The Raven by Edgar Allan Poe in Urdu

ایڈگر ایلن پو کی پراسرار نظم ’الزاغ‘ اردو میں

Translated by Aasim Shams Aasim


ترجمہ وتدوین سحؔر خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز


وہ ایک سرد تاریک شب تھی اور میں تھکا ماندہ،

اپنے بستر پر دراز گئے وقتوں کی فراموش کردہ،

پراسرار و عجیب کتابوں کے مطالعے میں گم تھا ۔ ۔ ۔

کہ میری پلک جھپک گئی اور میرا سر کرسی کی پشت سے جا لگا،

یک لخت دستک سی ہوئی،

جیسے میرے کمرے کے دروازے کو کسی نے دھیرے سے بجایا ہو،

’کوئی ملنے آیا ہے‘ -، میں نے اپنے آپ سے کہا،

’یہ کسی ملاقاتی کی دستک ہے ۔‘

’اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔‘

میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ دسمبر کی ایک سرد رات ہے،

آتش دان میں بجھتے انگاروں کے سائے فرش پر لرزاں تھے،

میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش صبح ہو جائے ۔ ۔ ۔ ؛

میں نے غم کو کتابوں میں ڈوب کر بھلانے کی نا کام کوشش کی،

اس غم کو جسے لینور کی یاد نے مہمیز کیا تھا،

اس حسین لینور کی ابدی جدائی کا غم جسے فرشتے،

جنتوں میں لینور کہہ کر بلاتے ہیں ۔ ۔ ۔

مگر اِس جہاں میں اب اُس کا کوئی نام نہیں!

یکا یک کمرے میں لٹکے،

جامنی ریشمی پردوں کی سر سراہٹ سے میں چونک اٹھا،

میں نے اپنے رگ و پے میں دہشت کی اٹھتی لہریں محسوس کیں،

جن سے میں اس لمحے تک نا واقف تھا ۔ ۔ ۔

اپنے لرزتے کاپنتے دل کو تسلی دینے کے لیے،

میں نے بار بار خود سے کہا،

’یہ کوئی ملاقاتی ہے جو اندر آنا چاہ رہا ہے ۔ ۔ ۔

کوئی رات گئے مجھے سے ملنے آ یا ہے اور بس؛

بس ایک ملاقاتی اور اس کے سوا کچھ نہیں۔‘

چناں چہ میرے دھڑکتے دل کو کچھ حوصلہ ہوا،

اور میں نے بلا توقف کہا،

’محترم یا محترمہ ۔ ۔ ۔ میں آپ سے معافی کا خواستگار ہوں؛

بات یہ ہے کہ میری آنکھ لگ گئی تھی،

اور آپ نے اتنے دھیرے سے دستک دی،

کہ میں کمرے کے دروازے پر اس مہین آواز کو نہیں سکا‘ ۔ ۔ ۔

مگر لیجیے میں اب دروازہ کھول رہا ہوں؛ ۔ ۔ ۔ ـ‘

مگر باہر سوائے گھور تاریکی کے کچھ نہ تھا ۔ ۔ ۔

میں اس تاریکی میں کھڑا تا دیر باہر تکتا رہا،

خوف زدہ اور شبہات میں گھرا،

ایسے خوابوں میں گم،

جنہیں آج تک میرے علاوہ کسی انسان نے دیکھنے کی جرات نہیں کی؛

مگر خاموشی کی چادر بدستور طاری رہی،

اور وہاں پھیلے سکوت کے تار مرتعش نہ ہوئے،

مگر وہاں سے جو سرگوشی میرے کانوں میں پڑی وہ صرف ایک لفظ تھا،

’لینور۔ ۔ ۔ !‘

میں نے بھی جواب میں یہ ہی سرگوشی کی،

اور صدائے بازگشت نے،

مجھ سے پلٹ کر کہا،

’لینور۔ ۔ ۔ !‘

مگر صرف اتنا ہی اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں،

میں کمرے میں پلٹا؛

میری روح خوف کے شعلوں میں جھلس رہی تھی،

ایک بار پھر دستک کی صدا گونجی مگر اس بار یہ آواز ذرا تیز تھی ۔ ۔ ۔

میں نے خود کو سمجھایا،

’کوئی چیز کھڑکی کی جالی سے ٹکرا رہی ہے،

میں جا کر دیکھتا ہوں کہ ماجرا کیا ہے،

اور ابھی اس راز کا پردہ چاک ہوا جاتا ہے،

یہ بس ہوا کا ایک آوارہ جھونکا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

