The Hundred Introduction by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | دیباچہ


’والد محترم کی یاد میں جن کی ہمت افزائی اور تحرک کے بغیر یہ کتاب لکھنا ممکن نہیں تھا‘


اظہار تشکر و انتساب

اس کتاب کی تحریر میں ڈاکٹر جے رچرڈ گاٹ نے بے شمار تاریخی شخصیات کی اہمیت کی بابت نہایت پر بصیرت اور ٹھوس رہ نمائی فراہم کی جس کے لیے میں ان کا نہایت شکر گزار ہوں اور اسی طرح میں تہہ دل سے ہیری سن فورتھ اور ڈونالڈ آرچر کا بھی دل سے ممنون ہوں جن کے ساتھ علمی مباحث میرے لیے سنگ میل کا استعارہ ثابت ہوئے۔ اس کتاب کی تشکیل میں والدہ اور بہن کی حوصلہ افزائی اور تعاون کا اعتراف نہ کرنا بھی ایک بڑی نا انصافی ہو گی مگر ان تمام کے ساتھ میں سب سے زیادہ اپنی شریک حیات کی خدمات کا کھلے دل سے معترف ہوں جن کی تحقیق اور تحریر میں بیش قیمت مدد نے اس کتاب کی تکمیل میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا ہے۔


ابتدائیہ برائے ایڈیشن دوم


متعدد احباب کا کہنا ہے کہ جب اس کتاب کی اشاعت کے چار عشروں بعد بھی نہ صرف اس کی مقبولیت روز اول کی طرح برقرار ہے بلکہ دنیا بھر کی دوسری زبانوں میں اس کے تراجم کا سلسلہ بھی جاری ہے تو پھر اس نظرثانی شدہ ایڈیشن کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا ایک سادہ سا جواب یہ ہے کہ 1978 میں کتاب کے پہلے ایڈیشن کی اشاعت کے بعد بھی تاریخ کا سفر ہنوز جاری ہے اور ساتھ ہی اس وقت سے لے کر تاحال بے شمار ایسے نئے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کی توقع تک نہیں تھی اور اس کے ساتھ ساتھ متعدد نئی تاریخی شخصیات کے نام بھی قرطاس عالم پر رقم ہو چکے ہیں۔ اس لیے میں بلاخوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ اگر گزشتہ 12 سالوں کی بابت میری معلومات مکمل طور پر بھی درست ہوتیں تب بھی اس کتاب کو ایک نظرثانی شدہ ایڈیشن کی ضرورت تھی کیوں کہ بقول شخصے ‘ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں’ اور اس عرصے میں دنیا کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہے۔ 1978 میں اس کتاب کی تحریر کے وقت تاریخ عالم کی بابت میری معلومات ہرگز اتنی نہیں تھیں جتنی آج ہیں کیوں کہ نہ صرف میرے انتھک مطالعے نے میری محدود معلومات میں گراں قدر اضافہ کیا ہے بلکہ ساتھ ہی تمام دنیا میں اس کتاب کو ناقابل یقین علمی پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس دوران قارئین کے جانب سے وصول ہونے والے بے شمار خطوط میں متعدد ایسے تاریخی حقائق کی نشان دہی کی گئی جو میری نظروں سے اوجھل تھے یا پھر پڑھنے والوں نے ان پہلوؤں کو بیان کرنے کے ایسے مثبت انداز بتائے جن سے میں ناواقف تھا۔ اس تمام عرصے میں میں نے بے شمار ریڈیو پروگراموں میں بھی شرکت کی اور وہاں قارئین اور ناقدین کی بذریعہ فون ملنے والی رائے نے بھی مجھ پر معلومات کے نئے در وا کیے۔ نئے ایڈیشن کی اشاعت کا ایک اور سبب پہلے ایڈیشن میں موجود خامیوں کو دور کرنا بھی تھا۔ ‘دی ہنڈریڈ’ کی تیاری میں مجھے سب سے زیادہ دلچسپ دشواری سیاسی رہنماؤں کی باہمی اہمیت کے بارے میں فیصلہ کرنے میں پیش آئی کیوں کہ عوام و خواص دونوں ہی ریاستی قائدین کی اہمیت کو بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی عادتِ بد کا شکار ہیں۔ ہماری نظر ایسے لوگوں کا قدوقامت اور خدوخال حقیت سے زیادہ بلند دیکھنے اور محسوس کرنے کی عادی ہو چکی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ محض چند صدیوں پہلے کے دور کے سیاسی قائدین جن کی اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے اتنی ہی زیادہ اہمیت تھی آج کم و بیش قصہ پارینہ بن چکے ہیں اس لیے میری رائے میں ایک انتہائی قدیم لیڈر کی اہمیت کا جائزہ لینا نسبتاً آسان ہے کیوں کہ اُس کا ماضی، حال اور مسقتبل اپنے تمام تر اثرات کے ساتھ ہمارے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور چوں کہ ہم آج بالکل درست طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کے اچھے یا برے اقدامات نے دنیا پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کیے اس لیے اس ثابت شدہ معلومات کی روشنی میں ان میں سے کسی کی بھی شخصیت کے بارے میں حتمی اور قطعی رائے قائم کی جا سکتی ہے مگر اس کے برعکس کسی بھی ہم عصر سیاسی رہ نما کی شخصیت کے بارے میں کچھ بھی کہنا بلاشبہ جوئے شیر نکالنے سے کم نہیں۔ یہاں اہمیت اس بات کی نہیں کہ فی الوقت ایک سیاسی رہ نما اپنی ذات میں کتنا انقلاب پرورر یا اثر انگیز دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اس بات کا تعین کرنا نا ممکن ہے کہ اس کی شخصیب کے اثرات مستقبل میں کب تک برقرار رہیں گے۔ اس دلیل کا ایک ثبوت دی ہنڈریڈ کے پہلے ایڈیشن میں ماؤزے تنگ کو بیسویں درجے پر رکھنا تھا کیوں یہ کتاب ماؤزے کی موت کے فوراً بعد لکھی گئی تھی اور اس زمانے میں اس کے انقلابی اقدامات اذہان میں زندہ تھے۔ اگرچہ اس وقت بھی میرا ماننا یہ ہی تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ماؤ کی اہمیت کم سے کم ہوتی چلی جائے گی مگر مجھے یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ وقت اس انقلابی شخصیت کے نقوش کو اتنی تیزی سے ماضی کے دھندلکوں میں گم کر دے گا کیوں کہ ماؤ کی آنکھ بند ہوتے ہی محض چند سالوں کے اندر اندر اس کے جانشین (ڈینگ زیائو پنگ) نے ماؤ کے ان انقلابی اقدامات تک میں یکسر ردوبدل کر دیا جنہیں عوامی قبولیت کی سند حاصل تھی۔ فی الوقت ایسا لگتا ہے گویا ڈینگ ماؤ کے پروگرام میں اول سے آخر تک منفی تبدیلیاں لا رہا ہے اس لیے اس امر کے باوجود کہ ماؤ کی اہمیت کافی عرصے تک برقرار رہی مجھے بلآخر تسلیم کرنا پڑا کہ پہلے ایڈیشن میں اُسے حد سے زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ مگر اس حقیقت کے باوجود نئے ایڈیشن کا مقصد اس میں مندرج کسی بھی شخصیت کے درجے کو کم یا زیادہ کرنا نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ عشرے میں ماؤ کے کردار میں زوال پذیری کے علاوہ دنیا میں اور بھی دیگر اہم ترین واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ دی ہنڈریڈ کے پہلے ایڈیشن کی تیاری کے وقت اشتراکی تحریک جو میرے لیے کسی عفریت سے کم نہیں تھی متعدد ممالک میں اپنا بے رحم اقتدار قائم کر چکی تھی اور جس مہارت اور سفاکی سے اس عفریت نے اقتدار کی شہ رگ میں اپنے پنجے اتارے تھے اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ مسقتبل قریب تو ایک طرف مسقبل بعید میں کئی صدیوں بعد تک بھی اس کے اثرات کا خاتمہ ممکن ہے اور بلاخوف تردید کہا جا رہا تھا کہ یہ اشتراکی تحریک ان مغربی ممالک کو بھی اپنے زیرنگیں کر لے گی جو انسانی اقداروں سے بہرہ ور ہونے کے با وجود تنظیمی عدم پختگی سے دوچار ہیں۔ اور اگر ایسا ہی ہوا ہوتا تو ہمیں ماننا پڑتا کہ اشراکی نظام کے بانی افراد جیسے مارکس، لینن یا اسٹالن وغیرہ سب سے زیادہ متاثر کن شخصیات ہیں مگر گزشتہ پانچ سالوں میں سب نے دیکھ لیا کہ کمیونسٹ نظام کی دھمکی گیدڑ بھپکی کے سوا کچھ اور نہیں تھی اور اس جڑیں زمین کی گہرائیوں میں نہیں بلکہ محض سطح پر پھیلی ہوئی تھیں جن سے خوفزدہ ہونا اپنے ہی سائے سے خوف کھانے کے مترادف تھا۔ بے شک اشتراکیت کا زوال گزشتہ دس سالوں میں سب سے اہم تاریخی موڑ ہے۔ آج سوویت یونین مشرقی یورپ میں قصہ پارینہ ہو چکا ہے اور وہاں آزاد ہونے والی ریاستوں نے اس بدترین نظام کو کلی طور پر دیس نکالا دے دیا ہے۔ اسی طرح ایتھوپیا اور منگولیا جیسے متعدد دیگر ممالک نے بھی جو کبھی سوویت یونین کے زیر دست تھے کمیونزم کے ہاتھوں سے اپنا دامن چھڑا لیا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پندرہ آزاد جمہوری ریاستیں اس کی جگہ لی چکی ہیں جن میں سے کوئی بھی اب مارکس اور لینن کے نظام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ اگرچہ ابھی بھی دنیا میں کچھ اشتراکی ملک قائم ہیں جیسے ویت نام، نارتھ کوریا، کیوبا، لائوس اور چین وغیرہ مگر ان میں سے کسی کی بھی معاشی و دفاعی حالت مضبوط و مستحکم نہیں۔ گو کہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ آج بھی ایک ارب سے زیادہ انسان اشتراکی نظام کی ظالمانہ چھری تلے سسک رہے ہیں اور کم از کم نظریاتی سطح پر مارکسزم کے مردے میں دوبارہ جان پڑنے کا امکان بھی موجود ہے مگر آج سے دس یا بیس سال بعد دنیا میں ایک بھی اشتراکی ریاست کا موجود نہ رہنا اب کوئی خواب و خیال کی بات نہیں۔ اس طرح آج وقت نے ثابت کر دکھایا کہ میرے اندازوں کے برعکس اشتراکی نظام کی ہرگز اتنی اہمیت نہیں تھی بلکہ بے شمار عملی طور پر کمیونزم مخالف شخصیات اس نظام سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے زیادہ اہمیت کی حامل تھیں جیسے تھامس جیفرنس یا ایڈم اسمتھ وغیرہ جنہیں میں ابتدائی ایڈیشن کی تیاری کے وقت نسبتاً بہت کم اہمیت کا حامل باور کر رہا تھا۔ علاوہ ازیں ایک دیگر ضروری بات یہ بھی سمجھی گئی کہ دی ہنڈرڈ کی فہرست میں ایک اور نام بھی شامل کیا جائے۔ 1985-1995 کے سیاسی و عسکری طور پر ابتر سالوں میں میخائیل گوربا چوف سوویت یونین کے صدر تھے۔ اس دوران نہایت حساس مواقع پر گورباچیف کے اقدامات نہ کرنے کے فیصلوں سمیت ان کے عملی اقدامات اور پالیسیوں نے سرد جنگ کے اختتام، اشتراکی نظام کے زوال اور سوویت یونین کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا چناں چہ ان کی زیر قیادت رونما ہوئے واقعات کی گراں قدر اہمیت کو دیکھتے ہوئے گورباچوف کا نام نئے ایڈیشن میں پچانوے نمبر پر شامل کیا گیا ہے جو کہ فہرست میں ماضی کے متعدد معروف سیاسی رہ نمائوں سے اوپر مگر لینن سے بہت نیچے ہے۔ ایک اور امکانی طور پر متنازعہ اضافہ اسٹریٹفورڈ اون ایوون سے تعلق رکھنے والے قلم نگار شیکسپیئر کے بجائے ایڈورڈ ڈی ویر کی ’اصل ولیم شیکسپیئر‘ کے طور پر شمولیت ہے۔ چوں کہ زیادہ تر ’راسخ العقیدہ‘ نصابی کتابوں میں شیکسپیئر ہی کو اصل مصنف کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اس لیے اس تبدیلی کا فیصلہ نہایت ہچکچاہٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا اعتراف ہے کہ میں نے اولین ایڈیشن میں ایک بڑی غلطی کی اور حقائق کا کلی طور پر جائزہ لیے بغیر محض ’بھیڑ چال‘ میں ‘شیکسپیئر’ ہی کو اس کے نام سے معروف ڈراموں کے مصنف کے طور پر قبول کر لیا۔ مگر آج تمام تر مخالف و موافق دلائل کو نہایت احتیاط سے جانچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مضبوط ترین شواہد شیکسپئر کے خلاف اور ایڈورڈ ڈی ویر کے حق میں ہیں۔ مقام افسوس کہ موجودہ ایڈیشن میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان تمام دلائل کو سمیٹا جا سکے کہ ایڈورڈ ڈی ویر نہ کہ شیکسپیئر اصل ڈرامہ نویس تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اس مضمون میں پیش کردہ حقائق زیادہ تر قارئین کے لیے اطمیان بخش ثابت ہوں گے پھر بھی مگر طویل اور مفصل بحث میں دلچسپی رکھنے والے شائقین چارلٹن اوگبرن کی بے مثال کتاب ‘پراسرار  ولیم شیکسپیئر’ سے استفادہ کر سکتے ہیں جو اس رنگارنگ موضوع پر حتمی رائے کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی طرح نظر ثانی شدہ ایڈیشن میں گوربا چوف کے علاوہ ارنسٹ ردرفورڈ اور ہینری فورڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ردرفورڈ بیسویں صدی میں صف اول کا مقبول ترین سائنس دان ہے اور مجھے حیرت ہے کہ میں نے کتاب کے پہلے ایڈیشن میں اس نام کو کس طرح نظر انداز کر دیا اور مجھے اپنی اس غلطی کا ادراک اس وقت ہوا جب متعدد سائنسی حلقوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا۔ چناں چہ ردر فورڈ کی سائنسی کام یابیوں کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جدید ایٹمی تھیوری کی تشکیل میں اس کا کردار اولین ایڈیشن میں سوویں درجے پر رکھے جانے والے نائلز بولر سے کہیں زیادہ ہے جب کہ تاب کاری کی وضاحت میں اس کی اہمیت اولین ایڈیشن میں اٹھاونوے درجے پر رکھے گئے بیکیوریل سے بھی بہت آگے ہے۔ ہنری فورڈ کا پہلے ایڈیشن میں ’اعزازی تذکرہ‘ کیا گیا تھا تاہم قارئین کی بڑی تعداد کے مطابق میں نے اس کی اہمیت کم دکھائی تھی اور اس ضمن میں انہوں مضبوط ترین دلائل بھی پیش کیے کہ ہر صورت میں ہنری فورڈ کا نام ابتدائی ایڈیشن میں ہونا چاہیے تھا۔ اس بات کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ناقدین کی رائے موثر تھی اور اب نئے ایڈیشن میں ضروری تبدیلی کر دی گئی ہے۔ مگر یہ غلط فہمی خارج از امکان ہونی چاہیے کہ نئے ایڈیشن کی ترتیب صرف عوامی رائے کا نتیجہ ہے کیوں کہ میں نے ہنری فورڈ کی شمولیت کا فیصلہ صرف تنقیدی خطوط کی تعداد دیکھنے کے بعد نہیں کیا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں کہ مجھے اس سے زیادہ تقیدی خطوط دیگر موضوعات کے بارے میں وصول ہوئے مگر بات یہ تھی کہ ہنری فورڈ کے بارے میں لکھے گئے خطوط نہایت مضبوط اور عقلی دلائل پر مبنی تھے جن سے انکار علم دوستی کے شایان شان نہیں تھا۔ مگر میں پھر بھی کہوں گا کہ دی ہنڈریڈ کی فہرست قارئین یا ماہرین کی رائے شماری پر نہیں بلکہ قطعاً میری رائے کے مطابق کی گئی ہے۔ چوں کہ گوربا چوف، ردر فورڈ اور ہنری فورڈ کی نئے ایڈیشن میں شمولیت کے لیے لازمی تھا کہ تین شخصیات کو اولین فہرست سے خارج کیا جائے اس لیے اینٹائین ہینری بیکوئیرل، نائلز بوہر، اور پابالو پکاسو کو میں نے اس ایڈیشن میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان کی اہمیت کو اب کم باور کرتا ہوں کیوں کہ حقیقت یہ ہی ہے کہ ان تمام کی اہمیت ایک طرف تو اس کتاب میں اعزازی طور پر مندرج دیگر شخصیات ہی کی طرح گراں قدر ہے اور دوسری طرف یہ لوگ ان ہی تمام مرد و خواتین کی طرح اہل اور متاثر کن افراد ہیں جن کا تذکرہ کرنے کے لیے کتاب میں گنجائش نہیں رہی تھی اور میں تہہ دل سے مانتا ہوں کہ اس خوب صورت دنیا کی ترقی و حسن میں ان کا کردار کسی بھی طور کسی دوسرے سے کم نہیں۔


‘تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ علم و فکر کی نشانیاں انسانی ہاتھوں سے طاقت کے بل پر تعمیر کرائی گئی یادگاروں سے کہیں پائدار ہوتی ہیں۔ گزشتہ ڈھائی ہزار سالوں میں بے شمار محل، عبادت گاہیں، قلعے اور شہر کے شہر وقت کی گرد میں اپنا نام و نشان کھو چکے ہیں مگر کیا آج بھی ہومر کی شاعری ایک بھی لفظ یا تلفظ سے محروم ہوئے بغیر جوں کی توں زندہ نہیں ۔ ۔ ۔ ؟

فرانسس بیکن| دی ایڈوانسمنٹ آف لرننگ| 1605


’لیٹرز آن دی انگلش‘ میں والٹائر لکھتا ہے کہ 1726 میں لندن میں قیام کے دوران اس نے کچھ اہل علم کو اس بارے میں بحث  کرتے دیکھا کہ دنیا میں سب سے پر اثر شخصیت کس کی ہے اور وہ اس تناظر میں  قیصر روم، سکندر اعظم، تیمور لنگ یا کروم ویل کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ایک شخص کا کہنا تھا کہ سر آئزک نیوٹن کو دنیا کا عظیم ترین فرد کہا جا سکتا ہے جس سے کسی کو اختلاف نہیں ہو گا۔ والٹائر نے اس شخص کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ ہمیں دل سے ہر اس شخصیت کا احترام کرنا چاہیے جس نے ہمارے اذہان پر طاقت کے بل نہیں بلکہ سچ کے بوتے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کے والٹائر کی نیوٹن کے بارے میں ذاتی رائے کیا تھی یا اس کا طرز استدلال فلسفیانہ تھا بہرحال اس تمام بحث سے ایک اہم سوال سامنے آیا کہ ان اربوں کروڑوں لوگوں میں سے جو اس کرہ ارض پر زندگی گزارے چکے ہیں کس کی شخصیت کے نقوش تاریخ کے دھارے پر انمٹ اور سب سے زیادہ متاثر کن ہیں۔ دی ہنڈریڈ اسی اہم ترین سوال کا جواب پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ میری یہ کتاب ان ایک سو تاریخی شخصیات کی درجہ وار فہرست ہے جن کی بابت میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے تاریخ کے صفحے پر کبھی نہ مٹنے والے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہاں میں پھر واضح کر دوں کہ یہ کتاب تاریخ عالم کے ‘عظیم ترین’ افراد کی نہیں بلکہ محض ‘پراثر ترین شخصیات’ کی ایک درجہ وار فہرست ہے۔ مثال کے طور پر دی ہنڈریڈ میں اسٹالن جیسے انتہائی سفاک اور عیار آدمی کا تذکرہ بھی موجود ہے جب کہ اسی کتاب میں درویشانہ مزاج کی حامل مدر کیبرینی کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اور اس بات کی صرف ایک وجہ ہے کہ یہاں صرف اس سوال پر محوری بحث کی گئی ہے کہ وہ کون سے سو افراد ہیں جن کے اثرات تاریخ کے دھارے یا نظام عالم سے کسی طور مٹائے نہیں جا سکتے چناں چہ اس کتاب میں ایسے افراد کی درجہ بندی ان کی اہمیت کے لحاظ سے کی گئی ہے اور اس سلسلے میں اس مجموعی اثر کو بطور پیمانہ لیا گیا ہے جس کی جھلک تاریخ عالم کے پردے اور عام انسانوں کی روز مرہ کی زندگی پر آج بھی تمام کروفر کے ساتھ نمایاں ہے چناں چہ ان منفرد ترین افراد کا تذکرہ کسی بھی طور دلچسپی سے خالی نہیں ہو سکتا خواہ وہ عظیم ہوں یا قابل ملامت، مشہور ہوں یا گمنام اور اسی طرح منکسرالمزاج ہوں یا آتش مزاج فطرت کے غلام کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک نئے سرے سے ترتیب بخشنے کے بعد ہماری زنگیوں کی ہیئت کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر کے رکھ دیا مگر اس طرح کی فہرست کو ترتیب دینے سے قبل لازمی تھا کہ ان قواعد کا تعین کیا جائے جن کے تحت اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سی شخصیت کس بنیاد پر دی ہنڈریڈ میں شمولیت کی اہل ہے۔ چناں چہ اس سلسلے میں پہلا اصول یہ ہے کہ یہاں انداراج افسانوی نہیں بلکہ حقیقی شخصیات ہی کا ہو گا مگر اس اصول کا اطلاق اتنا آسان نہیں کیوں کہ مثال کے طور پر اس بات کا فیصلہ کرنا کہ چینی مفکر لاؤتسو کیا محض ایک افسانوی کردار ہے یا وہ واقعی وجود رکھتا تھا لوہے کے چنے چبانے سے کم نہیں۔ اسی طرح ہومر کے بارے میں کیا کہا جائے اور معروف ’حکایات لقان‘ کے فرضی منصف ایسپ کی بابت کیا فیصلہ کیا جائے؟ چناں چہ اس صورت میں جہاں آج حقیقت کی تصدیق کسی طور ممکن نہیں وہاں میں نے محض علمی اندازوں سے کام لیتے ہوئے فی زمانہ موجود معلومات پر ہی اکتفا کیا ہے تاہم میں نے مکمل طور پر گمنام افراد کو نظر انداز کرنا مناسب سمجھا ہے۔ چناں اگر فی الواقع پہیہ کسی فرد واحد ہی کی ایجاد ہے تو بے شک وہ شخص جو اس عظیم ترین ایجاد کا موجد ہے تاریخ کا سب سے زیادہ پراثر انسان قرار دیا جا سکتا ہے مگر میرے طے کردہ اصول کے مطابق پہیے کے فرضی موجد اور اسی طرح فن تحریر کے ایجاد کرنے والے شخص کے نام کو اس فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے اور اسی ذیل میں ان تمام گمنام موجدوں کا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا جن کی ایجادات نے نسل انسانی کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اسی طرح دی ہنڈریڈ میں آپ کو تاریخ کی محض انتہائی مشہور یا باعزت ترین شخصیات کا انتخاب بھی نہیں ملے گا کیوں کہ کسی فرد کا نام و نشان، لیاقت اور کردار کی بلندی ایک الگ چیز ہے جب کہ اثر آفرینی اس شخصیت کا ایک دیگر پہلو ہے۔ چناں چہ بنجمن فرنکلن، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، بیب رتھ اور حتی کہ لیونارڈ ڈیوانچی کو بھی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے مگر ان میں سے کچھ کا اس کتاب کے آخر میں اعزازی طور پر تذکرہ مل جائے گا۔ علاوہ ازیں کسی فرد کی اثر پذیری چوں گہ ہمیشہ رحم پرور نہیں ہوتی ہے اس لیے یہاں آپ کو تاریخ کے سفاک ترین ذہین شخص ہٹلر کا تذکرہ میرے درج بالا طے کر دہ اصول کے تحت ملے گا۔ ہمیں اس کتاب میں تذکرے کے لیے اثر آفرینی کا ایک اوسط متعین کرنا ہے اس لیے اس کتاب میں ایسے متعدد غیر معمولی سیاسی افراد کا تذکرہ بھی نہیں کیا جا رہا جن کے اثرات کسی مخصوص علاقائی دائرے سے باہر نہیں نکل سکے مگر پھر بھی خیال رہے کہ کسی فرد واحد کی کسی ایک ملک پر نہایت گہری اثر آفرینی دیگر دنیا پر کم گہرے انداز میں اثر ڈالنے کے مترادف ہوتی ہے اس لیے روس کے پیٹر اعظم کا اس کتاب میں تذکرہ کیا گیا ہے گو کہ اس کا اثر صرف اس کے اپنے ملک تک ہی محدود مگر شدید تر ہے۔ میں نے اس کتاب میں ماضی کی پراثر ترین شخصیات کا تذکرہ بھی یکساں طور پر کیا ہے اور اپنے انتخاب کو محض ان لوگوں تک محدود نہیں رکھا جن کے اثرات صرف موجودہ دور کے انسانوں تک ہی محیط ہیں مگر یہاں ایک اور سوال اٹھ رہا ہے کہ مستقبل کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ اس تناظر میں دی ہنڈریڈ میں شخصیات کی درجہ بندی کرتے وقت میں نے اس بات پر غوروفکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ان کی کامیابیاں مستقبل کے انسانوں اور اس دور کے حالات پر کتنا گہرا اثر مرتب کر سکتی ہیں۔ چوں کہ ہمیں مسقبل کا علم نہیں یا بہت محدود ہے اس لیے علمی طور پر میں ایسی کسی بھی چیز کے بارے میں آخری فیصلہ کرنے سے عاجز ہوں جو فی الوقت اپنا وجود نہیں رکھتی؛ مگر یہ پیش گوئی درستگی کے ساتھ کی جا سکتی ہے کہ بجلی آج سے پانچ سو سال بعد بھی اتنی ہی اہم ہو گی جتنی کارگر آج ہے۔ اسی طرح میکس ویل اور فیراڈے جیسے اہل علم کی کاوشوں کے اثرات ناقابل تعین مسقبل بعید تک بھی انسانوں کے لیے اپنی افادیت نہیں کھو پائیں گے۔ اس بات کا فیصلہ کرتے وقت کہ کسی مخصوص شخص کو فہرست میں کس مقام پر رکھا جائے میں نے بنیادی طور پر ایسے فرد کی تاریخی تحریک اور اس میں اس کی محوری حیثیت کو مدنظر رکھا ہے۔ عام فہم سی بات ہے کہ کہ تاریخ کے عظیم تر واقعات کبھی بھی کسی فرد واحد کی کوششوں کا نتیجہ نہیں تھے اور گو کہ اس کتاب کا مقصد کسی فرد واحد کے ذاتی اثر و رسوخ پر روشنی ڈالنا ہے اس لیے میں نے کسی بھی اہم ترین واقعے کا شہرا ہر شریک کار کی جداگانہ جدوجہد کی ذیل میں بہرحال تحریک کے قائد ہی کے سر دینے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی افراد کی اس طرح درجہ بندی ممکن نہیں جس طرح ان واقعات یا تحریکوں کو درجہ وار رکھا جاتا ہے جس سے یہ لوگ منسلک رہے ہوتے ہیں۔ ہر اس شخص کو جو کسی اہم تحریک یا واقعے کا بڑی حد تک ذمے دار ہے اسے اس فہرست میں اس شخص کی نسبت زیادہ اوپر جگہ دی گئی ہے جس کا کردار نسبتاً کسی تحریک میں کم درجے کا ہے۔ مثال کے طور پر میں نے دی ہنڈریڈ میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کو حضرت عیسیؑ سے اوپر جگہ دی ہے کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ دین اسلام کی تشکیل میں حضرت محمدؐ کا ذاتی کردار عیسائیت کو تشکیل دینے میں حضرت عیسیؑ کے کردار سے بہت زیادہ ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں حضرت عیسیؑ کو حضرت محمدؐ سے کم درجے کا باور کرتا ہوں۔ تاریخ میں بے شمار تحریکیں ایسی ہیں جن کی کامیابی میں فرد واحد ہی نے نہیں بلکہ بے شمار دوسرے افراد نے بھی محوری کردار ادا کیا ہے مگر ان میں کوئی بھی فرد واحد ایسا نہیں جس کا کردار دیگر سے زیادہ عظیم ہو اور اس ضمن میں بہترین مثال گولا بارود اور آتشیں ہتھیاروں کا استعمال ہے۔ تحریک آزادی نسواں اس سلسلے میں ایک اور مثال ہے جب کہ ہندو مت کی ابتدا اور بتدریج پھیلائو کو اس کی تیسری مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ یہ تمام تر واقعات اپنی اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں مگر ان کا سہرا اگر متعدد افراد کے سر دیا جائے تو اس طرح کوئی بھی فرد واحد دی ہنڈریڈ میں شامل نہیں ہو سکے گا۔ تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا ان تمام واقعات کا سہرا کسی قائدانہ شخصیت کے سر باندھتے ہوئے اس کا اس کتاب میں کوئی درجہ مقرر کیا جائے؟ نہیں ایسا ممکن نہیں کیوں کہ اس صورت میں مشہور ہندو فلسفی شنکر کو ہندو مذہب کی نمائندہ شخصیت کے بطور اس کتاب میں اوپر کے درجوں میں رکھنا پڑے گا مگر دوسری طرف حقیقت حال یہ ہے کہ شنکر سے بھارت سے باہر معدودے چند لوگ ہی واقف ہیں اور اس کے کردار کی اثر پذیری کسی بھی درجے سے خارج یعنی نہ ہونے کے برابر ہے۔ چناں چہ مشین گن کے پہلے موجد رچرڈ گاٹلنگ کو محض اس بنیاد پر البرٹ آئن اسٹائن سے اوپر درجہ نہیں دیا جا سکتا کہ آتشیں ہتھیاروں کی ترقی نظریہ اضافیت کی تشکیل سے زیادہ اہم ہے۔ ان تمام صورتوں میں مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ میں یکساں اہمیت کے حامل افراد میں سے کسی اولین کا انتخاب کرنے کی حکمت عملی سے دور رہوں کیوں کہ دی ہنڈریڈ میں شامل ہر فرد کو اس کی اثر آفرینی کے لحاظ سے منتخب کیا گیا ہے نہ کہ کسی تحریک یا واقعے کے نمائندے کے بطور؛ تاہم ایسے واقعات جہاں دو افراد نے کسی اہم کامیابی میں تقریباً برابر کا کردار ادا کیا ہے وہاں ایک الگ اصول اختیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر جہاز کی ایجاد میں رائٹ برادرز کو ایک دوسرے سے کسی بھی طور ممیز نہیں کیا جا سکتا۔ چوں کہ ہم علمی طور پر اس قابل نہیں کہ اس عظیم ایجاد کی تیاری میں ان دونوں کے کردار کو ناپ سکیں اور یہاں میرے طے کردہ اصول کا کسی بھی صورت میں اطلاق ممکن نہیں اس لیے ان دونوں بھائیوں کو دی ہنڈریڈ میں ایک ساتھ ہی جگہ دی گئی ہے۔  کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کا تذکرہ بھی رائٹ برادرز کی طرح ایک ہی جگہ کیا گیا ہے تا ہم اس مضمون کا عنوان مارکس کے نام پر ہے کیوں کہ میری نظر میں مارکس نسبتاً زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ علاوہ ازیں مشترکہ طور پر کچھ اور کارنامے انجام دینے والے لوگوں کا تذکرہ کرتے وقت بھی اسی انداز کو اختیار کیا گیا ہے۔ میں یہاں واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مشترکہ تذکرے کا اصول کسی بھی مشترکہ شعبے میں مصروف کار تمام افراد پر نہیں ہو گا اور صرف ان لوگوں کا انتخاب عمل میں آئے گا جن کا کردار اور کام اتنا یکساں ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنا کار محال سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ اس فہرست کی ترتیب میں ایک اور اصول کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔ ماضی پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر مارکونی نے ریڈیو ایجاد نہیں کیا ہوتا تب بھی چند سالوں بعد کسی نہ کسی دوسرے شخص نے بالضرور ایسا کر لینا تھا۔ اسی طرح خواہ تاریخ نے ہرناٹو کورٹیز کو جنم دیا ہوتا یا نہیں مگر اسپین نے بہرحال میکسیکو کو دیر یا بدیر فتح کرنا ہی تھا جب کہ نظریہ ارتقا چارلس ڈارون کے علاوہ بھی پیش کیا جا سکتا تھا مگر چوں کہ آج ان کامیابوں کا کریڈٹ مارکونی، کورٹیز اور ڈارون کے سر ہی جاتا ہے اس لیے اس کتاب میں ان تمام کا تذکرہ ان کی اثر پذیری کی اہمیت کے تناظر میں کیا گیا ہے اور اس نکتے سے علمی طور پر انحراف کیا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں ہوتے تب بھی بالضرور ایسا ہونا ہی تھا؛ تاہم دوسری طرف ایسا بھی ہے کہ اگر کچھ خاص لوگ نہیں ہوتے تو جو کام ان لوگوں نے کیا وہ کوئی دوسرا کبھی بھی نہیں کر سکتا تھا جیسے ایک دائرے میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کا کارنامہ یا پھر دوسرے دائرے میں چنگیز خان، بیتھوین اور ولیم فاتح وغیرہ کی دنیاوی کامیابیاں۔ دی ہنڈریڈ میں ان لوگوں کے مخصوص کارناموں کو زیادہ اہمیت کی نظر سے دیکھا گیا ہے کیوں کہ ان لوگوں کے انفرادی طو پر اثر انداز ہونے کی دیگر کوئی مثال موجود نہیں۔ قارئین کے علم میں ہو گا کہ زمین پر بسنے والے اربوں کھربوں لوگوں کی ایک ملین تعداد میں سے ایک سے بھی کم کا انتخاب کرنے کے بعد ایک عظیم سوانحی لغت کو ترتیب دیا گیا ہے جس میں بیس ہزار افراد کے محض ایک فی صد کا نصف حصہ اس لغت میں شامل ہے جن کی کامیابیوں کے باعث انہیں اس کتاب کے لیے چنا گیا ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس کا دی ہنڈریڈ میں ذکر کیا گیا ہے ایک بڑی تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ انسانی معاشرت پر خواتین کے اثرات اور وہ کردار جو اس صنف نے انسانی تہذیب کے ارتقا میں ادا کیا ہے وہ اس کتاب میں محض ان کے نام درج کرنے سے کہیں زیادہ عظیم ہے مگر ظاہر ہے کہ پراثر افراد کی البم ان افراد کے تذکرے سے ہی وجود میں آئے گی جن کے پاس دنیا کے سمندر میں بلند ترین موجیں اٹھانے کی اہلیت اور مواقع دونوں موجود تھے۔ چوں کہ دنیا کی تاریخ میں عورتوں کو ایسے مواقع کم ہی نصیب ہوئے ہیں اس لیے اس کتاب میں صرف دو خواتین کا تذکرہ دراصل اس حقیقت کے افسوسناک علمی اعتراف سے کم نہیں۔ دی ہنڈریڈ میں صرف دو عورتوں کے علامتی تذکرے سے میں نے اس الم ناک امیتازی حقیقت کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے کیوں کہ اس کتاب کی بنیاد اس طرز فکر پر ہے کہ ماضی میں دراصل ہوا کیا نہ کہ یہ سوچ کہ اگر تہذیبی اداروں نے مرد و خواتین کی مساوات کو روز اول سے ہی ایک فطری حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہوتا تو اس صورت میں کیا ہوا ہوتا یا کیا ہونا چاہیے تھا۔ بے شمار علاقائی اور نسلی گروہوں کی بابت قلم اٹھاتے وقت اس حقیقت کو ہر صورت میں مد نظر رکھا گیا ہے کہ ان گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے پاس ماضی میں کبھی بھی کچھ نہیں رہا۔ میں ایک بار پھر زور دے کر کہتا ہوں کہ دی ہنڈریڈ کی درجہ بندی کی بنیاد صرف اور صرف افراد کی اثر پذیری پر رکھی گئی ہے تاہم کردار، ہمہ گیریت، عزت و توقیر اور شہرت و نام کی بنیاد پر بھی غیر معمولی شخصیات کی درجہ بندی کے لیے کوئی کتاب تحریر کرنا امکان کے دائرے سے باہر نہیں۔ لوگ چاہیں تو اپنے طور ایسی کوئی کتاب لکھنے کا تجربہ کر سکتے ہیں جس میں پراثر افراد سے لے کر غیر معمولی ترین لوگوں تک کا تذکرہ ہو یا پھر کسی مخصوص میدان کے شہسواروں کا بیان کیا جائے۔ میری نظر میں دی ہنڈریڈ ہر لحاظ سے مسحور کن اور دلآویز کوشش ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسی طرح کی کتابیں تحریر کرنے کے تجربے سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور یہاں کوئی ایسا اصول نہیں کہ آپ کی طے کردہ فہرست میری طے کردہ فہرست ہی کی طرح ہو۔ چناں چہ قارئین دنیا کے سو طاقت ور ترین افراد یا سو کرشماتی شخصیتوں والے لوگوں کی فہرست بنا سکتے ہیں تاہم اگر آپ بھی سو متاثر کن افراد کی فہرست بنانے کے لیے دی ہنڈریڈ ہی کی طرح ایک اورکتاب لکھنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کی یہ جدوجہد آپ کی نظروں کے سامنے اسی طرح تاریخ کی ایک نئی جہت سے پردہ اٹھائے گی جس طرح میری کوششوں نے مجھے عہد رفتہ کو ایک نئے دریچے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