے بیچ سے شمالی سڑک پر لڑکھڑاتا ہوا اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔ اس میں اس کنویں کے پاس سے گزرنے کی ہمت نہیں تھی۔ گھوڑا کچھ نہ کچھ دیکھ کر ہی بھاگا ہو گا۔ ایمی نے سوچا۔ ایمی نے کنویں پر گھر کے اندر کھڑکی میں سے اس کنویں کو دیکھا تھا اور کنویں کے حلقے سے ایک اینٹ بھی کم نہیں تھی۔ کوئی نہ کوئی چیز یقیناً کنویں کے اندر پانی میں گری یا کودی تھی۔ کوئی ایسی چیز جو ناہم کے وجود سے اپنی بھوک مٹا کر واپس کنویں میں چلی گئی تھی۔ ۔ ۔ جب ایمی اپنے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کا گھوڑا بگھی کو لے کر گھر پہنچ گیا تھا۔ خالی گاڑی کو دیکھ کر ایمی کی بیوی پر گھبراہٹ کے دورے پڑ رہے تھے مگر ناہم نے اسے تسلی دی تا ہم ان واقعات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وہ اسی وقت آرکھم کی جانب روانہ ہوا اور پولیس کو ناہم اور اس کے گھر والوں کی گم شدگی کی اطلاع دی۔ اس نے انہیں کوئی تفصیل نہیں بتائی اور صرف ناہم اور اس کی بیوی کی موت کے بارے میں بتایا۔ تھاڈیس کی موت سے لوگ پہلے ہی واقف تھے اس لیے ناہم نے کہا کہ ان کی موت کا سبب بھی وہی عجیب و غریب مرض معلوم ہوتا ہے جس سے مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ ناہم نے پولیس کو ماروین اور زین کی گم شدگی کے بارے میں بھی بتایا۔ پولیس افسران نے ناہم سے بہت تفصیلی پوچھ گچھ کی اور آخر میں ایمی کو مجبوراً تین پولیس اہل کاروں کے ساتھ ناہم کے فارم پر آنا پڑا۔ ان کے ساتھ موت کی تحقیقات کرنے والا افسر، پولیس کا ایک طبی ماہر اور جانوروں کا وہ ڈاکٹر بھی تھا جس نے ناہم کے بیمار مویشیوں کا علاج کیا تھا۔ ناہم ان لوگوں کے ساتھ طوہاً و کرہاً ہی گیا تھا کیوں کہ سہ پہر کا وقت ڈھل رہا تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہاں رات ہو جائے گی۔ وہ اس منحوس جگہ پر کسی بھی صورت رات کی تاریکی میں نہیں رہنا چاہتا تھا مگر اپنے ساتھ اتنے لوگوں کی موجودگی سے اسے کچھ حوصلہ ہوا۔ یہ چھ افراد ایک بڑی گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر وہاں روانہ ہوئے جب کہ ایمی اپنی بگھی میں ان کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ یہ لوگ جب ناہم کے فارہم ہائوس پر پہنچے تو شام کے چار بچ چکے تھے۔ پولیس اہلکار اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بہت کچھ دیکھ چکنے کے با جود ناہم اور اس کی بیوی کی بچھی کچھی لاشوں کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ فارم کا سرمئی ماحول پہلے ہی دلوں کو سہمانے والا تھا مگر ناہم اور اس کی بیوی کی لاشوں کو دیکھ کر پولیس اہل کاروں کے چہروں پر بھی خوف کے سائے لہراتے صاف محسوس ہو رہے تھے۔ میڈیکل ایگزامنر نے بھی لاشوں کی حالت دیکھ کر ان کا معائنہ کرنے سے انکار کر دیا مگر لاشوں سے تجزیے کے لیے نمونے لیے گئے۔ The Colour Out of Space | Read in Urdu | H.P. Lovecraftلیبارٹری میں جب ان نمونوں کو خورد بین سے دیکھا گیا تو ان سے وہی رنگ نکلتے ہوئے نظر آئے جو گزشتہ سال خلائی چٹان کے نمونوں کے تجزیے کے وقت ظاہر ہوئے تھے مگر ایک ماہ بعد اس روشنی کے اخراج کا سلسلہ ختم ہو گیا اور باقی ماندہ مواد میں فاسفورس کی بڑی مقدار پائی گئی۔ ایمی کو اگر معلوم ہوتا کہ یہ لوگ فوری کارروائی کریں گے تو وہ انہیں کبھی بھی کنویں کے بارے میں نہیں بتاتا۔ سورج کے غروب ہونے کا وقت ہو رہا تھا اور ایمی اب وہاں ٹہرنا نہیں چاہتا تھا۔ ایمی کی نظر بار بار پلٹ کر اس کنویں کی منڈیر پر جا رہی تھی اور جب ایک پولیس والے نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اسے بتانا ہی پڑا کہ ناہم اس کنویں میں کسی چیز کی موجودگی سے خوف زدہ تھا اور اس کے خوف کا یہ عالم تھا کہ اس نے ایک بار بھی اپنے گم شدہ بیٹوں کی تلاش میں اس کنویں کا رخ نہیں کیا تھا۔ پولیس اہل کاروں نے اسی وقت کنویں کو خالی کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے پانی کی بالٹیوں پر بالٹیاں نکالی جانے لگیں۔ اس پانی سے نا گوار ترین بد بو پھوٹ رہی تھی اور جب آخری بالٹی نکالی گئی تو ان سب کو بدبو کی وجہ سے اپنی سانس روکنا پڑی۔ مگر اس کام میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگا کیوں نہ معلوم اسباب کی وجہ سے کنویں میں پانی نہ ہونے کے برابر تھا۔ مگر وہاں سے جو کچھ دریافت ہوا اسے الفاظ میں بیان کرنا مناسب نہیں۔ ماروین اور زین دونوں کے ڈھانچے کنویں سے نکلے۔ اسی حالت میں ایک ہرن اور ایک بڑا کتا بھی وہاں سے نکالا گیا جن کے علاوہ وہاں شمار چھوٹے جانوروں کی ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ کنویں کی تہہ سے نکالی گئی کیچڑ اور چپچپی مٹی بھربھری اور بلبلوں سے لبریز تھی۔ ایک پولیس اہلکار کوشش کے با وجود کنویں کی تہہ میں لوہے کا ایک ڈنڈا پیوست نہیں کر سکا جب کہ وہاں کوئی ٹھوس رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ کنواں اس دوران جھٹپٹا ہو چلا تھا چناں چہ ناہم کے گھر سے لالٹینیں نکال کر لائی گئیں اور اس بات کا اندازہ کرنے کے بعد کہ کنویں سے اب مزید کسی چیز کا نکالنا ممکن نہیں سب لوگ گھر کے اندر جا کر اس بارے میں بات چیت کرنے لگے۔ اس دوران چاند کی آسیب زدہ روشنی باہر کھیت کر رہی تھی۔ یہ لوگ ان واقعات کا کوئی سبب سمجھنے سے قاصر تھے اور وہاں اگی سبزیوں، مویشیوں کی نا قابل فہم بیماری، ناہم اور اس کی بیوی کی پر ہول موت اور آلودہ کنویں میں زین اور ماروین کے ڈھانچوں کے علاوہ دیگر چھوٹے جانوروں کی ہڈیوں کی موجودگی کا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے مگر اس کے با وجود ناہم کے سوا کوئی ان واقعات کے غیر فطری اسباب پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ٹھیک ہے خلائی چٹان کی وجہ سے زمین زہریلی ہو گئی تھی مگر انسانوں اور مویشیوں کی بیماری کا ظاہر ہے اس چٹان سے کوئی تعلق نہیں تھا کیوں کہ ان میں سے کسی نے بھی ان انوکھی سبزیوں کو نہیں کھایا تھا۔ کیا ان سب باتوں کا سبب کنویں کا پانی تھا؟ سب نے اس بات کو قرین قیاس قرار دیا اور رائے دی کہ اس کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ مگر پھر سوال یہ تھا کہ دو صحت مند لڑکوں نے کنویں میں کود کر خود کشی کیوں کی – اگر فی الواقع ان کے اس اقدام کو خود کشی کہا جا سکتا؟ ان دونوں کی جسمانی حالت ایک جیسی تھی اور صاف ظاہر تھا کہ وہ دونوں بھی اسی ’سرمئی موت‘ کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر اس بات کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ یہاں موجود ہر چیز اور حتیٰ کہ انسانی لاشیں بھی سرمئی اور کانچ کی طرح نازک کیوں ہیں۔ اس وقت کورونر (طبی ماہر) ایک کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا جو صحن کی طرف کھلتی تھی اور اس نے سب سے پہلے کنویں سے نکلتی روشنی کو دیکھا۔ اس وقت تک رات گہری ہو چکی تھی اور چاند کی روشنی میں دیکھا جا سکتا تھا کہ آس پاس کی تمام زمین اور ہر چیز سے ایک آسیب زدہ سی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ یہ روشنی کسی سرچ لائٹ کی طرح تھی مگر اس کا رنگ بالکل انوکھا تھا اور جب یہ سب لوگ اس روشنی کو دیکھنے کے لیے کھڑکی کے پاس اکٹھے ہوئے تو یک لخت ایمی بری طرح چونک اٹھا کیوں وہ اس روشنی کی ’حقیقت‘ سے واقف تھا۔ وہ اس رنگ کو اپنی آنکھوں سے پہلے بھی دیکھ چکا تھا اور اسے لگ رہا تھا جیسے پھر کوئی ان ہونی ہونے رچنے والی ہے۔ اس نے یہ رنگ خلائی چٹان سے لیے جانے والے نمونے میں دیکھا تھا۔ اس نے اس رنگ کو عجیب الخلقت سبزیوں میں پایا تھا اور اسے یقین تھا کہ اس روز جب وہ دو چھتی پر تھا تو یہ ہی رنگ وہاں کمرے کی کھڑکی کے پاس لہرا رہا تھا۔ یہ رنگ وہاں صرف ایک لمحے کے لیے نظر آیا تھا اور اس کے بعد ایک مکروہ گرم ہوا کا جھونکا سا ایمی کو چھوتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا تھا اور شاید ناہم کی دہشت ناک موت بھی اسی رنگ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ ناہم نے بھی مرنے سے پہلے ان ہی رنگوں اور پیڑوں کا نام لیا تھا اور اسی وقت کوئی چیز کنویں میں کودی تھی اور اب اس رات کی تاریکی میں اس شیطانی رنگ کی زرد سے روشنی بالکل ایک سیدھ میں آسمان کی طرف ایسے پھوٹ رہی تھی جیسے کنویں کی تہہ میں کوئی سرچ لائٹ رکھی ہو۔ سرچ لائٹ مگر ان آسیبی لمحات میں بھی ایمی کا ذہن سائنسی خطوط پر سوچ رہا تھا جو بے شک ایک قابل تعریف بات تھی۔ اس نے خلائی چٹان کے نمونے سے دن کی روشنی میں اس روشنی کو نکلتے دیکھا تھا اور اب اسی طرح کی روشنی رات کی تاریکی میں اس منحوس کنویں سے فاسفورس کی طرح چمک رہی تھی اور یہ ایک غیر فطری بات تھی۔ ایمی کے ذہن میں فوری طور پر ناہم کے آخری الفاظ ابھرے: ’یہ اس جگہ سے آیا ہے جہاں ہر چیز یہاں سے مختلف ہے ۔ ۔ ۔ اور ان پروفیسروں میں سے ایک نے بھی ایسا ہی کہا تھا ۔ ۔ ۔ ‘ باہر درخت سے بندھے تینوں گھوڑے اب بری طرح ہنہنانے کے ساتھ زمین کو اپنے پیروں سے کھرچ رہے تھے۔ گاڑی بان گھوڑوں کی خبر لینے اٹھا مگر ایمی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکتے ہوئے کہا ’ادھر نہیں جانا۔ ۔ ۔ وہاں کچھ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ ناہم نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ کوئی چیز کنویں میں رہتی ہے جو زندگی کو چوس لیتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ چیز اس خلائی چٹان میں پوشیدہ تھی۔ یہ چوستی ہے اور جلاتی ہے۔ ناہم کا کہنا تھا کہ اس کی زندگی کا دارومدار دوسری زندگیوں پر ہے اور اس کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے اسے پچھلے ہفتے دیکھا تھا۔ یقیناً یہ چیز کہیں دور آسمانوں سے آئی ہے۔ شاید کسی جہنم سے کیوں کہ خدا کی اس دنیا میں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ شاید یہ اتنی دور سے آئی ہے جس کا تصور بھی انسانی سوچ سے ماورا ہے۔‘ گاڑی بان یہ بات سن کر الجھے ہوئے انداز میں اپنی جگہ کھڑا رہا۔ اس کی نظریں کنویں سے نکلتی روشنی پر مرکوز تھیں جو بتدریج بڑھتی ہی جا رہی تھی اور اس میں اضافے کے ساتھ گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور زمین پر پائوں پٹکنے میں بھی شدت آ گئی تھی۔ ہر طرف ایک ایسا ماحول طاری تھا جس کا کسی جہنمی خواب میں ہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ ایمی نے اچانک اٹھ کر گاڑی بان کو روک لیا تھا مگر اس کے ذہن سے یہ بات نکل گئی تھی کہ وہ خود کتنا زخمی ہے۔ ۔ ۔ اس کے جسم کے جس حصے کو اس رنگین ہیولے نے چھوا تھا وہ اس طرح جل گیا تھا جیسے اس پر تیزاب چھڑک دیا گیا ہو۔ ایمی نے سوچا دنیا میں کوئی بھی نہیں جان سکے گا کہ اس رات یہاں کیا ماجرا پیش آیا مگر روشنی کی شدت کو دیکھتے ہوئے لگ رہا تھا جیسے اب اسے انسانوں کی دنیا میں کوئی دل چسپی نہیں رہی اور چند ہی دیر جاتی ہے کہ بادلوں بھری چاندنی میں وہ یک لخت ہویدا ہو جائے۔ یہ روشنی محض ایک فطری عمل نہیں تھا بلکہ اس میں شعور کی لپٹیں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔ اچانک کھڑکی کا پاس کھڑا ایک پولیس والا چونک گیا۔ دوسرے نے پہلے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں نظر دوڑائی۔ مگر اب بحث کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ سارا ماجرا جو اتنے دنوں سے قصبے میں سرگوشیوں کو جنم دیتا رہا تھا آنکھوں کے سامنے آ گیا تھا۔ اس وقت وہاں ہوا کا ایک جھونکا بھی نہیں تھا مگر اس کے با وجود وہاں ہر طرف کھڑے ٹنڈ منڈ آسیب زدہ درختوں کی شاخوں نے اچانک آسمان کی طرف اٹھ کر سانپوں کی طرح لہرانا شروع کر دیا تھا۔ یہ شاخیں بری طرح کلبلا رہی تھیں اور ایسا لگتا تھا جیسے انہیں مرگی کا دورہ پڑ گیا ہو۔ یہ انتہائی بے قراری کے عالم میں بادلوں کو نوچنا اور ہوائوں کو کھرچنا چاہ رہی تھیں جیسے انہیں کوئی نا دیدہ آسیب جھٹکوں پر جھٹکے دے رہا ہو۔ شاید ان کی جڑوں میں کوئی عفریت پوشیدہ تھا جس کے لمس نے انہیں بن جل مچھلی کی طرح تڑپنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سب لوگوں کی کئی لمحوں کے لیے سانسیں رک گئیں اور پھر ایک تاریک بادل نے کچھ دیر کے لیے چاند کو ڈھانپ لیا اور اس دوران درختوں کی ٹہنیوں پر روشنی کے باریک باریک ذرات نمودار ہوئے۔ ان پر کسی شیطانی کہکشاں کا گمان ہو رہا تھا۔ اس دوران کنویں سے نکلنے والی روشنی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی اور لگتا تھا جیسے قیامت بس ٹوٹنے ہی والی ہے۔ یہ روشنی چمک نہیں رہی تھی بلکہ کسی لجلجے اژدھے کی طرح کنویں کے حلق سے ابلی رہی تھی۔ جانوروں کے ڈاکٹر کا جسم لرز رہا تھا اور اس نے دروازے کو اندر سے بند کر لیا۔ گھوڑے ابھی بھی دیوانوں کی طرح پیر پٹک رہے تھے مگر کمرے میں موجود کسی شخص کی ہمت نہیں تھی کہ گھر سے باہر نکل کر دیکھتا کہ ماجرا کیا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ درختوں کی چمک میں بھی شدت آ گئی اور اب ایسا لگتا تھا جیسے ان کلبلاتی بے قرار شاخوں کو آسمان میں چھپا کوئی بہت بڑا مقناطیس زبردستی اپنی جانب کھینچ رہا ہو۔ دلدلی پیڑوں، لکڑی کی چھتوں اور مغرب کی جانب اینٹوں کی دیواروں پر لگے شہد کی مکھیوں کے چھتوں نے بھی غیر ارضی روشنی دینا شروع کر دی تھی جس سے خوف زدہ ہو کر بالآخر باہر بندھے گھوڑے رسیاں تڑا کر گاڑی سمیت بھاگ نکلے۔ ’یہ روشنی یہاں موجود ہر نامیاتی مادے پر چھائی ہوئی ہے‘ طبی ماہر نے بالآخر خاموشی توڑتے ہوئے کہا، مگر کسی نے بھی اس کی بات کا جواب نہیں دیا سوائے اس پولیس والے کے جو لوہے کا ڈنڈا لے کر کنویں میں اترا تھا۔ اس نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ جو کچھ بھی کنویں میں تھا وہ شاید اس کے ڈنڈے کی چوٹ سے برانگیخت ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کنویں کی کوئی تہہ نہیں تھی مگر وہاں سے بلبلے اٹھ رہے تھے اور لگتا تھا جیسے کوئی وہاں چھپ کر بیٹھا ہو۔ ایمی کا گھوڑا ابھی تک دیوانوں کی طرح ادھر ادھر لاتیں چلا رہا تھا۔ اس کی بات کے جواب میں ایمی نے کہا ’وہ اسی خلائی چٹان میں آیا تھا۔ وہ یہاں بڑا ہوا۔ اس نے یہاں موجود ہر زندہ چیز کو اپنی غذا کے طور پراستعال کیا۔ مگر اس نے جسموں کے ساتھ ساتھ ان کے اذہان کو بھی لقمہ بنایا۔ اس نے ایک ایک کر کے ناہم کے گھر والوں سے اپنی بھوک مٹائی اور توانائی حاصل کی۔ وہ کہیں بہت دور سے آیا ہے۔ کسی ایسی کائنات سے جہاں چیزیں یہاں سے بالکل مختلف ہیں۔‘ کائے نات اس دوران کنویں سے نکلنے والی بے رنگ روشنی کے ستون میں یک لخت زبردست چمک اٹھی اور باہر بندھا ایمی کا گھوڑا اس طرح چلایا جس طرح کبھی گھوڑوں کو چلاتے نہیں سنا گیا۔ کمرے میں موجود سب لوگوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ جب ایمی کی نظر باہر پڑی تو گھوڑے کی حالت کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کسی طاقت ور تیزاب نے ایک ہی قطرے میں اس کا تمام جسم گلا کر زمین پر بکھیر دیا ہو۔ انہوں نے اسے دن نکلنے پر باہر دفن کر دیا۔ اس وقت روشنی اب اس کمرے میں بھی داخل ہو رہی تھی جہاں یہ لوگ بیٹھے تھے۔ یہ روشنی فرش پر بچھے لکڑی کے تختوں اور چیتھڑا سی قالین کو منور کر رہی تھی اور کھڑکیوں پر لہرا رہی تھی۔ اس کا انداز کسی بل کھاتے سانپ کی طرح کا تھا اور ان سبھوں کے پاس کمرا چھوڑ کر باہر بھاگنے کی سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا تھا۔ یہ لوگ عقبی دروازے سے کھتیوں کی طرف بھاگے اور ان میں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی جرات نہیں تھی۔ مگر یہ لوگ خوش تھے کہ انہیں اس کنویں کے پاس سے نہیں گزرنا پڑا۔ یک لخت آسمان پر چمکتے چاند کو بادل کے ایک آوارہ ٹکڑے نے ڈھک لیا اور ان لوگوں کو اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر کھلے باغات میں آنا پڑا۔ مڑ کر دیکھنے پر ان کی آنکھوں کے سامنے ایک طلسماتی نظارہ تھا۔ ناہم کے وسیع فارم میں موجود ہر چیز ایک نا قابل فہم رنگ میں ڈوبی چمک رہی تھی۔ درختوں کی شاخیں ابھی بھی آسمان کی طرف بلند تھیں اور سانپ کی زبان کی طرح ادھر ادھر لپک رہی تھیں۔ یہ نظارہ کسی جہنم سے کم نہیں تھا۔ کنویں کے حلق سے ایک زہریلی مگر غیر ارضی قوس قزح کسی اژدھے کی طرح نکل رہی تھی البتہ اس میں موجود ہزاروں رنگوں کو کوئی نام دینا ممکن نہیں تھا کیوں انسانی آنکھ نے اس شب انہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ یک لخت کنویں سے اژدھے کے لجلجے جسم کی مانند باہر کو نکلتی یہ شیطانی روشنی کسی راکٹ یا شہاب ثاقب کی طرح اوپر کو لپکی اور آنکھ جھپکنے سے پہلے ایک بادل کو چیرتی ہوئی آسمان کی وسعتوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی۔ یہ ایک نا قابل فراموش نظارہ تھا۔ ایمی کافی دیر تک اپنی خالی آنکھوں سے آسمان کو تکتا رہا جہاں منحوس روشنی کا یہ ستون ہماری کہکشاں ک جانب غائب ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وادی میں ایک تیز چٹخ کی آواز آئی اور بغیر کسی دھماکے کے ہر چیز لمحوں میں راکھ ہو گئی۔ وہ جگہ جہاں کبھی ناہم کا زر خیز فارم اور گھر تھا اب وہاں سوائے سکستی ہوئی تاریکی اور اڑتی ہوئی راکھ کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ایمی اور پولیس اہلکار خاموشی سے شمالی سڑک پر چلتے ہوئے قصبے کی طرف کو بڑھ گئے۔ ایمی کی حالت سب سے خراب تھی اور اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اسے اس کے گھر تک چھوڑ دیں۔ ایمی اس منحوس رات کی تاریکی میں تنہا جنگل سے گزر کر اپنے گھر جانے کو تیار نہیں تھا۔ جب تمام لوگوں نے سڑک کا رخ کیا تو عین اسی لمحے ایمی نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور اسے ایسا لگا جیسے اس دلدلی کنویں سے کوئی چیز ایک لمحے میں بلند ہو کر دوبارہ وہیں دھنس گئی ہو۔ یہ صرف ایک رنگ تھا مگر ایک ایسا رنگ جو آج پہلی بار کسی انسانی آنکھ نے دیکھا تھا۔ ایمی جان گیا تھا کہ اس کنویں میں ابھی بھی کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے اور یہ حقیقت کسی بھی انسانی ذہن کو کسی حد تک دیوانا کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس کے بعد ایمی کبھی اس طرف نہیں گیا۔ آج اس بات کو گزرے نصف صدی سے زائد وقت گزر چکا ہے مگر ایمی خوش ہے کہ اب یہ جگہ ہمیشہ کے لیے پانی کی مصنوعی جھیل میں چھپ جائے گی۔ میں بھی خوش ہوں کیوں کہ میں جب کبھی بھی اس کنویں کے پاس گزرتا ہوں تو وہاں پڑتی سورج کی روشنی رنگ بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ مصنوعی جھیل کافی گہری ہو گی مگر اس کے با وجود میں اس پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیوں گا بلکہ میں اب کبھی اس قصبے کی طرف آئوں گا بھی نہیں۔ اس دن ایمی کے ساتھ جانے والے تین پولیس اہلکار دن نکلنے پر ناہم کی تباہ شدہ زمین اور فارم ہائوس کا جائزہ لینے گئے مگر وہاں کھنڈرات تک کا نام و نشان نہیں تھا۔ جو کچھ باقی بچا تھا وہ صرف ٹوٹی ہوئی چمنی کی اینٹیں، تہہ خانے کے کچھ پتھر، تھوڑی بہت معدنیات اور لوہے کے چند ٹکڑے تھے مگر حیرت کی بات یہ تھا کہ وہ منحوس کنواں اور اس کی منڈیر بالکل پہلے کی طرح صحیح و سالم تھیں۔ ۔ ۔ کنویں کے پاس ایمی کا ’بچا کچھا‘ گھوڑا مردہ پڑا تھا جسے انہوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور پھر زمین میں دفن کر دیا۔ ایمی کی گھوڑا گاڑی بھی وہیں پڑی تھی جو پولیس اہل کاروں نے اس کے گھر پہنچا دی مگر ناہم کے فارم اور اس کے اطراف میں دور دور تک کسی ذی حیات شے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اس پانچ ایکڑ جگہ پر گہری سرمئی ریت بکھری ہوئی تھی اور تب سے آج تک وہاں پتہ بھی نہیں اگا ہے۔ آج بھی اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اس پانچ ایکڑ زمین کے قطعے پر تیزاب کی بارش ہوئی ہو اور آرکھم قصبے کے ان لوگوں نے جن میں وہاں جا کر اس جگہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی جرات تھی اسے ’منحوس دلدل‘ کا نام دے دیا ہے۔ گائوں دیہاتوں میں پھیلی کہانیاں بہت عجیب ہوتی ہیں مگر آرکھم کی یہ داستانیں بل شبہ عجیب تر ہو جائیں اگر شہر کے لوگ اور یونی ورسٹی کے ماہرین ناہم کے بنجر کنویں کے پانی کا تجزیے کریں جس کے نزدیک ایکڑوں تک پھیلی سرمئی راکھ کو ہوا کا تند سے تند طوفان بھی اپنی جگہ سے ذرہ برابر نہیں اڑا سکتا۔ پیڑ پودوں کے ماہرین کو بھی چاہیے کہ وہ ناہم کے فارم پر اگنے والی عجب الخلقت نباتات کا مطالعہ کریں۔ ہو سکتا ہے اس طرح کوئی کام کی بات سامنے آجائے۔ کیوں کہ قصبے کے لوگوں کا خیال ہے کہ ناہم کے پودوں کی بیماری اب آگے کی طرف پھیل رہی ہے مگر بہت آہستگی سے۔ شاید ایک سال میں صرف ایک انچ۔ ۔ ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناہم کے فارم کے قرب و جوار کے کھیتوں میں لگی فصل کے رنگ ایسے نہیں ہیں جیسے بہار کے موسم میں ہونے چاہییں اور جب وہاں برف باری ہوتی ہے تو برف پر عجیب و غریب قدموں کے نشانات بھی نظر آتے ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ منحوس دلدل پر بہت کم برف پڑتی ہے اور جو پڑتی بھی ہے وہ بہت تییزی سے گھل کر بد بو دار پانی بن جاتی ہے جب کہ اس خاموش وادی میں اگر کوئی گھوڑا لے جائے تو وہ آج بھی بری طرح بے چین ہو جاتا ہے اور یہ کہ کتے مرتے مر جاتے ہیں مگر ناہم کے فارم کی طرف کا کبھی رخ نہیں کرتے۔ علاقے کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسم گرما میں اس دلدل سے اٹھنے والا تعفن دماغ کے لیے بہت برا ہے کیوں کہ آرکھم میں پاگلوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور وہ لوگ جن کے دل و دماغ مضبوط تھے وہ اس آسیبی کشش کے حصار کو توڑ کر یہاں سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ دوسرے علاقوں سے یہاں کبھی کبھار لوگ آتے ہیں مگر وہ بھی زیادہ عرصے تک ٹہر نہیں پاتے۔ وہ شروع میں بھیانک ترین خوابوں کی شکایت کرتے ہیں اور پھر چند دنوں بعد یہاں سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والوں مسافروں کو بھی عجیب سا احساس ہوتا ہے اور کوئی مصور ان وادیوں اور جنگلات کی تصاویر بنانا بھی پسند نہیں کرتا۔ ایمی سے یہ کہانی سننے سے قبل ایک بار جب میں وہاں سے گزر رہا تھا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں بھی عجب سے سنسناہٹ محسوس ہوئی اور رات کے وقت یہاں کھڑے ہو آسمان کی طرف دیکھنے کے تصور سے بھی میرا پتہ پانی ہو سکتا ہے۔ میری اس بارے میں کوئی رائے نہیں۔ کیوں اس بات سے مجھے صرف ایمی نے آگاہ کیا ہے اور قصبے کے لوگ اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرتے جب کہ وہ تینوں پروفیسر بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس پتھر سے پراسرار مادے کی اور بھی چھوٹی چھوٹی گیندیں نکلی تھیں۔ ان میں سے بلا شبہ ایک ابھی بھی زندہ ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ اس کنویں میں ہی ہے جہاں آج بھی سورج کی روشنی کے رنگ بدلنے لگتے ہیں۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ عجیب الخلقت نباتات سال میں ایک انچ قصبے کی طرف بڑھ رہی ہیں اور یقیناً اگر یہ بات درست ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ سب ضرور ہونا چاہیے۔ انہیں کہیں نہ کہیں سے غذا مل رہی ہے۔ میری رائے میں ہمیں اس عفریت کو وہیں تک محدود رکھنا چاہیے ورنہ یہ ایک روز تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ کیا یہ عفریت ان درختوں کی جڑوں میں خوابیدہ ہے جن کی شاخیں بے قراری سے آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں؟ آرکھم میں آج کل شاہ بلوط کے ان غیر معمولی جسیم درختوں کا تذکرہ عام ہے جن سے نا صرف یہ کہ روشنی پھوٹتی ہے بلکہ وہ غیر فطری انداز میں حرکت بھی کرتے ہیں۔ اس طرح کی حرکت جو زمین پر اگے دوسرے درخت کبھی نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ اور نہ ہی انہیں کرنی چاہیے۔ اس راز سے صرف خدا ہی واقف ہے۔ میرے خیال میں وہ رنگ ہماری کائنات کا نہیں اور اس کی حیثیت ایک پیغام بر کی سی تھی۔ وہ ان لا متناہی کائناتوں کی طرف سے آیا تھا جن کا تصور بھی انسانی ذہن کو مسخ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان کائناتوں کی طرف سے جو ہماری کائنات تک سے ماورا ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایمی کی داستان کا ایک ایک لفظ درست تھا۔ بے شک کوئی چیز اس شہاب ثاقب میں پوشیدہ تھی مگر اس کا وجود ہم انسانوں کے لیے جنہم کے عفریتوں سے کم نہیں تھا تا ہم اس سے زیادہ دہشت ناک بات یہ ہے کہ اس وجود کا کچھ نہ کچھ حصہ ابھی بھی ’منحوس دلدل‘ کی تہہ میں سانس لے رہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ جلد از جلد وہاں پانی کی مصنوعی جھیل بنا دی جائے۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ ایمی کو کچھ نہیں ہو گا مگر سوال یہ ہے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کے با وجود ایمی ابھی تک وہاں کیوں ہے؟ کیا وہ کسی نا دیدہ حصار کی گرفت میں ہے؟ ایمی بلا شبہ ایک بہت اچھا انسان ہے اور مصنوعی جھیل کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد میں چیف انجینیئر کو لکھوں گا کہ وہ ایمی پر نظر رکھے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایمی کسی کانچ کی طرح ٹوٹ کر جھڑنے والے سرمئی عفریت میں بدل جائے؛ مگر اب میرے خوابوں میں ایمی ایسا ہی نظر آتا ہے۔

میرے ان خوابوں کی شدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

ختم شد