ایک جھٹکے سے میں نے کھڑکی کا در کھول دیا،

اور وہاں سے ایک کوے نے اندر کمرے میں قدم رکھا،

اس کی چال میں عجب کرو فر تھا اور اس کا شاہانہ انداز،

گئے وقتوں کے شہنشاہوں جیسا تھا،

اس کے تفاخر میں کوئی جھجک نہیں تھی اور

اس نے اندر آنے میں لمحہ بھر بھی تاخیر نہ کی ۔ ۔ ۔

وہ خسروانہ ڈھنگ سے چلتا اندر آیا،

اور کمرے کے دروازے کے اوپر نصب،

عقل کی دیوی کے مجسمے پر اڑ کر جا بیٹھا،

مگر وہ وہاں بس ساکت بیٹھا رہا،

اس آبنوسی رنگت کے پرندے کو دیکھ کر میری اداسی پر مسکراہٹ غالب آ گئی،

کیوں کہ اس کے چہرے کے تاثرات نہایت سنجیدہ اور اطوار درشت تھے،

میں نے کہا،

’اگرچہ تیرے سینے پر بال نہیں مگر بے شک تو ایک بہادر کوا ہے،

ایک نہایت برد بار اور قدیم کوا جس نے اس شبِ تاریک میں،

جرات پرواز کی ہے،

مجھے بتا کہ موت کی جس دنیا سے تو اڑ کر یہاں آیا ہے،

وہاں تجھے کیا کہہ کر پکارا جاتا ہے، تیرا نام کیا ہے؟‘

کوئے نے بس اتنا کہا،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

اگر چہ اس کا جواب بے معنی اور میرے سوال سے عدم مربوط تھا،

مگر اس کی زبان کی صفائی مجھے مبہوت کیے ڈال رہی تھی،

کیوں کہ آج تک کسی انسان نے اپنے کمرے کے دروازے کے اوپر،

نصب مجسمے پر،

اس طرح کسی پرندے کو بیٹھا نہیں دیکھا ہو گا،

کسی پرندے یا آسیب کو ۔ ۔ ۔

جو اپنا نام پوچھنے کے جواب میں صرف کہتا تھا،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

مگر اس ساکت مجسمے پر بیٹھے کوئے نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا،

جیسے صرف یہ ایک لفظ بول کر،

اس نے اپنی روح میں سلگتے آتشیں لاوے کو باہر چھلکا دیا ہو،

اس کے سوا اس نے اور کچھ نہیں کہا؛

اور نہ ذرہ برابر اپنے پر ہلائے ۔ ۔ ۔

یہاں تک کہ میں نے دھیرے سے کہا،

’ جس طرح میرے اور دوست مجھے چھوڑ کر جا چکے ہیں،

یہ بھی کل صبح یہاں سے چلا جائے گا،

میری برباد امیدوں کی طرح کل تک،

میرے سینے میں صرف اس کی یاد ہی بچے گی۔‘

مگر کوا بولا،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

کوئے کے اس یقینی جواب نے مجھے بے طرح چونکا دیا،

مگر میں نے پھر خود کو تسلی دی،

’بے شک اسے صرف یہ ہی ایک لفظ بولنا آتا ہے،

جو اس نے اپنے کسی دل فگار مالک سے سیکھ لیا ہے،

جس کا بد قسمتی نے اس طرح پیچھا کیا ہو گا،

کہ اس کے ہونٹوں پر صرف یہ ہی گیت باقی رہ گیا،

یہاں تک کہ اس کی تاریک امیدوں کی سدا،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

بن کر رہ گئی۔‘

مگر میں اسے دیکھ کر ابھی بھی مسکرا رہا تھا ۔ ۔ ۔

میں ایک نرم کرسی پر دروازے اور مجسمے کے سامنے جا بیٹھا،

جہاں کوا بیٹھا ہوا تھا،

کرسی پر آرام سے بیٹھ کر میں نے سوچا،

کہ اس قدیم بردبار، ایلین، استخوانی، آسیب نما، بد شگون پرندے کی،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

 کی صدا کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟

میں تا در قیاسات کی ڈور سلجھاتا رہا مگر میں نے کوئے سے پھر کچھ نہیں کہا،

اس کی آتشیں آنکھیں میری سینے کی گہرائیوں میں اتری جا رہی تھیں،

میں سوچتا رہا اور سوچتا رہا،

میرے ہاتھ نرم کرسی کے بازئوں پر تھے،

اور کرسی پر لگی مخمل چراغ کی روشنی میں دمک رہی تھی،

یکایک مجھے یاد آیا ۔ ۔ ۔

کہ اس کرسی پر لگی چراغ کی روشنی میں دمکتی مخمل پر،

وہ (لینور) اب دوبارہ کبھی نہیں بیٹھ پائی گی ۔ ۔ ۔ !

