The Moses (PBUH) | Michael Hart | Urdu | The 100

دی ہنڈریڈ | پندرھواں باب | حضرت موسٰیؑ

تاریخ میں کسی دوسرے شخص کو وہ توصیف و پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو عظیم عبرانی پیغمبر حضرت موسٰیؑ کے حصے میں آئی اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کا عزت و احترام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔

قیاس ہے کہ موسٰیؑ کا زمانہ 13 صدی قبل مسیح کا ہے جب عام طور پر باور کیا جاتا ہے کہ مصر میں رعمسیس دوم کی حکومت تھی۔ رعمسیس خروج کی داستان کا فرعون ہے جس کی موت 1237 ق م میں ہوئی۔ موسٰیؑ کے زمانہ حیات میں جیسا کہ کتاب خروج میں واضح طور پر درج ہے عبرانیوں کی کثیر تعداد رعمسیس دوم کے اقدامات سے شدید نالاں تھی تاہم محض پانچ صدیوں کے اندر موسٰیؑ نے تمام یہودی افراد کے دلوں میں جگہ بنالی۔ 500ء تک یورپ میں موسٰیؑ کی شہرت اور عزت میں عیسائیت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا اور ایک صدی بعد جب مسلمانوں نے موسٰیؑ کی ایک سچے پیغمبر کی طور پر تصدیق کی تو بشمول مصر کے جہاں جہاں اسلام پھیلا وہاں موسٰیؑ ایک محترم شخصیت کے روپ میں جانے گئے۔ آج اپنی وفات کے 32 سو سالوں کے بعد بھی یہودی، عیسائی اور مسلمان ان کا یکساں احترام کرتے ہیں بلکہ متعدد مادہ پرست بھی انہیں عزت کی نظر ہی سے دیکھتے ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت آج دنیا موسٰیؑ کو ماضی کی نسبت زیادہ بہتر طور جانتی ہے تاہم ان کی شہرت کے باوجود ان کی زندگی کی بابت قطعی معلومات نہایت کم ہیں۔ مفروضات کے مطابق جن پر ماہرین کا اتفاق نہیں موسٰیؑ مصر کے باشندے تھے کیوں کہ ان کا نام عبرانی الاصل کے بجائے مصری محسوس ہوتا ہے۔ ان کے نام کے معنی ’بچے‘ یا ’بیٹے‘ کے ہیں اور یہ لفظ متعدد فراعنہ مصر کے نام کا بھی حصہ رہا ہے۔ (جدید مادہ پرست ذہینت کے لیے) عہدنامۂ عتیق میں موسٰیؑ سے متعلق داستانوں پر یقین کرنا مشکل ہے کیوں کہ ان میں بڑے پیمانے پر معجزات کا تذکرہ ہے۔ مثال کے طور اس درخت کا تذکرہ جس میں آگ لگی ہوئی یا تھی یا پھر موسٰیؑ کا اپنے عصاء کو اژدھے کی شکل دینا وغیرہ بنیادی طور پر اپنی فطرت میں معجزاتی ہیں اور اسی طرح دورِ جدید کے اذہان کے لیے اس امر پر بھی یقین کرنا دشوار ہے کہ موسٰیؑ جو خروج کے وقت 80 سال کے تھے  کس طرح یہودیوں کو 40 سال تک صحرا میں سنبھالے رہے مگر اس کتاب میں ہم روایات سے ہٹ کر یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ موسٰیؑ نے دراصل کیا کام انجام دیا۔ متعدد اشخاص نے بائبل کے واقعات جیسے ’دس وبائیں‘ اور ’بحرِاحمر کو پار کرنا‘ وغیرہ کی منطقی توجیہ پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے تاہم موسٰیؑ سے متعلق بائبل کی زیادہ تر پسندیدہ کہانیاں محض افسانوی ہیں جن کی دوسری اساطیری داستانوں سے گہری مشابہت ہے۔ مثلاً موسٰیؑ اور دلدلی گھاس کی حکایت قطعی طور پر قدیم بابل کی روایت سے مشابہ ہے۔ یہ حکایت اکادی بادشاہ سارگون سے متعلق ہے جو 2305-2360 ق م میں ایک عظیم بادشاہ تھا۔ دراصل موسٰیؑ سے تین اہم کارنامے منسوب کیے جاتے ہیں۔ اول وہ ایک ایسی سیاسی شخصیت قرار دیے گئے ہیں جنہوں نے عبرانیوں کو مصر سے رہائی دلائی۔ اس مقام پر کم از کم یہ بات واضح ہے کہ یہ سہرا ان ہی کے سر جاتا ہے۔ دوم وہ عہدنامۂ عتیق کی ابتدائی پانچ کتابوں یعنی تخلیق، ہجرت، لیوائیٹیکس، تعداد اور ڈیوٹرونومی کے مصنف باور کیے جاتے ہیں جنہیں عام طور پر ’موسٰیؑ کی پانچ کتابیں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کی توریت انہیں کتابوں پر مشتمل ہے۔ ان کتابوں میں شریعتِ موسویؑ بھی درج ہے۔ یہ ان قوانین کا مجموعہ ہے جو بائبل کے عہد میں یہودیوں کے طرز عمل کا تعین کرتے تھے اور جن میں احکاماتِ عشرہ بھی شامل ہیں۔ اس زبردست اثر کے پیِش نظر جو تورات نے مکمل طور پر اور بطورِخاص احکاماتِ عشرہ نے دنیا پر مرتب کیا ہے ان کے مصنف کو پُراثر ترین شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے – ایک ایسا اثر جو آج بھی زندہ ہے –  گوکہ خود بائبل کے متعدد علماء کا ماننا ہے کہ صرف موسٰیؑ ہی ان تمام کتابوں کے تنہا مصنف نہیں ہیں بلکہ ان کتابوں کو مبینہ طور پر متعدد مصنفین نے تحریر کیا ہے اور ان تحریروں کا بڑا حصہ موسٰیؑ کی وفات کے بعد قلم بند ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ موسٰیؑ نے رائج عبرانی رسوم و رواج کی تدوین یا حتیٰ کہ عبرانی قوانین کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا ہو مگر ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے ہم اس تناظر میں ان کے کردار کی وسعت کا تعین کر سکیں۔ سوم اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ موسٰیؑ نے یہودی وحدانیت کی بنیاد رکھی تاہم ایک اعتبار سے اس دعوے کی صداقت میں کوئی دیگر دلیل نہیں کیوں کہ موسٰیؑ سے متعلق ہماری تمام تر معلومات کا ذریعہ صرف عہدنامۂ عتیق ہے جہاں واضح اور غیر مشتبہ طور پر حضرت ابراہیمؑ کو وحدانیت کا بانی قرار دیا گیا ہے مگر اس سب کے باوجود واضح ہے کہ اگر موسٰیؑ نہیں ہوتے تو یہودی وحدانیت دم توڑ چکی ہوتی جن کے بارے میں تمام علماء کا اتفاق ہے کہ انہوں نے اس عقیدے کے تحفظ اور اگلی نسلوں تک اس کے انتقال میں اہم ترین کردار ادا کیا اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں موسٰیؑ کی عظیم ترین اہمیت پنہاں ہے کیوں کہ دنیا کے دو عظیم مذاہب عیسائیت اور اسلام دونوں کا ماخذ یہودی وحدانیت میں ہی نہاں ہے۔ چناں چہ ایک واحد اور سچے خدا کا تصور جس پر موسٰیؑ کا گہرا اعتقاد تھا آج بتدریج دنیا کے بہت بڑے حصے میں راسخ ہو چکا ہے۔