The Hellhound in Urdu from nosleep

جہنمی کتا

کتوں سے لگائو میری گھٹی میں پڑا ہے۔ بچپن سے جوانی کا سنہری دور خوبصورت ٹونی کی یادوں سے پر ہے جو ہمارے گھر میں پلا ہوا تھا۔ ٹونی ایک تندرست سہنری رنگ کا ری ٹریور تھا اور مجھے آج بھی یاد ہے جب میں بہت چھوٹی تھی تو وہ مجھے اپنے نیچے چھپا کر اپنے تئیں گویا سرد موسم سے بچایا کرتا تھا۔ وفا دار ٹونی کی موت کے وقت میری عمر صرف تیرہ سال تھی اور اس کی موت نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ غم شاید اس غم سے کہیں زیادہ تھا جو میں نے اپنی دادی کے دنیا سے جانے کے بعد محسوس کیا۔ مگر وقت کا نا دیدہ سایہ چیونٹی کی رفتار سے مگر پر لگائے سرکتا رہا اور میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر اپنے ذاتی گھر منتقل ہو گئی۔ جب زندگی کی گرد ذرا تھمی تو مجھے محسوس ہوا کہ اب مجھے بھی اپنے گھر میں ایک کتے کی ضرورت ہے۔ چناں چہ میں نے قریبی پالتو جانوروں کی دکان کا رخ کیا اور جس وقت میری نظر چند ماہ کے روٹ وائلر کے معصوم چہرے پر پڑی مجھے ایسا لگا جیسے آج مجھے بھی ایک بہترین دوست مل گیا ہے۔ روٹ وائلر سیاہ جسامت اور اونچے قد کا کتا تھا جسے میں نے کوڈی کا نام دیا۔ کوڈی نے مجھے شروع شروع میں بہت پریشان کیا کیوں کہ وہ جگہ جگہ پیشاب کر دیا کرتا تھا مگر جب میں نے اسے پوٹی کے بارے میں اچھی طرح تربیت دے دی تو شاید میرے لیے دنیا میں اس سے عمدہ کوئی کتا نہیں تھا جس کی زیادہ تر کوشش ہوتی تھی کہ وہ میری گود میں گھسا رہے۔ اس کا خوب صورت چہرہ گویا ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا اور وہ مجھے دیکھ کر الٹا لیٹ جاتا تھا تا کہ میں اس کی خواہش کے مطابق اس کے پیٹ پر گد گدا سکوں۔ جب میں اس کے سامنے کچھ کھاتی تھی تو وہ اتنی معصوم نظروں سے مجھے تکتا تھا کہ میرا دل پگھل جایا کرتا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ چہرے کے کن تاثرات سے کھانے کے لیے چیزیں ملتی ہیں اور اس کے تاثرات اتنے واضح ہوتے تھے جیسے اس نے اپنی حرکتوں کے ذریعے زبردستی اپنی بات منوانے کے فن میں ملکہ حاصل کر لیا ہو۔ جب کبھی وہ حسب فطرت کچرے کے ڈبے میں گھس کر آتا تھا تو وہ ندامت سے لرز رہا ہوتا تھا اور اس کی جھکی ہوئی نظریں اور چڑھی ہوئی بھنووں سے لگتا تھا کہ وہ اپنے اس فعل پر دل سے شرمندہ ہے۔ کتوں کے باغ میں کھیلتے وقت اس کی ترچھی مسکراہٹ دیکھنے کے قابل ہوتی تھی مگر یہ سب کچھ اس لمحے بدل گیا جب وہ ایک بار کتوں کے باغ میں کھیلتے ہوئے پھسل کر گر پڑا۔ ہوا یہ کی کچھ ہفتوں قبل کوڈی حسب معمول باغ میں بلیوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ یکا یک پھسل کر گر گیا اور اس کے بعد کافی دیر تک وہیں پڑا رہا۔ مجھے اس کی اس حرکت سے تعجب ہوا اور میں بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی۔ میں نے اچھی طرح اس کے ڈھلکے ہوئے سر کو دیکھا۔ کوڈی اس وقت ہلکی ہلکی آوازیں نکال رہا تھا جب کہ اس کے دانتوں سے بھرے منہ سے بہت زیادہ رال ٹپک رہی تھی۔ وہ ہوش میں تھا، مگر وہ کھڑا نہیں ہونا چاہ رہا تھا۔ میں پریشانی کے عالم میں فوری طور پر اسے لے کر پالتو جانوروں کے اسپتال کی طرف بھاگی۔ اسپتال میں جانوروں کے ایک ڈاکٹر نے فوری طور پر اس کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ ممکنہ طور پر چھوٹا سا اعصابی جھٹکا تھا تا ہم اس نے کوڈی کو لیسکس دوا تجویز کرنے کے بعد دوپہر میں گھر بھیج دیا۔ اگلے چند دنوں میں، کوڈی غم زدہ دکھائی دیتا تھا اور کھانے یا کھیلنے سے زیادہ صرف ایک جگہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے اس کی تمام پسندیدہ ترین چیزیں کھلانے کی کوشش کی جنہیں وہ کتر کتر کر کھانے کا دیوانہ تھا مگر اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں نے اسے سکون پہنچانے کے لیے لگا تار اس کے پیٹ پر گد گدایا، مگر وہ کسی نا کام عاشق کی طرح کونے میں سر ڈالے پڑا رہا اور اپنا غم زدہ چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھنے کی ایک بار بھی کوشش نہیں کی۔ اس کے کچھ دنوں بعد ایک روز نصف شب کے قریب جب میں بچا ہوا پیزا کھانے کے دوران ٹی وی پر اپنی پسندیدہ فلم دیکھ رہی تھی تو کوڈی کی پٹے میں لگی گھنٹیوں کی آواز سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔ میرے کمرے سے راہ داری میں کھڑا کوڈی ایک سایہ سا دکھائی دے رہا تھا جو زبان نکالے ہانپتا ہوا مجھے تک رہا تھا۔ اندھیرے میں صرف اس کی سفید آنکھیں روشنی میں چمک رہی تھیں جنہیں دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۔ ’کوڈی یہاں آئو‘ میں نے اسے پکارا۔ میں اسے اچھی طرح روشنی میں دیکھنا چاہتی تھی، تا کہ وہ کیفیت جو میرے احساس میں اس کی اندھیرے میں سلگتی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر پیدا ہوئی تھی ڈھل جائے۔ کوڈی چند قدم چل کر روشنی میں آیا اور پھر ساکت ہو گیا۔ وہ گہری اور بھاری سانسیں لے رہا تھا اور اس کے چہرے کے زاویے اس طرح بگڑے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر میری رگوں میں خون جم گیا اور دل کی دھڑکن بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے پیزا کھاتے دیکھ کر ایسی معصوم شکل بنائے گا کہ میں مجبور ہو کر اسے بھی ایک آدھ ٹکڑا ڈالنے پر مجبور ہو جائوں گی، مگر اعصابی جھٹکے کے با وجود وہ اس وقت جس طرح تاثرات سے بھر پور چہرہ بنائے ہوئے تھا وہ انتا مکروہ تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کی سیدھی آنکھ کھنچ کر باہر کو ابھری آئی تھی جب کہ الٹی آنکھ عجیب طرح سے بھنچ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ اس طرح مڑے ہوئے تھے جیسے وہ غرا رہا ہو اور ایسا لگتا تھا اس کے منہ میں دانتوں کے علاوہ صرف مسوڑھے ہی مسوڑھے ہوں جب کہ اس کے سیاہ لبوں سے مسلسل رال ٹپک رہی تھی۔ اس کی چمک دار ناک تھرک رہی تھی جیسے وہ اپنے چہرے کے تاثرات بدلنا چاہتا ہو مگر انہیں چہرے پر لانا بھول گیا ہو۔ اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے اعصابی تار غلط جگہوں پر جوڑ دیے ہوں یا اس کے چہرے کے عضلات نے صحیح طرح سے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔ تمام تر خوف اور دہشت کے با وجود میں اسے سکون پہنچانا چاہتی تھی اس لیے میں نے اسے ایک بار پھر آواز لگائی۔ اس بار اس نے میرے ہاتھ سے تھوڑا سا پیزا کھایا۔ پیزا کھانے کے دوران میں نے اسے شاباشی دی اور اپنے ہاتھ کی تھپکیوں سے پیار جتایا۔ آج میں ماضی میں جھانکتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ کاش میں نے ایسا نہیں کیا ہوتا اور میرا رواں رواں دہشت کی شدت سے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر میں اس وقت صرف اتنا کہوں گی کہ آرام کی حالت میں کوڈی نارمل دکھائی دیتا تھا۔ ایک ذرا سا غم زدہ دکھائی دینے کے ساتھ وہ ذرا سے بائیں طرف جھکا ہوا نظر آ رہا تھا جس میں پریشانی کی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ میرے نزدیک اس وقت اس میں اتنا اعتماد آ جانا چاہیے تھا کہ پچھلے معمول کی طرح معصوم شکلیں بنانا شروع کر دیتا، مگر اس کے بر عکس اس کے چہرے کے تاثرات ابھی بھی ڈرا دینے والے اور بے ڈھنگے تھے۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا ہو اور اس کا جسم بے ڈھب ہو گیا ہو۔ چند بار اس کی ابلتی ہوئی آنکھیں، مڑی ہوئی ناک، غیر متناسب منہ سے جھانکتے ہوئے نوکیلے دانت اور ہوا میں سانپ کی طرح لہراتی ہوئی زبان مڑ کر دیکھنے پر میں بری طرح سراسیمہ ہو گئی۔ اپنی تمام تر کوشش کے با وجود میں خود کو اسے اس حالت میں دیکھنے کا عادی نہیں بنا سکی۔ مگر پھر بھی میں اس کے ساتھ محبت اور لگائو کا اظہار کرتی رہی۔ میں اس دوران اس کے ٹھیک ہو جانے کی دل سے خواہاں تھی، مگر اب اس نے با قاعدہ طور پر مجھے دہشت زدہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید باہر جا کر اور اپنے جیسے دوسرے جانوروں کے ساتھ مل کر اس کے رویے میں تبدیلی آ جائے گی اس لیے میں ایک بار اسے کتوں کے باغ میں لے کر چلی گئی۔ مگر حیران کن طور پر وہاں موجود دوسرے کتوں نے اس کی طرح دیکھنے سے بھی انکار کر دیا۔ وہ اسے دیکھ کر بھونکے اور جب کوڈی نے کھیلنے کی کوشش کی تو وہ دوڑ کر اپنے خوف زدہ مالکوں کے پاس چلے گئے۔ میرے خیال میں یہ ہی بات اس کی مایوسی کا سبب تھی کہ وہ اپنی باتوں کا ٹھیک سے اظہار نہیں کر پا رہا تھا۔ شاید اسی سوچ نے اسے مزید غم کی حالت میں دھکیل دیا اور میں آج سوچتی ہوں کہ کاش اس دن میں اسے لے کر وہاں نہیں گئی ہوتی مگر ظاہر ہے اس وقت مجھے کیا پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ کوڈی نے پہلے کی طرح میرے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا مگر اب وہ میری نظروں سے دور فرش پر صوفے کی آڑ میں بیٹھا کرتا تھا۔ مجھے یاد نہیں میں اس وقت ٹی وی پر کیا دیکھ رہی تھی مگر ساتھ ساتھ میں کوڈی کو ہاتھ سے تھپک رہی تھی کہ یکایک جھک کر دیکھنے پر دیکھا کہ کوڈی ٹی وی پر ڈائلاگ سن کر کسی سن رسیدہ شخص کی طرح اس طرح سر اوپر نیچے ہلا رہا تھا گویا اسے ایک ایک لفظ اچھی طرح سمجھ آ رہا ہو۔ ایسی ہی ایک رات جب میں اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ میں یکا یک ایک ڈرائونے خواب سے چونک کر اٹھ بیٹھی۔ مگر اس وقت میرے اوسان مکمل طور پر خطا ہو گئے جب میں نے دیکھا کہ کوڈی کنگرو کی طرح اپنی پچھلی ٹانگوں پر میرے بستر کی پائنتی کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ اور بول رہا تھا۔ وہ اس طرح غرا رہا تھا جیسے اس کے منہ سے تڑے مڑے الفاظ نکل رہے ہوں۔ اس کی سفید آنکھیں میری آنکھوں میں جھانک رہی تھیں اور وہ انسانی زبان کی نقل کرتے ہوئے بڑ بڑا رہا تھا۔ ’ارٹ، اورکے، بیڈ، کُل ۔ ۔ ۔ ‘۔ دہشت سے میرے جسم کا ریشہ ریشہ کانپ رہا تھا مگر میں نے ہمت کر کے کہا: ’کوڈی ادھر آئو‘۔ اس دوران میں نے بیڈ کے سرہانے رکھا لیمپ جلایا اور دیکھا کہ اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا میرا محبوب کتا کتنی بری طرح لرز رہا تھا اور اس کے منہ سے تھوک کے چھینٹے اڑ رہے تھے۔ میں ابھی خوف سے کانپتے ہوئے اس کی ابلتی ہوئی آنکھ اور لرزتے ہوئے جبڑے کو دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک کوڈی نے مجھ سے کہا: ’نہیں۔ کا کوم ۔ ۔ ۔ ‘ ۔ تھوڑی کوشش کے بعد وہ لفظ کو کسی نہ کسی طرح ادا کرنے میں کام یاب ہو گیا اور ایک گہری غر غراہٹ کے ساتھ اس نے مجھ سے کہا: ’آئووووووو ۔ ۔ ۔‘ اس دوران وہ ایسے ہی کھڑا رہا۔ اس کا بدن سلگ رہا تھا اور اس کا چہری ایک آسیبی مسکراہٹ کے ساتھ بگڑا ہوا تھا۔ اس کے جبڑوں سے فرش پر پیروں سے ذرا آگے رال کی برسات ہو رہی تھی۔ میں نے اچھی طرح محسوس کیا کہ کوڈی مجھ سے بات کرنے یا مجھے محظوظ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا بلکہ واضح طور پر مجھے حکم دے رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے جارج اورویل کی کسی فسانے کا شیطانی کردار اس رات میری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہو۔ اس رات میں کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر کے سوئی، مگر اس سے پہلے میں نے کسی نہ کسی طرح بہلا پھسلا کر کوڈی کو اپنے کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔ اس رات بار بار میری نیند خراب ہوئی کیوں کہ کوڈی باہر سے دروازے کا ہینڈل کھولنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس دوران اس کے منہ سے صاف آواز نکل رہی تھی: ’گوشتتتتتتت ۔ ۔ ۔ ‘ ۔ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ صبح جاگتے ہی کوڈی کو جانوروں کے اسپتال لے کر جانا ہے۔ میں نے اگلے روز کسی نہ کسی طرح بہلا کر کوڈی کو کار میں بیٹھنے پر آمادہ کیا مگر اس بار میں نے اسے پہلے کی طرح کوئی چیز بہلانے کے لیے نہیں دکھائی۔ اس بار میں نے اسے رات کے کھانے میں بچ رہی بھنی ہوئی بوٹی اسے دکھائی اور وہ تیزی سے اس پر جھپٹتے ہوئے کار میں داخل ہو گیا۔ جانوروں کا ڈاکٹر کوڈی کو دیکھتے ہی بری طرح پریشان ہو گیا۔ کوڈی کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ خوف سے اچھل پڑا اور مجھ سے کہا کہ اس کا ’ڈاگ اسکین‘ کرنا ہو گا۔ اگر چہ اس نے اپنی بات پر ہنسنے کی کوشش بھی کی، مگر اس کے لرزتے ہوئے لہجے میں موجود خوف خون سے بھی گاڑھا تھا۔ جب وہ اسکین کی رپورٹ لے کر میرے پاس لوٹا تو پوری جان سے کانپ رہا تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق کوڈی کے دماغ میں ایک نا قابل یقین پھوڑا پرورش پا رہا تھا اور یہ کہ اسے کبھی کوئی اعصابی جھٹکا نہیں لگا تھا۔ انہوں نے کوڈی کا خون چیک کیا مگر اس کے خون کا گروپ اب عام ڈی ای اے سکس کے بجائے ڈی ای اے الیون سے مشابہ کوئی گروپ تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق دنیائے سائنس میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ کبھی بھی نہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسکین سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اس پھوڑے میں چھوٹا دماغ اور ساتھ میں شعور پیدا کرنے والا حصہ بھی موجود ہے جسے دیکھ کر مکمل طور پر ایک بچے کے ننھے سے دماغ کا گمان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نے اس کے بعد مجھ سے جو سوالات کیے انہیں سن کر میری روح تک کانپ اٹھی۔ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے کوڈی پر کوئی تجربات وغیرہ کیے تھے۔ کیا میں نے کبھی اسے چیرا لگایا تھا اور یہ کہ کیا مجھے یقین تھا کہ یہ میرا ہی کتا ہے۔ اس نے کوڈی کے ساتھ پیدا ہونے والے دوسرے کتوں کے بارے میں پوچھا۔ اس نے پوچھا پالتو جانوروں کی وہ دکان کہاں ہے جہاں سے میں اسے لیا تھا۔ اس نے آلودگی اور کسی بھی قسم کے کیمیائی مرکب کے بارے میں سوال کیا اور اس کا آخری سوال یہ تھا کہ کوڈی کسی بھی قسم کی تاب کاری کا تو شکار نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر کے سوالات نے مجھے تفکرات کی دلدل میں دکھیل دیا اور مجھے اپنی تمام امیدیں دم توڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ ڈاکٹر نے مجھے بری طرح خوف زدہ کر دیا تھا۔ مگر جب ہم اس کمرے میں واپس آئے جہاں کوڈی بے ہوشی کی حالت میں لیٹا ہوا تھا تو وہ کمرا خالی تھا اور کوڈی کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔ ۔ ۔ آج مجھے اس چیز کا مکروہ شیطانی چہرہ دیکھے دو دن ہو گئے ہیں جو کبھی میرا محبوب پالتو کتا کوڈی تھا۔ مجھے آج اس بات کے اعتراف میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح وہ میرے کمرے میں اپنی پچھلی دو ٹانگوں پر کھڑا مجھے حکم دے رہا تھا اور جس طرح اس نے اس رات میرے کمرے کے ہینڈل کو باہر سے مروڑتے ہوئے ’گوشتتتتتت ۔ ۔ ۔ ‘ کی آواز لگائی وہ دہشت سے بھی آگے کی کوئی چیز ہے۔ شاید ایک ایسی جہت جہاں عام خوف اور وحشت کے معنی دم توڑ دیتے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جو جہنم کے سوا کہیں اور نہیں ہو سکتی۔ مجھے نہیں پتہ کہ کوڈی اسپتال سے کیوں بھاگ نکلا۔ کیا وہ اس شیطانی ارتقا سے گزر کر کسی نئے آسیب میں ڈھل جائے گا یا اس کے دماغ میں کوئی طفیلی دماغ پرورش پانے لگا ہے جو اس کے جسم پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر یہ کوئی ارتقائی تغیر تھا جو اسے ایک مکروہ شکل کی قیمت پر ذہانت بخش رہا تھا۔ پچھلی رات جب میں اپنے گھر کا کوڑا پھینکنے باہر گئی تو میں نے اس مکروہ آواز کو ایک بار پھر سنا جسے سننے کا میرے سان و گمان میں کوئی شائبہ تک نہیں تھا: ’آئوووووو، گو گو ششششششت ۔ ۔ ۔ ‘ ۔ یہ آواز گھر کے باہر تاریکی میں سے آئی تھی جہاں پڑوسی کے گھر کے باہر باغ میں لگے جنگلے کے پاس ٹھٹھرتے ہوئے چاند کی روشنی میں دو سفید دائرے جہنمی بھوک کی آگ میں جل رہے تھے۔ اس چیز نے جو کبھی میرا محبوب کتا کوڈی تھی اپنا سیاہ بالوں سے بھرا سر پڑوسی کے گھر کی جانب کیا اور اس سے پہلے کہ وہ جنگلے کے پیچھے غائب ہوا میں نے اس کے چہرے پر دہشت انگیز بگڑے ہوئے زاویے دیکھے۔ یہ آج صبح کی بات ہے جب میں نے اپنے پڑوسی کے گھر کے باہر کھڑی ایمبولینس کو دیکھا جو اس کی لاش لینے آئی تھی۔ صرف اس وقت ہی مجھے اندازہ ہوا کہ کوڈی نے گزشتہ رات گوشت کہاں سے کھایا تھا ۔ ۔ ۔ ‘ ۔ مسٹر جارج میرے بہت اچھے شناسا تھے۔

ختم شد