یکایک مجھے لگا جیسے ہوا بوجھل سی ہو گئی ہو،

اور وہاں ایک ان جانی مگر مسحور کن خوش بو پھیل گئی،

جیسے ایک بلند مرتبہ فرشتہ ہاتھوں میں عود سوز لیے،

کمرے میں در آیا ہو،

جس کے قدم وہاں بچھی قالین پر،

دھیرے سے سرسرا رہے ہوں ۔ ۔ ۔

میں چیخ اٹھا،

’او ملعون! تیرے خدا نے ان فرشوں کو تیرے پاس بھیجا ہے،

ایک اندوہ ربا دوا (شراب) دے کر،

اس لیے،

کہ تجھے لینور کی جگر سوز یادوں سے پل بھر کی مہلت مل جائے،

تو اس شراب کا بڑا جام پی اور لینور کو سدا کے لیے بھلا دے ۔ ۔ ۔‘

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘ کوے نے کہا،

میں نے کہا

’اے جھوٹے پیغام بر ۔ ۔ ۔ آسیب یا پرندے کے روپ میں

اے بدی کے جھوٹے پیغام بر ۔ ۔ ۔

خواہ تجھے شیطان نے بھیجا ہے یا باہر بپا طوفان نے،

یہاں لا ڈالا ہے،

بے آس مگر جرات سے بھر پور تو ہے،

اس صحرا کی آسیب زدہ زمین پر،

اس گھر میں جہاں خوف کے سائے پلتے ہیں،

مجھے سچ سچ بتا – – –  میں تجھ سے التجا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔

کیا جنت میں دکھوں کی دوا ہے؟ مجھے بتا! مجھے بتا!

میں التجا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ ‘

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔‘ کوئے نے کہا،

میں نے پھر کہا،

’اے جھوٹے پیغام بر ۔ ۔ ۔ آسیب یا پرندے کے روپ میں

اے بدی کے جھوٹے پیغام بر ۔ ۔ ۔

تجھے اس جنت کا واسطہ جو افلاک کی بلندیوں پر سجی ہے،

تجھے اس خدا کا واسطہ جس کی ہم دونوں پرستش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

اس غم زدہ انسان کو بتا جس کی روح کا دامن دکھوں سے چور چور ہے،

کہ کیا اس جنت میں جسے عدن کہتے ہیں،

کیا میں ولیوں کی طرح پاک لینور کو بانہوں میں بھر سکوں گا،

جسے وہاں فرشتے لینور کہہ کر بلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘ کوے نے کہا،

میں چیخ اٹھا ’اے آسیب یا پرندے ۔ ۔ ۔ بس اب بہت ہوا،

جا اس رات کی تاریکی میں اپنی جہنم کی طرف واپس اڑ جا،

یہاں اپنا ایک رواں بھی نہ چھوڑ،

کہ وہ مجھے تیرے اس جھوٹ کی یاد دلاتا رہے گا،

مجھے میری تنہائی میں گھل کر مرنے دے،

کہ مجھے تیرا ساتھ نہیں چاہیے،

جا اس مجسمے سے اڑ جا ۔ ۔ ۔ یہاں سے چلا جا ۔ ۔ ۔

اپنی چونچ کے جس نشتر سے تو نے میرے دل کو فگار کیا ہے،

اسے وہاں سے نکال لے،

اور ہمیشہ کے لیے اس کمرے سے اڑ جا۔‘

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘ کوئے نے کہا،

کوا ابھی بھی یہیں ہے، ابھی بھی یہیں ہے،

اس کے پر کسی بت کی طرح ساکت ہیں،

وہ میرے کمرے کے دروازے پر نصب مجسمے پر جما بیٹھا ہے،

اس کی آنکھوں کو دیکھ خوابوں میں ڈوبے کسی عفریت کا گمان ہوتا ہے،

اس کے پروں پر پڑتی چراغ کی روشنی سے،

اس کا سایہ فرش پر لہرا رہا ہے،

اور فرش پر پڑتے اس سائے سے،

میری جہاں سوز روح کبھی نجات نصیب نہیں پا سکے گی،

کبھی بھی نہیں،

’نہیں اب نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

کبھی بھی نہیں ۔ ۔ ۔


Read The Raven in English Here